عروج و زوال کا قانون: تاریخ کی روشنی میں (4)


قرآن اور عروج و زوال کا قانون

عروج و زوال کا قانون اصلاً تاریخ کا موضوع ہے۔ تاہم قرآن بھی تاریخ کو اپنے مخاطبین کے سامنے استدلال کے طور پر پیش کرتا ہے۔ اس میں نہ صرف اقوام سابقہ کے حالات بالتفصیل بیان کیے گئے ہیں ، بلکہ اس ضمن میں بعض اصولی باتیں بھی بیان کی گئی ہیں۔ اس لیے یہ ممکن نہیں رہتا کہ قرآن کو نظر انداز کرکے عروج و زوال کے قانون کو صرف تاریخ کی روشنی میں بیان کیا جائے۔

اس بات کو ایک دوسرے انداز سے دیکھیے۔ قرآن خدا کا تعارف ایک علت العلل اور مبدا اول کے طور پر نہیں کراتا۔ یعنی ایک ایسا وجود جس نے کائنات کو تخلیق کیا اور اس کے بعد وہ کہیں جاکر سوگیا۔قرآن کا خدا ایک زندہ اور فعال ہستی ہے جس کے علم میں آئے بغیر ایک پتا بھی زمین پر نہیں گرتا۔ایسے خدا سے یہ کیسے متوقع ہے کہ پوری پوری قوموں کے معاملات سے وہ لا تعلق رہے۔البتہ دو باتیں اس ضمن میں ملحوظ رہنی چاہییں۔ اول یہ کہ خدا جو کچھ کرتا ہے ، اس کا تعلق انسانوں کے اختیار سے نہیں ، بلکہ اس کی وسیع تر حکمت سے ہوتا ہے جس کے تحت اسے کائنات کا نظم چلانا ہے۔تاریخ میں خدا کی مداخلت سے انسانی اختیار پر پہرے نہیں بیٹھتے۔اس ضمن میں اصولی بات یہ ہے کہ فرد کی تقدیر کا فیصلہ اس کا ذاتی عمل اور قوم کی تقدیر کا فیصلہ قوم کا اجتماعی عمل کرتا ہے۔خدا کا کام فیصلہ سنانا اور سزاوجزا دینا ہے۔یہ فیصلہ فردکے لیے آخرت میں اور قوم کے لیے دنیا میں سنایاجاتا ہے۔دوم یہ کہ خدا غیب سے باہر آکر انسانوں سے معاملہ نہیں کرتا۔ وہ جو کرتا ہے ، اسباب کے دائرے اور اصولوں کی حد بندی میں کرتا ہے۔چنانچہ پچھلے باب میں ہم نے دیکھا کہ تاریخ کے آئینے میں خدا باطن ہے اور ایسا باطن کہ اسباب کے پردے کبھی بھی اسے مخلوق کے سامنے نہیں آنے دیتے۔جبکہ قرآن کی روشنی میں خدا ظاہر ہے اور ایسا ظاہر کہ تاریخ کے ہر صفحے پر اس کے آثار نقش ہیں۔ اس باب میں ہم انھی آثار و نقوش کا مطالعہ کرنے جارہے ہیں۔

قرآن اصلاً تاریخ کی نہیں ، ہدایت کی کتاب ہے۔اس لیے اقوام عالم کے عروج و زوال سے متعلق اگر اس میں کچھ کہا گیا ہے تو وہ محض ضمنی طور پر ہے۔ قرآن میں اصلاً ان قوموں کے عروج و زوال کے ضابطے بیان کیے گئے ہیں جن تک اللہ تعالیٰ کی ہدایت براہِ راست پہنچی ہے۔یہ اقوام دو قسم کی ہیں۔ایک رسولوں کی مخاطب اقوام اوردوسری امتِ مسلمہ ۔اول الذکر کے معاملے میں ان قوانین کی کوئی حیثیت نہیں رہتی جن کا ذکر ہم پچھلے باب میں کرچکے ہیں۔بلکہ ان اقوام کے ساتھ معاملہ کرنے کے قوانین کچھ دوسرے ہیں جن کا ذکر ذیل میں آرہا ہے۔تاہم ختم نبوت و رسالت کے ساتھ رسولوں کی اقوام کے بارے میں دیا گیا قانون اور اس کے تمام اطلاقات اب ختم ہوچکے ہیں ۔ جہاں تک امت مسلمہ سے متعلق قانون کا تعلق ہے تو اس کے معاملے میں عروج و زوال کے تمام دیگر ضابطے اپنی جگہ موجود رہتے ہیں۔البتہ ان میں کچھ نئے پہلووں کا اضافہ ہوجاتا ہے، لیکن ان کا تعلق صرف اس عامل سے ہے جسے ہم اخلاقی اقدار کے تحت پچھلے باب میں بیان کرچکے ہیں۔یعنی امت مسلمہ کی اخلاقی اقدار کی بنیاد صرف فطرت نہیں رہتی ، بلکہ خدا کی براہِ راست رہنمائی حاصل ہونے کے بعد یہی رہنمائی ان کی اخلاقی اقدار کی بنیاد بن جاتی ہے ۔اس کی تفصیلات آگے آرہی ہیں، جبکہ عروج و زوال کے دیگر عوامل ان کے بارے میں اسی طرح موثر رہتے ہیں جس طرح وہ دیگر اقوام کے بارے میں روبہ عمل ہوتے ہیں۔

اس سے قبل کہ ہم اس گفتگو کا آغاز کریں اس با ت کی وضاحت ضروری ہے اس باب میں ہمارے نقطۂ نظر کی اساس قرآن پر غوروفکر کی اس روایت پر مبنی ہے جس کی طرح پچھلی صدی کے ایک جلیل القدر عالم حمید الدین فراہی نے ڈالی تھی۔پہلی تحقیق ان کے شاگرد امین احسن اصلاحی اوردوسری تحقیق اصلاحی کے شاگرد جاوید احمد غامدی کے قرآن پر غورو فکر کا نتیجہ ہے۔مصنف نے قوموں کے عروج و زوال پر اس کا اطلاق کرکے ایک منطقی ربط کے ساتھ پیش کیا ہے۔اس پیشکش میں اگر کوئی ضعف ہے تو اس کی ذمہ داری مصنف پر عائد ہوتی ہے۔

رسولوں کی مخاطب اقوام کے بارے میں عروج و زوال کا قانون

اللہ تعالیٰ نے ہر دور میں انسانوں کو اپنی ہدایت سے نوازا ہے۔ جس کے ذریعے سے انسانیت کو اس بنیادی حقیقت کی یاددہانی کرائی گئی ہے کہ انسان اس دنیا میں ایک محدود مدت کے لیے آزمایش کی غرض سے بھیجے گئے ہیں ۔اس دنیا کے بعد ایک اور دنیا ہے جس میں انھیں ہمیشہ قیام کرنا ہے۔روزِ قیامت اس دنیا کا نقطۂ آغاز ہے۔ قیامت کے دن سب لوگ اللہ کے حضور پیش کیے جائیں گے اور ان کے اعمال کی بنیاد پر ان کے ابدی مستقبل کا فیصلہ ہوگا۔ نیکو کار لوگ جنت میں جائیں گے اور بد کار جہنم کا ایندھن بنیں گے۔ قرآن میں اس بات کو یوں بیان کیا گیا ہے:

''بڑی ہی عظیم اور بافیض ہے وہ ذات جس کے قبضۂ قدرت میں (اس کائنات کی) بادشاہی ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ جس نے پیدا کیا موت اور زندگی کوتاکہ تمھارا امتحان کرے کہ تم میں سے کون سب سے اچھے عمل والا بنتا ہے۔ اور وہ غالب بھی ہے (کہ سزا دے)اور مغفرت فرمانے والا بھی(کہ جنت میں داخل کردے)۔''(الملک ۶۷: ۱۔۲)

''ہم نے کہا:اترو یہاں سے سب! تو اگر آئے تمھارے پاس میری طرف سے کوئی ہدایت تو جو میری ہدایت کی پیروی کریں گے ان کے لیے نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے اور جو کفرکریں گے اور جھٹلائیں گے میری آیتوں کو، وہی لوگ دوزخ والے ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ '' (البقرہ ۲: ۳۸ ۔ ۳۹)

اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں کئی طریقوں سے انسانوں کی ہدایت و رہنمائی کا بندوبست کیا ہے۔فطرت ہر انسان کی رہنما ہے۔ عقل و خرد سے ہر انسان نوازا گیا ہے۔انفس و آفاق کی نشانیاں قدم قدم پر انسان کی رہنمائی کے لیے موجود ہیں۔تاہم اس ہدایت کا سب سے بڑا نشان انبیا علیہم السلام تھے جو انسانوں کی زبان میں براہِ راست انسانوں کی رہنمائی کرتے تھے۔ پہلے انسان حضرت آدم علیہ السلام ایک نبی تھے۔جس کے بعد ہر دور اور قوم میں نبی آتے رہے(الرعد۱۳: ۷)۔ان انبیا کی بعثت کا مقصد قرآن میں یوں بیان کیا گیاہے:

''لوگ ایک ہی امت بنائے گئے ۔(انھوں نے اختلاف پیدا کیا) تو اللہ تعالیٰ نے اپنے انبیاء بھیجے جو خوش خبری سناتے اور خبردار کرتے آئے ۔ اور ان کے ساتھ کتاب بھیجی قولِ فیصل کے ساتھ تاکہ جن باتوں میں لوگ اختلاف کررہے ہیں ، ان کا فیصلہ کردے ۔'' (البقرہ ۲: ۲۱۳)

قرآن کی ان آیات کے مطابق اللہ کے نبی جب اپنی قوم کی طرف بھیجے جاتے ہیں تو لوگوں کے لیے منذر اور مبشر بن کر آتے ہیں۔یعنی وہ نیکوکاروں کو جنت کی خوش خبری سناتے اور بد کاروں کو جہنم کے انجام سے ڈراتے ہیں۔ نیز وہ لوگوں کو ان کے اختلافات میں درست راستہ دکھاتے ہیں۔حق کی طرف اس واضح اور قطعی رہنمائی اور مذہبی اختلافات میں فیصلہ کن رہبری کے بعد لوگوں کے پاس کوئی عذر نہیں رہ جاتا جسے وہ روز قیامت اپنے رب کے حضور پیش کرسکیں۔نبیوں کی اسی رہنمائی، انذار اور تبشیر کو سورۂ نساء (۴)کی آیت ۱۶۵ میں اتمام حجت کہا گیا ہے۔

ان نبیوں ہی میں سے بعض ایسے ہوتے ہیں جنھیں اللہ تعالیٰ رسالت کے منصب پر فائز کردیتے ہیں۔ہمارے نزدیک نبی اور رسول میں بنیادی فرق یہ ہے کہ نبی کے اتمام حجت کے بعد اس کا نتیجہ دنیا میں نکلنا ضروری نہیں ہوتا ، لیکن ایک رسول کے اتمام حجت کے بعد دنیا ہی میں اس کی مخاطب قوم کی مہلت عمر کا فیصلہ ہوجاتا ہے۔اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ نبی لوگوں کو صرف حق پہنچانے تک محدود رہتا ہے۔ وہ آسمان سے وحی کی ہدایت پاتا ہے اور اہل زمین کو اس حق پر مطلع کرتا ہے۔ اس کا یہ ابلاغ حق اس قدر واضح ہوتا ہے کہ لوگ قیامت کے دن اللہ کی بارگاہ میں یہ عذر پیش نہیں کرسکتے کہ صحیح بات ان پر واضح نہ تھی۔تاہم ان کی تکذیب ونافرمانی کے نتیجے میں ان کی مخاطب قوم پر کوئی عذاب نہیں ٹوٹتا۔حتیٰ کہ ان کی قوم اگر انھیں قتل کرڈالے تب بھی خدا فوری طور پر اس قوم کو سزا نہیں دیتا ۔

تاہم رسول کا معاملہ اس سے ایک قدم آگے ہوتا ہے۔قرآن سے ہمارے سامنے جو تصویر آتی ہے ، اس کے مطابق کسی قوم کی طرف ایک رسول کی بعثت کا مطلب یہ ہے کہ خدا کی وہ عدالت جو دوسروں کے لیے قیامت کے دن لگنی ہے، اس رسول کی مخاطب قوم کے لیے دنیا میں لگ چکی ہے۔ رسول ، ایک نبی کی طرح نہ صرف اپنی قوم کو اخروی زندگی میں کامیابی اور ناکامی کے بارے میں بتاتے ہیں ، بلکہ اس دنیا میں اپنے پیروکاروں کو کامیابی کی بشارت دیتے اور کفر و نافرمانی پر دنیا میں ہی اللہ کے عذاب سے ڈراتے ہیں ۔ چنانچہ وہ اپنے رب کا پیغام با صراحت لوگوں تک پہنچاتے ہیں اور جب ان کی قوم ان کی بات نہیں مانتی تو لازماََ اس دنیا میں ہی خدا کے عذاب کا کوڑا اس قوم پر برس جاتا ہے اور وہ قوم ہلاک کردی جاتی ہے۔ اور اگر رسولوں کی بات مان لی جائے تو پھر دنیا میں ہی ان پر خدا کی رحمتوں کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔گویا کہ دنیا میں قوم کا عروج و زوال اب صرف اس رسول سے وابستہ ہوجا تاہے۔ مختصر یہ کہ ایک رسول جب اپنی قوم کو حق سے آگاہ کرتا ہے تو اس کا کیا ہوا اتمام حجت اس درجہ کا قطعی ہوتا ہے کہ اس کے بعد قیامت کے انتظار کی ضرورت باقی نہیں رہتی اور اللہ تعالیٰ رسول کی مخاطب قوم کو دنیا میں ہی ان کے کفر کی پاداش میں فنا کردیتا ہے ۔

نبی اور رسول کا یہ فرق اس وقت تک واضح نہیں ہوگا ، جب تک اس بات کو نہ سمجھ لیا جائے کہ لفظ نبی کے برخلاف جو قرآن میں صرف اپنے اصطلاحی معنوں میں استعمال ہوا ہے ، رسول کا لفظ ، اپنے مذکورہ بالا اصطلاحی معنوں کے علاوہ، بکثرت اپنے لغوی معنوں یعنی بھیجے ہوئے اور پیغام پہنچانے والے کے مفہوم میں بھی استعمال ہوا ہے۔ قرآن نے اس لفظ کو پیغام پہنچانے والے کے مفہوم میں ایک عام آدمی کے لیے بھی استعمال کیا ہے(یوسف ۱۲:۵۰)۔ اسی طرح یہ لفظ اپنے لغوی معنوں میں فرشتوں کے لیے بھی قرآن میں بکثرت استعمال ہوا ہے۔مثلاً حضرت جبریل علیہ السلام کے لیے التکویر ۸۲:۱۹، الحاقہ۷۰:۴۰ اور مریم ۱۹:۱۹میں اور دیگر فرشتوں کے لیے الانعام ۶:۶۱، یونس۱۰: ۲۱، ھود۱۱:۶۹ ، فاطر ۳۵:۱اور دیگر کئی مقامات پر استعمال ہوا ہے۔

ٹھیک اسی طرح یہ لفظ اپنے لغوی مفہوم میں ان نبیوں کے لیے بھی قرآن نے استعمال کیا ہے جو اصطلاحی معنوں میں رسول نہیں ہوتے، کیونکہ بہرحال تمام انبیا علیھم السلام خدا کے بھیجے ہوئے اور اسی کا پیغام پہنچانے والے ہوتے ہیں۔ مثلاََ سورۂ بقرہ میں ارشاد ہوا:

'' اور ہم نے موسیٰ کو کتاب دی اور اس کے بعد پے در پے رسول بھیجے اور عیسیٰ ابن مریم کو کھلی کھلی نشانیاں دیں اور روح القدس سے اس کی تائید کی ۔ تو کیا جب جب آئے گا کوئی رسول تمھارے پاس وہ باتیں لے کر جو تمھاری خواہشوں کے خلاف ہوں گی تو تم تکبر کروگے؟ سو ایک گروہ کو جھٹلایا اور ایک گروہ کو قتل کرتے رہے۔''( ۲: ۸۷)

یہ معلوم بات ہے کہ بنی اسرائیل میں پے در پے رسول نہیں نبی آئے تھے۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ قرآن دیگر مقامات پر یہ بات واضح کردیتا ہے کہ بنی اسرائیل کے ہاتھوں جن لوگوں کا قتل ہوا ،وہ نبی ہی تھے (آل عمران ۳:۱۱۲، النساء۴: ۱۵۵)۔ نیزاس آیت میں بیان کیا گیا ہے کہ بنی اسرائیل انبیا کو قتل کرتے رہے جو قرآن کے اس صریح بیان کے خلاف ہے جس کے مطابق اللہ اور اس کے رسولوں کے لیے غلبہ لازمی ہے ۔ ارشاد ہوا:

''اللہ نے لکھ رکھا ہے کہ بے شک میں غالب رہوں گا اور میرے رسول بھی۔ بے شک اللہ بڑا ہی زورآور اور غالب ہے''۔(المجادلہ ۵۸: ۲۱ )

اس لیے یہ بات بالکل واضح ہے کہ یہاں رسول کا لفظ اپنے لفظی مفہوم میں انبیا کے لیے استعمال ہوا ہے۔قرآن دیگر مقامات پر بھی رسول کا لفظ نبی کے لیے استعمال کرتا ہے۔ تاہم سیاق و سباق اس بات کا تعین کردیتے ہیں کہ یہاں یہ لفظ کن معنوں میں ہے۔

لفظ رسول کے متعلق یہ جاننے کے بعد کہ وہ اپنے اصطلاحی معنوں کے علاوہ لغوی معنوں میں عام افراد، انبیا اور فرشتوں کے لیے بھی استعمال ہوا ہے ، ہم یہ دیکھتے ہیں رسول کس طرح انبیا سے مختلف ہیں۔ پہلی بات یہ ہے کہ رسول نبی سے خاص ایک گروہ ہیں، یہ بات خود قرآن سے واضح ہے۔سورۂ حج میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں:

'' اور ہم نے تم سے پہلے جو رسول اور نبی بھی بھیجا تو جب بھی اس نے کوئی ارمان کیا شیطان نے اس کی راہ میں اڑنگے ڈالے۔'' (الحج ۲۲ : ۵۲)

زبان کا یہ مسلمہ اصول ہے کہ دو مترادف کبھی ایک ساتھ اس طرح استعمال نہیں ہوتے۔مثلاََ اردو میں آدمی اور انسان ہم معنی ہیں۔اب اگر یہ کہا جائے کہ اس دنیا میں جو آدمی اور انسان آتا ہے وہ آدم کی اولاد ہے تو یہ جملہ درست نہ ہوگا۔یہ جملہ صرف اس وقت صحیح ہوگا جب یہ مانا جائے کہ قائل اس جملے میں آدمی اور انسان کو مترادف نہیں ، بلکہ الگ الگ اصطلاح سمجھتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے ٹھیک یہی اسلوب یہاں اختیار کرکے یہ بتادیا ہے کہ منصب رسالت اور منصب نبوت ، دونوں یکساں نہیں ہیں ۔

ابن حبان کی ایک روایت سے بھی یہ بات نکلتی ہے کہ نبی اور رسول بالکل یکساں نہیں ہیں ۔ اس روایت کے مطابق نبیوں کی تعداد ایک لاکھ چوبیس ہزار ہے جن میں سے تین سو تیرہ کو اللہ تعالیٰ نے رسول بناکر بھیجا۔

جہاں تک اس بات کا سوال ہے کہ رسولوں کی مخاطب اقوام پر اتمام حجت کے بعد دنیا میں ہی عذاب آجاتا ہے ، قرآن میں یہ بات مختلف اسالیب میں بیان ہوئی ہے۔ اس ضمن میں چند قرآنی آیات درج ذیل ہیں:

''اور تیرا رب بستیوں کو ہلاک کرنے والا نہیں بنتا ، جب تک ان کی مرکزی بستی میں کوئی رسول نہ بھیج لے، جو ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سنائے۔'' (القصص ۲۸: ۵۹)

'' اور کافروں نے اپنے رسولوں سے کہا کہ یاتو ہم تمھیں اپنی سرزمین سے نکال کر رہیں گے یا تمھیں ہماری ملت میں پھر واپس آنا پڑے گا۔ تو ان کے رب نے ان پر وحی بھیجی کہ ہم ان ظالموں ہی کو ہلاک کردیں گے اور ان کے بعد تم کو زمین میں بسائیں گے۔'' (ابراہیم ۱۴: ۱۳ ۔۱۴)

'' اور ہم عذاب دینے والے نہیں تھے جب تک کسی رسول کو بھیج نہ دیں۔'' (بنی اسرائیل۱۷: ۱۵)

'' اور ہم نے تم سے پہلے بھی بہت سی امتوں کے پاس اپنے رسول بھیجے ۔پس ان کو مالی اور جسمانی تکالیف میں مبتلا کیا تاکہ وہ خدا کے آگے جھکیں تو کیوں جب ہماری پکڑ آئی وہ خدا کی طرف نہ جھکے ، بلکہ ان کے دل سخت ہوگئے اور شیطان نے ان کی نگاہوں میں اسی عمل کو کھبادیا جو وہ کرتے رہے تھے تو جب انھوں نے فراموش کردیا اس چیز کو جس سے ان کو یاددہانی کی گئی تو ہم نے ان پر ہر چیز کے دروازے کھول دیے ، یہاں تک کہ جب وہ اس چیز پر اترانے لگے جو انھیں دی گئی تو ہم نے ان کو دفعتہََ پکڑ لیا، پس وہ بالکل ہک دک رہ گئے۔ پس ان لوگوں کی جڑ کاٹ دی گئی جنھوں نے ظلم کا ارتکاب کیا اور شکر کا سزاوار حقیقی صرف اللہ ہے، تمام عالم کا رب ۔'' (الانعام ۶: ۴۲ ۔ ۴۵)

سورۂ اعراف میں حضر ت نوح، حضر ت ھود، حضر ت صالح، حضر ت لوط اور حضر ت شعیب کی قوم کے تذکرے کے بعد اللہ تعالیٰ ایک جامع تبصرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

'' اور ہم نے جس بستی میں کسی نبی کو رسول بناکر بھیجا، اس کے باشندوں کو مالی اور جسمانی مصائب سے آزمایاکہ وہ رجوع کریں پھر ہم نے دکھ کو سکھ سے بدل دیا۔ یہاں تک کہ وہ پھلے پھولے اور کہنے لگے کہ دکھ اور سکھ تو ہمارے باپ دادوں کو بھی پہنچے ہیں۔ پھر ہم نے ان کو اچانک پکڑ لیا اور وہ اس کا گمان نہیں رکھتے تھے۔ اور اگر بستیوں والے ایمان لاتے اور تقویٰ اختیار کرتے تو ہم ان پر آسمان و زمین کی برکتوں کے دروازے کھول دیتے، لیکن انھوں نے جھٹلایا تو ہم نے ان کی کرتوتوں کی پاداش میں انھیں پکڑلیا۔'' ( الاعراف ۷: ۹۴ ۔ ۹۶)

ان آیات میں نبی کا لفظ استعمال ہوا ہے ، مگر اس کے ساتھ ' ارسلنا' کا فعل آیا ہے ، جس کا ایک مفہوم رسول بناکر بھیجنا ہے۔ اس کی مثال سورۂ نحل (۱۴) آیت ۴۴ میں دیکھی جاسکتی ہے جس میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : ''اور ہم نے تم سے پہلے بھی آدمیوں ہی کو رسول بناکر بھیجا ۔'' یہاں پر یہ اسی مفہوم میں آیا ہے۔ مزید براں قرآن کے دیگر مقامات اورآگے چل کر انھی آیات میں اللہ تعالیٰ نے وضاحت کی ہے کہ یہ انبیا منصب رسالت پر فائز تھے ۔فرمایا:

''یہ بستیاں ہیں جن کی سرگزشتوں کا کچھ حصہ ہم تمھیں سنارہے ہیں۔ ان کے پاس ان کے رسول کھلی کھلی نشانیاں لے کر آئے تو وہ ایمان لانے والے نہ بنے۔'' ( الاعراف ۷: ۱۰۱)

سورۂ توبہ میں چھ رسولوں کی اقوام کے حوالے سے فرمایا :

''کیا انھیں ان لوگوں کی سرگزشت نہیں پہنچی جو ان سے پہلے گزرے ۔ قوم نوح، عاد، ثمود، قومِ ابراہیم، اصحاب مدین اور الٹی ہوئی بستیوں کی ۔ ان کے پاس ان کے رسول کھلی کھلی نشانیاں لے کر آئے تو اللہ ان کے اوپر ظلم کرنے والا نہیں بنا ، بلکہ وہ خود اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والے بنے۔ ''(التوبہ ۹: ۷۰)

سورۂ حج میں یہی بات سات اقوام کے حوالے سے بیان کی گئی:

''اور اگر یہ لوگ تمھاری تکذیب کررہے ہیں (تو یہ کوئی عجیب بات نہیں ہے)۔ ان سے پہلے قوم نوح، عاد، ثمود، قوم ابراہیم، قوم لوط اور مدین کے لوگ بھی تکذیب کرچکے ہیں۔ اور موسیٰ کی بھی تکذیب کی گئی تو میں نے ان کافروں کو کچھ ڈھیل دی ، پھر ان کو دھرلیا تو دیکھو کیسی ہوئی میری پھٹکار۔ '' (الحج ۲۲: ۴۲ ۔ ۴۴)

سورۂ قمر (۵۴) میں بالتفصیل یہی بات حضر ت نوح، حضر ت ہود، حضر ت صالح، حضر ت لوط اور حضر ت موسیٰ کی اقوام کے حوالے سے بیان کی گئی ہے۔ رسول اپنی قوم پر کس طرح اتمام حجت کرتے ہیں ، اس کی داستان قرآن میں جگہ جگہ بیان کی گئی ہے۔تاہم ایک رسول کی زندگی میں آنے والے تمام مراحل کی داستان کو اگر بہت اختصار سے پڑھنا ہے تو قران کی ایک بہت چھوٹی سورت یعنی سورۂ نو ح (۷۱)پڑھ لیں جس میں اللہ تعالیٰ نے سیدنا نوح کی ہزار سالہ دعوت کے تمام مراحل اور اس کے نتائج کا نچوڑ بہت اختصار کے ساتھ پیش کردیا ہے۔ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیرہ سال تک مکے کی زندگی میں ہر طرح کی مخالفت جھیل کر کفارِ مکہ پر اتمامِ حجت کیا۔قرآن کا وہ حصہ جو مکہ میں نازل ہوا اور بااعتبار حجم دو تہائی ہے ، اسی اتمامِ حجت کی داستان ہے۔جب کسی قوم پر یہ اتمام حجت ہوجاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنا فیصلہ سناتے ہیں۔ وقت کے رسول اور اس کے پیروکاروں کو ہجرت کا حکم ہوجاتا ہے اور پھر خدا کے عذاب کا کوڑا برس جاتا ہے ۔

ایک رسول کے اتمام حجت کی یہی وہ اہمیت ہے جس کی بنا پر حضرت یونس کی قوم پر آیا ہوا عذاب ٹل گیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ سیدنا یونس نے اپنی قوم کے کفر کے بعد ، رسولوں کی اس تاریخ کی بنا پر جس میں کفر کے بعد قوم کی تباہی یقینی ہوتی ہے، انھیں عذاب کی دھمکی دی اور اجتہادی فیصلہ کرکے ہجرت کر گئے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ابھی قوم کو چھوڑنے کا حکم نہیں آیاتھا۔ اس بات کا مطلب تھاکہ ابھی قوم پر اتمام حجت نہیں ہوا۔بہرحال ان کی قوم پر جب عذاب کے آثار آئے تو پوری قوم نے اجتماعی طور پر توبہ کرلی۔قرآن سورۂ یونس (۱۰)آیت ۹۸ اور سورۂ صافات(۳۷) آیات۱۳۹ تا ۱۴۸ میں ان کا قصہ بیان کرتا ہے ۔ نیز سورۂ انبیاء (۲۱) آیت ۸۷ تا ۸۸ اور سورۂ قلم (۶۸) آیات ۴۸ تا ۵۰ میں بھی ان کا تذکرہ ہے۔

قرآن میں مذکور رسولوں کی پوری تاریخ میں صرف سیدنا عیسیٰ کے مخاطب بنی اسرائیل ایک استثنا ہیں جن کی قوم کو کفر کے باوجود فنا نہیں کیا گیا۔شاید اس کی وجہ توحید سے ان کی کسی نہ کسی درجہ میں وابستگی تھی۔ تاہم ان پر خدا کا عذاب آیا جس کی نوعیت کو سورۂ اعراف (۷) آیت۱۶۷ اور سورۂ آل عمران (۳) آیات ۵۵ تا ۵۶ میں بیان کیا گیا ہے۔ جس کے مطابق قیامت تک ان پر عذاب کا سلسلہ جاری کیا گیا۔نیز سورۂ بقرہ (۲)آیت ۶۱ اور سورۂ آل عمران (۳) آیت۱۱۲ کے مطابق ذلت، مسکنت اور خدا کا غضب اب ان کا مقدر ہے۔ اس کے علاوہ نبوت کا سلسلہ ان سے ختم کردیا، اقوام عالم پر فضیلت اور اپنی نمائندگی کا اعزاز ان سے چھین لیا۔ سب سے بڑھ کر قیامت کے دن کا عذاب اپنی جگہ ہے۔

رسولوں کے اتمامِ حجت کا یہی وہ قانون ہے جس کے مطابق محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مخاطبین پر عذاب آیا۔ ہم نے پچھلی جن سورتوں کے حوالے دیے ہیں ، ان میں ان اقوامِ سابقہ کا ذکر کفارِ قریش کو سمجھانے کے لیے ہی کیا گیا تھا کہ اگر تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب کی تو تمھارا انجام بھی یہی ہوگا۔ چنانچہ یہی ہوا۔ البتہ ان پر عذاب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کی تلواروں کے ذریعے سے آیا۔ قرآن کی سورۂ انفال (۸) اور سورۂ توبہ (۹)اسی عذاب الٰہی کی تفصیل کرتی ہیں۔ قریش کی پوری قیادت جس نے تیرہ سال حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کی تھی ، جنگ بدر میں ہلاک ہوئی۔ حتیٰ کہ ابولہب جو اس جنگ میں شریک نہیں ہوا تھا ، اس پر عدسہ(طاعون) کی بیماری کا عذاب مسلط کرکے اسی موقع پر اسے بھی ہلاک کردیا گیا۔ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے آخری دور میں پورے عرب کو قبول اسلام کی دعوت دی گئی جس کی نافرمانی پر صحابہ کی تلواروں سے ان کو ہلاک کرنے کا حکم دیا گیا۔ارشاد ہوا:

''تم ان سے لڑو!اللہ تمھارے ہاتھوں ان کو سزا دے گا ، ان کو رسوا کرے گا، تم کو ان پر غلبہ دے گا، اہل ایمان کے ایک گروہ کے کلیجے ٹھنڈے کرے گااور ان کے دلوں کا غم و غصہ دور فرمائے گا اور جن کو چاہے گا توبہ کی توفیق دے گا۔ اور اللہ علم و حکمت والا ہے۔'' (التوبہ ۹: ۱۴ ۔ ۱۵)

تاہم اس کی نوبت نہیں آئی اور پورا عرب حلقہ بگوش اسلام ہوگیا۔ اس کے بعد صحابہ کو جوعروج خلافت راشدہ میں ملا ، اس کی مثال تاریخ انسانی میں نہیں ملتی۔ ان کو انعام کے طور پر دنیا کی بادشاہت دے دی گئی۔ جس کی خبر انھیں پہلے ہی اس طرح دے دی گئی تھی۔

''تم میں سے جو لوگ ایمان لائے اور جنھوں نے عمل صالح کیے، ان سے اللہ کا وعدہ ہے کہ ملک میں ان کو اقتدار بخشے گا، جیسا کہ ان لوگوں کو اقتدار بخشا جو ان سے پہلے گزرے، اور ان کے لیے ان کے اس دین کو متمکن کرے گا جس کو ان کے لیے پسندیدہ ٹھیرایا ، اور ان کی اس خوف کی حالت کے بعد اس کو امن سے بدل دے گا۔'' (النور۲۴: ۵۵)

بہرحال رسولوں کی قوموں کے بارے میں خدا کا قانون یہ ہے کہ ان کے عروج و زوال کا تمام تر انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ وہ اللہ کے رسول کی بات مانتے ہیں یا نہیں۔ وہ اگر ایمان لے آتے ہیں تو خدا ان کے دشمنوں کو ہلاک کرکے انھیں دنیا کا اقتدار سونپ دیتا ہے ۔صحابۂ کرام کے سلسلے میں یہی ہوا۔ اگر وہ تکذیب کرتے ہیں تو انھیں ان کی تمام تر طاقت اور اقتدار کے ساتھ ہلاک کردیا جاتا ہے۔ جیسا کہ دیگر تمام رسولوں کی اقوام کے ساتھ معاملہ ہوا۔البتہ حضرت موسیٰ کی قوم کے سلسلے میں معاملہ بین بین رہا۔ بنی اسرائیل آپ پر ایمان لے آئے تو ان کے دشمن فرعون کو اس کے کفر کی پاداش میں ہلاک کردیا گیا اور فرعون کی غلامی سے انھیں نجات دے دی گئی۔ تاہم جب انھوں حضرت موسیٰ کی نافرمانی کی تو انھیں عروج سے محروم کرکے ان پر خواری مسلط کردی گئی۔سو رۂ مائدہ (۵)آیات ۲۱ تا ۲۶ میں اس کاتفصیلی واقعہ بیان ہوا ہے۔

اس قانون کے حوالے سے آخری اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہی اب یہ قانون قیامت تک کے لیے ختم ہوگیا۔ اب کسی رسول نے آنا ہے نہ کسی نبی نے۔اس لیے دنیا میں کسی قوم کے عروج و زوال کے لیے اب اس قانون کے کسی پہلو کا کوئی اطلاق نہیں ہوسکتا۔

[باقی]

____________