زمانۂ فترت


اللہ تعالیٰ نے انسانوں اور جنوں کی تخلیق کے ساتھ ہی اس کی خِلقت کی غایت اور مقصدیت کو بھی واضح فرما دیا کہ میں نے جن و انس کو اس لیے پیدا کیا ہے کہ وہ میری عبادت کریں۱؂۔ اللہ رب العٰلمین نے اس کے ساتھ ساتھ ان کی رہنمائی اور ہدایت کا بھی بندو بست فرمایا، اور اپنی برگزیدہ ہستیوں ـــــ انبیا و رسل ـــــ کو مبعوث فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نے یہ نظام نبوت و رسالت اس لیے قائم فرمایا کہ اس پیغام کو ماننے اور اس پر عمل پیرا ہونے والوں کو ابدی نجات سے نوازا جائے اور منکرین و متکبرین کو ابدی سزا سے دو چار کیا جائے۔

چنانچہ، یہ سنت الٰہی ہے کہ جب تک اللہ تعالیٰ کسی قوم میں اپنا کوئی رسول یا نبی مبعوث نہیں کرتا، اور اس کے ذریعے سے ان پر اتمام حجت نہیں فرما دیتا، وہ اسے کسی قسم کے عذاب میں مبتلا نہیں فرماتا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

وَ مَا کُنَّا مُعَذِّبِیْنَ حَتّٰی نَبْعَثَ رَسُوْلاً.(بنی اسرائیل ۱۷: ۱۵)

''ہم کبھی سزا نہیں دیتے، جب تک ایک رسول نہ بھیج دیں۔''

ایک دوسرے مقام میں ارشاد فرمایا ہے:

وَ مَا کَانَ رَبُّکَ مُہْلِکَ الْقُرٰی حَتّٰی یَبْعَثَ فِیْٓ اُمِّہَا رَسُوْلاً یَّتْلُوْا عَلَیْہِمْ اٰیٰتِنَا.(القصص ۲۸: ۵۹)

''اور تیرا رب بستیوں کا ہلاک کرنے والا نہیں بنتا، جب تک ان کی مرکزی بستی میں کوئی رسول نہ بھیج لے، جو ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سنا دے۔''

انبیا ورسل علیہم السلام کی بعثت کے حوالے سے وہ زمانے بھی آئے جن میں اللہ تعالیٰ نے اپنا کوئی نبی یا رسول نہیں بھیجا، اس کو 'عصر فترت' یا 'زمانۂ فترت' کہا جاتا ہے۔ لغت کے اعتبار سے 'فترت' کے معنی ''دو محدود زمانوں کا فاصلہ'' ہیں، جبکہ اصطلاح اسلام میں اس سے مراد وہ زمانہ ہے جو دو نبیوں یا رسولوں کے درمیان واقع ہوتا ہے۔

عصر فترت کے لوگ تین طرح کے ہیں:

اولاً، وہ لوگ جو اپنی ذاتی بصیرت کے ذریعے سے توحید پر ایمان لائے؛ ان میں سے بعض وہ لوگ ہیں جو کسی نبی کی شریعت میں داخل نہیں ہوئے۔ مثلاً قس بن ساعدہ اور زید بن عمرو بن نفیل، اور بعض وہ لوگ ہیں جو کسی نبی کی شریعت میں داخل ہوئے۔ مثلاً تبّع اور اس کی قوم۔

ثانیاً، وہ لوگ جنھوں نے دین فطری کو بدل دیا، شرک کی غلاظت سے آلودہ ہوئے، توحید کا انکار کر دیا اور اپنی طرف سے ہی حلال و حرام کے معیارات متعین کر لیے۔ مثلاً عمرو بن لحی؛ یہ وہ شخص ہے جس نے سب سے پہلے عرب میں بت پرستی کو رواج دیا۔

ثالثاً، وہ لوگ جنھوں نے نہ شرک کیا، نہ توحید کی معرفت حاصل کی، نہ کسی نبی کی شریعت میں داخل ہوئے اور نہ اپنی طرف سے اپنے لیے کوئی شریعت اختراع کی، بلکہ حسب سابق اپنی باقی ماندہ عمر غفلت میں گزاری اور عصر جاہلیت میں بھی وہ ایسے ہی رہے۔

قسم اول کے لوگوں، مثلاً زید بن عمرو بن نفیل کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تصریح فرمائی ہے کہ 'أنہ یبعث أمۃ واحدۃ' ۲؂ (وہ ایک امت کی حیثیت سے اٹھایا جائے گا)، جبکہ تبّع اور اس قبیل کے دیگر لوگوں کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے کہ جب تک وہ اسلام، جو کہ سابق ادیان کا ناسخ ہے، کو پا نہیں لیتے، وہ جس دین میں داخل ہوں گے، اسی میں شمار کیے جائیں گے، البتہ اگر وہ دین اسلام کو قبول نہیں کرتے توان کا معاملہ پھر کچھ اور ہو گا۳؂۔ قسم ثانی کے لوگوں کے بارے میں علی الاتفاق یہی راے ہے کہ وہ قابل عذاب ہوں گے، کیونکہ نبی کو جھٹلانے کے بعد ان کے پاس اپنے کفر کے بارے میں کسی قسم کا عذر نہیں ہو گا۔ جہاں تک قسم ثالث کا تعلق ہے، تو یہی لوگ حقیقت میں اہل فترت ہوں گے۔ علامہ سیوطی رحمہ اللہ نے ''مسالک الحنفا'' میں اس کی وضاحت اس طرح فرمائی ہے:

أما القسم الثالث و ہم أہل الفترۃ حقیقۃ وہم غیر معذَّبین للقطع.(۳۸)

''اور تیسری قسم کے لوگ جو حقیقت میں اہل فترت ہیں، انھیں قطعاً عذاب نہیں ہو گا۔''

خلاصۂ مبحث یہ ہے کہ وہ اہل فترت جن تک کسی نبی یا رسول کی دعوت توحید نہیں پہنچی اور انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرایا، ان کے بارے میں سنت الٰہی یہ ہے کہ وہ اتمام حجت کے بغیر قابل سزا نہیں ہوں گے۔۴؂

________

۱؂ الذّٰریٰت ۵۱: ۵۶۔

۲؂ المستدرک علی الصحیحین ، رقم ۵۸۵۱۔

۳؂ مسالک الحنفا، السیوطی۳۹۔

۴؂ یہ مضمون امام جلال الدین السیوطی کی کتاب ''مسالک الحنفاء'' سے اخذ و استفادے پر مبنی ہے۔

____________