یسئلون


افادات غامدی

اخذو تحریر : معظم صفدر

نظر ثانی: منظور الحسن

[جناب جاوید احمد صاحب غامدی اپنے ہفتہ وار درس قرآن وحدیث کے بعد شرکا کے سوالوں کے

جواب دیتے ہیں۔ ان میں سے چند منتخب سوال وجواب تحریر میں منتقل کر کے پیش کیے جا رہے ہیں۔ ]

مسنون دعائیں

سوال: ہمارے ہاں بچوں کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مسنون دعائیں عربی زبان میں سکھائی جاتی ہیں۔ نبی کریم نے مختلف موقعوں پر جو دعائیں کی ہیں ، کیا وہ صرف ان خاص موقعوں کے لیے تھیں یا اب بھی خیر و برکت کے پہلو سے دہرائی جا سکتی ہیں اور کیا اس پہلو سے اپنے بچوں کو لازماً یاد کرائی جانی چاہییں؟

جواب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب دعائیں ، بلاشبہ بہت پاکیزہ دعائیں ہیں ، لیکن یہ واضح رہے کہ یہ کوئی منتر نہیں ہیں ، بلکہ ان کی حیثیت بھی اللہ کے حضور میں درخواست کی ہے ۔ البتہ ، یہ دعائیں جن روایات میں نقل ہوئی ہیں، ان میں چونکہ زیادہ تر آپ ہی کے الفاظ روایت کیے گئے ہیں ، اس لیے اس پہلو سے یہ دعائیں بے پناہ اہمیت کی حامل ہیں ۔ مزید یہ کہ ان میں چونکہ اللہ سے مانگنے کے صحیح طریقے کی رہنمائی اور توحید کا صحیح شعور ہے ، اس لیے ہم انھیں سیکھتے اور اپنے بچوں کو سکھاتے ہیں ۔ لیکن اگر یہ سوچ کر ہم انھیں سیکھیں اور اپنے بچوں کو سکھائیں کہ فقط نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ادا کردہ الفاظ دہرانے یا عربی زبان میں دعا مانگنے سے دعا فوراً قبول ہو جائے گی تو ایسا نہیں ہے۔ دعاؤں کی قبولیت کا اللہ کا ایک ضابطہ ہے ، اس لیے دعائیں اس کی حکمت کے تحت ہی قبول ہوتی ہیں۔ وہ عربی زبان میں ہونے سے کوئی مختلف چیز نہیں بن جاتیں ۔

معافی اور تلافی

سوال: اگر کوئی مظلوم بے بسی کی وجہ سے اپنا بدلہ روز قیامت پر ڈال دے اور ظالم بعد میں کبھی اللہ کے حضور میں سچی توبہ کر لے تو کیا اس صورت میں ظلم کرنے والے کے ایسے گناہ بھی معاف ہو جائیں گے جن میں دوسرے لوگوں پر ظلم ہوا ہو ، کیونکہ اس صورت میں مظلوم قیامت کے دن بھی اپنا بدلہ نہیں لے پائے گا ؟

جواب: ایسے گناہوں کے معاملے میں ظالم کے سامنے دو فریق ہوتے ہیں : ایک اللہ اور دوسرا مظلوم ۔ اللہ تعالیٰ سے معافی مانگنے کی صورت میں اس کا امکان ہے کہ اللہ معاف فرما دیں گے ، کیونکہ وہ بہت غفورو رحیم ہیں۔ لیکن دوسرے فریق ، یعنی بندے کا معاف کرنا بھی ضروری ہے ۔ قیامت کے دن وہ اپنا مقدمہ لے کر کھڑا ہو سکتا ہے ۔ لہٰذا ایسے معاملات میں اللہ سے معافی مانگنے کے ساتھ مظلوم کی تلافی بھی ضروری ہے ۔ تلافی کے بغیر معافی بے معنی چیز ہے ۔ مراد یہ ہے کہ اگر کسی نے ظلم کیا ہے تو اسے مظلوم سے معذرت کرنا ہو گی ، اگر کسی نے زیادتی کی ہے تو اسے مظلوم سے معافی کی در خواست کرنا ہو گی۔ یہ چیز عقل عام اور دین و اخلاق کے خلاف ہے کہ کسی کا حق مار کر اس پر قابض بھی رہیں اور ساتھ اللہ سے سچی توبہ کی دعائیں بھی کرتے رہیں ۔ اس کی مثال ایسے ہی ہے جیسے آپ ایک بیوہ کا مکان ہتھیا لیں اور کہیں کہ میں رہوں گا تو اس میں ، لیکن سچے دل سے اللہ کے حضور معافی مانگتا ہوں ۔ یہ چیز قابل قبول نہیں ہے ۔

تاہم ، کسی معاملے میں اگر تلافی کی صورت ہی باقی نہ رہے، مثال کے طور پر مظلوم دنیا سے رخصت ہو گیا ہے تو اس صورت میں اللہ سے معافی مانگتے رہنا چاہیے ۔ ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ قیامت میں معافی کی سفارش کر دیں اور وہ خدا کا بندہ اس وقت ظالم کو معاف کر دے۔

خاتون کا نکاح پڑھانا

سوال: کیا کوئی خاتون نکاح پڑھا سکتی ہے ؟

جواب: جی بالکل پڑھا سکتی ہے ۔ نکاح ، اصل میں مرد و عورت کے درمیان علانیہ ایجاب و قبول کے ساتھ مستقل رفاقت کا عہد ہے۔ ایک لڑکا اور لڑکی اگر مجمع عام میں بیٹھ کر یہ اعلان کر دیتے ہیں کہ آج سے ہم بیاہے گئے ہیں تو بس بیاہے گئے ۔ اس سے زیادہ اسلام میں قانون کا تقاضا نہیں ہے۔ لیکن یہ ایک بڑی پاکیزہ مجلس ہوتی ہے، اس لیے اس کو خصوصی حیثیت دی گئی ہے۔ اس میں اس چیز کا اہتمام کیا جاتا ہے کہ والدین شریک ہوں ، اعزہ و اقربا شامل ہوں، دوست احباب بھی آ جائیں تو انھی میں سے کوئی بزرگ اس موقع پر تذکیر و نصیحت کی باتیں بھی کر دے ۔ یہی عمل ہے جس کو نکاح پڑھانا کہتے ہیں ۔ یہ جس کا جی چاہے پڑھا لے ۔ خاتون پڑھانا چاہتی ہے ، پڑھالے، مرد پڑھانا چاہتا ہے ، پڑھا لے ۔ اسلام نے اس کے لیے کسی چیز کا پابند نہیں کیا۔ یہ ایک مستحب اور اچھا عمل ہے ۔ لیکن ہمارے ہاں نکاح پڑھانا اب ایسے ہی بن گیا ہے ، جیسے کوئی منتر کرنا ہوتا ہے ۔

نماز کی قبولیت

سوال: کس فرقے کے امام کی اقتدا میں نماز نہیں ہوتی؟

جواب: ہر مسلمان امام کی اقتدا میں نماز ہو جاتی ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ نماز آپ کی ہوتی ہے، یہ کسی فرقے کی نہیں ہوتی ۔ اس لیے مسلمانوں کے نظم اجتماعی میں جہاں بھی موقع ملے ، نماز ہو رہی ہو، آپ اطمینان کے ساتھ نماز پڑھیے ۔ امام خواہ سنی ہو یا شیعہ ، اہل حدیث ہو یا دیو بندی، اس سے آپ کی نماز کی قبولیت پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ یہ ایسی ہی بات ہے کہ اگر امام کا وضو نہیں ہے تو اس کی نماز نہیں ہوئی ، آپ کا وضو ہے تو آپ کی ہو گئی ہے ۔

کبیرہ گناہوں کی معافی

سوال: سنگین گناہ کی معافی کب تک مانگنی چاہیے، کیا کبیرہ گناہوں کی معافی تمام عمر مانگتے رہنا چاہیے، اور یہ کب اور کیسے معلوم ہو کہ اللہ تعالیٰ نے معاف کر دیا ہے ؟

جواب : اپنے کبیرہ گناہوں کی معافی تمام عمر مانگتے رہنا چاہیے ۔ نہ صرف معافی مانگتے رہنا چاہیے ، بلکہ اس کے ساتھ ساتھ تلافی کرنے کی کوشش بھی کرتے رہنا چاہیے۔ گناہوں کی معافی کے لیے ریاضتیں یا چلے درکار نہیں ہیں ، فقط سچے دل سے اللہ تعالیٰ سے معافی کا خواست گار ہونا کافی ہے۔ اس کے لیے اللہ تعالیٰ نے نماز کی صورت میں نہایت اچھا اہتمام کر دیا ہے۔ہر نماز کے آخر پر دعا و مناجات کے ذریعے سے گناہوں پر توبہ کی جا سکتی ہے۔ مزید یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابۂ کرام سے منسوب اذکار سے دعا مانگنے کا سلیقہ سیکھا جا سکتا ہے ، کیونکہ ان میں سب گناہوں کی معافی کے لیے نہایت جامع کلمات ہیں۔

لاعلاج مریض کی مصنوعی زندگی

سوال: کسی مریض کے بارے میں اگر یہ اندازہ ہو جائے کہ اس کا علاج ناممکن ہے ، تو اس صورت میں ہماری شریعت ہمیں کیا رہنمائی دیتی ہے؟ کیا جب تک اس کی طبعی موت واقع نہ ہو، اسے مصنوعی آلات کے ذریعے سے زندہ رکھا جائے یا دواؤں کے ذریعے سے از خود موت کے حوالے کر دیا جائے؟

جواب: مرض کا علاج اگر نہیں ہے تو ڈاکٹر پر مریض کو مصنوعی طور پر زندہ رکھنے کی کوئی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی۔ اگر مریض کے علاج کے لیے آپ کے پاس کوئی چیز موجود ہے تو ہر صورت میں علاج کیجیے ورنہ اس کا معاملہ اللہ تعالیٰ پر چھوڑ دیجیے ۔ دین و اخلاق کی رو سے ڈاکٹر کے پاس نہ لاعلاج مریض کو خواہ مخواہ زندہ رکھنے کی تدبیر کی کوئی ذمہ داری ہے اور نہ خود سے اقدام کر کے اس کو مارنے کا حق ہے ۔ ہمارے ہاں دونوں معاملات میں بالعموم افراط و تفریط ہوتی ہے ۔ ایک طرف دواؤں کے ذریعے سے ازخود لوگوں کو مارا جاتا ہے، اس کا بھی کسی کو حق حاصل نہیں ہے، یہ فیصلہ اللہ تعالیٰ نے کرنا ہے اور دوسری طرف یہ معلوم ہونے کے باوجود کہ کوئی علاج نہیں ہو سکتا ، مریض کو زندہ رکھنے کی کوششیں شروع کر دی جاتی ہیں ۔ یہ بھی کوئی اخلاقی فریضہ نہیں ہے ۔دونوں کام اللہ تعالیٰ پر چھوڑ دیجیے ۔ علاج ہے تو آخری دم تک علاج کیجیے ۔ نہیں ہے تو بس ہاتھ اٹھا دیجیے، باقی معاملات اللہ تعالیٰ خود کر لیں گے ۔ اس معاملے میں لواحقین کو بھی اصرار نہیں کرنا چاہیے ، بلکہ صبر کرنا چاہیے ۔

قرآن کی ۳۰ پاروں میں تقسیم

سوال: قرآن مجید کی ۳۰ پاروں میں تقسیم کی کیا حقیقت ہے ؟ کیا اس تقسیم کو ملحوظ رکھ کر پڑھنا لازم ہے ؟

جواب: اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کو سورتوں میں تقسیم کیا ہے۔ پاروں میں تقسیم تو بہت بعد میں ہوئی ہے ۔ جب تراویح میں لوگوں نے قرآن سننا سنانا شروع کیا اور یہ ذوق پیدا ہو ا کہ ماہ رمضان میں قرآن ضرور ختم کرنا ہے تو پھر انھوں نے اسے تیس دن کے لحاظ سے تیس پاروں میں تقسیم کر دیا ۔

ہمارے ہاں پہلے زمانے میں حافظ وہ ہوتے تھے جو قرآن کے عالم ہوتے تھے۔ دوسرے زمانے میں حافظ وہ ہوتے تھے جو بالعموم اندھے ہوتے تھے ۔ انھوں نے اپنی آسانی کے لیے یہ تقسیم اس طریقے سے کی ہے کہ لفظ گن لیے اور الفاظ کی گنتی کے لحاظ سے قرآن کو تیس پاروں میں تقسیم کر لیا۔ اس تقسیم میں اگر جملہ پورا ہو گیا تب بھی ٹھیک ہے ، نہیں پورا ہوا تب بھی ٹھیک ہے ۔ کلام کا ربط باقی رہا ہے تب بھی ٹھیک ہے ، اور اگر نہیں باقی رہا تب بھی ٹھیک ہے۔

میرے نزدیک یہ تقسیم درست نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کی تقسیم سورتوں میں کی ہے اور اسی کے لحاظ سے وہ ہمیشہ پڑھا جانا اور شائع ہونا چاہیے ۔ پارے بالکل بے معنی ہیں۔ ان کا کوئی تعلق اس سے نہیں ہے کہ مفہوم و مدعا کے لحاظ سے جملہ کہاں پورا ہوتا ہے۔ اس میں بعض لوگوں نے رکوع کے لحاظ سے مزید تقسیم کی ہوئی ہے ۔ اگرچہ یہ کسی حد تک بامعنی اور معقول ہے ، لیکن اس پر بھی نظر ثانی ہونی چاہیے ۔

سابقہ شریعتوں میں اجتماعی نماز

سوال : اجتماعی نماز کیا ہماری شریعت ہی میں خاص ہے یا پہلی شریعتوں میں بھی رائج تھی؟ حضرت مسیح علیہ السلام کا اپنے شاگردوں سے کہنا کہ تم یہاں ٹھیرو میں اپنی نماز پڑھ لوں ، اس سے کیا مراد ہے ؟

جواب: پہلی شریعتوں میں انفرادی اور اجتماعتی ، دونوں نمازوں کا ذکر ہے ۔ جیسے ہمارے ہاں اجتماعی نماز بھی ہوتی ہے اور انفرادی نماز بھی ہوتی ہے ۔ ہم اجتماعی نماز پڑھتے ہیں اور اس سے قبل یا بعد انفرادی طور پر نفل پڑھتے ہیں۔ تہجد کی نماز تو خاص طور پر انفرادی نماز ہے ۔ یہودونصاریٰ کے ہاں دونوں نمازوں کا ذکر ہے ۔ مثال کے طور پر کتاب مقدس میں اس طرح کی باتیں بھی درج ہیں کہ یہ جگہ وہ تھی جہاں جمع ہو کر نماز پڑھی جاتی تھی یا تب لوگ ہیکل کے پھاٹکوں میں نماز پڑھنے کے لیے جا رہے تھے ۔ ظاہر ہے کہ یہ اجتماعی نماز کا ذکر ہے۔ جن موقعوں پر یہ بیان ہوا ہے کہ سیدنا مسیح نے کہا کہ تم ٹھہرو میں تھوڑی دیر کے لیے نماز پڑھ لوں تو یہ انفرادی نماز ہے ۔ یہ نفل نمازیں ہیں ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل بھی ایسا ہی ہے ، یعنی آپ نے اجتماعی نماز کا اہتمام بھی کیا اور انفرادی نماز کا بھی ۔

صدقہ

سوال: صدقہ اور خیرات میں کیا فرق ہے ؟ صدقہ دینے کی صحیح صورت کیا ہے ؟ کیا صدقہ صرف گوشت یا جانور ذبح کر کے دیا جا سکتا ہے یا صدقے کی نیت سے ضرورت مند کو پیسا بھی دیا جا سکتا ہے ؟ بعض لوگ چیل کووں کے لیے چھت پر گوشت پھینک دیتے ہیں ، یا آبی جانوروں کے لیے پانی میں ڈال دیتے ہیں ، یا چوراہے میں سری رکھ دیتے ہیں ، کیا یہ صدقے کی صحیح صورتیں ہیں ؟

جواب: قرآن مجید میں صدقے کا لفظ خیرات کے مفہوم میں آیا ہے ۔ عربی میں صدقہ ، خیرات ، زکوٰۃ، یہ سب الفاظ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کے معنی میں آتے ہیں ۔ ان سے مراد یہ ہے کہ اللہ کی راہ میں ضرورت مند لوگوں کی مدد کی جائے ، خواہ پیسے دیے جائیں یا کپڑے دیے جائیں یا بھوکے کو کھانا کھلایا جائے یا کسی اور شکل میں ان کی ضرورت پوری کر دی جائے ۔

اسلام میں اس طرح کے صدقے کا کوئی تصور نہیں ہے کہ کالا بکرا دے دو یا چوراہے میں سری پھینک دو یا چھت پر یا پانی میں گوشت ڈال دو۔ یہ توہم پرستی ہے ، اس کے سوا کچھ نہیں ہے۔ اللہ توفیق دے تو آپ ضرورت مندوں پر خرچ کریں ۔