ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا (۱۰)


اﷲ تعالیٰ کا ارشاد ہے: 'حٰفِظُوْا عَلَی الصَّلَوٰتِ وَالصَّلٰوۃِ الْوُسْطٰی'، ''نمازوں کی پابندی کرو خصوصاً بیچ کی نماز کی'' (البقرہ ۲: ۲۳۸)۔ 'الصَّلٰوۃِ الْوُسْطٰی' کی تفسیر میں کچھ اختلاف ہے، تاہم حضرت عائشہ فرماتی ہیں: اس سے مراد عصر کی نماز ہے۔ انھیں اپنی تفسیر کے صحیح ہونے پر اس قدر اعتماد تھا کہ اپنے مصحف کے حاشیہ پر اسے لکھوا دیا تھا (مسلم، رقم ۱۳۷۱۔ ابوداؤد، رقم ۴۱۰۔ ترمذی، رقم ۲۹۸۲۔ نسائی، رقم ۴۷۳۔ مسند احمد، رقم ۲۵۴۵۰)۔ ان معنوں کی تائید ان بے شمار روایتوں سے ہوتی ہے جو حضرت علی سے مروی ہیں، جنگ احزاب کے دن آں حضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے مشرکین کو بددعا دی، اﷲ ان کی قبروں اور ان کے گھروں کو آگ سے بھر دے، کیونکہ انھوں نے ہمیں صلاۃ وسطیٰ (نماز عصر) پڑھنے سے روک دیا، حتیٰ کہ سورج غروب ہو گیا (بخاری، رقم ۲۹۳۱۔ مسلم، رقم ۱۳۶۵)۔

اہل ایمان نے خشک سالی کی شکایت کی تو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے شہر سے باہرنکل کر نماز استسقا ادا کرنے کے لیے ایک دن مقرر کر دیا۔حضرت عائشہ فرماتی ہیں: سورج کا ایک کنارہ ہی طلوع ہوا تھا کہ آپ منبرپر تشریف فرما ہوئے۔ تکبیر وتحمید کے بعدفرمایا: تم نے اپنے ملک میں سوکھا پڑنے اوروقت پر بارش نہ ہونے کی شکایت کی ہے۔ اﷲ تمھیں حکم دیتا ہے کہ اس سے دعا کرو اور وعدہ کرتا ہے کہ دعاقبول کرے گا۔آپ نے ہاتھ اٹھا کر بارش کی دعا کی پھر منبر سے اترے اور دو رکعتیں پڑھائیں۔آخر کار اﷲنے بادل بھیجا جو کڑکا اور برسا۔آپ اپنی مسجد تک نہ پہنچے تھے کہ ندی نالے بہنے شروع ہو گئے (ابوداؤد، رقم ۱۱۷۳۔ مستدرک حاکم، رقم ۱۲۲۵) ۔

روزہ

حضرت عائشہ فرماتی ہیں: زمانۂ جاہلیت میں قریش یوم عاشورا (دس محرم)کا روزہ رکھتے تھے۔ مدینہ ہجرت کرنے کے بعد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم اس دن روزہ خود بھی رکھتے اور اہل ایمان کو بھی روزہ سے رہنے کا حکم دیتے۔ جب ماہ رمضان کے روزے فرض ہوئے تو آپ نے ارشاد فرمایا: عاشورا اﷲ کے دنوں میں سے ایک دن ہے، جس کا جی چاہتا ہو، یہ روزہ رکھ لے اور جو نہ چاہے، نہ رکھے (مسلم، رقم ۲۶۰۷۔ ابوداؤد، رقم ۲۴۴۲۔ ترمذی، رقم ۷۵۳۔ ابن ماجہ، رقم ۱۷۳۷۔ موسوعۂ مسند احمد، رقم ۲۴۰۱۱)۔ یہودی یوم عاشورا کو مقدس جانتے تھے، کیونکہ اس دن اﷲ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام اوربنی اسرائیل کو فرعون پر غلبہ عطا کیا تھا۔ آں حضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا: اگلے برس ہم نویں محرم کا روزہ رکھیں گے، لیکن اس سے پہلے آپ کی وفات ہو گئی (مسلم، رقم ۲۶۳۶۔ابن ماجہ، رقم ۱۷۳۶)۔ ایک روایت کے مطابق آپ نے فرمایا: نویں، دسویں محرم دونوں دنوں کا روزہ رکھو اور یہود کی مخالفت کرو (ترمذی، رقم ۷۵۵)۔

حضرت عائشہ فرماتی ہیں: رمضان کا آخری عشرہ آتا تو نبی صلی اﷲ علیہ وسلم اپنا تہ بند مضبوطی سے باندھ لیتے ، راتوں کو خودبھی جاگتے اور اپنی ازواج کو بھی بیدار رکھتے (بخاری، رقم ۲۰۲۴۔ مسلم، رقم ۲۷۵۷۔ نسائی، رقم ۱۶۴۰۔ ابن ماجہ، رقم ۱۷۶۸۔ موسوعۂ مسند احمد، رقم ۲۵۱۳۶)۔ تہ بند مضبوطی سے باندھ لیناکنایہ ہے، ازواج سے الگ رہتے ہوئے عبادت پر پوری توجہ مرکوز کرنا۔

حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں: رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے(ایک بار ماہ رمضان میں)مسجد میں نماز (تراویح) ادا کی۔ صحابہ نے بھی آپ کی اقتدا کی۔ دوسری رات آپ نے نمازپڑھی توبہت لوگ اکٹھے ہو گئے۔ آپ نے ان کی طرف دیکھا اور فرمایا: اتنے اعمال کرو جو تمھارے بس میں ہوں۔اﷲ تو نہ تھکے گا، لیکن تم بے زار ہو جاؤ گے۔ تیسری (یا چوتھی) رات صحابہ جمع ہو کر آپ کے آنے کا انتظار کرتے رہے، لیکن آپ نہ آئے۔اگلے دن فرمایا: اس اندیشے نے کہ یہ نماز تم پر فرض نہ ہو جائے، مجھے باہر نکلنے سے روکے رکھا (ابوداؤد، رقم ۱۳۷۳۔ نسائی، رقم ۱۶۰۵۔ موسوعۂ مسند احمد، رقم ۲۴۳۲۲)۔

حضرت عائشہ فرماتی ہیں: میرے علم میں نہیں کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے کبھی ایک رات میں مکمل قرآن تلاوت کیا ہو ، پوری رات،فجر تک قیام کیا ہو یا رمضان کے علاوہ مہینے بھر کے روزے رکھے ہوں (نسائی، رقم ۱۶۴۲)۔

حضرت عائشہ فرماتی ہیں: اﷲ کے نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: اعتکاف صرف روزہ رکھنے پر ہو گا(موطا امام مالک، رقم ۱۱۲۱۔ مستدرک حاکم، رقم ۱۶۰۵)۔

حضرت عائشہ نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم سے سوال کیا: اگر میں لیلۃ القدر کو پا لوں تو کیا دعا مانگوں؟جواب فرمایا: 'اللّٰہم إنک عفو تحب العفو فاعف عني'، ''اے اﷲ، تو بہت معاف کرنے والا ہے، معافی دینا پسند کرتا ہے ،مجھ سے بھی درگذر کر لے'' (ترمذی، رقم ۳۵۱۳۔ ابن ماجہ، رقم ۳۸۵۰۔ موسوعۂ مسند احمد، رقم ۲۵۳۸۴۔ مستدرک حاکم، رقم ۱۹۴۲)۔

حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ انھوں نے کبھی نہیں دیکھا کہ نبی صلی اﷲ علیہ وسلم نے ذی الحجہ کے(پہلے) دس دنوں میں روزہ رکھا ہو (ترمذی، رقم ۷۵۶۔ابن ماجہ، رقم ۱۷۲۹۔ موسوعۂ مسند احمد، رقم ۲۴۱۴۷)۔ امام طحاوی نے حضرت عبداﷲ بن عباس سے مروی نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کیا: ''اﷲ کے ہاں اس سے زیادہ پاکیزہ اورزیادہ مرتبہ رکھنے والا عمل کوئی نہیں جو عید الاضحی کے (پہلے)دس دنوں میں کیا جائے'' (بخاری، رقم ۹۶۹)۔ اورسوال اٹھایا کہ آپ نے ان ایام میں روزہ رکھنا کیوں نہیں پسند فرمایا؟ پھرخود ہی اس کایہ جواب دیا کہ روزہ رکھنے کے بعد انسان ذکر اور تلاوت جیسے اشغال کی ہمت نہیں پاتا۔انھوں نے حضرت عبداﷲ بن مسعود کا قول بیان کیا کہ جب میں روزہ رکھتا ہوں تو نوافل پڑھنے میں سستی کرتا ہوں (شرح مشکل الآثار: باب ۴۶۷)۔ یہ جواب تسلی بخش نہیں، کیونکہ ہر نفلی روزے میں ایسا ہی ہوتا ہے تو کیا اہل ایمان روزہ رکھنا چھوڑ دیتے ہیں۔ عبدالرحمن مبارک پوری کہتے ہیں: ان ایام میں روزہ رکھنا مکروہ نہیں۔ یوم عرفہ (۹؍ ذی الحجہ) انھی ایام میں سے ایک ہے ،اس روزکا روزہ تو مستحب ہے ۔ہو سکتا ہے ، آں حضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے کسی عارضے یا سفر کے سبب روزہ نہ رکھا ہو۔ابن حجر کا کہنا ہے: حضرت عبداﷲ بن عباس کی روایت میں جن نیک اعمال کی ترغیب دی گئی ہے ،روزہ ان میں شامل ہے۔اس بات کااحتمال ہے کہ آپ نے روزہ اس لیے چھوڑا ہو کہ کہیں امت پرفرض نہ ہوجائے۔

حضرت عائشہ کو بتایا گیا کہ نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے ایک روزہ جلد کھولتے ہیں اور نماز بھی ترت ادا کر لیتے ہیں۔دوسرے صاحب افطار اور نماز، دونوں میں تاخیر کرتے ہیں۔پوچھا: افطاری اورنماز میں عجلت کرنے والے کون ہیں؟بتایا گیا: عبداﷲ بن مسعو د۔حضرت عائشہ نے فرمایا: آں حضرت صلی اﷲ علیہ وسلم بھی ایسا کیا کرتے تھے۔ تاخیر کرنے والے حضرت ابوموسیٰ اشعری تھے (ابوداؤد، رقم ۲۳۵۴۔ نسائی، رقم ۲۱۶۰۔ موسوعۂ مسند احمد، رقم ۲۴۲۱۲)۔

َٰحضرت عائشہ فرماتی ہیں: رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آتے تو کھانے کا پوچھتے ۔جب ہم کہتے: کھانے کو کچھ نہیں، تو آپ روزے کی نیت فرما لیتے۔ ایک بار تشریف لائے تو ہم نے کہا: (کھجور ،پنیر اور گھی سے بنے ہوئے حلوے) حیس کا تحفہ آیا پڑا ہے، آپ کی خاطر رکھا ہوا ہے۔ فرمایا: لاؤ،پھر حیس تناول کرکے نفلی روزہ افطار کرلیا اور فرمایا: نفلی روزہ صدقے کی طرح ہوتا ہے ۔آدمی اپنے مال سے صدقہ نکالتا ہے، پھراس کا جی چاہتاہے تودے دیتا ہے، نہیں چاہتا تو پاس رکھ لیتا ہے (ابوداؤد، رقم ۲۴۵۵۔ ترمذی، رقم ۷۳۴۔ نسائی، رقم ۲۳۲۴۔ ابن ماجہ، رقم ۱۷۰۱۔ موسوعۂ مسند احمد، رقم ۲۵۷۳۱)۔ حضرت عائشہ اور حضرت حفصہ کے پاس کہیں سے کھانا آیاتو انھوں نے نفلی روزہ کھول دیا۔ مسئلہ آپ کے سامنے پیش ہوا تو فرمایا: کوئی حرج نہیں،اس کے بدلے اور روزہ رکھ لینا (ابوداؤد، رقم ۲۴۵۷۔ ترمذی، رقم ۷۳۵۔ موسوعۂ مسند احمد، رقم ۲۶۲۶۷)۔ سیوطی کا کہنا ہے: نفلی روزہ بغیر عذر کے بھی کھولا جا سکتا ہے، البتہ زیادہ تر علما اس کی قضا ضروری قرار دیتے ہیں۔بلا وجہ نفلی روزہ توڑنے کے خلاف اﷲ تعالیٰ کے اس ارشاد کو دلیل کے طور پر پیش کیا جاتا ہے: 'یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اَطِیْعُوا اللّٰہَ وَاَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَلَا تُبْطِلُوْٓا اَعْمَالَکُمْ'، ''اے لوگوجو ایمان لائے ہو، اﷲ کی اطاعت کرو، رسول کی تابع فرمانی کرواور اپنے اعمال کواکارت نہ کرو'' (محمد ۴۷: ۳۳)۔ ابن منیر کہتے ہیں: یہ ایک عام حکم ہے، اگر کسی خاص معاملے میں الگ نص وارد ہوئی ہو تواسے حکم عام پر ترجیح دی جاتی ہے۔ابن عبدالبر کا کہنا ہے: اس آیت سے استدلال ہی درست نہیں، کیونکہ اس کے معنی ہیں،اپنے اعمال میں اخلاص پیدا کرو ، ریاکاری اور کبائرسے انھیں برباد نہ کرو (نیل الاوطار، باب ان صوم تطوع لا یلزم بالشروع، شوکانی)۔

حج وعمرہ

حضرت عائشہ فرماتی ہیں: میں نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم سے عرض کیا: یارسول اﷲ، ہم( عورتیں)آپ کے ساتھ غزوہ و جہادنہ کریں، کیونکہ میں نے قرآن مجید میں جہاد سے افضل کوئی عمل نہیں پایا ؟ فرمایا: نہ، (تمھارے لیے) بہترین اورعمدہ ترین جہاد حج مبرور ہے۔حضرت عائشہ نے کہا: میں یہ فرمان نبوی سننے کے بعد حج نہ چھوڑوں گی (بخاری، رقم ۱۸۶۱۔ نسائی، رقم ۲۶۲۹۔ ابن ماجہ، رقم ۲۹۰۱۔ موسوعۂ مسند احمد، رقم ۲۴۴۹۷)۔

حضرت عائشہ فرماتی ہیں: ہم نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کے ساتھ احرام باندھے ہوئے سفر کر رہے تھے۔جب کوئی مسافر ہمارے پاس سے گزرتا تو ہم اپنے آنچل سروں سے لٹکا (کر منہ ڈھانپ )لیتے اور جب وہ آگے بڑھ جاتا تو ہم ان کو اونچا کر دیتے (ابو داؤد، رقم ۱۸۳۳۔ ابن ماجہ، رقم ۲۹۳۵۔ موسوعۂ مسند احمد، رقم ۲۴۰۲۱)۔ اس حدیث کے راوی یزید بن ابو زیادکے بارے میں بتایا گیا ہے کہ بڑھاپے میں ان کا حافظہ جاتا رہا تھا۔

حضرت عائشہ فرماتی ہیں: نبی صلی اﷲ علیہ وسلم میرے پاس سے نکلے تو خوش دل تھے،آپ کا اطمینان آنکھوں سے چھلک رہا تھا،لیکن جب لوٹے تومغموم تھے۔ میں نے سبب پوچھا تو فرمایا: میں کعبے کے اندر سے ہو کر آیا ہوں۔ اب چاہ رہا ہوں کہ ایسا نہ کیا ہوتا۔مجھے اندیشہ ہے کہ میں نے اپنے بعدآنے والی امت کو مشقت میں ڈال دیا ہے (ابوداؤد، رقم ۲۰۲۹۔ ترمذی، رقم ۸۷۳۔ ابن ماجہ، رقم ۳۰۶۴۔ موسوعۂ مسند احمد، رقم ۲۵۰۵۶)۔یعنی ہر ایک کے لیے بیت اﷲ میں داخل ہونا اور نوافل پڑھنا ممکن نہ ہو گا۔

حضرت عائشہ فرماتی ہیں: میں بیت اﷲ کے اندر جا کر نماز پڑھنا چاہتی تھی۔رسول اﷲصلی اﷲ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا اور حطیم میں لا کھڑا کیا۔فرمایا: جب تو کعبہ کے اندر جانا چاہے تو حطیم میں نماز پڑھ لیا کرو،یہ کعبہ ہی کا ایک قطعہ ہے (ابوداؤد، رقم ۲۰۲۸۔ نسائی، رقم ۲۹۱۵)۔ دوسری روایت میں ہے کہ انھوں نے عرض کیا: یارسول اﷲ، میرے علاوہ آپ کی تمام ازواج بیت اﷲ میں داخل ہو چکی ہیں۔آپ نے فرمایا: کلید بردار کعبہ شیبہ عبدری کو پیغام بھیجو، وہ تمھیں دروازہ کھول دے۔ حضرت شیبہ نے جواب دیا: جاہلیت میں نہ اسلام میں ہم رات کے وقت کعبہ کا دروازہ کھولتے ہیں۔آپ نے فرمایا: تم حطیم میں نوافل ادا کر لو (موسوعۂ مسند احمد، رقم ۲۴۳۸۴)۔

سیدہ عائشہ فرماتی ہیں: میں نے نبی صلی اﷲ علیہ وسلم سے استفسار کیا: کیا حطیم کعبہ کا حصہ ہے؟ فرمایا: ہاں۔ میں نے پوچھا: پھر لوگوں نے اسے بیت اﷲ کے اندر شامل کیوں نہیں کیا؟جواب فرمایا: تیری قوم قریش کے پاس خرچہ ختم ہو چکا تھا اس لیے حطیم باہر رہ گیا۔میں نے اگلا سوال کیا: اﷲ کے گھر کا دروازہ اونچا کیوں ہے؟ فرمایا: تمھاری قوم نے اسے اونچا اس لیے رکھا کہ جسے چاہیں کعبہ کے اندر بھیج دیں اور جسے چاہیں ،روک لیں۔تمھاری قوم کا زمانۂ جاہلیت حال ہی میں نہ گزرا ہوتا اور مجھے ان کے (دوبارہ )کافر ہو جانے کا خدشہ نہ ہوتا تو میں حطیم کی (پانچ یا )چھ ہاتھ جگہ کعبہ میں شامل کر دیتا اوربیت اﷲ کے شرقی و غربی دو دروازے بنا کر انھیں زمین کے برابرکر دیتا (بخاری ،رقم ۷۲۴۳۔ مسلم، رقم ۳۲۲۳۔ نسائی، رقم ۲۹۰۴۔ابن ماجہ، رقم ۲۹۵۵۔ موسوعۂ مسند احمد، رقم ۲۴۷۰۹)۔

۶۰ھ میں حضرت عبداﷲ بن زبیر نے مکہ،جنوبی عرب، عراق ، شام اور مصر کے علاقوں پر اپنی خلافت قائم کی تو حضرت عائشہ کی روایت کے مطابق بیت اﷲ کی ازسرنو تعمیر کی۔ بارہ سال حکومت کرنے کے بعد اموی حکمران عبدالملک بن مروان نے انھیں شہید کروایا تو کعبہ کوقریش کے نقشے پر واپس لوٹا دیا۔ طواف کرتے ہوئے اس نے حضرت عائشہ کی روایت کو حضرت عبداﷲ بن زبیر کا گھڑا ہوا جھوٹ قرار دیاتو حارث بن عبداﷲ نے تردید کی کہ میں نے یہ فرمان نبوی خود حضرت عائشہ سے سن رکھاہے۔تب عبدالملک نے کہا: اگر میں یہ فرمان پہلے سن لیتاتو عبداﷲ بن زبیر کی تعمیر کو مسمار نہ کرتا (موسوعۂ مسند احمد، رقم ۲۶۱۵۱)۔

حضرت عائشہ کے بھانجے ،مشہور تابعی عروہ بن زبیر نے ان سے سوال کیا:اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے: 'اِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃَ مِنْ شَعَآءِرِ اللّٰہِ فَمَنْ حَجَّ الْبَیْتَ اَوِاعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْہِ اَنْ یَّطَّوَّفَ بِھِمَا'، ''بے شک صفا اور مروہ اﷲ کے شعائر(خاص نشانیوں) میں سے ہیں تو جو کوئی بیت اﷲکا حج یا عمرہ کرے، اس پر کوئی حرج نہیں کہ ان کے مابین چکر لگائے'' (البقرہ ۲: ۱۵۸)۔ مجھے اس کا مطلب یہ لگتا ہے کہ جوصفا و مروہ کے درمیان سعی نہ کرے، اس پر بھی کچھ گناہ نہ ہو گا۔ حضرت عائشہ نے فرمایا: ہرگز نہیں،اس شخص کا حج و عمرہ مکمل نہیں ہوتا جس نے صفا و مروہ کے درمیان سعی نہ کی ہو۔اگر تمھاری بات سچ ہوتی تو آیت اس طرح ہوتی: 'فَلَا جُنَاحَ عَلَیْہِ اَنْ لَّا یَطَّوَّفَ بِھِمَا'۔ اصل میں یہ آیت انصار مدینہ کے بارے میں نازل ہوئی جوکہتے تھے کہ ہمیں بیت اﷲ کے طواف کا حکم ہوا ہے ،صفا و مروہ کا نہیں۔اہل جاہلیت مکہ کے قریبی مقام قدیدکی چوٹی مشلل پر پڑے منات بت کا نام لے کراحرام باندھتے اور صفا و مروہ کے درمیان سعی نہ کرتے۔کچھ عربوں کا خیال تھا کہ سعی بین الصفا وا لمروہ جاہلیت کی نشانی ہے، کیونکہ ان کے پاس اساف و نائلہ نامی بت پڑے تھے۔قبول اسلام کے بعد وہ سعی کرنے سے ہچکچاتے تھے ، ان کا اشکال دور کرنے کے لیے اس ارشادکا نزول ہوا (بخاری، رقم ۱۷۹۰۔ مسلم، رقم ۳۰۵۵۔ ابوداؤد، رقم ۱۹۰۱۔ ترمذی، رقم ۲۹۶۵۔ نسائی، رقم ۲۹۷۱۔ ابن ماجہ، رقم ۲۹۸۶۔ مستدرک حاکم، رقم ۳۰۶۹)۔

حضرت عائشہ فرماتی ہیں: شیطانوں کوکنکریاں مارنا،بیت اﷲ کا طواف کرنا اور صفا و مروہ کے مابین سعی کرنا،یہ اعمال اﷲ ہی کا ذکر بلند کرنے کے لیے کیے جاتے ہیں۔غیر اﷲ کا ذکرمطلوب نہیں ہوتا (ترمذی، رقم ۹۰۲۔ مستدرک حاکم، رقم ۱۶۸۵) ۔

حضرت عائشہ فرماتی ہیں: قریش ،بنو کنانہ اوربنو جدیلہ دین جاہلی میں متشدد تھے۔ حج کے دن یہ مزدلفہ میں قیام کرتے تھے، جب کہ باقی تمام قبائل کا وقوف عرفات میں ہوتا تھا۔ آمد اسلام کے بعد اﷲ تعالیٰ نے اپنے نبی کو حکم دیا کہ ۹ ؍ ذی الحجہ کو عرفات میں وقوف کریں اور پھر مزدلفہ کولوٹیں۔اﷲ کا ارشاد: 'ثُمَّ اَفِیْضُوْا مِنْ حَیْثُ اَفَاضَ النَّاسُ'، ''پھر جہاں سے سب پلٹتے ہیں ،تم بھی وہیں سے واپس لوٹو'' (البقرہ ۲: ۱۹۹) اسی کا بیان ہے(مسلم، رقم ۲۹۲۶۔ ابوداؤد، رقم ۱۹۱۰۔ نسائی، رقم ۳۰۱۵)۔

حضرت عائشہ فرماتی ہیں: میں نے چاہا کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم سے اجازت لے لوں کہ مزدلفہ سے رات کے وقت ہی منیٰ کے لیے نکل جاؤں،فجر کی نماز منیٰ میں پڑھوں اور حاجیوں کے وہاں پہنچنے سے پہلے رمی کر لوں (لیکن آپ نے اجازت نہ دی)۔ آپ حضرت سودہ کویہ سہولت عطا فرما چکے تھے، کیونکہ وہ بھاری بھر کم ہونے کی وجہ سے چست نہ تھیں (نسائی، رقم ۳۰۵۲۔ ابن ماجہ، رقم ۳۰۲۷۔ موسوعۂ مسند احمد، رقم ۲۴۰۱۵)۔

حضرت عائشہ نے کہا: یا رسول اﷲ، ہم آپ کے لیے منیٰ میں ایک گھر کیوں نہ بنا دیں جو آپ کو دھوپ سے سایہ فراہم کرے؟ فرمایا: (یہ تو عارضی قیام گاہ ہے) کوئی بھی پہلے پہنچ کر اونٹ بٹھائے اور قیام کرے (ابوداؤد، رقم ۲۰۱۹۔ ترمذی، رقم ۸۸۱۔ ابن ماجہ، رقم ۳۰۰۶۔ مستدرک حاکم، رقم ۱۷۱۴) ۔

حضرت عبداﷲ بن عباس فرماتے ہیں: آں حضور صلی اﷲ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ کو ذو الحجہ کے مہینے میں عمرہ کرنے کو اس لیے کہا کہ مشرکین قریش اور ان کے ہم مذہب اس ماہ میں عمرہ کرنا حرام سمجھتے تھے۔آپ نے ان کے اس عقیدے کو باطل قرار دیاکہ جب حج کی سواری کے جانوروں کے بال بڑھ جائیں، ان کے پشت کے زخم صحیح ہو جائیں اور صفر کا مہینا شروع ہو جائے تو عمرہ جائز ہو گا (ابوداؤد، رقم ۱۹۸۷۔ موسوعۂ مسند احمد، رقم ۲۳۶۱)۔

حضرت عائشہ فرماتی ہیں: جب تم میں سے کوئی حج کر لے تو سواری کا رخ اپنے اہل خانہ کی طرف موڑدے، کیونکہ یہ اس کے اجر کوبہت بڑھادے گا (السنن الکبریٰ، بیہقی، رقم ۱۰۳۶۳۔مستدرک حاکم،ر قم ۱۷۵۳)۔

نکاح و طلاق

ارشاد باری تعالیٰ ہے: 'وَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تُقْسِطُوْا فِی الْیَتٰمٰی فَانْکِحُوْا مَا طَابَ لَکُمْ مِّنَ النِّسَآءِ مَثْنٰی وَثُلٰثَ وَرُبٰعَ'، ''اور اگر تمھیں اندیشہ ہو کہ تم یتیموں کے معاملے میں انصاف نہ کر سکو گے توجو عورتیں تمھیں پسند آئیں، ان میں سے دو دو تین تین چار چار سے نکاح کر لو'' (النساء ۴: ۳)۔ حضرت عائشہ فرماتی ہیں: یہ آیت اس یتیم لڑکی کے باب میں نازل ہوئی جو اپنے ولئ رشتہ دار کی پرورش میں ہو اور ترکے میں اس کی ساجھی ہو ۔وہ اسے ناپسند کرتا ہو، لیکن یہ بھی نہ چاہتا ہو کہ کوئی اور اس سے نکاح کر کے اس کا مال لے اڑے ۔ اسے اس سے نکاح کرنے سے منع کر دیا گیا اور حکم دیا گیا کہ اس کے علاوہ اپنی پسند کی عورتوں سے شادی کر لے۔ہاں اگر اس کے مرتبے کے مطابق انصاف سے مہر دے اور حسن معاشرت کا ارادہ رکھے تو اس سے نکاح کی اجازت ہے (بخاری، رقم ۲۴۹۴۔ مسلم، رقم ۷۶۳۴۔ ابوداؤد، رقم ۲۰۶۸۔ نسائی، رقم ۳۳۴۸)۔

سیدہ عائشہ فرماتی ہیں: میں نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم سے سوال کیا: جس لڑکی کا گھر والے بیاہ کرنا چاہتے ہوں، آیا وہ اس سے مشورہ لیں گے؟ فرمایا: ہاں بالکل۔میں نے کہا: ایسی بچی تو شرما رہی ہوتی ہے۔آپ نے فرمایا: اس کی خاموشی ہی اس کی طرف سے اجازت ہو گی (بخاری، رقم ۶۹۴۶۔ مسلم، رقم ۳۴۵۹۔ ابوداؤد، رقم ۲۰۹۴۔ نسائی، رقم ۳۲۶۹۔ موسوعۂ مسند احمد، رقم ۲۴۱۸۵) ۔

فرمان باری تعالیٰ ہے: 'اِنِ امْرَاَۃٌ خَافَتْ مِنْ م بَعْلِھَا نُشُوْزًا اَوْ اِعْرَاضًا فَلَا جُنَاحَ عَلَیْھِمَآ اَنْ یُّصْلِحَا بَیْنَھُمَا صُلْحًا وَالصُّلْحُ خَیْرٌ'، ''اگر کسی عورت کواپنے شوہر سے بد سلوکی یا بے رخی کا اندیشہ ہو تو اس بات میں کوئی حرج نہیں کہ دونوں آپس میں کوئی سمجھوتا کر لیں اور سمجھوتا ہی بہتر ہے'' (النساء ۴: ۱۲۸)۔ حضرت عائشہ فرماتی ہیں: یہ فرمان اس مرد کے بارے میں ہے جسے بڑھاپے یا کسی اور سبب سے اسے اپنی بیوی سے رغبت نہیں رہتی اوروہ اسے چھوڑکر دوسری شادی کرنا چاہتا ہے۔بیوی اس سے کہہ سکتی ہے کہ مجھے اپنے پاس رہنے دے اور میرا نفقہ(یا مہر)جیسے چاہو، دیتے رہنا۔ اس طرح دونوں راضی ہو جائیں تو کوئی مضایقہ نہیں (بخاری، رقم ۲۶۹۴۔ مسلم، رقم ۷۶۴۰۔ مستدرک حاکم، رقم ۲۳۵۲)۔

حضرت عائشہ فرماتی ہیں: زمانۂ جاہلیت میں شوہر اپنی بیوی کوجتنی چاہے طلاقیں دیتا ،وہ اس کی بیوی رہتی اگرعدت کے اندراس سے رجوع کر لیتا۔ایک شخص نے اپنی بیوی سے کہا: بخدا! میں نہ تمھیں طلاق دو ں گا کہ تو مجھ سے جدا ہو جائے، نہ اپنے پاس بساؤں گا۔میں طلاق دوں گا او رجب عدت پوری ہونے لگے گی تو رجوع کر لوں گا۔اس عورت نے حضرت عائشہ کو اپنی بپتا سنائی تو وہ خاموش ہو گئیں اور نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کو خبر کی۔ آپ نے بھی سکوت فرمایا، حتیٰ کہ وحی نازل ہوئی: 'اَلطَّلَاقُ مَرَّتٰنِ فَاِمْسَاکٌم بِمَعْرُوْفٍ اَوْ تَسْرِیْحٌم بِاِحْسَانٍ'، ''طلاق دو بار ہے، پھر معروف طریقے سے روک لیناہے یا احسان کر کے رخصت کردینا''۔ حضرت عائشہ کہتی ہیں: لوگوں نے طلاق کو واقع ہوتا دیکھ کر رویہ بدلا، اس نے جو طلاق دینا چاہتا تھا اور اس نے بھی جو نہ دینا چاہتا تھا (ترمذی، رقم ۱۱۹۲۔ مستدرک حاکم، رقم ۳۱۰۶)۔

حضرت عائشہ فرماتی ہیں: شکر ہے اس اﷲ کا جس کی سماعت آوازیں سننے کی وسعت رکھتی ہے،جب اوس بن صامت کی اہلیہ خولہ بنت ثعلبہ نبی صلی اﷲ علیہ وسلم سے اپنے خاوند کی شکایت کرنے آئیں تو میں گھر کے کونے میں ان کی باتیں سن رہی تھی۔مجھے کچھ باتیں سمجھ آئیں اور کچھ کا پتا نہ چلا۔انھوں نے کہا: یا رسول اﷲ، اوس نے میرا مال صرف کر ڈالا، میری جوانی غارت کردی۔اب میں عمر رسیدہ ہو گئی ہوں،اولاد کا سلسلہ بند ہو گیا ہے تومجھ سے ظہارکر دیا ہے، (یعنی اپنی ماں سے تشبیہ دے کراپنے اوپر حرام کر دیا ہے)اس موقع پر اﷲ تعالیٰ نے کفارۂ ظہار کا حکم (المجادلہ ۵۸: ۱) نازل کیا اور واضح کیا کہ بیوی کو ماں کہنے سے طلاق واقع نہیں ہوتی، جیسا کہ جہلاے عرب کا دستور تھا، البتہ مردکو یہ لغو بات کہنے کی سزابھگتنا ہو گی،وہ ایک غلام آزاد کرے گا یادو مہینے کے لگاتارروزے رکھے گا یا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے گا، تبھی اپنی عورت کے پاس جا سکے گا (ابن ماجہ، رقم ۱۸۸۔ موسوعۂ مسند احمد، رقم ۲۴۱۹۵۔ مستدرک حاکم، رقم ۳۷۹۱)۔

یحیےٰ بن سعیدنے عبدالرحمن بن حکم کی بیٹی عمرہ کو طلاق دی تو عبدالرحمن اسے گھر لے گئے ۔حضرت عائشہ نے گورنر مدینہ مروان بن حکم کو پیغام بھیجاکہ اﷲ سے ڈرو اور بچی کوعدت گزارنے کے لیے اس کے شوہر کے گھر واپس بھیج دوجہاں اسے طلاق ہوئی تھی۔مروان نے کہا: مجھے عبدالرحمن بن حکم نے مجبور کر دیا تھا ،میں اسے روک نہ سکا۔ اس نے حضرت فاطمہ بنت قیس کی طلاق کا حوالہ بھی دیا جن کو نبی صلی اﷲ علیہ وسلم نے حضرت ابن ام مکتوم کے گھرمیں عدت گزارنے کی اجازت دے دی تھی۔حضرت عائشہ نے جواب دیا: اس اجازت کی خاص وجہ تھی کہ فاطمہ کے شوہر کا گھر ویران جگہ پر تھااور ان کا اپنے سسرال والوں سے جھگڑا رہتا تھا۔مروان نے کہا: یہاں بھی میاں بیوی میں باہم جھگڑا رہتاتھا ،اس لیے بیوی نے خاوند کاگھر چھوڑ دیا (بخاری، رقم ۵۳۲۱۔ ابوداؤد، رقم ۲۲۹۵۔ نسائی، رقم ۳۵۷۵۔ موسوعۂ مسند احمد، رقم ۲۷۳۴۱)۔ عینی کہتے ہیں: حضرت عمر اور حضرت عائشہ حضرت فاطمہ بنت قیس کی روایت پر عمل درست نہ سمجھتے تھے، وہ اﷲکے اس فرمان کو ملحوظ خاطر رکھتے تھے: 'یٰٓاَیُّھَا النَّبِیُّ اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ فَطَلِّقُوْھُنَّ لِعِدَّتِھِنَّ وَاَحْصُوا الْعِدَّۃَ وَاتَّقُوا اللّٰہَ رَبَّکُمْ لَا تُخْرِجُوْھُنَّ مِنْم بُیُوْتِھِنَّ وَلَا یَخْرُجْنَ اِلَّآ اَنْ یَّاْتِیْنَ بِفَاحِشَۃٍ مُّبَیِّنَۃٍ'، ''اے نبی، تم لوگ جب بیویوں کو طلاق دو تو ان کی عدت کے حساب سے طلاق دو اور عدت کاصحیح شمار رکھو، اﷲ اپنے رب سے ڈرتے رہو۔ان کو گھروں سے نہ نکالو ،نہ وہ خود ہی نکلیں، الاّ یہ کہ انھوں نے کھلی بدکاری کا ارتکاب کیا ہو'' (الطلاق ۶۵: ۱)۔ (نسائی، رقم ۳۵۷۹)۔

سعد بن ہشام نے سیدہ عائشہ سے کہا: میں تجرد (چھڑا پن، celibacy) کے بارے میںآپ کی راے دریافت کرنا چاہتا ہوں۔انھوں نے جواب دیا، غیر متاہل زندگی اختیار نہ کرنا۔ تم نے اﷲ کا ارشاد نہیں سنا: 'وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلًا مِّنْ قَبْلِکَ وَجَعَلْنَا لَھُمْ اَزْوَاجًَا وَّذُرِّیَّۃً'، ''اے نبی، ہم نے آپ سے پہلے بھی کئی رسول بھیجے اور انھیں بیویوں اور اولادسے نوازا (الرعد۱۳: ۳۸)۔ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے بھی شادیاں کیں اور آپ کی اولاد ہوئی (نسائی، رقم ۳۲۱۸۔ موسوعۂ مسنداحمد، رقم ۲۴۸۱۰)۔

زہد و ورع

حضرت عائشہ فرماتی ہیں: آں حضور صلی اﷲ علیہ وسلم آسمان کو ابر آلود دیکھتے تو (گھبراکر) آگے پیچھے،اندر باہر ہوتے اور آپ کے چہرے کا رنگ متغیر ہو جاتا۔ بارش شروع ہو تی تو آپ کی گھبراہٹ زائل ہو جاتی ۔ میں نے پوچھا: بادل آئیں تو لوگ بارش کی امید میں خوش ہوتے ہیں،جب کہ آپ کے چہرے پر ناخوش گواری نظر آتی ہے۔ فرمایا: مجھے ڈر ہوتا ہے ،ان بادلوں میں سے عذاب نمودارنہ ہوجائے، جیسا کہ حضرت نوح علیہ السلام کی قوم پر آیا۔ انھوں نے بھی کہا تھا: 'ھٰذَا عَارِضٌ مُّمْطِرُنَا'، ''یہ بادل ہم پر بارش برسانے آیا ہے'' (الاحقاف۴۶: ۲۴)، (بخاری، رقم ۳۲۰۶۔ ابو داؤد، رقم ۵۰۹۸۔ ترمذی، رقم ۳۲۵۷۔ ابن ماجہ، رقم ۳۸۹۱۔ موسوعۂ مسند احمد، رقم ۲۴۳۶۹۔ مستدرک حاکم، رقم ۳۷۰۰)۔ حضرت عائشہ بتاتی ہیں: جب آپ افق میں بادل اٹھتا ہوا دیکھتے تو تمام عمل، حتیٰ کہ نماز بھی چھوڑ دیتے اور دعا فرماتے: 'اللّٰہم إني أعوذ بک من شرہا'، اے اﷲ،میں اس ابر کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ اگر بارش ہوجاتی تو فرماتے: اﷲ، خوب برسا خوش گوار بارش(ابوداؤد، رقم ۵۰۹۹۔ نسائی، رقم ۱۵۲۴۔ ابن ماجہ، رقم ۳۸۸۹۔ موسوعۂ مسند احمد، رقم ۲۴۵۹۰)۔

رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ کوتلقین کی کہ کامل اور جامع دعائیں اپنا وظیفہ بنا لو۔ان میں سے ایک یہ تھی: 'اللّٰہم إني أسألک من الخیر کلہ عاجلہ و آجلہ ما علمت منہ وما لا أعلم. و أعوذ بک من الشر کلہ عاجلہ و آجلہ ما علمت منہ وما لا أعلم. و أسألک الجنۃ وما قرب إلیہا من قول أو عمل. و أعوذ بک من النار وما قرب إلیہا من قول أو عمل. و أسألک من الخیر ما سألک عبدک ورسولک محمد. و أستعیذ مما استعاذک منہ عبدک ورسولک محمد و أسألک ما قضیت لي من أمر أن تجعل عاقبتہ رشدًا'، ''اے اﷲ،میں تم سے خیر کا سوال کرتا ہوں،ہر طرح کی خیر، جلد ملنے والی اور دیر سے حاصل ہونے والی،جو میں جانتا ہوں اور جو میرے علم میں نہیں۔میں شر سے تمھاری پناہ چاہتا ہوں،ہرقسم کا شر، جلدلاحق ہونے والا اور دیر سے واردہونے والا،جو میں جانتا ہوں اور جو میرے علم میں نہیں۔ میں تم سے وہ خیر مانگتا ہوں جو تیرے بندے اور تیرے رسول محمد صلی اﷲ علیہ وسلم نے تجھ سے چاہا تھا۔میں تمھاری پناہ مانگتا ہوں ہر اس شر سے ،جس سے تیرے بندے اور تیرے رسول محمد صلی اﷲ علیہ وسلم نے پناہ چاہی تھی۔ میں تم سے سوال کرتا ہوں کہ ہر اس امر کو جوتونے میرے لیے مقدر کر رکھا ہے ،انجام کار ہدایت میں بدل دے'' (موسوعۂ مسند احمد، رقم ۲۵۱۳۷۔ مستدرک حاکم، رقم ۱۹۱۴)۔

حضرت عائشہ فرماتی ہیں: رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: اگر تو آخرت میں میرے ساتھ رہنا چاہتی ہے تو دنیا اتنی ہی حاصل کرنا جس قدر ایک مسافر کے پاس توشۂ راہ ہوتا ہے۔امرا کی محافل سے دور رہنااور کپڑا اس وقت تک نہ پھینکنا جب تک اسے پیوند نہ لگا لو (مستدرک حاکم، رقم ۷۸۶۷)۔

رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے دعا فرمائی: ''اے اﷲ، مجھے ایک مسکین والی زندگی اور مسکین والی موت دینا اور روز قیامت مسکینوں کے ساتھ اٹھانا۔'' حضرت عائشہ نے سوال کیا: یا رسول اﷲ، ایسی دعا کیوں کر رہے ہیں؟ فرمایا: ''مساکین امرا سے چالیس سال پہلے جنت میں داخل ہوں گے۔ عائشہ، کسی مسکین کو ہر گز نہ دھتکارنا،چاہے کھجور کی ایک پھانک ہی دے کر رخصت کرنا۔عائشہ ، مسکینوں سے محبت کرنا اور انھیں قریب رکھنا ۔تب یقین رکھنا کہ اﷲ روزحشر تمھیں اپنا قرب عطا کرے گا'' (ترمذی، رقم ۲۳۵۲)۔

حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں: نبی صلی اﷲ علیہ وسلم نے چاند کی طرف دیکھا اور فرمایا: ''اے عائشہ، اس کے شر سے پناہ مانگو، یہی ہے اندھیرا جب چھا جاتا ہے'' (ترمذی، رقم ۳۳۶۶۔ موسوعۂ مسند احمد، رقم ۲۵۸۰۲۔ مستدرک حاکم، رقم ۳۹۸۹)۔ روایت کے ظاہری الفاظ سے لگتا ہے کہ نبی صلی اﷲ علیہ وسلم نے براہ راست چاند کو تاریکی قرار دیا۔ اسی لیے کچھ حضرات نے اس سے چاند گرہن کا مفہوم نکال لیا۔یہ درست نہیں، کیونکہ 'غاسق' کے صحیح معنی ہیں، اندھیری رات۔ خود قرآن مجید کے الفاظ 'اَقِمِ الصَّلٰوۃَ لِدُلُوْکِ الشَّمْسِ اِلٰی غَسَقِ الَّیْل'، ''نماز کا اہتمام رکھو، زوال آفتاب کے اوقات سے لے کر رات کے تاریک ہونے تک'' (بنی اسرائیل ۱۷: ۷۸)، اس کی تائید کرتے ہیں۔ جملہ مفسرین نے یہ روایت نقل کرنے کے باوجود انھی معنوں کو ترجیح دی ہے۔ یہ آں حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کے اس ارشاد کے بھی مخالف ہے: ''چاند سورج اﷲ کی نشانیاں ہیں، کسی کی موت یا زندگی کی وجہ سے ان پر گرہن نہیں آتا۔ جب تم گرہن دیکھو تو اﷲ سے دعا مانگو،تکبیریں کہو، نماز پڑھو اور صدقہ کرو'' (بخاری، رقم ۱۰۴۴۔ مسلم، رقم ۲۰۴۶)۔ امام رازی نے چاند کو 'غاسق' قرار دینے کی یہ توجیہ کی ہے کہ چاند اپنے اصل میں تاریک ہے ۔ اس کی روشنی سورج سے مستعار ہوتی ہے (چاند پر پڑنے والی سورج کی روشنی کا محض ۳ سے ۱۲ فی صد تک زمین پر منعکس ہوتا ہے)۔ یہ روشنی بھی قمری مہینے کے آخر میں جاتی رہتی ہے۔ مولانا مودودی کہتے ہیں: چاند سے پناہ مانگنے کا مطلب ہے،چاند کے آنے کے وقت (یعنی رات) سے پناہ مانگو۔

حضرت عائشہ فرماتی ہیں: کچھ یہودی نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کے پاس آئے اور 'السام علیکم' کہا جس کے معنی موت کی دعا کرنا ہے۔ مجھے ان کا مطلب سمجھ آگیا، اس لیے جواب دیا: 'وعلیکم السام واللعنۃ'، تم پر بھی موت آئے اور لعنت ہو (بندروں اور خنزیروں کے بھائیو)۔ آپ نے فرمایا: رکو عائشہ، اﷲ تعالیٰ ہر کام میں نرمی پسند کرتا ہے۔ میں نے کہا: یا رسول اﷲ، آپ نے ان کے کلمات نہیں سنے؟ فرمایا: تم نے میرا جواب 'وعلیکم' نہیں سنا، یعنی تم مرو (بخاری، رقم ۶۰۲۴۔ مسلم، رقم ۵۷۰۹۔ ترمذی، رقم ۲۷۰۱۔ موسوعۂ مسند احمد، رقم ۲۵۰۲۹)۔ اگلی روایت میں ہے: انھیں دی گئی میری بددعا تو مقبول ہو جائے گی، البتہ میرے خلاف ان کی دعا کو قبولیت حاصل نہ ہو گی (بخاری، رقم ۶۰۳۰۔ مسلم، رقم ۵۷۱۱۔ موسوعۂ مسند احمد، رقم ۱۵۱۰۶)۔

حضرت عائشہ فرماتی ہیں: ایک وفعہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم سفر پر نکلے تو صدقے کے اونٹوں کے سوا کوئی اونٹ نہ تھا۔آپ نے اپنی باقی ازواج کوجو اونٹ دیے، وہ میرے اونٹ کی طرح نہ تھے۔مجھے ایسا اونٹ ملا جوہٹیلا اور اڑیل تھا، کسی نے اس پر بیٹھ کر نہ دیکھا تھا۔ میں نے آپ سے شکایت کی تو فرمایا: عائشہ، اس سے نرمی برتو۔نرمی جس شے میں شامل ہوتی ہے، اسے مزین کر دیتی ہے اور جس چیز سے جدا ہوتی ہے ،اسے بدنما بنا دیتی ہے (موسوعۂ مسند احمد، رقم ۲۴۸۰۸۔ مسند اسحاق بن راہویہ، رقم ۱۵۸۶)۔

مطالعۂ مزید: السیرۃ النبویۃ(ابن ہشام)، الطبقات الکبریٰ (ابن سعد)، الجامع المسند الصحیح المختصر (بخاری، شرکۃ دار الارقم) المسند الصحیح المختصر من السنن (مسلم، شرکۃ دار الارقم)، الجمل من انساب الاشراف (بلاذری)، تاریخ الامم و الملوک (طبری)، احکام القرآن (جصاص)، الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب (ابن عبدالبر)، احکام القرآن (ابن عربی)، المنتظم فی تواریخ الملوک و الامم (ابن جو زی)، الکامل فی التاریخ (ابن اثیر)، اسدالغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ (ابن اثیر)، تہذیب الکمال فی اسماء الرجال (مزی)، سیر اعلام النبلاء (ذہبی)، البداےۃ والنہاےۃ (ابن کثیر)، الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ (ابن حجر)، تہذیب التہذیب (ابن حجر)، اردو دائرۂ معارف اسلامیہ (مقالہ، امین اﷲ وثیر)، Wikipedia, the free encyclopedia۔

[باقی]

____________