ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا (۹)


حضرت عائشہ کا فہم دین، علمی مباحثے اورفقہی تبصرے

حضرت عائشہ کوئی فرمان بھی سنتیں تو بار بار(نبی صلی ﷲ علیہ وسلم سے )رجوع کرتیں، حتیٰ کہ اسے سمجھ لیتیں (بخاری، رقم ۱۰۳) ۔

عقائد

حضرت عائشہ فرماتی ہیں: مجھے رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے نصیحت فرمائی کہ جب تو ایسے لوگوں کو دیکھے جو قرآن کی متشابہ آیتوں کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں تو سمجھ لینا ،یہی ہیں جن کا ﷲ تعالیٰ نے قرآن مجید (سورۂ آل عمران ۳: ۷)میں ذکر کیا ہے۔ ان سے بچ کر رہنا (بخاری، رقم ۴۵۴۷۔مسلم، رقم ۶۸۶۹۔ ابوداؤد، رقم ۴۵۹۸۔ ترمذی، رقم ۲۹۹۴۔ ابن ماجہ، رقم ۴۷۔ موسوعۂ مسند احمد، رقم ۲۴۲۱۰)۔

ﷲ تعالیٰ کا ارشاد ہے: 'وَکَانَ اللّٰہُ سَمِیْعًام بَصِیْرًا'، ''اور ﷲ سننے والا اور دیکھنے والا ہے'' (النساء۴: ۱۳۴)۔ معتزلہ کہتے ہیں کہ اس کا مطلب ہے کہ ﷲ سنائی جانے والی اور دیکھی جانے والی اشیا کا علم رکھتا ہے، کیونکہ آنکھ اپنے تک پہنچنے والی شعاعوں کے ذریعے سے بصارت حاصل کرتی ہے اور سماعت کان تک پہنچنے والی ہوا کی محتاج ہوتی ہے، دونوں عملوں (phenomena) کا اطلاق مخلوق پر ہوتا ہے ۔اہل سنت کہتے ہیں کہ ﷲ سمیع و بصیر ہونے کے لیے ان مادی وسائل کا محتاج نہیں۔ تائید کے لیے امام بخاری نے حضرت عائشہ کا یہ قول نقل کیا: 'الحمد ﷲ الذي وسع سمعہ الأصوات'، ''شکر ہے اس ﷲ کاجس کی سماعت آوازوں کا احاطہ کیے ہوئے ہے'' (بخاری:کتاب التوحید، باب ۹)۔

حضرت عائشہ فرماتی ہیں: اس امت میں میں پہلی تھی جس نے رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ ان آیات قرآنیہ میں مذکورہ رؤیت سے مراد کسے دیکھنا ہے؟ 'وَلَقَدْ رَاٰہُ بِالْاُفُقِ الْمُبِیْنِ'، ''بے شک، نبی نے فرشتے کوکھلے آسمان (مشرقی افق) پر دیکھا'' (التکویر۸۱: ۲۳) اور 'وَلَقَدْ رَاٰہُ نَزْلَۃً اُخْرٰی'، ''اور بے شک، رسول پاک نے جبریل کو ایک اوربار دیکھ رکھا ہے'' (النجم۵۳: ۱۳)۔ آپ نے فرمایا: وہ جبریل تھے۔میں نے انھیں اصل حالت میں دو بار ہی دیکھا (بخاری، رقم ۴۸۵۵۔ مسلم، رقم ۳۶۱۔ موسوعۂ مسند احمد، رقم ۲۵۹۹۳) ۔

مسروق نے حضرت عائشہ سے پوچھا: اماں جان، کیا حضرت محمد صلی ﷲ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھ رکھا ہے؟ انھوں نے جواب دیا: تو نے یہ بات کر کے میرے رونگٹے کھڑے کر دیے ہیں۔ ان تین اقوال میں سے جن کے جملہ قائلین جھوٹے ہیں،تم کس قول کو اختیار کرتے ہو؟ جو یہ کہتا ہے کہ محمد صلی ﷲ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا ہے ،اس نے جھوٹ کہا۔تب حضرت عائشہ نے یہ آیات تلاوت کیں: 'لَا تُدْرِکُہُ الْاَبْصَارُ وَھُوَ یُدْرِکُ الْاَبْصَارَ وَھُوَ اللَّطِیْفُ الْخَبِیْرُ'، ''اسے آنکھیں نہیں دیکھ سکتیں،وہ آنکھوں کو پا لیتا ہے اور وہ بڑا باریک بین اور بڑا با خبر ہے'' (الانعام ۶: ۱۰۳)۔ 'وَمَا کَانَ لِبَشَرٍ اَنْ یُّکَلِّمَہُ اللّٰہُ اِلَّا وَحْیًا اَوْ مِنْ وَّرَآئِ حِجَابٍ اَوْ یُرْسِلَ رَسُوْلًا فَیُوْحِیَ بِاِذْنِہٖ مَا یَشَآءُ'، ''کسی بشر کا یہ مقام نہیں کہ ﷲ اس سے بات کرے، مگر وحی کی صورت یا پردے کی اوٹ سے یا وہ کوئی فرشتہ بھیجتا ہے جو ﷲکے اذن سے جووہ چاہتا ہے، وحی کرتا ہے'' (الشوریٰ۴۲: ۵۱)۔ جو تجھ سے کہے کہ وہ آیندہ کل کی بات،(یعنی غیب) جانتا ہے، جھوٹ ہی کہے گا۔یہ کہہ کر انھوں نے یہ آیت سنائی: 'وَمَا تَدْرِیْ نَفْسٌ مَّا ذَا تَکْسِبُ غَدًا'، ''کوئی جی نہیں جانتا کہ کل وہ کیا حاصل کر لے گا'' (لقمان۳۱: ۳۴)۔ جو تجھ سے کہے کہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے بات چھپائی، اس نے بھی جھوٹ کہا۔یہ کہہ کر حضرت عائشہ نے یہ فرمان الٰہی سنایا: 'یٰٓاَیُّھَا الرَّسُوْلُ بَلِّغْ مَآ اُنْزِلَ اِلَیْکَ مِنْ رَّبِّکَ'، ''اے رسول، خوب اچھی طرح پہنچا دیجیے جو آپ کے رب کی طرف سے نازل ہوا'' (المائدہ۵: ۶۷)۔ (رویت کے باب میں) صحیح بات یہ ہے کہ آں حضور صلی ﷲ علیہ وسلم نے حضرت جبریل کو اصل شکل میں دودفعہ دیکھا (بخاری، رقم ۴۸۵۵۔مسلم، رقم ۳۵۸۔ ترمذی، رقم ۳۰۶۸۔ موسوعۂ مسند احمد، رقم ۲۴۲۲۷)۔ سید علی ہجویری کہتے ہیں کہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کا حضرت عبدﷲ بن عباس سے فرماناکہ'' میں نے معراج کی رات حق تعالیٰ کو دیکھا'' باطن کی آنکھ سے دیکھنا تھا، جب کہ آپ کا حضرت عائشہ کو بتانا کہ ''میں نے ﷲ کو نہیں دیکھا''، ظاہری آنکھ سے دیکھنے کی نفی تھی۔ چشم باطن سے دیکھ لیا تو چشم ظاہر سے نہ دیکھنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا(کشف المحجوب: باب، مشاہدہ)۔

رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا: جو ﷲ سے ملاقات کی خواہش رکھتاہے، ﷲ بھی اس سے ملنا پسند کرتا ہے اور جوﷲ سے ملاقات کی آرزو نہیں رکھتا ، ﷲ بھی اس کوملنا نہیں چاہتا۔ حضرت عائشہ نے سوال کیا: کیایہ موت کو نا پسندکرنا ہے ؟ ہم سب بھی توموت کو پسند نہیں کرتے؟ فرمایا: یہ بات نہیں۔جب (موت کے آثار ظاہر ہوتے ہیں اور) مومن کو ﷲ کی رحمت،رضوان اور جنت کی بشارت ملتی ہے تو وہ ﷲ کے پاس جانے کو پسند کرتا ہے اور کافر کو جب ﷲ کے عذاب اور غضب کی خبر ملتی ہے تو وہ ﷲ سے ملنا نا پسندکرتا ہے(مسلم، رقم ۶۹۲۰۔ ترمذی، رقم ۱۰۶۷۔ ابن ماجہ، رقم ۴۲۶۴۔ موسوعۂ مسند احمد، رقم ۸۵۵۶)۔ یہ سوال قاضی شریح نے حضرت عائشہ سے کیا تو انھوں نے یہی جواب دیا (نسائی، رقم ۱۸۳۵) ۔

حضرت عائشہ کو بتایا گیا کہ حضرت عمر (دوسری روایت: حضرت عبدﷲ بن عمر ) یہ فرمان نبوی سنارہے ہیں کہ ''میت کو اس کے اہل خانہ کے رونے پیٹنے کی وجہ سے عذاب ہو رہا ہے۔'' انھوں نے کہا: ﷲ ان پر رحم کرے۔ انھوں نے جھوٹ نہیں بولا، بلکہ ان کو وہم ہوا ۔ایسا آپ نے کفار کے بارے میں فرمایاتھا، آپ نے ارشاد کیا تھاکہ وہ یہودی عورت توقبر میں اپنے گناہوں کی سزا جھیل رہی ہے اور اس کے گھر والے رو دھو رہے ہیں۔ تمھارے لیے قرآن کا یہ حکم کافی ہے: 'وَلَا تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِّزْرَ اُخْرٰی'، ''کوئی بوجھ اٹھانے والی جان دوسری جان کا بوجھ نہ اٹھائے گی'' (فاطر۳۵: ۱۸)۔ (بخاری، رقم ۱۲۸۹۔ مسلم، رقم ۲۱۰۶۔ ابوداؤد، رقم ۳۱۲۹۔ ترمذی، رقم ۱۰۰۴۔ نسائی، رقم ۱۸۵۷۔ موسوعۂ مسند احمد، رقم ۲۸۸)۔ یہ ایسے ہی ہے، جیسے آپ نے بدر کے دن مشرکوں کو گڑھے میں دفن کرنے کے بعد فرمایا: او عتبہ، او شیبہ، او امیہ، اے ابو جہل، کیا تم نے اپنے رب کے وعدے کو سچا جان لیا ؟پھر کہا: وہ میری بات سن رہے ہیں۔ آپ کا فرمانا تو یہ تھا،اب ان کو پتا چل گیا ہے کہ میرا کہنا درست تھا (موسوعۂ مسند احمد، رقم ۲۶۳۶۱)۔ یہ کہنے کے بعد حضرت عائشہ نے یہ آیات تلاوت کیں: 'اِنَّکَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتٰی'، ''اے نبی، آپ مردوں کو سنا نہیں سکتے'' (النمل ۲۷: ۸۰) (بخاری، رقم ۱۳۷۱)۔'وَمَآ اَنْتَ بِمُسْمِعٍ مَّنْ فِی الْقُبُوْرِ'، ''آپ قبروں میں دفن لوگوں کو سنا نہیں سکتے'' (فاطر۳۵: ۲۲)۔ (مسلم، رقم ۲۱۱۰۔ نسائی، رقم ۲۰۷۸۔ موسوعۂ مسند احمد، رقم ۴۸۶۴)۔

ایک یہودی عورت حضرت عائشہ کے ہاں کام کرنے آتی تھی۔جب وہ اس کے ساتھ حسن سلوک کرتیں،وہ دعا دیتی،ﷲ تمھیں قبر کے عذاب سے محفوظ رکھے۔ایک دن حضرت عائشہ نے رسول اکرم صلی ﷲ علیہ وسلم سے دریافت کیا توآپ نے فرمایا: روز قیامت سے پہلے کوئی عذاب نہ ہوگا۔کچھ ہی دن گزرے تھے کہ عین دوپہر کے وقت آپ بلند آواز سے پکارتے ہوئے باہر نکلے ،لوگو، قبرکے عذاب سے ﷲ کی پناہ مانگو،عذاب قبر حق ہے(موسوعۂ مسند احمد، رقم ۲۴۵۲۰)۔

حضرت عائشہ فرماتی ہیں: ایک یہودی عورت میرے پاس آئی اور کہا کہ پیشاب کی پلیدی سے (نہ بچنے سے) قبرمیں عذاب ہوتا ہے۔میں نے اسے جھٹلا دیا تو اس نے کہا:ہم تو پلید ہونے والے کپڑے اور جلد ہی کو کاٹ دیتے ہیں۔ان کی بحث جاری تھی کہ آں حضرت صلی ﷲ علیہ وسلم تشریف لے آئے ۔حضرت عائشہ نے یہودیہ کی بات آپ کو بتائی تو فرمایا:ہاں، یہ سچ کہتی ہے (نسائی، رقم ۱۳۴۶۔ موسوعۂ مسند احمد، رقم ۲۴۳۲۴)۔اس سے ملتی جلتی روایت میں حضرت عائشہ نے بیان کیا: دو یہودی بوڑھیاں میرے پاس آئیں اور کہا: مردوں کو قبر میں عذاب ہوتا ہے۔میں نے ان کی بات پر یقین نہ کیا ،رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم تشریف لائے تو آپ سے پوچھا،فرمایا:و ہ سچ کہتی ہیں۔قبر والوں کو عذاب ہوتا ہے جسے چوپائے سنتے ہیں۔حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ میں نے اس کے بعد آپ کو ہر نماز میں عذاب قبر سے پناہ مانگتے سنا (مسلم، رقم ۱۲۵۹۔ نسائی، رقم ۱۳۰۹۔ موسوعۂ مسند احمد، رقم ۲۴۱۷۸)۔

حضرت عائشہ نے سوال کیا: یا رسول ﷲ، روز حشر انسانوں کو کیسے اٹھایا جائے گا؟ فرمایا: ننگے پاؤں،ننگے بدن، پوچھا: اور عورتیں؟ ارشاد فرمایا: عورتیں بھی اسی حال میں ہوں گی۔حضرت عائشہ حیران ہوئیں،یا رسول ﷲ، ہمیں شرم نہ آئے گی؟آپ نے فرمایا: وہ وقت ایسا کڑا ہو گا کہ ایک دوسرے کو دیکھنے کی ہوش ہی نہ ہوگی (بخاری، رقم ۶۵۲۷۔ مسلم، رقم ۷۳۰۰ ۔ نسائی، رقم ۲۰۸۶۔ ابن ماجہ، رقم ۴۲۷۶۔ موسوعۂ مسند احمد، رقم ۲۴۲۶۵)۔

مسائل تفسیر

عروہ بن زبیر نے حضرت عائشہ سے استفسار کیا،ﷲ تعالیٰ کے ارشاد: 'حَتّٰٓی اِذَا اسْتَیْئَسَ الرُّسُلُ وَظَنُّوْٓا اَنَّھُمْ قَدْ کُذِبُوْا جَآءَ ھُمْ نَصْرُنَا'، ''جب نوبت یہاں تک آ پہنچی کہ رسول اپنی قوموں سے مایوس ہو گئے اور لوگوں نے بھی گمان کیا کہ ان کو جھوٹ ڈراوے سنائے گئے تو یکایک ہماری مددپیغمبروں کو پہنچ گئی'' (یوسف ۱۲: ۱۱۰) میں لفظ 'کُذِبُوا' ہے یا 'کُذِّبُوا'؟ حضرت عائشہ نے دوسری صورت 'کُذِّبُوا'(بمعنی :رسول جھٹلائے گئے) بتائی۔ عروہ نے کہا: رسولوں کو تو یقین تھا کہ انھیں جھٹلایا جا رہا ہے ، اس میں گمان کی کیا بات؟میرا خیال ہے ،یہاں 'کُذِبُوْا' (مطلب: رسولوں سے جھوٹا وعدہ کیا گیا) ہونا چاہیے۔ حضرت عائشہ نے فرمایا: معاذﷲ، پیغمبر اپنے رب کے متعلق ایسا سوچ بھی نہ سکتے تھے۔پھر وضاحت کی کہ اہل ایمان پر ٹوٹنے والی آزمایشوں نے طول پکڑا اور ﷲ کی مدد میں تاخیر ہو ئی تو رسول اپنی قوموں سے مایوس ہوئے اور انھیں گمان ہونے لگا کہ ان کے پیروکار بھی انھیں جھوٹا نہ سمجھنے لگیں، تب ﷲ کی مدد آئی (بخاری، رقم ۴۶۹۵)۔

حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا: یا رسول ﷲ، میں کتاب ﷲ میں پائی جانے والی سخت ترین آیت کو جانتی ہوں۔کون سی ہے وہ آیت ؟دریافت فرمایا۔بتایا: 'مَنْ یَّعْمَلْ سُوْٓءً ا یُّجْزَبِہٖ' ، ''جو کوئی برائی کرے گا، اس کا بدلہ پائے گا'' (النساء۴: ۱۲۳)۔ آپ نے فرمایا: عائشہ، تو جانتی ہے، کسی مسلمان پر کوئی مصیبت آتی ہے یا اسے کانٹا بھی چبھتا ہے تو اس کے برے عمل کی سزا بن جاتا ہے۔ہاں، روزقیامت جس کا حساب ہوا، عذاب پائے گا۔حضرت عائشہ نے کہا: کیا ﷲ نے نہیں فرمایا: 'فَاَمَّا مَنْ اُوْتِیَ کِتٰبَہٗ بِیَمِیْنِہٖ. فَسَوْفَ یُحَاسَبُ حِسَابًا یَّسِیْرًا'، ''تو جسے اس کا نامۂ اعمال داہنے ہاتھ میں دیا گیا، وہ جلد آسان حساب کیا جائے گا'' (الانشقاق ۸۴: ۷۔۸)۔ آں حضور صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا: اس سے مر۱د صرف اعمال کا پیش کرنا ہے۔جس کا کڑا حسا ب ہوا، اس کو ضرور عذاب ہو گا (ابوداؤد، رقم ۳۰۳۹۔ ترمذی، رقم ۲۴۲۶۔ موسوعۂ مسند احمد، رقم ۲۴۲۰۰)۔ امیہ نے حضرت عائشہ سے ﷲ تعالیٰ کے ان دوارشادات کا مطلب پوچھا: 'وَاِنْ تُبْدُوْا مَا فِیْٓ اَنْفُسِکُمْ اَوْ تُخْفُوْہُ یُحَاسِبْکُمْ بِہِ اللّٰہُ'، ''اگر تم اپنے دلوں کی بات ظاہر کرو گے یا چھپاؤ گے ،ﷲ اس کا حساب لے کر رہے گا'' (البقرہ ۲: ۲۸۴) اور 'مَنْ یَّعْمَلْ سُوْٓءً ا یُّجْزَبِہٖ' ،''جو کوئی برائی کرے گا ،اس کا بدلہ پائے گا'' (النساء ۴: ۱۲۳)۔ انھوں نے کہا: جب سے میں نے رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم سے یہ سوال کیا،کسی نے مجھ سے یہ بات نہ پوچھی۔آپ نے فرمایا تھا: یہ ﷲ کا اپنے بندے پرخفگی کا اظہارکرناہے۔وہ اسے بخار اور کسی مصیبت میں مبتلا کرتا ہے، حتیٰ کہ وہ اپنی قمیص کی آستین میں کوئی چیزرکھ کر بھول جاتا ہے اور پھر پریشان ہوتا ہے۔ایسی تکالیف اور پریشانیاں دیکھ کربندۂ خدا اپنے گناہوں سے پاک ہو جاتا ہے، گویا سرخ سونا بھٹی سے نکل آیا (ترمذی، رقم ۲۹۹۱)۔

حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے (معاذ ﷲ)وحی میں سے اگر کچھ چھپانا ہوتا تو یہ آیت چھپاتے: 'وَاِذْ تَقُوْلُ لِلَّذِیْٓ اَنْعَمَ اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاَنْعَمْتَ عَلَیْہِ اَمْسِکْ عَلَیْکَ زَوْجَکَ وَاتَّقِ اللّٰہَ وَتُخْفِیْ فِیْ نَفْسِکَ مَا اللّٰہُ مُبْدِیْہِ وَتَخْشَی النَّاسَ وَاللّٰہُ اَحَقُّ اَنْ تَخْشٰہُ'، ''اے نبی، وہ وقت یاد کریں، جب آپ اس شخص سے کہہ رہے تھے جس پرﷲ نے (نعمت اسلام سے نواز کر)اور آپ نے(آزادی بخش کر) احسان کر رکھا تھا کہ اپنی بیوی کو روکے رکھواور ﷲ سے ڈرو۔اس وقت آپ اپنے دل میں وہ بات چھپائے ہوئے تھے جسے ﷲ ظاہر کرنے والاتھا۔آ پ لوگوں سے ڈر رہے تھے، حالاں کہ ﷲ اس بات کا زیادہ حق رکھتا ہے کہ آپ اس سے ڈرتے'' (الاحزاب۳۳: ۳۷)۔ پھرجب آپ نے حضرت زینب سے نکاح کیا تو لوگوں نے اعتراض کیا کہ اپنے منہ بولے بیٹے کی مطلقہ سے بیاہ کر لیا۔تب ﷲ کا فرمان اترا: 'مَا کَانَ مُحَمَّدٌ اَبَآ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِکُمْ'، ''محمد تمھارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں'' (الاحزاب ۳۳: ۴۰)۔ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے حضرت زید بن حارثہ کو ان کے بچپن ہی میں منہ بولا بیٹا بنا لیا تھا، اس لیے وہ زید بن محمد کے نام سے جانے جاتے تھے، تاہم حسب ذیل فرمان خداوندی نازل ہونے کے بعد ان کی یہ حیثیت ختم ہو گئی اور انھیں زید بن حارثہ کی نسبت واپس مل گئی: 'وَمَا جَعَلَ اَدْعِیَآءَ کُمْ اَبْنَآءَ کُمْ ذٰلِکُمْ قَوْلُکُمْ بِاَفْوَاھِکُمْ وَاللّٰہُ یَقُوْلُ الْحَقَّ وَھُوَ یَھْدِی السَّبِیْلَ. اُدْعُوْھُمْ لِاٰبَآءِہِمْ ھُوَ اَقْسَطُ عِنْدَ اللّٰہِ فَاِنْ لَّمْ تَعْلَمُوْٓا اٰبَآءَ ھُمْ فَاِخْوَانُکُمْ فِی الدِّیْنِ وَمَوَالِیْکُمْ'، ''ﷲ نے تمھارے لے پالکوں کو تمھارے بیٹے قرار نہیں دیا۔یہ تو تمھارے مونہوں سے نکلی ہوئی بات ہے۔ﷲ حقیقت بتاتا اور سیدھی راہ دکھاتا ہے۔ منہ بولے بیٹوں کو ان کے باپوں کی نسبت سے بلاؤ ۔یہی ﷲ کے ہاں زیادہ قرین انصاف ہے۔ اور اگر تم ان کے آبا و اجداد کو نہیں جانتے تو یہ تمھارے دینی بھائی اور رفقاے قبیلہ ہیں'' (الاحزاب۳۳: ۴۔۵) (مسلم، رقم ۳۵۹۔ ترمذی، رقم ۳۲۰۷)۔

حضرت عائشہ نے رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم سے استفسار کیا: کیا ﷲ کے فرمان 'وَالَّذِیْنَ یُؤْتُوْنَ مَآ اٰتَوْا وَّقُلُوْبُھُمْ وَجِلَۃٌ اَنَّھُمْ اِلٰی رَبِّھِمْ رٰجِعُوْنَ. اُولٰٓءِکَ یُسٰرِعُوْنَ فِی الْخَیْرٰتِ وَھُمْ لَھَا سٰبِقُوْنَ'، ''اور جو دیتے ہیں جو کچھ بھی دیتے ہیں ،اس حال میں کہ ان کے دل یہ سوچ سوچ کر کانپتے رہتے ہیں کہ انھیں اپنے رب کی طرف پلٹنا ہے۔یہی لوگ ہیں جو نیکیوں کی طرف لپکتے ہیں اور انھیں سب سے پہلے پا لیتے ہیں'' (المومنون۲۳: ۶۰۔۶۱) میں بیان کردہ لوگ وہ ہیں جو (برے اعمال کرتے ہیں، مثلاً) شراب پیتے ہیں ،زنامیں ملوث ہوتے ہیں اور چوریاں کرتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: نہیں،بنت صدیق، یہ وہ مومن ہیں جو روزے رکھتے ہیں،نمازیں پڑھتے ہیں، صدقے دیتے ہیں، پھر بھی ڈرتے ہیں کہ ان کی قبولیت نہ ہو گی۔یہی لوگ ہیں جو نیکیوں کی طرف لپکتے اور(انجام کار) ان کی طرف سبقت لے جاتے ہیں (ترمذی، رقم ۳۱۷۵۔ ابن ماجہ، رقم ۴۱۹۸۔ موسوعۂ مسند احمد، رقم ۲۵۲۶۳) ۔

حضرت عائشہ نے رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم سے استفسار کیا: ﷲ تعالیٰ نے فرمایا ہے: 'وَالْاَرْضُ جَمِیْعًا قَبْضَتُہٗ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ وَالسَّمٰوٰتُ مَطْوِیّٰتٌ م بِیَمِیْنِہٖ'، ''روزقیامت پوری زمین ﷲ کی مٹھی میں ہو گی اور تمام آسمان اس کے دست راست میں لپٹے ہوں گے'' (الزمر ۳۹: ۶۷)۔ اورپھر یہ ارشاد کیا: 'یَوْمَ تُبَدَّلُ الْاَرْضُ غَیْرَ الْاَرْضِ وَالسَّمٰوٰتُ'، ''اس دن اس زمین اور ان آسمانوں کو دوسری زمین،دوسرے آسمانوں سے بدل دیا جائے گا'' (ابراہیم ۱۴: ۴۸)۔اس روز لوگ کہاں ہوں گے؟آپ نے فرمایا: پل صراط پر ہوں گے (مسلم، رقم ۷۱۵۸۔ ترمذی، رقم ۳۲۴۱۔ ابن ماجہ، رقم ۴۲۷۹۔ موسوعۂ مسند احمد، رقم ۲۴۰۶۹)۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے: 'وَلَا تَجْھَرْ بِصَلَاتِکَ وَلَا تُخَافِتْ بِھَا وَابْتَغِ بَیْنَ ذٰلِکَ سَبِیْلًا'، ''اپنی نماز زیادہ بلند آواز سے نہ پڑھو، نہ ہی اسے بہت پست رکھو، بین بین کا راستہ اختیار کرو'' (بنی اسرائیل۱۷: ۱۱۰)۔ حضرت عائشہ فرماتی ہیں: یہ فرمان دعا کے بارے میں نازل ہوا (بخاری، رقم ۶۳۲۷۔ مسلم، رقم ۹۳۳)۔ دعا اتنی اونچی آواز میں مانگنی چاہیے کہ آدمی خود کو سنا رہا ہے ،دوسروں کو نہیں بتا رہا۔ابن حجر کہتے ہیں کہ دعا کونماز اس لیے کہہ دیا گیا، کہ نماز دعا کے بغیر مکمل نہیں ہوتی۔ نماز کے علاوہ دعا مانگی جا رہی ہو تو بھی یہی حکم ہے۔

سیرت وآداب نبوی

حضرت عائشہ فرماتی ہیں: میں نے سخت سرد دن میں رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم پروحی نازل ہوتے دیکھی ہے۔ وحی ختم ہوئی تو آپ کی پیشانی پسینے سے شرابور تھی(بخاری، رقم ۲۔ مسلم، رقم ۶۱۲۸۔ ترمذی، رقم ۳۶۳۴۔ نسائی، رقم ۹۳۵۔ موسوعۂ مسند احمد، رقم ۲۴۳۰۹)۔

سیدہ عائشہ نے حضور صلی ﷲ علیہ وسلم سے پوچھا: کیا آپ پر جنگ احدسے بھی بڑھ کر کوئی سخت دن گزرا ہے؟ فرمایا: ہاں (۱۰؍ نبوی میں جب میں مکہ سے پینسٹھ میل دور طائف کے مقام )عقبہ (پر پہنچا)اس دن(بنو ثقیف کے سردار) ابن عبدیا لیل نے (نہ صرف)میری دعوت اسلام قبول نہ کی،(بلکہ الٹا طائف کے اوباش لونڈوں کو میرے پیچھے لگا دیا جنھوں نے مجھ پر پتھر برسائے) ۔میں لوٹا توبہت مغموم تھا(واپسی کے سفر میں ) اہل نجدکے میقات قرن الثعالب تک پہنچا تھا کہ ایک بدلی کو اپنے سر پر سایہ فگن دیکھا۔ مجھے اس میں جبریل نظر آئے۔ انھوں نے کہا: ﷲ تعالیٰ نے آپ کی قوم کا سلوک دیکھ لیا ہے، اس نے پہاڑوں کے فرشتے کو بھیجاہے ۔اگر آپ چاہیں تو دونوں پہاڑ (اصل لفظ: اخشبین)آپس میں ملا کر مشرک قوم کو ملیا میٹ کردیا جائے۔میں آمادہ نہ ہوا، کیونکہ مجھے امید تھی کہ ﷲاسی قوم کی اگلی نسلوں میں ایسے صالحین پیدا کر دے گا جو ﷲ واحد کی عبادت کریں گے ،کسی کو شریک نہ ٹھیرائیں گے (بخاری، رقم ۳۲۳۱۔ مسلم، رقم ۴۶۷۶)۔ طائف ایک ہی پہاڑ غزوان پر آباد ہے ۔یہاں کے باشندوں پرمجوزہ عذاب نازل کرنے کے لیے 'اخشبین' کا لفظ استعمال کیا گیا جو ابوقبیس اور قعیقعان (یا احمر)نامی ان دو پہاڑوں کے لیے بولا جاتا ہے جن کے مابین مکہ و منیٰ واقع ہیں ۔شایداس کی وجہ یہ رہی ہو کہ قریش مکہ رسول اکرم صلی ﷲ علیہ وسلم کے اولین مخاطب اور سب سے پہلے جھٹلانے والے تھے ۔اگر ﷲ کی طرف سے آپ کے مکذبین کے استیصال کا فیصلہ ہوتا تو اس کی ابتدا ان دونوں پہاڑوں کی وادی سے ہوتی ۔

حضرت عائشہ کا خیال تھا کہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کا جسد مبارک آسمانوں کی طرف بلند نہ ہوا تھا۔ﷲ نے آپ کی روح کو معراج کی سیر کرائی۔

ابو عبیدہ نے حضرت عائشہ سے 'اِنَّآ اَعْطَیْنٰکَ الْکَوْثَرَ'، ''بے شک، ہم نے آپ کو کوثر بخش دیا''کے بارے میں استفسار کیا تو انھوں نے بتایا: کوثر وہ نہر ہے جو تمھارے نبی صلی ﷲ علیہ وسلم کو جنت میں ملی ہے۔اس کے کناروں پر خول دار موتی جڑے ہیں اورآب خورے تو اتنے ہیں کہ ان کی گنتی ستاروں کے برابر ہے (بخاری، رقم ۴۹۶۵۔ موسوعۂ مسند احمد، رقم ۲۶۴۰۳)۔

حضرت اسماء بنت ابوبکر کی والدہ قتیلہ بنت عبدالعزیٰ کشمش (یا پھلوں کا شیرہ)، گھی اورچمڑے کو رنگنے والے درخت قرظ کے پتوں کے تحائف لے کر مدینہ آئیں تو ان کا دل آمادہ نہ ہوا کہ اپنی مشرکہ والدہ کے تحفوں کو قبول کر کے گھر میں رکھ لیں۔ انھوں نے حضرت عائشہ سے پچھوابھیجا ۔ انھوں نے نبی صلی ﷲ علیہ وسلم سے دریافت کیا تو آپ نے ﷲ کی طرف سے نازل ہونے والا فرمان سنایا: 'لَا یَنْھٰکُمُ اللّٰہُ عَنِ الَّذِیْنَ لَمْ یُقَاتِلُوْکُمْ فِی الدِّیْنِ وَلَمْ یُخْرِجُوْکُمْ مِّنْ دِیَارِکُمْ اَنْ تَبَرُّوْھُمْ وَتُقْسِطُوْٓا اِلَیْھِمْ'، '' ﷲ تمھیں ان لوگوں سے احسان اور انصاف کا سلوک کرنے سے منع نہیں کرتا جنھوں نے تم سے قتال نہیں کیااور تمھیں تمھارے گھروں سے نہیں نکالا'' (الممتحنہ ۶۰: ۸) اور فرمایا: ان کو عزت سے بٹھاؤ اور تحائف قبول کر لو (موسوعۂ مسند احمد، رقم ۱۶۱۱۱۔ مستدرک حاکم، رقم ۳۸۰۴) ۔

حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کے اہل خانہ میں سے کسی کو بخار آتا توہمارے گھر میں ہنڈیا چڑھی رہتی۔ آپ بیمارکو حریرہ(آٹے اور چینی سے بنا ہوا پتلا شیرہ) بنوا کرکھلاتے اور فرماتے: یہ قلب ملول کو قوت دیتا ہے اور بیمارکے دل کی پژمردگی ختم کرتا ہے، جیسے تم پانی سے اپنے چہرے کی میل دور کرتے ہو (ابن ماجہ، رقم ۳۴۴۵، ۳۴۴۶۔ موسوعۂ مسند احمد، رقم ۲۴۰۳۵)۔

حضرت جابر بن عبدﷲبیان کرتے ہیں کہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے لہسن یا پیاز کھایا ،وہ ہماری مسجد سے دور رہے اور گھر میں بیٹھ رہے (ابوداؤد، رقم ۳۸۲۲)۔ حضرت قرہ بن ایاس سے مروی ہے کہ اگر تم نے ان کوکھانا ہی ہے توپکا کر ان کی بومار لو (ابوداؤد، رقم ۳۸۲۷)۔ جب حضرت عائشہ سے پیاز کھانے کے بارے میں سوال کیا گیا تو انھوں نے کہا: رسول ﷲ صلی ﷲعلیہ وسلم نے جو آخری کھانا کھایا ،اس میں پیازتھا (ابوداؤد، رقم ۳۸۲۹۔ موسوعۂ مسند احمد، رقم ۲۴۵۸۵) ۔

حضرت عائشہ فرماتی ہیں: میں نے دیکھا کہ نبی صلی ﷲ علیہ وسلم نے کبھی کھڑے ہوئے اور کبھی بیٹھ کر پانی نوش فرمایا،ننگے پاؤں اور جوتوں سمیت، دونوں طرح نماز ادا فرمائی اور نماز سے فارغ ہو کرکبھی دائیں طرف کو اٹھے اورکبھی بائیں کوچلے (نسائی، رقم ۱۳۶۲۔ موسوعۂ مسند احمد، رقم ۲۴۵۶۷)۔

حضرت عائشہ فرماتی ہیں: رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم میرے حجرے میں تشریف لائے ۔اس وقت ایک بچی میرے پاس بیٹھی تھی ۔آپ نے پوچھا: کیا اسے ایام ہوتے ہیں؟ میں نے کہا: ہاں۔ آپ نے اپنی چادر(یا عمامہ پھاڑااور ) میری طرف اچھال کر فرمایا: اس کے دو ٹکڑے کر لو۔آدھا اسے دے دو اور دوسرا آدھا ام سلمہ کے پاس رہنے والی لڑکی کودے دو۔میرا خیال ہے، دونوں بالغہ ہیں (ابو داؤد، رقم ۶۴۲۔ ابن ماجہ، رقم ۶۵۴۔ موسوعۂ مسند احمد، رقم ۲۴۶۴۶)۔

حضرت عائشہ کے پاس ایک بچی آئی ۔اس کے پاؤں میں گھنگرو تھے جو بج رہے تھے۔ کہا:یہ گھنگرو اتار کر میرے پاس آؤ۔ میں نے رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے،جس گھر میں گھنٹا بج رہا ہو ،اس میں فرشتے نہیں آتے(ابو داؤد، رقم ۴۲۳۱)۔

حضرت عائشہ نے اپنے بھانجے عروہ سے کہا: تمھیں ابوہریرہ پر تعجب نہ ہوا،میرے حجرے کے پاس بیٹھ کر نبی صلی ﷲ علیہ وسلم سے حدیث بیان کرنے اور 'اے حجرے کی مالکن' کہہ کر مجھ کوسنانے لگے۔ میں نوافل پڑھ رہی تھی، میرے فارغ ہونے سے پہلے ہی اٹھ گئے۔اگر مجھے ان سے بات کرنے کاموقع ملتا توبتاتی کہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم آپ کی طرح لگاتار کلام نہیں کرتے تھے۔آپ اس طرح کلام فرماتے تھے کہ کوئی بھی آپ کے ارشادات کو شمار کرکے یاد کر سکتا تھا (مسلم، رقم ۶۴۸۲، ۶۷۱۹۔ ابوداؤد، رقم ۳۶۵۵۔ ترمذی، رقم ۳۶۳۹۔ موسوعۂ مسند احمد، رقم ۲۴۸۶۵)۔ دوسری روایت ہے کہ آپ کی گفتگوایسی صاف ہوتی تھی کہ ہر سننے والا سمجھ جاتا تھا (ابوداؤد، رقم ۴۸۳۹)۔ شبیر احمد عثمانی کہتے ہیں کہ حضرت عائشہ نے حدیث روایت کرنے پر نہیں، بلکہ پے درپے، جلدی جلدی احادیث بیان کرنے پر اعتراض کیا، کیونکہ اس طرح ان کا سمجھ میں آنا اور ذہن نشین ہونا مشکل ہوسکتا ہے۔ابن حجر نے اس اعتراض کو اس طرح رفع کیا کہ حضرت ابوہریرہ کے پاس وسیع ذخیرۂ احادیث تھا،ان کے لیے ممکن نہ تھا کہ رک رک کر، ٹھیر ٹھیر کر روایت کرتے۔

حضرت عائشہ فرماتی ہیں: ایک بار نبی صلی ﷲ علیہ وسلم میرے ہاں ایک قیدی لے آئے۔میں اس کی دیکھ بھال کرنے کے بجاے عورتوں کے ساتھ مشغول ہو گئی اور وہ کھسک گیا۔آپ واپس تشریف لائے تو غصے ہوئے اور فرما یا: تو نے کیا کیا؟ ﷲ تیرا ہاتھ کاٹے یا دونوں ہاتھ ہی قطع کردے۔پھرآپ نے صحابہ کو قیدی کی تلاش میں بھیجا او ر وہ اسے پکڑلائے۔فارغ ہو کر آپ لوٹے تو مجھے ہاتھ ملتے دیکھ کر فرمایا: تجھے کیا ہوا؟دیوانی ہو گئی ہو؟میں نے کہا: آپ نے مجھے بددعا دی ہے،میں دیکھ رہی ہوں ، کون سا ہاتھ کٹے گا؟آپ نے ﷲ کی حمد و ثنا کی اور ہاتھ اٹھا کر دعا فرمائی: اے ﷲ، میں بشر ہوں ،انسانوں کی طرح غصے میں آ جاتا ہوں۔جس کسی مومن یا مومنہ کو بد دعا دوں ،تو اسے اس کے لیے گناہوں سے چھوٹ اور پاک دامنی کا ذریعہ بنا دے (موسوعۂ مسند احمد، رقم ۲۴۲۵۹۔ السنن الکبریٰ، بیہقی، رقم ۱۸۱۴۷)۔ موسوعۂ مسند احمدکی روایت ۱۲۴۳۱میں اس واقعے کو حضرت حفصہ سے منسوب کیا گیا ہے۔

ایک دفعہ نو مسلموں کا ایک بڑاگروہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم سے ملنے آیا۔مہاجرین نے کھڑے ہو کر رستہ بنایا، تب آپ حجرۂ عائشہ کی چوکھٹ تک پہنچ پائے۔ وہ پھر بھی آپ پر چڑھ آئے ۔آپ نے اپنی چادر ان کو تھماکردروازے کی دہلیز پر چھلانگ لگائی اور فرمایا: ﷲ ان پر لعنت کر۔حضرت عائشہ نے کہا: یہ لوگ تو مارے گئے۔آپ نے فرمایا: میں نے اپنے رب سے عہد لے رکھا ہے جس کی وہ خلاف ورزی نہ کرے گا۔میں بھی ایک انسان ہوں،لوگوں کی طرح تنگ پڑ جاتا ہوں۔اہل ایمان میں جس کسی کے خلاف میرے منہ سے کوئی کلمہ نکل جائے،اسے اس کے لیے کفارہ بنا دے (موسوعۂ مسند احمد، رقم ۲۴۷۶۴)۔

استفسارات نماز

جس دن حضرت سعد بن ابووقاص کی وفات ہوئی،حضرت عائشہ کے بھائی حضرت عبدالرحمن بن ابوبکر ان کے ہاں آئے۔ انھوں نے وضو کیا تو حضرت عائشہ نے ٹوکا کہ صحیح طریقے سے وضوکرو۔میں نے رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے، (وضومیں خشک رہ جانے والی) ایڑیاں دوزخ کی آگ سے برباد ہوں گی (مسلم، رقم ۴۸۷۔ ابن ماجہ، رقم ۴۵۱۔ موسوعۂ مسند احمد، رقم ۲۴۱۲۳)۔

شریح بن ہانی نے حضرت عائشہ سے موزوں پر مسح کرنے کی تفصیل دریافت کی تو انھوں نے کہا: علی سے پوچھو ، اس باب میں وہ مجھ سے زیادہ علم رکھتے ہیں۔وہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کیا کرتے تھے (مسلم، رقم ۵۶۰۔ موسوعۂ مسند احمد، رقم ۷۴۸)۔

حضرت عائشہ فرماتی ہیں: معراج سے پہلے مکہ میں نماز دو رکعات فرض کی گئی ۔رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم مدینہ آئے تو ﷲ تعالیٰ نے حضر میں چار رکعت کردیں اور سفر میں ابتدائی فرض ،دو رکعتوں کو برقرار رکھا (بخاری، رقم ۳۵۰۔ مسلم، رقم ۱۵۱۷۔ ابوداؤد، رقم ۱۱۹۸۔ موسوعۂ مسند احمد، رقم ۲۶۰۴۲)۔

حضرت عائشہ کے بھانجے قاسم بن محمدنے کنیز کے بطن سے جنم لیا تھا۔وہ اور ان کے بھتیجے ،حضرت عبدالرحمن بن ابوبکر کے پوتے عبدﷲ بن محمدحضرت عائشہ کے پاس حاضر تھے۔کسی بات پر حضرت عائشہ نے قاسم کوڈانٹا، تم اپنے بھتیجے عبدﷲ کی طرح تہذیب سے بات کیوں نہیں کرتے ۔شاید یہ تمھاری ماں کی تربیت ہے۔یہ سن کر قاسم کو طیش آیا اور اپنی پھوپھی حضرت عائشہ سے بگڑنے لگے۔کھانے کا دستر خوان بچھایا گیا تووہ نماز کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے۔ حضرت عائشہ نے کہا:ارے بے وفا !بیٹھ جا، میں نے رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کو فرماتے سناہے ،کھانے کے وقت اور قضاے حاجت کو روک کر نماز نہ پڑھو (مسلم، رقم ۱۱۸۳۔ ابوداؤد، رقم ۸۹۔ موسوعۂ مسند احمد، رقم ۲۴۴۴۹)۔ سیدہ عائشہ فرماتی ہیں: آپ نے یہ بھی ارشاد کیا، جب کھانا رکھ دیا جائے اور نماز کھڑی ہو جائے تو کھانے سے ابتدا کرو (ابن ماجہ، رقم ۹۳۵)۔

حضرت عائشہ نے رسول ا ﷲصلی ﷲ علیہ وسلم سے اس شخص کے بارے میں سوال کیا جو نماز میں ادھر ادھر دیکھتا ہے۔ آپ نے فرمایا: یہ شیطان کا جھپٹنا ہے،وہ تمھیں نماز سے ورغلاتا ہے (بخاری، رقم ۷۵۱۔ ابوداؤد، رقم ۹۱۰۔ ترمذی، رقم ۵۹۰۔ نسائی، رقم ۱۱۹۷۔ موسوعۂ مسند احمد، رقم ۲۴۴۱۲)۔

حضرت عائشہ روایت کرتی ہیں کہ نبی صلی ﷲعلیہ وسلم اختتام نماز پر ایک ہی سلام پھیرتے۔آپ کا رخ سامنے کی طرف ،ذراداہنی جانب جھکا ہوتا (ترمذی، رقم ۲۹۶۔ ابن ماجہ، رقم ۹۱۹۔ مستدرک حاکم، رقم ۸۴۱)۔ امام ترمذی کہتے ہیں کہ اگرچہ صحیح ترین روایات کے مطابق نماز کے بعد دو سلام کرنا ثابت ہے اور اسی پر امت کی اکثریت عمل پیرا ہے۔ تاہم صحابہ و تابعین کی ایک جماعت فرض نمازوں میں ایک سلام پھیرتی رہی ہے۔امام شافعی کی راے ہے ، چاہو تو ایک سلام، چاہودو پھیر لو۔شوکانی کا کہنا ہے کہ ایک سلام پھیرنے والی روایات قلیل اور ضعیف ہیں۔اس لیے ان کی بنا پر دو سلام پھیرنے والی بے شمار اور اصح روایات کو چھوڑنا درست نہیں۔اس کے باوجود علما کا اس بات پر اتفاق ہے کہ اگر کسی نے ایک سلام پھیرکر نماز ختم کر دی تو اس کی نماز درست ہو گی، کیونکہ پہلا سلام واجب اور دوسرا مستحب ہے۔

حضرت عبدﷲ بن عباس فرماتے ہیں: میں نے آں حضور صلی ﷲ علیہ وسلم کے پہلو میں(دائیں طرف) کھڑے ہو کر نمازاداکی۔سیدہ عائشہ ہمارے پیچھے جماعت میں شامل تھیں (نسائی، رقم ۸۰۵۔ موسوعۂ مسند احمد، رقم ۲۷۵۱)۔ جب ایک بچہ اور ایک عورت نماز میں شریک ہوں تو اسی طرح صف بندی کی جاتی ہے۔

۹ھ :حضرت ام سلمہ کی روایت ہے کہ ظہر کے فوراً بعد نبی صلی ﷲ علیہ وسلم کے پاس کچھ مال آیا ۔آپ اسے تقسیم کرنے میں مشغول ہو گئے۔ اسی اثنا میں عصر کی اذان ہوگئی ۔ عصر پڑھانے کے بعدآپ میرے گھر آئے اور ظہر کی رہ جانے والی دو رکعتیں ادا فرمائیں (موسوعۂ مسند احمد، رقم ۲۶۵۶۰)۔ حضرت عائشہ نے ان رکعتوں کو معمول بنا لیا تو حضرت عبدﷲ بن عباس ،حضرت عبدالرحمن بن ازہر اورحضرت مسور بن مخرمہ نے ان سے سوال کیا کہ ہم تک تو یہی روایت پہنچی ہے کہ نبی صلی ﷲ علیہ وسلم ان سے منع فرمایا کرتے تھے ۔ انھوں نے جواب دیا: آپ ام سلمہ سے پوچھ لیں۔ حضرت ام سلمہ نے بتایا: میں نے بھی رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کو ان رکعتوں سے منع فرماتے سنا پھر انھیں ادا کرتے دیکھا تو استفسار کیا۔آپ نے وضاحت فرمائی: میرے پاس بنوعبدالقیس کے کچھ لوگ مسلمان ہو کراپنی قوم کا پیغام لائے۔ان سے بات چیت نے مجھے ظہر کے بعد والی دو رکعتیں پڑھنے کا موقع نہ دیا۔ یہ وہی دوگانہ تھاجواب میں نے ادا کیا (بخاری، رقم ۴۳۷۰۔ مسلم، رقم ۱۸۸۵۔ ابوداؤد، رقم ۱۲۷۳۔ نسائی، رقم ۵۸۰)۔ حضرت عائشہ ہی کی روایت کے مطابق عصر کے بعددو رکعتیں پڑھنا آں حضور صلی ﷲ علیہ وسلم کا مستقل معمول تھا، فرماتی ہیں: رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے میرے گھرمیں نماز فجر سے قبل والی دو رکعتوں اور نماز عصر کے بعد والی دو رکعتوں کو چھپے، علانیہ کبھی ترک نہیں کیا(مسلم، رقم ۱۸۸۹۔ ابوداؤد، رقم ۱۲۷۹۔ ترمذی، رقم ۱۸۴۔ نسائی، رقم ۵۷۸)۔ شبیر احمد عثمانی کہتے ہیں کہ نماز عصر کے بعدکا دوگانہ رسالت مآب صلی ﷲ علیہ وسلم کی ذات اقدس کے ساتھ مخصوص تھا۔آپ نے عامۃ المسلمین کو اس وقت نفل نماز پڑھنے سے سداً للذریعہ منع فرمایا، کیونکہ اداے نمازکے دوران میں مکروہ وقت میں داخل ہونے کا بہت احتمال ہوتا ہے۔ عصر کے بعد والی دو رکعتوں کی مداومت حضرت عائشہ کے سوا کسی نے نہیں بیان کی۔رشید احمد گنگوہی کا کہنا ہے کہ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ حضرت عائشہ کی باری والے دن، یعنی نویں روزہی انھیں ادا فرماتے تھے ۔حضرت ام سلمہ کے گھر میںآپ نے محض ایک بار یہ رکعات پڑھیں جیسا کہ انھوں نے بتایا، میں نے اس واقعے سے قبل یا بعد آپ کو یہ رکعتیں ادا فرماتے کبھی نہیں دیکھا (موسوعۂ مسند احمد، رقم ۲۶۵۶۰)۔ ہمیں آپ ہی کے ارشاد کے مطابق اس وقت یہ دو رکعتیںیا کوئی اور نفل نہ پڑھنا چاہیے۔حضرت زید بن ثابت نے اس باب میں رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کے عمل کو ایک انفرادی واقعہ قرار دے کر حضرت عائشہ کے موقف کی سختی سے تردید کی (موسوعۂ مسند احمد، رقم ۲۱۶۱۲)۔ حضرت عبدﷲ بن مغفل نے حضرت عمر کی اولادمیں سے دو نوجوانوں کو عصر کے بعد دوگانہ ادا کرتے دیکھا تو کہا: تمھارے باپ عمر ان رکعتوں سے منع کیا کرتے تھے۔ انھوں نے کہا: ہمیں حضرت عائشہ نے بتایا ہے کہ آں حضرت صلی ﷲ علیہ وسلم انھیں ادا کرتے تھے ۔تب حضر ت عبدﷲ خاموش ہو گئے (موسوعۂ مسند احمد، رقم ۲۲۳۳۷)۔

حضرت عائشہ فرماتی ہیں: جمعہ کے روز لوگ بالائی مدینہ سے نماز پڑھنے مسجد نبوی آتے ۔ انھوں نے عبائیں پہنی ہوتیں جن پر گرد و غبارپڑا ہوتا،ان کے پاس سے بدبو آ رہی ہو تی جس سے لوگ ناگواری محسوس کرتے۔نبی صلی ﷲ علیہ وسلم کوپتا چلا توفرمایا تم غسل کیوں نہیں کر لیتے۔دوسری روایت میں انھوں نے بتایا، آپ میرے ہاں تھے کہ ان میں سے ایک شخص آپ سے ملنے آیا ۔آپ نے فرمایا: کاش، تم اس دن غسل کر لیا کرو (مسلم، رقم ۱۹۱۰۔ ابوداؤد، رقم ۳۵۲۔ نسائی، رقم ۱۳۸۰)۔ جمہور علما کے نزدیک جمعہ کے دن(زوال سے پہلے) غسل کرنا سنت ہے،امام مالک اسے مستحب، جب کہ ابن حزم واجب قرار دیتے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ یہ وجوب نماز کے لیے نہیں،بلکہ جمعہ کے دن کے لیے ہے، اس لیے غسل جمعہ کی نماز کے بعد بھی کیا جا سکتا ہے۔

حضرت عائشہ نے وضاحت کی کہ ایک بار رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے جمعہ کا خطبہ ارشاد کیا تو نمازیوں کے موٹے اونی کپڑے دیکھ کر(جن سے بو آرہی تھی) فرمایا: تم میں سے جو گنجایش رکھتا ہے ،اس کے لیے کوئی مشکل نہیں اگر وہ کام کاج کے کپڑوں کے علاوہ خاص جمعہ کی نماز کے لیے ایک جوڑا بنا رکھے (ابن ماجہ، رقم ۱۰۹۶)۔

بنواسد کی ایک عورت (حضرت حولا بنت تویت )نے حضرت عائشہ کو اپنی( نفلی) نماز کی کیفیت بتائی اور کہا:کثرت قیام کی وجہ سے وہ رات بھر نہیں سوتی۔ نبی صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا: اتنا عمل اختیار کرو جو تم مستقل کر سکتے ہو،کیونکہ ﷲ تو نہیں تھکے گا ،تم تھک جاؤ گے (بخاری، رقم ۴۳۔ مسلم، رقم ۱۷۸۳۔ نسائی، رقم ۵۰۳۸۔ ابن ماجہ، رقم ۴۲۳۸۔ موسوعۂ مسند احمد، رقم ۲۴۲۴۵)۔

مدینہ میں رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم گھوڑے سے گر پڑے اور آپ کے پاؤ ں اور داہنے پہلو کو چوٹ آئی۔صحابہ عیادت کوآئے توآپ سیدہ عائشہ کے کمرے میں بیٹھ کر نماز پڑھ رہے تھے۔ انھوں نے آپ کے پیچھے کھڑے ہو کر نماز ادا کی۔ایک بار آپ نے نہ ٹوکا، لیکن دوسری دفعہ بھی ایسا ہوا تو ان کو بیٹھنے کا اشارہ کیا۔اختتام نماز پر ارشاد فرمایا: امام اس لیے مقرر کیا جاتا ہے کہ اس کی اقتدا کی جائے ۔وہ رکوع کرے توتم بھی رکوع کرو ،وہ سر اٹھائے تو تم بھی سر اٹھاؤ۔ وہ بیٹھ کر نماز پڑھے توتم بھی بیٹھ جاؤ (ابوداؤد، رقم ۶۰۲۔ ابن ماجہ، رقم ۱۲۳۷۔ موسوعۂ مسند احمد، رقم ۲۴۲۵۰)۔ مرض وفات میںآپ نے اس فرمان کے برعکس عمل اختیار فرمایا۔ حضرت ابوبکر نماز پڑھا رہے تھے کہ آپ کو کچھ افاقہ محسوس ہوا۔ حضرت عباس اور حضرت علی کا سہارا لیتے ہوئے آپ مسجد میں آئے۔ حضرت ابوبکر نے پیچھے ہٹنا چاہا، لیکن آپ نے انھیں اپنی جگہ پر رہنے کا اشارہ کیا اور خود ان کے پہلو میں بیٹھ گئے۔حضرت ابوبکر آپ کی اقتدا کرنے لگے اور اصحاب حضرت ابوبکر کی امامت میں (کھڑے ہو کر)نماز پڑھنے لگے (بخاری، رقم ۶۸۷)۔ آپ نے نمازیوں کے کھڑے رہنے پر کوئی تنکیر نہ فرمائی۔ احناف، شوافع اور سفیان ثوری کہتے ہیں کہ مرض وفات میں آپ کے عمل سے گذشتہ مرض میں ارشاد کیا ہوا آپ کا سابقہ حکم منسوخ ہوگیا، اس لیے اگر مقتدیوں کو کوئی مرض لاحق نہ ہو تو ان کا بیٹھ کر نماز پڑھنا جائزنہ ہو گا۔شوکانی کا کہنا ہے،نخعی کے شاگرد مغیرہ بن مقسم پہلے فقیہ تھے جنھوں نے یہ راے اختیار کی۔ امام مالک اور امام محمد کا فتویٰ ہے، قاعد قائم کی امامت ہی نہیں کر سکتا۔امام احمد نسخ کا انکار کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ صحابہ نے آں حضرت صلی ﷲ علیہ وسلم کے بیٹھنے کے باوجود قیام کو جاری رکھا، کیونکہ وہ حضرت ابوبکر کی اقتدا میں نماز کھڑے ہو کر شروع کر چکے تھے۔

آں حضور صلی ﷲعلیہ وسلم نے فرمایا: ﷲ کی باندیوں کو ﷲ کی مساجد میں جانے سے نہ روکو۔ انھیں تیل اور خوشبو لگائے بغیر نکلنا چاہیے (بخاری، رقم ۸۶۵۔ مسلم، رقم ۹۲۱۔ موسوعۂ مسند احمد، رقم ۲۴۴۰۶)۔ آپ کی وفات کے کچھ عرصہ بعد عورتیں بناؤ سنگھار کر کے مساجد میں آنے لگیں تو حضرت عائشہ نے فرمایا: رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم اگر عورتوں کے نئے اطواردیکھ لیتے تو انھیں مسجد آنے سے اسی طرح منع فرما دیتے، جیسے بنی اسرائیل کی عورتوں کوروک دیا گیا تھا (مسلم، رقم ۹۳۰۔ ابوداؤد، رقم ۵۶۹۔ ترمذی، رقم ۵۳۹۔ موسوعۂ مسند احمد، رقم ۲۵۹۸۲)۔ حضرت عائشہ کے ذہن میں آپ کا یہ فرمان رہا ہو گا، تم میں سے کوئی عورت مسجد میںآتے وقت خوشبو نہ لگائے (مسلم، رقم ۹۲۸)۔ حضرت عائشہ ہی کی روایت سے عہد نبوی کا ایک واقعہ نقل ہوا ہے کہ بنومزینہ کی ایک عورت زیب و زینت کیے ہوئے، نازو انداز دکھاتی ہوئی مسجد نبوی میں داخل ہوئی تو آپ نے ناراضی کا اظہار کیا اور فرمایا: بنی اسرائیل پر اسی لیے لعنت کی گئی، کیونکہ ان کی عورتیں مساجد میں ناز نخرے دکھاتی تھیں (ابن ماجہ، رقم ۴۰۰۱۔ مسند اسحاق بن راہویہ، رقم ۸۵۵)۔ محدثین نے اس روایت کو ضعیف قرار دیا ہے۔

حضرت عائشہ سفر میں مکمل نماز پڑھتی تھیں (ترمذی، رقم ۵۴۴)۔ فرماتی ہیں: میں نے عمرہ کرنے کے لیے رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ سے مکہ کا سفر کیا۔مکہ پہنچ کر سوال کیا:یا رسول ﷲ، میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، آپ نے نماز قصر کرکے پڑھی اور میں نے پوری ،آپ نے روزے چھوڑے اور میں رکھتی رہی۔آپ نے فرمایا: عائشہ، تو نے خوب کیا اور نکیر نہ فرمائی (نسائی، رقم ۱۴۵۷)۔ امام شافعی کہتے ہیں کہ تقصیر ایک رخصت ہے ،اگرمسافر نے پوری نماز پڑھ لی توبھی ادا ہو جائے گی۔

رمضان کے مہینے میں حضرت عائشہ اپنے غلام ابو عمرو ذکوان کی امامت میں نماز پڑھتیں جو اس وقت آزاد نہ ہوا تھا۔ذکوان مصحف سے دیکھ کر قرآن تلاوت کرتا (بخاری: کتاب الاذان، باب ۵۴، مصنف ابن ابی شیبہ: کتاب صلاۃ التطوع و الامامۃ)۔ اسی لیے امام مالک کے علاوہ تمام ائمہ غلام کی امامت کو جائز سمجھتے ہیں۔

حضرت عائشہ فرماتی ہیں: ایک بار مجھے عشاء کی نماز کے بعد گھر لوٹنے میں تاخیر ہو گئی ۔آں حضرت صلی ﷲ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: تم کہاں تھی؟میں نے بتایا: میں آپ کے ایک صحابی کی قراء ت سن رہی تھی۔اس جیسی قراء ت اور اس جیسی آوازمیں نے کسی کی نہ سنی۔آپ اٹھے اورمیں بھی آپ کے ساتھ گئی۔ فرمایا: یہ ابوحذیفہ کے آزاد کردہ، سالم ہیں۔ﷲ کا شکر ہے ، جس نے میری امت میں اس طرح کے لوگ پیدا کیے(ابن ماجہ، رقم ۱۳۳۸۔ موسوعۂ مسند احمد، رقم ۲۵۳۲۰) ۔

َٰحضرت عائشہ فرماتی ہیں: رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم (سفر و حضر میں) چاشت کی نماز نہ پڑھتے تھے، لیکن میں پڑھتی ہوں۔ آپ ایک کام(کر کے ) اس اندیشے سے چھوڑ دیتے تھے کہ وہ سنت و فرض نہ بن جائے۔مطلوب لوگوں کی آسانی ہوتی تھی (موسوعۂ مسند احمد، رقم ۲۵۴۵۱۔ مصنف عبدالرزاق، رقم ۴۸۶۷)۔ ایک عورت نے حضرت عائشہ سے استفسار کیا: کیا رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم چاشت کے نوافل ادا کرتے تھے ؟ تو انھوں نے چار رکعات پڑھنے کا اثبات کیا ( موسوعۂ مسند احمد، رقم ۲۵۳۸۸)۔ وہ خود آٹھ رکعتیں ادا کرتی تھیں۔( موسوعۂ مسند احمد، رقم ۲۵۳۶۳۔ مصنف عبدالرزاق، رقم ۴۸۶۶)۔ صلحاے امت کی ایک بڑی تعدادبھی چار یا آٹھ رکعتیں پڑھنے پر عمل پیرا ہے۔

حضرت عائشہ فرماتی ہیں:رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کسی مجلس میں تشریف فرما ہوتے یا نماز سے فارغ ہوتے توکچھ کلمات ادا فرماتے ۔میں نے ان کے بارے میں دریافت کیا تو ارشاد فرمایا: اگر کوئی شخص بھلائی کی باتیں کرتا ہے تویہ کلمے روزقیامت تک ان پر مہرکی طرح قائم رہتے ہیں۔اور اگر کوئی مہمل گفتگو کرے تو یہ اس کے لیے کفارہ بن جاتے ہیں۔وہ کلمات یہ ہیں: 'سبحانک اللّٰہم! وبحمدک أستغفرک وأتوب إلیک'، ''تیری پاکی ہے، اے ﷲ، تیری حمد بیان کرنے کے ساتھ میں تجھ سے استغفار کرتا ہوں اور تیری طرف رجوع کرتا ہوں'' (نسائی، رقم ۱۳۴۵)۔

حضرت ابوہریرہ نے یہ حدیث بیان کی: ''جس نے کوئی نمازجنازہ پڑھی تو اسے ایک قیراط جتنا اجر ملے گا اور جو جنازہ پڑھنے کے بعداس کے ساتھ گیا اور تدفین میں حصہ لیا،اسے دو قیراط کے برابر ثواب ہوگا۔''توحضرت عبدﷲ بن عمر نے کہا: دیکھو ابوہریرہ کو ،ایسے ہی حدیثیں بیان کرتے رہتے ہیں۔پھر انھیں پکڑ کر حضرت عائشہ کے پاس لے گئے۔ انھوں نے حضرت ابوہریرہ کی روایت کی تصدیق کی اور کہا:وہ سچ کہہ رہے ہیں۔حضرت عبدﷲ بن عمر نے کہا: تب تو ہم نے بہت سے قیراط کھو دیے ہیں۔جب یہ سوال کیا گیا کہ قیراط کیا ہے؟ توحضرت ابوہریرہ نے بتایا: احد جتنا بڑا پہاڑ (بخاری، رقم ۴۷، ۱۳۲۴۔ مسلم، رقم ۲۱۴۵۔ ابوداؤد، رقم ۳۱۶۹۔ ترمذی، رقم ۱۰۴۰۔ موسوعۂ مسند احمد، رقم ۸۵۵۶)۔

مطالعۂ مزید: السیرۃ النبویۃ (ابن ہشام)، الطبقات الکبریٰ (ابن سعد)،الجامع المسند الصحیح المختصر (بخاری،شرکۃ دار الارقم) المسند الصحیح المختصر من السنن(مسلم،شرکۃ دار الارقم)، الجمل من انساب الاشراف (بلاذری)، تاریخ الامم والملوک (طبری)، احکام القرآن(جصاص)، الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب(ابن عبدالبر)، احکام القرآن (ابن عربی)، المنتظم فی تواریخ الملوک و الامم (ابن جو زی)، الکامل فی التاریخ (ابن اثیر)، اسدالغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ (ابن اثیر)، تہذیب الکمال فی اسماء الرجال (مزی)،سیراعلام النبلاء (ذہبی)، البداےۃ والنہاےۃ (ابن کثیر)، الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ (ابن حجر)،تہذیب التہذیب(ابن حجر)،اردو دائرۂ معارف اسلامیہ(مقالہ،امین ﷲ وثیر)، Wikipedia, the free encyclopedia، رخصتی کے وقت ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی عمر (محمد عمار خان ناصر)۔ [باقی]

____________