یسئلون


[جناب جاوید احمد صاحب غامدی اپنے ہفتہ وار درس قرآن وحدیث کے بعد شرکا کے سوالوں کے

جواب دیتے ہیں۔ ان میں سے چند منتخب سوال وجواب تحریر میں منتقل کر کے پیش کیے جا رہے ہیں۔ ]

قرآن کا فہم آسان یا مشکل

سوال : اللہ تعالیٰ نے سورۂ قمر کی آیت ۳۲ میں قرآن مجید کے بارے میں ارشاد فرمایا ہے کہ 'وَلَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّکْرِ فَہَلْ مِنْ مُّدَّکِرٍ' (ہم نے اس قرآن کو نصیحت کے لیے آسان بنا دیاہے اب ہے کوئی نصیحت قبول کرنے والا)۔ جب یہ قرآن آسان ہے تو پھر وہ کیا مشکلات ہیں جن کو حل کرتے ہوئے مفسرین اور قرآن کے ماہرین نے ایک ایک سورہ پر ہزاروں صفحات لکھ دیے ہیں؟

جواب: قرآن مجید کے فہم کے دو پہلو ہیں۔ ایک پہلو نصیحت کا ہے۔ اس اعتبار سے اس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ یہ دنیا کی آسان ترین کتاب ہے ۔ اس کا اگر اچھا ترجمہ ہی پڑھا جائے تو جس بنیادی چیز کی یہ یاددہانی کرانا چاہتی ہے، اسے یہ ہر پہلو سے واضح کر دیتی ہے۔ وہ بنیادی چیز یہ ہے کہ خدا ایک ہے، وہی عبادت کے لائق ہے اور انسانوں کو ایک دن اس کے حضور میں پیش ہونا ہے ۔ آپ قرآن کو جہاں سے کھولیے، وہ یہ بات بیان کر رہا ہے۔ چنانچہ یہ بالکل بجا ہے کہ نصیحت اور یاددہانی حاصل کرنے کے لیے قرآن دنیا کی آسان ترین کتاب ہے۔ تاہم، اس ضمن میں واضح رہنا چاہیے کہ 'یسرنا' کا صحیح مفہوم ''آسان بنا دینا '' نہیں ، بلکہ ''موزوں بنا دینا''ہے ۔ یعنی ہم نے اس قرآن کو نصیحت حاصل کرنے کے لیے نہایت موزوں بنا دیا ہے اور ظاہر ہے کہ موزونیت اس بات کا بھی تقاضا کرتی ہے کہ اسے سمجھنے میں آدمی کو کوئی دشواری پیش نہ آئے ، بلکہ وہ آسانی کے ساتھ اس کے مدعا تک پہنچ جائے۔

قرآن مجید کے فہم کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ یہ علماے اولین اور متاخرین کے لیے علمی اعتبار سے ہمیشہ محل تدبر رہا ہے۔ یہ ام القریٰ کی عربی معلی میں نازل ہوا ہے۔ اس نے اپنے آپ کو زبان وادب اور فصاحت وبلاغت کا معجزہ قرار دیا اور قریش کو یہ چیلنج کیا کہ وہ اس کے مانند کوئی ایک سورہ ہی پیش کردیں۔ یہ ایک منفرد اسلوب کا حامل ہے جسے نہ نثر کہا جاسکتا ہے اور نہ نظم۔ اس کا ایک پس منظر اور ایک پیش منظر ہے۔ اس میں خطاب لحظہ بہ لحظہ بدلتا رہتا ہے۔ چنانچہ علما کو یہ طے کرنا پڑتا ہے کہ کسی مقام پر مخاطب پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، عام انسان ہیں، قریش مکہ ہیں یا یہودو نصاریٰ ہیں۔ چنانچہ اگر اس نوعیت کا فہم پیش نظر ہو تو یہ دنیا کی مشکل ترین کتاب ہے۔ مجھے خود زندگی میں بارہا اس کا تجربہ ہوا ہے کہ قرآن مجید کے ایک حصے کی برسوں تلاوت کی ہے ، اس کو بار بار پڑھا ہے، وہ یاد بھی ہے ، لیکن جب کوئی خاص مسئلہ پیش آیا اور اس پر غور کرنا شروع کیا تو اس کے ایسے پہلو نمایاں ہونے شروع ہو گئے جن کی طرف پہلے کبھی توجہ نہیں تھی۔ یہ قرآن مجید کا خاص کمال ہے ۔ اس لحاظ سے اہل علم کبھی اس سے سیر نہیں ہوتے۔

چنانچہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ عام آدمی اسے نصیحت اور یاددہانی کے لیے سمجھنا چاہے تو کوئی مشکل نہیں ہے اور اگر امت کی اعلیٰ ذہانتیں اس کو اپنا موضوع بنائیں اور اس میں ہزاروں لاکھوں لوگ بھی کھپ جائیں تو کبھی و ہ اس کو یہ خیال کر کے ایک طرف نہیں رکھ سکتیکہ اب اسے ہر لحاظ سے سمجھ لیا گیا ہے ۔ (جون ۲۰۰۴)

قرآن کے ہر حرف کی تلاوت پر دس نیکیاں

سوال : ہمارے ہاں یہ تصور پایا جاتا ہے کہ قرآن مجید کو سمجھے بغیر پڑھنے سے بھی اجر و ثواب ملتا ہے۔ اس کے استدلال میں یہ حدیث پیش کی جاتی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگر کوئی شخص 'الم' پڑھتا ہے تو اس کے چونکہ تین حروف ہیں، اس لیے اسے تیس نیکیاں ملیں گی ۔ کیا قرآن کو بے سوچے سمجھے پڑھنے سے ثواب ملتا ہے اور اگر نہیں ملتا تو پھر اس حدیث کی کیا وضاحت کی جا سکتی ہے ؟

جواب : حدیث میں یہ بات ہرگز نہیں کہی گئی کہ سوچے سمجھے بغیر قرآن پڑھنے کا اجر ملتا ہے ۔ حدیث میں کہا گیا ہے کہ آدمی جب قرآن مجید پڑھتا ہے تو اس کے ہر حرف پر اس کو نیکی ملتی ہے ۔ یعنی قرآن مجید کی آیت کا جو مدعا ہے، اس کو سامنے رکھ کر اس کی تلاوت کی جائے۔ یہ مطلب نہیں ہے کہ آپ بے سوچے سمجھے کہیں کہ الف تو آپ کو دس نیکیاں مل جائیں گی ۔ قرآن مجید تو علم و عقل کو اپیل کرتا اور فکروعمل کی راہوں کو متعین کرتا ہے۔ بے سوچے سمجھے پڑھنے سے یہ نتائج حاصل نہیں ہوسکتے۔ (جون ۲۰۰۴)

قبولیت حدیث کی شرط

سوال: علامہ خطیب بغدادی کی تصنیف ''الکفایہ فی علم الروایہ'' فن حدیث کی امہات کتب میں سے ہے ۔ اس میں انھوں نے قبولیت حدیث کے شرائط کے ضمن میں پہلی شرط یہ بیان کی ہے کہ حدیث عقل و فطرت کی کسوٹی پر پوری اترنی چاہیے۔ اس کے بعد کہا ہے کہ وہ قرآن کے خلاف نہ ہو ، وہ سنت کے خلاف نہ ہو۔ میرا سوال یہ ہے کہ حدیث کا عقلی طور پر قابل قبول ہونا قرآن وسنت پرمقدم کیوں کیا گیا ہے؟

جواب: علامہ خطیب بغدادی نے اس بات کو دو جگہ بیان کیا ہے ۔ ایک جگہ اسی طرح سے بیان کیا اور دوسری جگہ قرآن کو مقدم کر کے بیان کیا ہے ۔ یعنی دونوں طرح کے بیانات ہیں ۔ تاہم جہاں عقل کو مقدم کرکے بیان کیا ہے وہاں اس کی وجہ یہ ہے کہ خود قرآن مجید کی دعوت جس چیز پر مبنی ہے، وہ علم وعقل ہی ہے۔ علامہ خطیب بغدادی نے اگر کسی موقعے پر اس چیز کو مقدم کردیا ہے تو غلط نہیں کیا۔ اس لیے کہ پہلا فیصلہ تو عقل نے کرنا ہے کہ کوئی چیز فی الواقع علم وعقل کے مسلمات پر پوری اترتی ہے یا نہیں ۔

البتہ، ایک چیز واضح رہنی چاہیے کہ ایسا نہیں کہنا چاہیے کہ حدیث عقل کے خلاف نہ ہو، بلکہ اصل میں یہ کہنا چاہیے کہ علم وعقل کے مسلمات کے خلاف نہ ہو۔ ورنہ اس صورت میں نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ایک آدمی بالکل عامیانہ طریقے سے دوچار عقلی مقدمات قائم کرتا ہے اور کہتا ہے یہ چیز عقل کے خلاف ہے ۔ علم وعقل کے مسلمات سے مراد یہ ہے کہ وہ بات علمی لحاظ سے بھی مسلمہ ہو اور عقلی لحاظ سے بھی۔ اگر اس کے خلاف کوئی روایت ہے تو پھر اس کو قبول نہیں کیا جانا چاہیے ۔ (جون ۲۰۰۴)

شادی کے وقت سیدہ عائشہ کی عمر

سوال: حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے شادی کے وقت سیدہ عائشہ کی عمر کیا تھی ؟ کیا آپ ۶یا۹ سال کی تھیں جیسا کہ روایتوں میں بیان ہوا ہے؟

جواب: عربی زبان میں اعداد کو بولنے کا ایک الگ طریقہ ہے جو ہماری اردو میں اس طرح معروف نہیں ہے ۔ مثال کے طور پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شب قدر کے بارے میں یہ بیان کیا ہے کہ پچیسویں ،ستائیسویں یا انتیسویں تاریخ کو اس کے ہونے کا امکان ہے ۔ یہاں ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ آپ پچیس یا ستائیس کا عدد ارشاد فرماتے۔ لیکن آپ نے فرمایا ہے کہ چھٹی رات کے بعد ، ساتویں رات کے بعد ، نویں رات کے بعد ۔ اب ان تاریخوں کے ساتھ یہ چیز مقدر مان لی گئی ہے کہ بیس کا عدد تو بولا ہی جا رہا ہے ، جس سے مل کر یہ پچیس یا ستائیس یا انتیس تاریخ قرار پاتی ہے ۔

بالکل اسی اسلوب میں ایک موقع پر جب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنی عمر بیان کی تو سولہ کا چھ رہ گیا اور انیس کا نو رہ گیا ہے۔ اس سے لوگوں کو غلط فہمی ہوگئی اور عام شہرت بھی اسی بات کی ہوگئی ۔ موجودہ زمانے میں بعض محققین نے اس پر بڑا وقیع کام کیا ہے اور اس بات کو دلائل سے ثابت کیا ہے کہ جب سیدہ کی منگنی یا نکاح ہو ا تو اس وقت وہ قریباً سولہ سال کی تھیں اور جب رخصتی ہوئی تو ان کی عمر انیس سال کے قریب تھی۔ (جون ۲۰۰۴)

امام مہدی کا نزول

سوال: قرآن وحدیث میں کیا کہیں امام مہدی کے نزول کا ذکر ملتا ہے ؟

جواب: قرآن مجید میں نزول مہدی کے بارے میں اشارۃً بھی کوئی ذکر نہیں ہے ۔ اسی طرح صحیح حدیثیں بھی اس طرح کے تذکرے سے یک سر خالی ہیں۔ البتہ ، بعض دوسرے درجے کی ایسی روایات ملتی ہیں جن میں قیامت کے قریب اس طرح کی ایک شخصیت کے پیدا ہونے کا ذکر ملتا ہے ۔ لیکن ان میں بھی ایسی باتیں کہی گئی ہیں کہ جو نہ علمی لحاظ سے درست ہو سکتی ہیں اور نہ عقلی لحاظ سے۔ میرا رجحان اس معاملے میں یہ ہے کہ یہ روایتیں درحقیقت اگر کچھ تھیں بھی تو سیدنا عمر بن عبدالعزیز کے بارے میں تھیں ۔ ان کے زمانے کے لوگوں نے اس کا مصداق پالیا اور وہ تاریخ میں اپنا کام مکمل کر کے دنیا سے رخصت ہو گئے۔

اس موضوع پر بعض محققین نے بہت اچھی چیزیں اس زمانے میں لکھ دی ہیں ۔ ان کے مطالعہ سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ یہ محض ایک افسانہ ہے جو مسلمانوں کے مابین افسوس ہے کہ بہت رائج کر دیا گیا اور اب امت مسلمہ اسی انتظار میں بیٹھی ہے کہ کوئی امام مہدی آئے گا اور ایک مرتبہ پھر ان کی خلافت دنیا میں قائم کر دے گا۔ (جون ۲۰۰۴)

تمدنی معاملات میں پیغمبر کی اتباع

سوال: حدیث میں ہم اخلاقی اور تمدنی ، دونوں طرح کے معاملات کا ذکر دیکھتے ہیں ۔ اخلاقی امور تو بلاشبہ ہمارے لیے قابل اتباع ہیں ، لیکن کیا تمدن کے بارے میں اتباع لازم ہے ؟ مزید یہ کہ اگر ہمارا تمدن انتہائی بگاڑ کا شکار ہو جائے تو کیا ہم دور نبوی کے تمدن کی پیروی کریں گے ؟

جواب: اللہ کے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات بالکل واضح کر دی تھی کہ میں دین دینے کے لیے آیا ہوں، تمھیں میری اتباع دین ہی کے معاملے میں کرنی ہے ، دنیا کے معاملات میں تم پر میری اتباع ہرگز لازم نہیں ہے۔

جہاں تک تمدن میں بگاڑ کا تعلق ہے تو ہر تمدن میں بگاڑ بھی ہو گا اور اچھی روایتیں بھی رہیں گی ۔ اس کا کوئی امکان نہیں ہے کہ سارے کاسارا تمدن بگاڑ کا شکار ہوجائے ۔ اگر ایسا ہوگیا ہے تو میرا خیال ہے کہ اس وقت قیامت آجانی چاہیے ۔ چونکہ دنیا میں خیروشر کی کشمکش برپا ہے ، اس لیے دونوں طرح کی روایتیں باقی رہیں گی ۔ اس صورت حال میں کرنا یہ چاہیے کہ اپنے تمدن اور اپنی تہذیب میں سے اچھی باتیں اپنا لی جائیں اور بری باتوں کے بارے میں صرف نظر سے کام لیا جائے ۔

رہی بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تمدن کو اختیار کرنے کی تو اس میں اور موجودہ تمدن میں بہت زیادہ فرق واقع ہو چکا ہے۔ نہ اب وہ زندگی رہی ہے، نہ اس کے وہ لوازم رہے ہیں۔ تاہم قدیم تمدن کی کسی روایت سے اگر فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے تو ضرور اٹھانا چاہیے۔ (جون ۲۰۰۴)

تنخواہ پر زکوٰۃ

سوال: تنخواہ بھی آمدن کا ایک ذریعہ ہے۔ کیا ایسی آمدن پر زکوٰۃ ہے، اگر ہے تو پھر اس کا نصاب کیا ہے اور کس حساب سے دی جائے گی ؟

جواب: زکوٰۃ مال ، مواشی اور پیداوار ، تینوں پر ہے ۔ قدیم زمانے میں زرعی پیداوار ہوتی تھی ، لیکن بعد کے زمانوں میں پیداوار کی اور قسمیں سامنے آگئیں ۔ میرے نزدیک جو نئی صورتیں سامنے آئیں گی، ان کا ان تین میں سے کسی ایک کے ساتھ الحاق کیا جائے گا ۔ جیسے ہمارے فقہا کو یہ مسئلہ پیش آیا کہ بھینس چونکہ عرب میں نہیں پائی جاتی تھی ، اس لیے اس کی زکوٰۃ بیان نہیں ہوئی۔ جب یہ سوال سامنے آیا تو انھوں نے الحاق کا اصول اختیار کیا ۔ پہلے یہ دیکھا کہ بھینس کو کس کے ساتھ ملایا جائے ، اونٹ کے ساتھ ، بکری کے ساتھ یا گائے کے ساتھ ۔ انھوں نے گائے کے ساتھ ملا دیا۔ اسی طرح موجودہ دور میں صنعتی پیداوار کی جو نئی صورتیں ہیں، ان کے بارے میں میرا اجتہاد یہ ہے کہ ان کو زرعی پیداوار کے ساتھ ملا دینا چاہیے اور ان پر وہی اصول لاگو کرنا چاہیے جو زرعی پیداوار کی زکوٰۃ کے بارے میں بیان ہواہے ۔ وہ اصول یہ ہے کہ اگر محنت اور سرمایہ، دونوں کے ملنے سے پیداوار ہوتو اس پر پانچ فی صد زکوٰۃ ہوگی اور اگر ان میں سے کسی ایک سے ہو تو دس فی صد ہوگی۔

تنخواہوں کی آمدن کو میں مزروعات کے ساتھ ملحق کرتا ہوں اور اس لیے اس پر پیداوار کی زکوٰۃ عائد کرتا ہوں۔ یعنی میرے نزدیک اس پر زرعی پیداوار کی زکوٰۃ عائد ہونی چاہیے ۔ جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ اس کا نصاب کیا ہو گا تو یہ حکومت مقرر کرے گی، کیونکہ یہ اسٹیٹ کا معاملہ ہے ۔ موجودہ زمانے میں انکم ٹیکس کے معاملے میں جب تک کوئی حکومت اسلامی طریقے کے مطابق نصاب کا اظہار نہیں کر دیتی ،اس وقت تک حکومت نے جو نصاب مقرر کیا ہوا ہے ، میرے نزدیک اسی نصاب کو اختیار کر لینا چاہیے۔ (جون ۲۰۰۴)

زم زم کا معنیٰ

سوال: زم زم کا کیا معنیٰ ہے ؟

جواب : یہ قدیم زبان کا لفظ ہے ۔ اس کا متعین معنیٰ تو کسی کو معلوم نہیں ، البتہ اس کے بارے میں لوگوں نے قیاس کیا ہے کہ اس کا مطلب ''ٹھیر جا ، ٹھیر جا'' ہے ۔ لیکن یہ کوئی حتمی بات نہیں ہے۔ عربی زبان میں اس طرح کے بہت سے رباعی اسما ہیں جو ضروری نہیں ہے کہ زم زم کی طرح فعل امر کی شکل میں بیان ہوئے ہوں۔ اس لیے مشکل ہے کہ اس کے اشتقاق کے بارے میں کوئی رائے دی جاسکے ۔ اہل لغت نے جتنے معنی بیان کیے ہیں، یہ محض قیاسات ہیں۔ اس ضمن میں میرا خیال یہ ہے کہ مان لیجیے کہ جیسے زمین کا نام ارض ہے اور آسمان کا نام سماء ہے، اسی طرح اس چشمے کا نام زم زم ہے ۔ (جون ۲۰۰۴)