وحی اور فطرت کا باہمی تعلق: جناب جاوید احمد غامدی کے موقف کا تقابلی مطالعہ (۱)


فلسفۂ اخلاقیات کا ایک بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا انسان کی فطرت میں نیکی اور بدی کے مابین فرق کو جاننے کے لیے کوئی اساس اور بنیاد موجود ہے؟

استاذ گرامی جناب جاوید احمد غامدی نے اس سوال کا جواب یہ دیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے خیر و شر کا احساس انسان کی فطرت میں روز اول ہی سے ودیعت ہے۔اس احساس کی بدولت وہ نیکی اور بدی کو اسی طرح الگ الگ پہچانتا ہے، جس طرح آنکھیں دیکھتی اور کان سنتے ہیں۔ استاذ گرامی نے اس ضمن میں سورۂ شمس (۹۱: ۷- ۸) کی آیات 'وَنَفْسٍ وَّمَا سَوّٰهَا، فَاَلْهَمَهَا فُجُوْرَهَا وَتَقْوٰهَا' (اور نفس گواہی دیتا ہے، اور جیسا اسے سنوارا، پھر اس کی نیکی اور بدی اسے سجھا دی) سے استدلال کیا ہے۔ لکھتے ہیں:

''... قرآن نے اِن آیتوں میں واضح کردیاہے کہ اللہ تعالیٰ نے جس طرح انسان کو دیکھنے کے لیے آنکھیں اور سننے کے لیے کان دیے ہیں، بالکل اُسی طرح نیکی اوربدی کو الگ الگ پہچاننے کے لیے ایک حاسۂ اخلاقی بھی عطا فرمایا ہے۔ وہ محض ایک حیوانی اورعقلی وجود ہی نہیں ہے، اِس کے ساتھ ایک اخلاقی وجود بھی ہے۔ اِس کے معنی یہ ہیں کہ خیرو شر کا امتیاز اورخیر کے خیر اورشر کے شر ہونے کا احساس انسان کی تخلیق کے ساتھ ہی اُس کے دل ودماغ میں الہام کردیا گیا ہے۔'' (میزان ۲۰۲)

غامدی صاحب کا نقطۂ نظر یہ ہے کہ یہ فطری احساس اس دین کے لیے اساس کی حیثیت رکھتا ہے جو وحی کے ذریعے سے اسے ملا۔ چنانچہ ان کے نزدیک شریعت کے اوامرونواہی دین فطرت کے عین مطابق اور اسی کی اساس پر مبنی ہیں۔ اپنی تصنیف ''میزان'' میں لکھتے ہیں:

''...پورا دین خوب وناخوب کے شعور پر مبنی اُن حقائق سے مل کر مکمل ہوتا ہے جو انسانی فطرت میں روز اول سے ودیعت ہیں اور جنھیں قرآن معروف اور منکر سے تعبیر کرتا ہے۔ شریعت کے جو اوامر ونواہی تعین کے ساتھ قرآن میں بیان ہوئے ہیں، وہ اِن معروفات ومنکرات کے بعد اور اِن کی اساس پر قائم ہیں۔ اِنھیں چھوڑ کر شریعت کا کوئی تصور اگر قائم کیا جائے گا تو وہ ہر لحاظ سے ناقص اور قرآن کے منشا کے بالکل خلاف ہوگا۔'' ( ۴۸)

علماے امت کا موقف بھی یہی ہے۔

مولانامفتی محمد شفیع نے ان الفاظ کی تشریح کرتے ہوئے واضح کیا ہے:

''... اللہ تعالیٰ نے انسان کو خیر و شر اور بھلے برے کی پہچان کے لیے ایک استعداد اور مادہ خود اس کے وجود میں رکھ دیا ہے جیسا کہ قرآن کریم نے فرمایا: 'فَاَلْهَمَهَا فُجُوْرَهَا وَتَقْوٰهَا' یعنی نفس انسانی کے اندر اللہ تعالیٰ نے فجور اور تقویٰ، دونوں کے مادے رکھ دیے ہیں۔''(معارف القرآن ۸/ ۷۵۱)

مولانا امین احسن اصلاحی نے تحریر کیا ہے:

''...بدی کا بدی ہونا اور نیکی کا محبوب ہونا اللہ تعالیٰ نے انسان کی فطرت کے اندر ودیعت فرما دیا ہے۔ انسان اگر بدی کرتا ہے تو اس وجہ سے نہیں کہ وہ بدی کے شعور سے محروم ہے، بلکہ وہ جذبات سے مغلوب ہو کر بدی کو بدی جانتے ہوئے اس کا ارتکاب کرتا ہے۔''(تدبر قرآن۹/ ۳۷۵)

ا مولانا ابوالاعلیٰ مودودی مذکورہ آیات کی شرح میں لکھتے ہیں:

''الہام کا لفظ 'لهم' سے ہے جس کے معنی نگلنے کے ہیں۔ 'لَهَمَ الشَّئَ وَالْتَهَمَهُ' کے معنی ہیں فلاں شخص نے اس چیز کو نگل لیا۔ اور 'اَلْهَمْتُهُ الشَّئَ' کے معنی ہیں میں نے فلاں چیز اس کو نگلوا دی یا اس کے حلق سے اتاردی۔ اسی بنیادی مفہوم کے لحاظ سے الہام کا لفظ اصطلاحاً اللہ تعالیٰ کی طرف سے کسی تصور یا کسی خیال کو غیرشعوری طور پر بندے کے دل ودماغ میں اتار دینے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ نفس انسانی پر اس کی بدی اور اس کی نیکی و پرہیزگاری الہام کر دینے کے دو مطلب ہیں۔ ایک یہ کہ اس کے اندر خالق نے نیکی اور بدی، دونوں کے رجحانات و میلانات رکھ دیے ہیں، اور یہ وہ چیز ہے جس کو ہر شخص اپنے اندر محسوس کر تا ہے۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ ہر انسان کے لاشعور میں اللہ تعالیٰ نے یہ تصورات ودیعت کر دیے ہیں کہ اخلاق میں کوئی چیز بھلائی ہے اور کوئی چیز برائی، اچھے اخلاق واعمال اور برے اخلاق واعمال یکساں نہیں ہیں، فجور (بدکرداری) ایک قبیح چیز ہے اور تقویٰ (برائیوں سے اجتناب) ایک اچھی چیز۔ یہ تصورات انسان کے لیے اجنبی نہیں ہیں، بلکہ اس کی فطرت ان سے آشنا ہے اور خالق نے برے اور بھلے کی تمیز پیدایشی طور پر اس کو عطا کر دی ہے۔ یہی بات سورۂ بلد میں فرمائی گئی ہے کہ 'وَهَدَيْنٰهُ النَّجْدَيْنِ'، ''اور ہم نے اس کو خیر وشر کے دونوں نمایاں راستے دکھا دیے'' (آیت ۱۰)۔ اسی کو سورۂ دھر میں یوں بیان کیا گیا ہے: 'اِنَّا هَدَيْنٰهُ السَّبِيْلَ اِمَّا شَاكِرًا وَّاِمَّا كَفُوْرًا'، ''ہم نے اس کو راستہ دکھا دیا خواہ شاکر بن کر رہے یا کافر'' (آیت۳)۔ اور اسی بات کو سورۂ قیامہ میں اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ انسان کے اندر ایک نفس لوامہ (ضمیر) موجود ہے جو برائی کرنے پر اسے ملامت کرتا ہے (آیت۲) اور ہر انسان خواہ کتنی ہی معذرتیں پیش کرے، مگر وہ اپنے آپ کو خوب جانتا ہے کہ وہ کیا ہے (آیات ۱۴ - ۱۵)۔ '' (تفہیم القرآن ۶/ ۳۵۲)

اس کے بعد اگلا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ انسان کی فطرت میں ودیعت کیا گیا یہ احساس عملاً خیر اور شر کے مابین امتیاز قائم کرنے میں کس حد تک انسان کے لیے کارآمد ہے؟ آیا انسان کی فطرت اس کی کوئی صلاحیت نہیں رکھتی یا اس کے برعکس، وحی کی رہنمائی سے بے نیاز ہو کر ہر لحاظ سے مکمل رہنمائی کی اہلیت رکھتی ہے یا ان دونوں کے بین بین کوئی صورت حال ہے؟

غامدی صاحب کے نزدیک اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے انسانی فطرت میں دو چیزیں ازل ہی سے ودیعت ہیں: ایک اللہ کی ربوبیت کا اقرار ہے اور دوسری خیر و شر، یعنی نیکی اور بدی کا شعور ہے ۔پہلی چیز درحقیقت اس واقعے کا اقرار ہے جو نفوس انسانی کی تخلیق کے موقع پرزمانۂ ازل میں رونما ہوا تھا۔اس موقع پر تمام نوع انسانی نے اس بات کی گواہی دی تھی کہ اللہ ہی ان کا پروردگار ہے۔ قرآن مجید میں سورۂ اعراف (۷)کی آیات ۱۷۲- ۱۷۴ میں اس واقعے کا حوالہ دیا گیا ہے۔ اس کے مطابق پروردگار نے تمام انسانوں سے پوچھا تھا کہ 'اَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ؟' (کیا میں تمھارا رب نہیں ہوں)؟ اس کے جواب میں انھوں نے کہا تھا: 'بَلٰي، شَهِدْنَا' ( ضرور، آپ ہی ہمارے رب ہیں، ہم اِس پر گواہی دیتے ہیں)۔اس واقعے کی حقیقت انسان کی فطرت میں پوری طرح مسلم ہے۔ دوسری چیز خیر و شر کا شعور ہے، یعنی اللہ تعالیٰ نے نیکی اور بدی کے تصورکو انسان کی فطرت اور اس کے دل و دماغ میں راسخ کر دیا ہے۔ سورۂ شمس (۹۱) کی آیات ۷- ۸، سورۂ دھر (۷۶) کی آیت ۳ اور سورۂ بلد (۹۰) کی آیت ۱۰ سے اسی بات کی وضاحت ہوتی ہے۔ ان دونوں معاملوں میں انسان کا فطری علم اور شعور اس کی بنیادی رہنمائی کی خدمت بہ خوبی سرانجام دیتا ہے۔ چنانچہ وہ لکھتے ہیں:

''قرآن بتاتا ہے کہ خدا کی ربوبیت کا اقرار ایک ایسی چیز ہے جو ازل ہی سے انسان کی فطرت میں ودیعت کردی گئی ہے۔ قرآن کا بیان ہے کہ یہ معاملہ ایک عہدومیثاق کی صورت میں ہوا ہے۔ اِس عہد کا ذکر قرآن ایک امر واقعہ کی حیثیت سے کرتا ہے۔ انسان کو یہاں امتحان کے لیے بھیجا گیا ہے، اِس لیے یہ واقعہ تو اُس کی یادداشت سے محو کر دیا گیا ہے، لیکن اِس کی حقیقت اُس کے صفحۂ قلب پر نقش اوراُس کے نہاں خانۂ دماغ میں پیوست ہے، اِسے کوئی چیز بھی محو نہیں کر سکتی۔ چنانچہ ماحول میں کوئی چیز مانع نہ ہو اور انسان کو اِسے یاددلایاجائے تو وہ اِس کی طرف اِس طرح لپکتا ہے، جس طرح بچہ ماں کی طرف لپکتا ہے، دراں حالیکہ اُس نے کبھی اپنے آپ کو ماں کے پیٹ سے نکلتے ہوئے نہیں دیکھا، اور اِس یقین کے ساتھ لپکتا ہے، جیسے کہ وہ پہلے ہی سے اُس کو جانتا تھا۔ وہ محسوس کرتا ہے کہ خدا کا یہ اقرار اُس کی ایک فطری احتیاج کے تقاضے کا جواب تھا جو اُس کے اندر ہی موجود تھا۔ اُس نے اِسے پالیا ہے تو اُس کی نفسیات کے تمام تقاضوں نے بھی اِس کے ساتھ ہی اپنی جگہ پالی ہے۔ قرآن کا ارشاد ہے کہ انسان کے باطن کی یہ شہادت ایسی قطعی ہے کہ جہاں تک خدا کی ربوبیت کا تعلق ہے، ہر شخص مجرد اِس شہادت کی بنا پر اللہ کے حضور میں جواب دہ ہے۔ فرمایا ہے: وَاِذْ اَخَذَ رَبُّكَ مِنْۣ بَنِيْ٘ اٰدَمَ مِنْ ظُهُوْرِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ وَاَشْهَدَهُمْ عَلٰ٘ي اَنْفُسِهِمْ، اَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ؟ قَالُوْا: بَلٰي، شَهِدْنَا، اَنْ تَقُوْلُوْا يَوْمَ الْقِيٰمَةِ اِنَّا كُنَّا عَنْ هٰذَا غٰفِلِيْنَ، اَوْ تَقُوْلُوْ٘ا اِنَّمَا٘ اَشْرَكَ اٰبَآؤُنَا مِنْ قَبْلُ وَكُنَّا ذُرِّيَّةً مِّنْۣ بَعْدِهِمْ، اَفَتُهْلِكُنَا بِمَا فَعَلَ الْمُبْطِلُوْنَ؟ وَكَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰيٰتِ، وَلَعَلَّهُمْ يَرْجِعُوْنَ. (الاعراف۷: ۱۷۲ -۱۷۴) ''(اے پیغمبر)، اِنھیں وہ وقت بھی یاد دلاؤ، جب تمھارے پروردگار نے بنی آدم کی پشتوں سے اُن کی نسل کو نکالا اور اُنھیں خود اُن کے اوپر گواہ ٹھیرایا تھا۔ (اُس نے پوچھا تھا): کیا میں تمھارا رب نہیں ہوں؟ اُنھوں نے جواب دیا: ہاں، (آپ ہی ہمارے رب ہیں)، ہم اِس کی گواہی دیتے ہیں۔ یہ ہم نے اِس لیے کیا کہ قیامت کے دن تم کہیں یہ نہ کہہ دو کہ ہم تو اِس بات سے بے خبر ہی رہے یا اپنا یہ عذر پیش کرو کہ شرک کی ابتدا تو ہمارے باپ دادا نے پہلے سے کر رکھی تھی اور ہم بعد کو اُن کی اولاد ہوئے ہیں، پھر کیا آپ اِن غلط کاروں کے عمل کی پاداش میں ہمیں ہلاک کریں گے؟ ہم اِسی طرح اپنی آیتوں کی تفصیل کرتے ہیں، اِس لیے کہ لوگوں پر حجت قائم ہو اور اِس لیے کہ وہ رجوع کریں۔'' ''(میزان ۹۱ - ۹۲) ''وَنَفْسٍ وَّمَا سَوّٰىهَا، فَاَلْهَمَهَا فُجُوْرَهَا وَتَقْوٰىهَا، قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَكّٰىهَا، وَقَدْ خَابَ مَنْ دَسّٰىهَا. (الشمس۹۱ :۷- ۱۰) ''اور نفس اور جیسا اُسے سنوارا،پھراُس کی بدی اور نیکی اُسے سجھا دی کہ روز قیامت شدنی ہے، (اِس لیے) فلاح پا گیا وہ جس نے نفس کا تزکیہ کیا اور نامراد ہوا وہ جس نے اُسے آلودہ کر ڈالا۔'' انسان کے لیے خیرو شر کے جاننے کا ذریعہ کیا ہے ؟ یہ فلسفۂ اخلاق کا سب سے بنیادی سوال ہے۔ قرآن نے اِن آیتوں میں واضح کردیاہے کہ اللہ تعالیٰ نے جس طرح انسان کو دیکھنے کے لیے آنکھیں اور سننے کے لیے کان دیے ہیں، بالکل اُسی طرح نیکی اوربدی کو الگ الگ پہچاننے کے لیے ایک حاسۂ اخلاقی بھی عطا فرمایا ہے۔ وہ محض ایک حیوانی اورعقلی وجود ہی نہیں ہے، اِس کے ساتھ ایک اخلاقی وجود بھی ہے۔ اِس کے معنی یہ ہیں کہ خیرو شر کا امتیاز اورخیر کے خیر اورشر کے شر ہونے کا احساس انسان کی تخلیق کے ساتھ ہی اُس کے دل ودماغ میں الہام کردیا گیا ہے۔ بعض دوسرے مقامات پر یہی حقیقت 'اِنَّا هَدَيْنٰهُ السَّبِيْلَ'[1] ہ (ہم نے اُسے خیر و شر کی راہ سجھا دی ) اور 'هَدَيْنٰهُ النَّجْدَيْنِ'[2] (ہم نے کیا اُس کو دونوں راستے نہیں سجھائے؟) کے الفاظ میں واضح کی گئی ہے۔ یہ امتیاز و احساس ایک عالم گیر حقیقت ہے۔ چنانچہ برے سے برا آدمی بھی گناہ کرتاہے تو پہلے مرحلے میں اُسے چھپانے کی کوشش کرتا ہے۔ آدم علیہ السلام کے بیٹے قابیل نے اپنے بھائی ہابیل کو قتل کردینے کے بعد اُس کی لاش چھپانے کی کوشش کی تھی تو ظاہر ہے کہ احساس گناہ ہی کی وجہ سے کی تھی۔ یہی معاملہ نیکی کا ہے۔ انسان اُس سے محبت کرتا ہے ، اُس کے لیے اپنے اندر عزت و احترام کے جذبات پاتاہے اوراپنے لیے جب بھی کوئی معاشرت پیدا کرتاہے، اُس میں حق وانصاف کے لیے لازماً کوئی نظام قائم کرتا ہے۔ یہ اِس امتیاز خیر وشر کے فطری ہونے کا صریح ثبوت ہے۔ اِس میں شبہ نہیں کہ برائی کے حق میں انسان بعض اوقات بہانے بھی تراش لیتا ہے، لیکن جس وقت تراشتا ہے، اُسی وقت جانتا ہے کہ یہ بہانے وہ اپنی فطرت کے خلاف تراش رہا ہے، اِس لیے کہ وہی برائی اگر کوئی دوسرا اُس کے ساتھ کر بیٹھے تو بغیر کسی تردد کے وہ اُسے برائی ٹھیراتا اور اُس کے خلاف سراپا احتجاج بن جاتا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاہے : نیکی حسن اخلاق ہے اور گناہ وہ ہے جو تمھارے دل میں کھٹک پیدا کردے اورتم یہ پسند نہ کرو کہ دوسرے لوگ اُسے جانیں[3]۔ نفس انسانی کا یہی پہلو ہے جسے قرآن نے نفس لوامہ[4] سے تعبیر کیا ہے اورپھر پوری صراحت کے ساتھ فرمایا ہے: بَلِ الْاِنْسَانُ عَلٰي نَفْسِهٖ بَصِيرَةٌ، وَّلَوْ اَلْقٰي معَاذِيْرَهٗ.(القیامہ۷۵: ۱۴- ۱۵) ''بلکہ حق یہ ہے کہ انسان خود اپنے اوپر گواہ ہے، اگرچہ وہ اپنے لیے کتنے ہی بہانے بنائے۔'' ''(میزان ۲۰۲ - ۲۰۳)

قرآن مجید سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کی فطرت میں ودیعت کیا جانے والا یہ فطری شعور کسی خارجی رہنمائی کے بغیر بھی ازخود اپنے اظہار کے لیے بے تاب ہوتا ہے۔ چنانچہ جب جنت میں ممنوعہ پھل کھانے کے نتیجے میں آدم و حوا علیہما السلام کے ستر ان پر کھل گئے تو انھوں نے فوراً اپنے آپ کو پتوں سے ڈھانپنے کی کوشش کی۔ قرآن مجید سے واضح ہے کہ ایسا انھوں نے کسی باقاعدہ 'حکم' کی تعمیل میں نہیں، بلکہ شرم وحیا کے اس فطری احساس کی بنا پر کیا تھا جو اللہ نے ان کی فطرت میں ودیعت کر رکھا تھا۔ مولانا امین احسن اصلاحی اور مولانا ابوالاعلیٰ مودودی نے سورۂ اعراف (۷) کی آیت ۲۲ کی تفسیر میں اسی بات کی وضاحت کی ہے۔ مولانا اصلاحی لکھتے ہیں:

'' '...وَطَفِقَا يَخْصِفٰنِ عَلَيْهِمَا مِنْ وَّرَقِ الْجَنَّةِ ' کے اسلوب بیان سے اس گھبراہٹ اور سراسیمگی کا اظہار ہورہا ہے جو اس اچانک حادثے سے آدم وحوا پر طاری ہوئی۔ جوں ہی انھوں نے محسوس کیا کہ وہ ننگے ہو کر رہ گئے ہیں، فوراً انھیں اپنی ستر کی فکر ہوئی اور جس چیز پر ہاتھ پڑ گیا، اسی سے ڈھانکنے کی کوشش کی، چنانچہ کوئی چیز نہیں ملی توباغ کے پتے ہی اپنے اوپر گانٹھنے گوتھنے لگے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ستر کا احساس انسان کے اندر بالکل فطری ہے۔ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ یہ چیزیں محض عادت کی پیداوار ہیں، ان کا خیال بالکل غلط ہے۔ جس طرح توحید فطرت ہے، شرک انسان مصنوعی طورپر اختیار کرتا ہے، اسی طرح حیا فطرت ہے، بے حیائی انسان مصنوعی طور پر اختیار کرتاہے۔'' (تدبرقرآن۳/ ۲۳۶)

مولانا مودودی نے بیان کیا ہے:

''انسان کے اندر شرم وحیا کا جذبہ ایک فطری جذبہ ہے اور اس کا اولین مظہر وہ شرم ہے جو اپنے جسم کے مخصوص حصوں کو دوسروں کے سامنے کھولنے میں آدمی کو فطرتاً محسوس ہوتی ہے۔ قرآن ہمیں بتا تا ہے کہ یہ شرم انسان کے اندر تہذیب کے ارتقاء سے مصنوعی طور پر پیدا نہیں ہوئی ہے اور نہ یہ اکتسابی چیز ہے، جیسا کہ شیطان کے بعض شاگردوں نے قیاس کیا ہے، بلکہ درحقیقت یہ وہ فطری چیز ہے جو اول روز سے انسان میں موجود تھی۔'' (تفہیم القرآن۲ / ۱۵)

ا ہابیل اور قابیل کے واقعے سے بھی یہی بات واضح ہوتی ہے ۔قابیل نے اپنے بھائی ہابیل کے قتل کے بعد جو پشیمانی اور ندامت محسوس کی، اس کا سبب وحی نہیں، بلکہ ایک داخلی احساس تھاجو ظاہر ہے کہ فطرت ہی کی ہدایت پر مبنی تھا۔ مولانا اصلاحی نے اس واقعے کے حوالے سے لکھا ہے:

''...خدا پر ایمان، خدا کی عبادت، عبادت کے لیے اخلاص وتقویٰ کی شرط، عدل کا تصور، قتل نفس کا جرم ہونا، جنت اور دوزخ کا عقیدہ، یہ سب چیزیں انسان کی ابتداے آفرینش ہی سے اس کو تعلیم ہوئی ہیں۔ ان کا عہد جس طرح اللہ تعالیٰ نے ہر نبی اور اس کی امت سے لیا ہے، اسی طرح آدم اور ان کی ذریت سے بھی لیا تھا۔ اس سے ان لوگوں کے خیال کی پوری پوری تردید ہو رہی ہے جو یہ سمجھتے ہیں کہ ابتدائی انسان حق وعدل کے ان تصورات سے بالکل خالی تھا جو اب اس کے اندر پائے جاتے ہیں۔'' (تدبرقرآن۲/ ۴۹۳)

[باقی]

__________

[1]۔ الدھر۷۶ :۳۔

[2]۔ البلد۹۰: ۱۰۔

[3]۔ مسلم ، رقم ۶۵۱۶۔

[4]۔ القیامہ۷۵: ۲۔