زاہد حسین: برادر منفرد


میرے بھائی زاہد اللہ کے حکم سے بروز عید [1]پونے دس بجے داعی اجل کو لبیک کہتے ہوئے دنیا سے رخصت ہوگئے۔ان کی اچانک موت ہمارے لیے سانحہ سے کم نہیں ، لیکن ان کی خوے دیرینہ یہی تھی کہ پنج وقتہ داعی کے بلاوے پر آؤ دیکھا نہ تاؤ چل پڑتے تھے۔اس معاملے میں نہ بارش نہ پالا،نہ کھانا نہ پینا ، کوئی چیز رکاوٹ نہیں تھی۔عید کے روز بھی انھوں نے ایسا ہی کیا کہ ادھر بلاوا آیا، ادھر چل دیے ، ہم غالب کی طرح یہ بھی نہیں کہہ سکتے تھے کہ:

تم کونسے تھے ایسے کھرے داد و ستد کے

کرتا ملکالموت تقاضا کوئی دن اور[2]

ہر اچانک موت پرلواحقین کو تادیر یقین نہیں آتا، ہم انھیں سپرد خاک کرکے بھی گمان رکھتے ہیں کہ ابھی وہ مسجد کے بلاوے پر قمیص کا دامن سیدھا کرتے ہوئے چل پڑیں گے۔ہمارے دیگر خاندانی اوصاف کے علاوہ ، دو اوصا ف میں زاہد ہم سب سے بڑھ کر تھے: خود داری جو حد سے متجاوز تھی، اور دوسرے اپنے درست ہونے کا یقین۔ پہلے وصف کے حد سے متجاوز ہونے کا مطلب یہ ہے کہ آپ کسی کا یہ احسان بھی نہ لیں کہ مجھے تکلیف ہے ، ہسپتال لے چلو، یہ تعاون لینا اس خود داری کے خلاف ہوتا تھا۔ دوسرے وصف کا کمال یہ ہے کہ میرا ہر اقدام درست ہے،حد یہ کہ میرے تمام گمان بھی سوفی صد درست ہیں۔یہ چیز انسان کو دوسرے کا موقف سمجھنے اورقبول کرنےمیں حارج ہوتی ہے۔

زاہدنوعمری ہی سے حاضر دماغ، چہل گو، لطیفہ باز، مگر بے داغ کردار کے مالک تھے۔ استاذ گرامی جاوید احمد غامدی کی ان سے شروع ہی سے بے تکلفانہ دوستی تھی، استاذ نے ان کا نام سیوطی[3] رکھ چھوڑا تھا۔زاہد نام سے کبھی نہیں پکارا، سیوطی کہہ کر ہی بلاتے تھے۔ہم سے زاہد کی عدم موجود گی میں حال بھی پوچھتے تو اسی نام سے۔ ہم سب بھائیوں کے مقابلے میں زاہد ہی ان سے بے تکلف تھے، اب خالد اور کسی حد تک امجد بھی، بے تکلف ہیں، لیکن زاہد کے جیسے نہیں۔ طالب محسن، میں، عابد اور شجاع غامدی صاحب کے ساتھ از روے طبع زیادہ بے تکلف نہیں ہیں۔

ہمارے والد مرحوم پاکپتن میں اپنے پیر صاحب کی وجہ سے مقیم تھے۔ ہمارا گھر ریلوے روڈ سے پیر قریاں کو جانے والی سڑک پر تھا۔ پیر قریاں،غالباً ''پیر قریہ'' کا پنجابی تلفظ ہے، یعنی پیر کا نگر یا بستی۔والد صاحب اپنی کمائی کا بڑا حصہ پیر صاحب اور ان کی اولاد پر خرچ کرتے تھے۔ہمارا اندازہ ہے کہ کمائی کا ساٹھ ستر فی صد تک ان کو دے آتے تھے۔اس وجہ سے ہمارے گھر میں پیرصاحب اور ان کے اہل خانہ کے لیے ایک طرح کا نفرت پر مبنی غصہ موجود تھا۔ پیر قریاں کی مسجد میں بچے اور بچیاں ناظرہ قرآن کی تعلیم پاتے تھے، اس وقت کے قاری صاحب نے کوئی نازیبا حرکت کردی، پورے پاکپتن میں ہنگامہ سا برپا ہوگیا۔پیر صاحب کے لیے بھی باعث شرمندگی تھا کہ وہ ان کا مرید بھی تھا اور مقرر کردہ امام بھی۔اس کو مسجد کی امامت سے ہٹا دیا گیا۔بچیوں کے لیے فیصلہ ہوا کہ ان کو اب مسجد نہیں بھیجا جائے گا، بلکہ پیر صاحب کے مریدوں کی بیویاں یہ ذمہ داری نبھائیں گی۔چنانچہ پیر صاحب نے خواتین کا امتحان لیا تو والدہ مرحومہ کے بقول صرف تین خواتین منتخب ہوئیں، جن میں میری والدہ بھی شامل تھیں۔

ان دنوں قرآن کے نسخے گھروں میں عام نہیں ہوتے تھے۔ہمارے گھر میں تھا ، لیکن بس ایک ہی نسخہ تھا۔والدہ نے دوسرے تیسرے دن پیر صاحب کے پوچھنے پر بتایا کہ ہاں بچیاں قرآن پڑھ رہی ہیں، لیکن ان کو مشکل پیش آرہی ہے ،اس لیے کہ ان کے پاس قرآن کا ایک ہی نسخہ ہے ۔اگرطالبات کے سامنے سیدھارکھتی ہوں تو میرے سامنے الٹا ہوتا ہے، جس سے مجھے پڑھانے میں تنگی ہوتی ہے اور غلط پڑھنے کا امکان رہتا ہے۔ پیرصاحب نے اپنا زیر مطالعہ قرآن کا نسخہ والدہ کو دیا کہ یہ اپنے سامنے رکھ لیا کریں اور دوسرا طالبات کے سامنے۔ والدہ بتاتی ہیں کہ میں وہ نسخہ لے کر گھر آگئی، جس کی وجہ سے بہ آسانی پڑھانے لگی۔ یہ نسخہ میں نے دیکھا ہوا ہے، بڑے سائز کا مترجم قرآن ، جس میں آیتوں کے نمبر نہیں لگے ہوئے تھے، صرف دائروں کی صورت میں آیت کے نشان تھے۔اس پر شنیل(velvet) کا غلاف ہوتا تھا، جسے جُزدان کہتے تھے۔یہ جزدان شہید ہونے پر تبدیل کرلیا جاتا تھا، مگر پھینکا نہیں جاتا تھا، بعض اوقات بوسیدہ جزدان اتارے بغیر نیا اسی پر چڑھا دیا جاتا تھا۔اس نسخے میں احمد رضا خان بریلوی صاحب کا ترجمہ تھا۔

والدہ کہتی ہیں کہ ایک دن میری توجہ ہوئی کہ یہ قرآن تو مترجم ہے، لہٰذا میں نے ترجمہ پڑھنا شروع کردیا۔ ترجمہ پڑھنے سے یہ ہوا کہ ان کا ذہن تبدیل ہونے لگا۔ انھوں نے اپنے پیر صاحب سےایک دن کہا کہ جو باتیں آپ کرتے ہیں، وہ تو قرآن میں نہیں، بلکہ قرآن تو ان کے خلاف ہے ۔یوں والدہ پیری فقیری سے برگشتہ ہوئیں۔ اس عمل نے ہمارے گھر میں پیروں کے ''تقدس ''کو کم کردیا۔لہٰذا ، ہمارے دلوں میں جو نفرت اور غصہ تھا، اسے اس سے تقویت ملی۔ہمارے برعکس ، زاہد کے دل میں یہ نفرت عملی صورت اختیار کرگئی۔

مثلاً، ایک جون کی دوپہر کا واقعہ ہے کہ والدہ نے زاہد کے ہاتھ کچھ کھانے کی چیز پیر صاحب کے گھر بھیجی ، زاہد پیروں کے گھر گیا، وہ کھانا انھیں دیا اور واپسی پر ان کی ڈیوڑھی میں لگے مین سوئچ کو آف کرآیا۔انھوں نے کافی دیر یہی خیال کیا کہ بجلی بند ہے ۔پیر صاحب اور ان کے اہل خانہ دوپہر بھرگرمی کی تکلیف اٹھاتے رہے، عصر کی اذان سن کر انھیں خیال آیا کہ مسجد میں تو بجلی آرہی ہے،خرابی ہمارے گھر میں ہے۔ الیکٹریشن کو بلایا گیا تو پتا چلا کہ مین سوئچ بند ہے۔بچوں سے پوچھا، سب نے کہا کہ ہم نے تو بند نہیں کیا۔پوچھ گچھ کے بعد انھیں خیال آیا کہ ہونہ ہو یہ زاہد کا کیا دھرا ہے، کیونکہ دوپہر کو وہی آیا تھا۔ عصرسے کچھ بعد پیر صاحب کی بڑی بہو، جو ہماری والدہ سے بڑی تھیں، ہمارے گھر زاہد کی شکایت کرنے آئیں۔والدہ نے ان کے شایان شان مہمان نوازی کی، لیکن اسی دوران میں جب وہ زاہد کی شکایت کررہی تھیں، زاہد نے باہر کھیت سے باجرے کا سٹا لا کر ان کے پائنچے میں اٹکا دیا، انھیں محسوس ہوا کہ کوئی چیز ہے، انھوں نے شلوار کو دو تین بار جھٹکا، جس سے سٹا اوپر چڑھتا گیا، انھیں خیال ہوا کہ کوئی کیڑا ہے، مگر جب دیکھا تو سٹا تھا۔ان پر واضح تھا کہ یہ کس کی شرارت ہے!وہ غم و غصہ اور شرارت کے اہتزاز، دونوں میں لپٹی سواے شکایت کہ کچھ نہ کرسکیں اور والدہ کی بھی یہی حالت تھی۔

ہمارے گھر میں مرغیاں ہوتی تھیں، جنھیں اگر پکانے کا ارادہ ہو تومولوی صاحب سے ذبح کرانا پڑتا تھا۔وہاں ایک مولوی صاحب تھے، جو از راہ خدمت چھری پھیرنے کا کام کردیتے تھے۔والدہ نے ایک دفعہ مرغا زاہد کو دیا کہ ذبح کرا لائے، مولوی صاحب نے شرارت سے کہا کہ مرغ کے پائے کس کو کھلاؤ گے؟ زاہد نے کہا کسی کو نہیں۔ مولوی صاحب نے کہا: ہمیں بھی نہیں کھلاؤ گے! بہرحال زاہد مرغ ذبح کراکے گھر لے آیا، والدہ نے پر وغیرہ اتار کر کاٹا ۔ زاہد سے کہا کہ پر وغیرہ کوڑے میں ڈال آؤ، لیکن زاہد نے مرغ کے پائے ہاتھ میں پکڑے اور چل دیے ، مولوی صاحب کا دروازہ کھٹکھٹایا اور پائے ان کو تھما دیے۔وہ بہت ناراض ہوئےاور شام کو آکر والد صاحب سے زاہد کی شکایت کی۔والد صاحب حیران تھے کہ اس نے کیا کرڈالا ہے۔پوچھنے پر زاہد نے کہا: انھوں نے خود مانگے تھے۔ مولوی صاحب کیا کرتے، بس یہ کہہ سکے کہ میں نے تو مذاق کیا تھا۔

ہمارے نانا، صوفی تھے، اور طب کے ماہر تھے۔ادھرزاہد طباع تھے۔ اس لیے چہلیں خودتخلیق کیا کرتے تھے۔ ہماری ایک ممانی تھیں، جو تقریباً ہر روز والدہ سے ملنے آجاتیں او ر اپنے دکھڑے سناتی تھیں۔ ہم سب بچے ان سے کچھ تنگ بھی تھے کہ نہ صرف والدہ کو تنگ کرتیں، بلکہ ہمارے لیے بھی باعث زحمت بنتی تھیں، لیکن والدہ کا حکم تھا کہ کسی نے ان کے ادب احترام میں کمی نہیں کرنی۔انھیں ایک جسمانی عارضہ تھا ، جس کا تقریباً وہ ہر روز تذکرہ کرتیں۔تو زاہد نے نانا جان کی طب کے مطابق ایک دن انھیں نسخہ تجویز کیا۔وہ یہ تھا کہ ایک چھٹانک اڑتے کوے کی بیٹ، آدھ پاؤ سوتے بچے کی اجابت لے کر، سات دن تک چھاؤں میں سکھا لیں ، پاؤ خشخاش میں ملا کر پیس کر سفوف بنا لیں۔ روزانہ تین وقت دودھ کے ساتھ کالی مرچ کے برابر لیں۔ ایک ماہ تک مرض جاتا رہے گا۔ہماری ممانی اس قدر گاڑھے طبی بیان سے متاثر ہو کربولیں: مجھے لکھ دو، میں بھول نہ جاؤں!

یہی شرارتی زاہد، والدین کا عجیب فرماں برداربھی تھا۔ہمیں والدہ پڑھاتی تھیں۔وہ اچھی استاد تھیں، تمام مضامین کا ایک ایک سوال روزانہ ہم سے سنتی تھیں ۔اس معاملے میں ذرا سخت تھیں۔شاید زاہد پانچویں کا طالب علم تھا، جب کی یہ بات ہے، والدہ پڑھا رہی تھیں، زاہد نے ایک سوال نہیں سنایا تو انھوں نے سزا کے طور پر زاہد سے کہا کہ برآمدے کے ستون کے ساتھ کھڑے ہو کر سوال یاد کرو۔والدہ یہ کہہ کر اٹھ کر اندر گئیں، کمر سیدھا کرنے کو لیٹیں اور نہ جانے کب ان کی آنکھ لگ گئی۔وہ دوگھنٹے سوتی رہیں۔زاہد کے اوپر دھوپ آچکی تھی، لیکن وہ وہیں کھڑا رہا، جب والدہ کی آنکھ کھلی اور دیکھا تو بھاگی آئیں اور پیار سے زاہد کو ساتھ لگایا، چھاؤں میں لے گئیں اور ٹھنڈا پانی وغیرہ پلایا۔ہمیں سمجھاتے ہوئے وہ اس واقعے کو کئی دفعہ دہراتیں۔جوانی میں والدین کی یہی فرماں برداری خداکی فرماں برداری میں تبدیل ہوگئی۔لہٰذا، عبادت اور دیانت میں للہ فی اللہ پرہیزگار رہے۔

رشتہ دار ایک دوسرے کو باتیں کرتے ہی ہوتے ہیں۔لہٰذا، جب کوئی والدہ کو کوئی بات وغیرہ کرتا ، تو وہ ضرور بدلہ لینے چلے جاتے، بھلے بعد میں وہ بھی والدہ ہی کو بھگتنا پڑتا۔

والد صاحب کی وفات کے بعد ، انھوں نے چھوٹے بھائیوں کا بڑے بھائیوں کی طرح،بہت زیادہ خیال رکھا۔ طالب صاحب الگ ہو چکے تھے،مگر پھر بھی ہمت بھر مالی تعاون کرتے رہے، زاہد اور میں کماتے تھے۔ زاہد کل وقتی ملازم تھے، اور میں تعلیم کے ساتھ ساتھ پارٹ ٹائم کام کرتا تھا۔والدہ بہت بیمار رہنے لگی تھیں، لہٰذا سوچا گیا کہ شہر سے گھر بیچ کرکسی کھلے علاقے میں جایا جائے ۔ہم نےاپنا گھر بیچ کر لاہور کے مضافات میں زمین خرید کر گھر بنانا شروع کیا۔تعمیر کا یہ سب کام زاہد ہی نے اپنی نگرانی میں کرایا، ہمارا کردار بس معاونین ہی کا تھا۔

زاہد جوانی میں بہت خوش لباس، اور خوش اطوار تھے، لیکن کوئی پچھلے دس پندرہ برس سے ترک دنیا کا طرزحیات اپنا لیا تھا۔اسے طبیعت کا اقتضا کہیے یا متصوفانہ طرز حیات، ہر دو صورت میں نتائج ایک سے ہیں۔ہم جس سر زمین میں بستے ہیں، وہ تصوف کی جنم بھومی ہے، جہاں فقر ایک اکتسابی مقام بھی ہے اور خدا کی تقدیر بھی۔'الفقر فخري' کا نعرہ یہاں تفاخر کی حد تک قبولیت پائے ہوئے ہے۔ایک دفعہ میں بس اسٹاپ پر کھڑا تھا کہ میرے ایک جاننے والے ـــــ جن کے کئی جھگڑوں میں ، مجھے ''سیانے آدمی '' کا کردار ادا کرنا پڑا ـــــ کا دوست گاڑی میں آتے ہوئے ملا۔اس نے مجھے اتر کر گاڑی میں بٹھایا اور بٹھاتے ہی بولا: جو دوسروں کو بخشنے والے ہیں، سبحان اللہ وہ بے نیازی کی وجہ سے خودخالی ہاتھ ہوتے ہیں۔میں نے کہا: نہیں بھئی ، میرا اس فقر میں قصور تو ہو سکتا ہے، کمال کوئی بھی نہیں ہے۔اس نے اس پر بھی سر دھنا ،اور مزید گرویدگی کا اظہار کیا، اس گناہ گار کو لگا کہ وہ شخص مجھے بہت پہنچا ہوا بزرگ سمجھ رہا ہے، لہٰذا خاموشی اختیار کرنا پڑی۔ زاہد کے ہاں دین کا تصور تو وہی تھا، جو استاذ گرامی کا ہے۔لیکن ترک دنیا کی حد تک وہ متصوفانہ روش پر قائم تھے۔یہ روش انھیں میرے نانا اور والد صاحب سے ملی تھی۔آخری عمر میں ترک موالات بھی طبیعت میں در آئی تھی۔ زاہد اسی وصف کی بنا پر جلد اللہ کو پیارے ہوئے۔دل کے عارضے میں کچھ برس سے مبتلا تھے، مگر علاج معالجے کی ہماری تمام مساعی بے سود رہیں، بلکہ ایک عرصے تک ہم ان کے مرض سے آگاہ بھی نہیں تھے، کیونکہ وہ کسی کو بتاتے بھی نہیں تھے۔اس مرض سے پہلے بھی وہ یا ان کے بچے کسی وجہ سے دو تین دن ہسپتال میں رہ آتے ، ہمیں دنوں بعد کسی ملاقات میں پتا چلتا کہ وہ ہسپتال داخل رہے ہیں۔ان کے منفرد ہونے کے یہ تمام پہلو تھے۔ مرتے وقت بھی انھوں نے وہ دن چنا جس میں کم ہی لوگ مرا کرتے ہیں، یعنی عید کادن۔

دفتر سے آکر گھر میں ٹکے رہتے، کوئی دوستی، شغل وغیرہ نہیں تھا، البتہ شاعری کرتے تھے۔اس وقت ان کا ایک شعر یاد آرہا ہے، آپ دیکھ سکتے ہیں کہ اس میں بھی احسان کے زیر بار ہونے سے گریزکی خو جھلکتی ہے، گومضمون التفات کا ہے:

اپنی راتوں کو نہ کر برباد تو

میری خاطر دیرتک جاگا نہ کر

________

[1]۔ 12 ؍اگست 2019ء۔

[2]۔ داد و ستد: لین دین۔ ملک الموت: موت کا فرشتہ ۔

[3]۔ جلال الدین سیوطی امت کے اکابر اہل علم میں سے ہیں، جو اسیوط کے رہنے والے تھے ۔

____________