یسئلون


سوال: اگر اللہ ہربات کاعلم پہلے سے رکھتاہے ،جیساکہ یہ ہماراعقیدہ بھی ہے،تواس آیت میں علم کا کیا مطلب ہے: 'وَمَا جَعَلْنَا الْقِبْلَۃَ الَّتِیْ کُنْتَ عَلَیْھَآ اِلَّا لِنَعْلَمَ مَنْ یَّتَّبِعُ الرَّسُوْلَ مِمَّنْ یَّنْقَلِبُ عَلٰی عَقِبَیْہِ'؟* یہ الفاظ توہمیںیہ بتاتے ہیں کہ اللہ نے بیت المقدس کو قبلہ اس لیے مقررکیا تھا کہ وہ اس بات کا علم حاصل کرے کہ کون رسول کی پیروی کرتاہے اور کون الٹے پاؤں پھر جاتا ہے؟ مزید یہ کہ مولانا اصلاحی نے ''تدبر قرآن'' میں بیان کیاہے کہ ''علم'' کے معنی ممیز کر دینا، چھانٹ کر الگ کر دینا اور ظاہر کر دینا بھی ہیں، ان کی اس بات کی بھی کچھ وضاحت درکار ہے۔ (کاشف اقبال)

جواب: ہم جانتے ہیں کہ عربی زبان میں بھی الفاظ اپنے اصل معنی ہی میں استعمال نہیں ہوتے،بلکہ یہ اپنے نتائج اور لوازم کے لحاظ سے بھی استعمال ہوجاتے ہیں۔ لفظ ''علم'' کا معاملہ بھی یہی ہے۔ اس کا اصل معنی تو جاننا ہے، مگر یہ اپنے نتیجے کے لحاظ سے ممیزکردینے کے معنی میں بھی آجاتاہے،اس لیے کہ جان لینے کاایک لازمی نتیجہ یہ بھی ہے کہ اس سے دو مختلف چیزوں کے درمیان میں فرق کو جانا جا سکتا، یعنی ان کو باہم ممیز کیا جا سکتا ہے۔ اب ظاہر ہے جب کوئی چیز ممیز ہو جائے گی، وہ دوسری کی نسبت زیادہ نمایاں بھی ہو جائے گی، اور بعض صورتوں میں یہ فرق اس قدر زیادہ ہو گا کہ وہ گویا دوسری سے بالکل الگ ہو گئی۔ یہیں سے اس لفظ ''علم'' کے اندر ظاہر کرنے اور الگ الگ کرنے کا مفہوم بھی پیدا ہوا۔

باقی جہاں تک آیت کامعاملہ ہے تو اس میں ''علم'' کا لفظ مذکورہ بالا کسی معنی میں بھی استعمال نہیں ہوا۔ یہاں یہ لفظ آزمانے اور امتحان کرنے کے لیے آیا ہے۔ یہ اس لفظ کا ایسا ہی استعمال ہے، جیسے ہم کچھ طالب علموں کی ذہنی استعداد کو پرکھنے کے لیے کسی مقابلے کا انعقاد کروانا چاہیں اور اردو زبان میں کہیں کہ لو بھئی، ہم ابھی جان لیتے ہیں کہ تم میں سے ذہانت میں کون دوسرے سے بڑھ کر ہے۔ یہاں ''جان لینا'' ظاہر ہے، جان لینے کے مفہوم میں نہیں، بلکہ پرکھنے اور آزمانے کے مفہوم میں ہے اور اس کی دلیل خود اس بات کا سیاق ہے۔ مذکورہ آیت میں بھی ''علم'' کا لفظ بالکل اسی مفہوم میں استعمال ہوا ہے۔

سوال: قرآن مجید اگر واقعتا فصیح اوربلیغ زبان میں نازل ہواہے تو کیا بات ہے کہ اس میں بعض جگہوں پر یوں محسوس ہوتاہے کہ نحو کے قاعدوں سے بے اعتنائی اورانحراف ہو گیا ہے، جیسا کہ یہ آیت: 'اِنْ ھٰذٰنِ لَسٰحِرٰنِ'۔** اس میں 'ھٰذٰنِ' کو 'اِنْ' کی وجہ سے نصبی حالت میں ہونا چاہیے تھا، مگر ہم دیکھتے ہیں کہ ایسا نہیں ہے؟ (کاشف اقبال)

جواب: اس سلسلے میں پہلی بات تو یہ سامنے رہنی چاہیے کہ زبان اپنی ابتدا میں نحو کے قاعدوں پرتخلیق نہیں ہوتی، بلکہ یہ زبان ہی ہوتی ہے کہ جس سے بعض ضرورتوں کے پیش نظراس طرح کے علوم اخذکیے جاتے ہیں۔علم نحوکے مقابلے میں اگر قرآن کی قدامت کالحاظ رہے تویہ بات طے ہوجاتی ہے کہ اس کی زبان بھی ان قاعدوں کواصول مان کر مرتب نہیں کی گئی، بلکہ اس کے برخلاف ہوایہ کہ جب ان قاعدوں کی تدوین کاکام باقاعدہ طورپرشروع کیا گیا تو اس کے ماہرین نے قرآن مجید کو عربی زبان کے ایک مستند ماخذ کی حیثیت دی اور اس سے بہت کچھ اخذواستفادہ بھی کیا۔ چنانچہ کسی شخص کا محض ان قواعدکی بنیادپر قرآن جیسی کتاب اوراس کی زبان پرسوال اٹھادینایاکسی درجے میں اعتراض کر دینا، کوئی علمی طریقہ نہیں ہے۔اس کے بجاے صحیح طریقہ یہ ہے کہ اگرکہیں اس قسم کاکوئی اختلاف نظر آئے تو اسے ایک مستقل قاعدہ قراردے کر یاپھر ایک لازمی استثناکی حیثیت سے نحومیں شامل کرلیاجائے۔دوسری بات یہ ہے کہ ہرزبان کو اس کے اپنے زمانے میں رکھ کرپڑھااورسمجھاجاتاہے، اس لیے کہ یہ ہرآن تبدیل ہوتی اوراپنی صورت گری میں بہت سے اصولی اورفروعی اثرات کو قبول کرتی چلی جاتی ہے۔قرآن ایک خاص زمانے میں نازل ہوا ہے، اس لیے اس کی زبان کو بھی اس کے اپنے زمانے میں رکھ کر پڑھنا اور سمجھنا چاہیے۔ہم جانتے ہیں کہ جب یہ کلام اپنے وقت کے ماہرنقادوں کے سامنے پیش کیا گیا تو انھوں نے اس کے محاسن کی حددرجہ تحسین تو کی، مگرایک کلام کی حیثیت سے کبھی اس پرکوئی تنقیدنہ کی، حتیٰ کہ اس کے مخالفین اس کی دعوت پرہزارہااعتراضات کرتے رہے، مگر یہ حقیقت ہے کہ وہ اس کی زبان پر کوئی اعتراض کرنے کی جرأت نہ کر سکے۔ یہ سب اس بات کی دلیل تھا کہ یہ قرآن اپنے وقت کی معیاری زبان میں اترا اوراس میں کوئی چیزایسی نہیں تھی کہ جسے زبان کی غلطی قراردیاجاسکتا۔

بہرحال، مذکورہ آیت کے اعراب کے بارے میں واضح رہے کہ ایسا نہیں ہے کہ اہل نحو ان سے واقف ہی نہ ہوں، بلکہ یہ اعراب ان کے ہاں ایک معروف قاعدے کے عین مطابق ہیں۔ 'اِنْ ھٰذٰنِ لَسٰحِرٰنِ'۔ میں موجود 'اِنْ' کو وہ اس طرح بیان کرتے ہیں کہ یہ اصل میں 'إن المخففۃ من الثقیلۃ' ہے۔ اس کی علامت 'سٰحِرٰنِ' پر آجانے والا حرفِ لام ہے اورعام طور پریہ بات طے ہے کہ اس صورت میں یہ کوئی عمل نہیں کرتا، چنانچہ یہاں 'ھٰذٰنِ' ہی آنا چاہیے نہ کہ 'ھٰذَیْنِ'۔ قرآن مجید میں اس کی اوربھی کئی مثالیں موجود ہیں، جیسے 'وَاِنْ کُلُّ ذٰلِکَ لَمَّا مَتَاعُ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا'۔***

_____

* البقرہ ۲: ۱۴۳۔

** طٰہٰ ۲۰: ۶۳۔

*** الزخرف ۴۳: ۳۵۔

____________