یسئلون


[جناب جاوید احمد صاحب غامدی اپنے ہفتہ وار درس قرآن وحدیث کے بعد شرکا کے سوالوں کے

جواب دیتے ہیں۔ ان میں سے چند منتخب سوال وجواب تحریر میں منتقل کر کے پیش کیے جا رہے ہیں۔ ]

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے درود و سلام

سوال: قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اللہ اور اس کے فرشتے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر رحمت بھیجتے ہیں، ایمان والو ، تم بھی ان پر بہت زیادہ رحمت اور سلام بھیجو۔ میرا سوال یہ ہے کہ رسول اللہ پر درود تو ہم درود ابراہیمی کے ذریعے سے بھیجتے ہیں ، لیکن سلام کے الفاظ کیا ہونے چاہییں؟

جواب: نماز میں ہم التحیات پڑھتے ہوئے 'السلام علیک ایھا النبی ' کے الفاظ ادا کرتے ہیں ، اس سے ہم رسول اللہ پر سلام بھیجتے ہیں ۔ یہی الفاظ ہم عام زندگی میں بھی پڑھ سکتے ہیں ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر سلام بھیجنے کا یہی طریقہ بتایا گیا ہے ۔

درود و سلام سلامتی اور رحمت کی دعا ہے یعنی اللہ کے حضور میں یہ درخواست ہے کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنی رحمت نازل فرمائے۔ یہ ہماری خیر خواہی کا تقاضا ہے کہ ہم ماں کے لیے دعا کریں، باپ کے لیے دعا کریں، اعزہ و اقربا کے لیے دعا کریں اور سب سے بڑھ کر اللہ کے پیغمبر کے لیے دعا کریں جس کے ذریعے سے ہمیں ہدایت ملی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ میں سمجھتا ہوں کہ یہ دعا ہمیں اپنے مسلمان بھائیوں کے لیے بھی ضرورکرنی چاہیے۔(اگست ۲۰۰۴)

اللہ کے صفاتی نام

سوال : اللہ کے صفاتی ناموں کے بارے میں بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ ان میں سے بعض نام موزوں نہیں ہیں۔ اس ضمن میں آپ کی کیا رائے ہے؟

جواب : اللہ تعالیٰ نے اپنے جو نام خود بیان کیے ہیں، انھیں ناموزوں قرار دینے کی جسارت کوئی کیسے کر سکتا ہے۔ البتہ کچھ صفاتی نام لوگوں نے ازخود بنالیے ہیں جو ہمارے ہاں عام طور پر ''ننانوے نام '' کے عنوان سے مشہور ہیں ۔ یہ کسی مستند جگہ پر بیان نہیں ہوئے۔ ان میں سے کچھ نام ایسے بھی ہیں جو افعال سے بنا لیے گئے ہیں ۔ مثال کے طور پر اللہ کا یہ فعل بیان ہوا ہے کہ وہ اس آدمی کو گمراہی میں ڈال دیتا ہے جو اس کی ہدایت کی قدر نہیں کرتا۔ اس بنا پر یہ بات کہنا تو ٹھیک ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے قانون کے مطابق گمراہ بھی کرتا ہے ، لیکن اس سے اگر اسم صفت (Adjective) 'المضل' (گمراہ کرنے والا) بنا لیا جائے اور اسے اللہ کا صفاتی نام قرار دیا جائے تو یہ بات ناموزوں ہوگی۔(اگست ۲۰۰۴)

قرض کی رقم پر منافع لینا

سوال : کسی آدمی کو اگر اس صورت میں قرض دیا جائے کہ اصل رقم تو ہر حال میں مقروض کے ذمہ رہے، مگر اس رقم سے منافع کی صورت میں اسے بھی منافع میں شریک کیا جائے۔ کیا ایسا کرنا ٹھیک ہے ؟

جواب:اس بارے میں میری رائے یہ ہے کہ ایسا کرنا بالکل ٹھیک ہے۔ موجودہ زمانے میں لوگ اطمینان کے ساتھ دوسروں سے شراکت اور مضاربت پر پیسا لیتے ہیں اور ہاتھ جھاڑ کر کہہ دیتے ہیں کہ نقصان ہوگیاہے۔ اس لیے میں لوگوں کو ہمیشہ کہتا ہوں کہ آپ قرض دیجیے اور اسی وقت یہ طے کر لیجیے کہ بھئی یہ میرا واجب الادا قرض ہے۔ اگر نقصان ہوگا تو میں اس میں شریک نہیں ہوں گا، کیونکہ میں فیصلوں میں بھی شریک نہیں ہوں، البتہ اگر نفع ہو گا تو اس میں مجھے اتنا حصہ دے دیجیے گا۔ اس منافع کو سود ہرگز قرار نہیں دیا جاسکتا۔(اگست ۲۰۰۴)

شادی سے پہلے منگیتر سے بات کرنا

سوال: کیا شادی سے پہلے فون پر یا آمنے سامنے بیٹھ کر منگیتر سے بات چیت کی جاسکتی ہے؟

جواب : بات کرنے پر اسلام نے کوئی پابندی نہیں لگائی ۔ یعنی آپ بات تو کر سکتے ہیں، اس میں دینی لحاظ سے کوئی مسئلہ نہیں ہے ، لیکن ایسی چیزیں عام طور پر بڑی خرابیوں کا باعث بن جاتی ہیں۔ اس لیے اس طرح کے معاملات کو اپنی معاشرتی اور تہذیبی روایات کے اندر رہتے ہوئے انجام دینا چاہیے۔ (اگست ۲۰۰۴)

صوفیا کے محیر العقول واقعات

سوال: قدرت اللہ شہاب صاحب کی کتاب ''شہاب نامہ'' کے آخری باب میں بعض ایسی باتیں ہیں جو سمجھ میں نہیں آتیں۔ مثال کے طور پر ان کا اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کرنا کہ اللہ تعالیٰ حضرت بی بی فاطمہ کی روح طیبہ کو اجازت مرحمت فرمائیں کہ وہ میری ایک درخواست اپنے والد گرامی کے حضور میں پیش کر کے منظور کرادیں اور پھر دعا کا قبول ہو جانا۔ اسی طرح ان کو ایک خط موصول ہونا اور پھر اسی خط کا مختلف جگہوں پر پایا جانا ۔ یہ اور اس قسم کی اور بھی باتیں جو وہاں درج ہیں،سب سمجھ سے بالاتر ہیں ۔ ازراہ کرم اس کی وضاحت کر دیں؟

جواب: آپ کو ایسی باتیں اجنبی محسوس ہو رہی ہیں ، حالاں کہ ہمارے سب صوفیا ایسی باتیں بیان کرتے ہیں ۔ ان کی کتابیں ایسے واقعات سے بھری پڑی ہیں۔ آپ بڑے بڑے صوفیا کی کتابیں پڑھیں تو آپ کو محسوس ہو گا کہ ان کے مقابلے میں ان واقعات کی کوئی حیثیت ہی نہیں ہے۔ ان کے مطالعے سے آپ کو معلوم ہو گا کہ وہ معراج پر جاتے ہیں، اللہ تعالیٰ سے ملاقات کرتے ہیں ، دنیا کا نظم و نسق چلاتے ہیں ، راستے میں چلتی ہوئی چیونٹیاں بھی ان سے گفتگو کرتی ہیں ، حتیٰ کہ وہ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ اگر کوئی کالی چیونٹی بھی اندھیری رات میں کسی سخت پتھر پر چلتی اور میں اس کی آواز نہ سنتا تو بے شک، میں یہی کہتا کہ مجھے فریب دیا گیا ہے یا میں دھوکے میں رہا ہوں ۔ہمارے جلیل القدر صوفی شاہ ولی اللہ اپنے بارے میں بیان کرتے ہیں کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ مجھے قائم الزماں کے منصب پر فائز کیا گیا ہے ۔ اس سے میری مراد یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ اپنے نظام خیر میں سے کسی چیز کا ارادہ کریں گے تو اپنے مقصد کو پورا کرنے کے لیے آلۂ کار مجھے بنائیں گے ۔ صوفیا کی کتب کے اس مطالعے کے بعد آپ کو محسوس ہو گا کہ قدرت اللہ شہاب صاحب تو اس معاملے میں طفل مکتب ہیں۔

میرے نزدیک جو آدمی بھی ان علوم میں دل چسپی لینا شروع کر دیتا ہے یا ایک مرتبہ اپنے آپ کو ان چیزوں کے حوالے کر دیتا ہے تو پھر اس کے بعد شیاطین جن اس کے ساتھ کھیلنا شروع کردیتے ہیں۔ اس سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنی چاہیے اور اپنے آپ کو بالکل صحیح علم پر قائم رکھنا چاہیے ۔ ایسی چیزوں کو اللہ تعالیٰ کی اس ہدایت پر پرکھنا چاہیے جو اس نے پیغمبروں کے ذریعے سے دی ہے۔

موجودہ دور میں بھی جب ایک مذہبی رہنما نے ایسی ہی کرامات بیان کرنا شروع کیں تو ہمارے ایک دوست نے بڑی دل چسپ بات کہی کہ میں جب قدیم بزرگوں کے محیر العقول واقعات سنتا تھا تو خیال ہوتا تھا کہ یہ کیسے ہوئے ہوں گے، لیکن اب معلوم ہو گیا ہے کہ ایسے ہی ہوئے ہوں گے ۔ (اگست ۲۰۰۴)

نماز میں درود ابراہیمی

سوال: نماز میں تشہد کے بعد پڑھے جانے والے درود ابراہیمی کی اصل حقیقت کیا ہے ؟

جواب: درود ابراہیمی اللہ تعالیٰ کے حضور میں ایک دعا ہے جو ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کرتے ہیں ۔ نماز میں چونکہ بہت سی دعائیں کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے اجازت دی ہے ، اس لیے آپ جو چاہیں دعا کریں۔ روایتوں میں آتا ہے کہ صحابۂ کرام نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ ہم آپ کے لیے بھی دعا کرنا چاہتے ہیں تو کیا طریقہ اختیار کریں ؟ آپ خاموش رہے۔ جب بار بار پوچھا تو پھر آپ نے کچھ کلمات ارشاد فرمائے اور کہا کہ میرے لیے اس طرح دعا کر لیا کرو۔ یہی کلمات درود ابراہیمی ہیں۔

درود ابراہیمی نماز کا لازمی حصہ نہیں ہے ۔ نماز اس کے بغیر بھی ہوجاتی ہے ۔ حتیٰ کہ تشہد بھی نماز کا لازمی حصہ نہیں ہے ۔ نماز کے لازمی اذکار سورۂ فاتحہ اور اس کے ساتھ قرآن ملاکر پڑھنا ہے۔ اور خفض ورفع پر 'اللّٰہ اکبر' کہنا، 'سمع اللّٰہ لمن حمدہ 'کہنا ' السلام علیکم ورحمۃ اللّٰہ ' کہنا ہے۔ باقی آپ کو اجازت ہے آپ اس میں جو دعا چاہیں کر سکتے ہیں ۔ (اگست ۲۰۰۴)

کفار پر غلبہ کی اہلیت

سوال: قرآن کے مطابق مومنوں پر کفار غالب نہیں آسکتے ، اس تناظر میں دیکھیں تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ مسلمان کافر اور کافر مسلمان ہو گئے ہیں ؟

جواب: قرآن نے ایسی کوئی بات نہیں کہی کہ مومنوں پر کفار غالب نہیں آسکتے ۔ غلبہ اور مغلوبیت کے لیے اللہ تعالیٰ کے کچھقوانین ہیں۔ انھی کے مطابق غلبہ ہوتا ہے اور انھی کے مطابق مغلوبیت ہوتی ہے ۔ ایسا ہرگز نہیں ہے کہ ایک آدمی مومن ہے تو وہ ہر حال میں غلبہ پالے گا ۔ ایمان اور عمل صالح میں صحابۂ کرام سے بڑھ کر کون سی جماعت ہو سکتی ہے، مگر اس کو بھی احد میں شکست سے دوچار ہونا پڑا۔ غلبے کے اسباب میں سے ایک نہایت اہم سبب مادی قوت ہے۔ قرآن میں صحابۂ کرام کے بارے میں یہ بتایا گیا ہے کہ ان کے لیے غلبے کی بشارت صرف اس صورت میں ہے ، جبکہ دشمن کے مقابلے میں ان کی مادی طاقت کم سے کم آدھی ہو ۔ اب تھوڑی دیر کے لیے رک کر اپنا بھی جائزہ لے لیجیے کہ ہم مسلمان اس دور میں کیا کر رہے ہیں ۔ ایک غلیل پکڑتے ہیں اور اس کے بعد کہتے ہیں کہ امریکہ کو فتح کرنے کے لیے نکل کھڑے ہوئے ہیں۔ اور نتیجہ کیا نکلا ، پچھلے دوسوسال کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیجیے، پے درپے شکست اور پے درپے مایوسی ہے ، ٹیپو سلطان کے ساتھ کیا ہوا، مہدی سوڈانی کے ساتھ کیا ہوا، انور پاشا کے ساتھ کیا ہوا، ملا عمر کے ساتھ کیا ہوا، اسامہ بن لادن کے ساتھ کیا ہوا ؟ اب ہم نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ کامیابی کے لیے بس اتنا کافی ہے کہ آپ کے ہاتھ میں تسبیح اور منہ پر ڈاڑھی ہے ، اس کے بعد غلبہ آپ کے لیے لکھا ہوا ہے ۔ یہ جان لیجیے کہ ایسا نہیں ہے، ہرگز نہیں ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں یہ بات بالکل واضح کر دی ہے کہ جب آپ حق پر ہوں گے تو اللہ آپ کی مدد کرے گا ، لیکن مادی اسباب یعنی طاقت کا توازن کیا ہونا چاہیے ، اس کا اندازہ آپ اس سے لگا لیجیے کہ صحابہ کے لیے توازن کا تناسب نصف قرار دیا گیا ہے ۔ اس کے بعد پھر اپنے طرز عمل کا بھی جائزہ لے لیجیے اور آپ حق پر کتنے ہیں، اس کا بھی جائزہ لینا چاہیے۔ (اگست ۲۰۰۴)