زنا بالجبر، حنفی فقہ اور امام سرخسی


زنا بالجبر پر ہمارے جلیل القدر فقہا کے نقطۂ نظر پر ہم نے کئی طالب علمانہ سوالات اٹھائے تھے،اس کی توضیح میں کی گئی گفتگو میں معروف فقیہ اور عالم ابن عبدالبر کی معروف کتاب ''الاستذکار'' سے فقہا کا موقف بھی نقل کیا تھا ،وہ لکھتے ہیں:

وَقَدْ أَجْمَعَ الْعُلَمَاءُ عَلٰی أَنَّ عَلَی الْمُسْتَکْرِہِ الْمُغْتَصِبِ الْحَدَّ إِنْ شَہِدَتِ الْبَیِّنَۃُ عَلَیْہِ بِمَا یُوْجِبُ الْحَدَّ أَوْ أَقَرَّ بِذَلِکَ فَإِنْ لَمْ یَکُنْ فَعَلَیْہِ الْعُقُوْبَۃُ وَلَا عُقُوْبَۃَ عَلَیْہَا إِذَا صَحَّ أَنَّہُ اسْتَکْرَہَہَا وَغَلَبَہَا عَلٰی نَفْسِہَا وَذٰلِکَ یُعْلَمُ بِصُرَاخِہَا وَاسْتِغَاثَتِہَا وَصِیَاحِہَا وَإِنْ کَانَتْ بِکْرًا فِیْمَا یَظْہَرُ مِنْ دَمِہَا وَنَحْوِہَا مِمَّا یُفْصِحُ بِہِ أَمْرُہَا....(۷/ ۱۴۶)

''علما کا اس بات پر اتفاق ہے کہ زبردستی اور جبراً زنا کرنے والا موجب حد ہے،اگر اس پر گواہیاں پیش کر دی جائیں،وہ گواہیاں جو حد کو لازم کرتی ہیں۔یا پھر وہ آدمی خود اس کا اقرار کر لے۔اگر ایسا نہیں ہوتا (یعنی نہ گواہیاں پوری ہوتی ہیں نہ وہ اقرار کرتا ہے) تو اسے قید کیا جائے گا،البتہ اس خاتون کو قید نہیں کیا جائے گا، اگر یہ ثابت ہوجائے کہ اس خاتون کے ساتھ زبردستی کی گئی ہے۔اور یہ زبردستی اس کی چیخ و پکار اور مدد طلب کرنے کے قرائن سے جانی جا سکتی ہے،اور اگر وہ کنواری ہے تو اس زبردستی کے معاملے کو اس کے خون کے اثرات اور اس جیسے قرائن بھی واضح کر سکتے ہیں۔''

حنفی فقہ کے ایک فاضل محقق نے ہمارے ان دلائل سوالات کے جواب میں درج ذیل دو اہم باتیں فرمائی ہیں:

۱۔ فقہ حنفی میں زنا بالجبر کے ثبوت کے لیے چار گواہوں کی شرط نہیں ہے ۔

۲۔ فقہ حنفی زنا بالجبر کو زنا کے علاوہ ایک شنیع جرم تسلیم کرتی ہے اور اس کے لیے علیحدہ سزا بھی تجویز کرتی ہے ۔

یہ دو باتیں انھوں نے ان الفاظ میں پیش فرمائی ہیں:

''یہ بھی فقہاے کرام نے واضح کیا ہے کہ ''سیاسہ جرائم'' کا ثبوت صرف اقرار یا گواہوں سے نہیں ہوتا بلکہ اس کے لیے قرائن، حالات، سابقہ ریکارڈ اور دیگر ذرائع بھی قابلِ قبول ہیں بشرطیکہ اسلامی قانون کے عمومی قواعد کی روشنی میں قاضی انھیں کافی سمجھے۔ گویا یہاں بھی انھوں نے معاملہ قاضی کے اجتہاد اور صواب دید پر چھوڑا ہے۔''

وہ مزید فرماتے ہیں:

''زنا اگر اکراہ کے ساتھ ہو تو اس بحث میں فقہاے کرام یہ بھی واضح کرتے ہیں کہ یہ فعل محض زنا سے زیادہ شدید اور شنیع جرم ہے اور اسی لیے اس پر محض زنا کے احکام کا ہی نہیں بلکہ دیگر جرائم کے احکام کا بھی اطلاق ہوتا ہے ۔ امام سرخسی نے تصریح کی ہے: وجنایتہ إذا استکرہہا أغلظ من جنایتہ اذا طاوعتہ۔ (اس شخص کا جرم ، جب وہ عورت کو مجبور کردے، زیادہ سنگین ہے بہ نسبت اس صورت کے جب وہ اس کے ساتھ راضی ہو ۔''

فاضل محقق کے ان دو انکشافات کے بعد ہم طالب علم اب تک حنفی فقہ کے مصادر سے جو بات سمجھتے آرہے تھے، ان کی اصلاح کرنے اور اپنے جہل مرکب پر شرمندہ ہو کر فقہ حنفی کے سحر میں ایک بار پھر سے گرفتار ہوگئے تھے، اور اسی حالت ندامت میں امام سرخسی کی ''مبسوط'' کھول لی تاکہ حق کا سامنا براہ راست کر لیا جائے۔

فاضل محقق نے سرخسی کی جس گفتگو سے یہ عبارت (وجنایتہ إذا استکرہہا أغلظ من جنایتہ إذا طاوعتہ) نقل کر کے زنابالجبر پر فقہ اسلامی کا جو ڈاکٹرائن دریافت کیا تھا، وہ گفتگو یہاں سے شروع ہوتی ہے:

(قَالَ) وَإِذَا شَہِدَ الشُّہُوْدُ عَلٰی رَجُلٍ أَنَّہُ اسْتَکْرَہَ ہَذِہِ الْمَرْأَۃَ فَزَنٰی بِہَا حُدَّ الرَّجُلُ دُوْنَ الْمَرْأَۃِ؛ لِأَنََّ وُجُوْبَ الْحَدِّ لِلزَّجْرِ وَہِيَ مُنْزَجِرَۃٌ حِیْنَ أَبَتْ التَّمْکِیْنَ حَتََّی اسْتَکْرَہَہَا، وَلِأَنََّ الْإِکْرَاہَ مِنْ جِہَتِہَا یُعْتَبَرُ فِي نَفْيِ الْإِثْمِ عَنْہَا عَلَی مَا ذَکَرْنَا فِيْ کِتَابِ الْإِکْرَاہِ أَنَّ لَہَا أَنْ تُمَکِّنَ إذَا أُکْرِہَتْ بِوَعِیْدٍ مُتْلِفٍ، وَالْحَدُّ أَقْرَبُ إلَی السُّقُوْطِ مِنْ الْإِثْمِ فَإِذَا سَقَطَ الْإِثْمُ عَنْہَا فَالْحَدُّ أَوْلٰی، وَیُقَامُ الْحَدُّ عَلَی الرََّجُلِ؛ لِأَنََّ الزِّنَا التََّامََّ قَدْ ثَبَتَ عَلَیْہِ وَجِنَایَتُہُ إذَا اسْتَکْرَہَہَا أَغْلَظُ مِنْ جِنَایَتِہِ إذَا طَاوَعَتْہُ.(المبسوط ۹/ ۵۴)

''جب گواہ اس بات پرقائم ہو جائیں کہ اس مرد نے اس خاتون کو مجبور کر کے اس کے ساتھ واقعتا زنا کیا ہے تو اس مرد کو حد لگائی جائے گی، عورت کو نہیں لگائی جائے گی، اس لیے کہ مرد پر حد کا وجوب توبیخ کے لیے ہے اور یہ عورت تو ملامت اور سرزنش کر کے (زنا پر)قدرت دینے سے انکار کرنے والی تھی۔ یہاں تک کہ اس خاتون کو (انکار کے باوجود) اس مرد نے مجبور کر دیا۔اور یہ ''اکراہ'' اس خاتون کی طرف سے گناہ صادر ہونے کی بھی نفی کرتا ہے۔ جیسا کہ ہم کتاب اکراہ میں بتا چکے ہیں کہ اس عورت نے جب اس کو قدرت دی تو ہلاکت کی وعیدوں کے ساتھ (مجبوراً) دی۔لہٰذا اس خاتون سے جب گناہ ختم ہوگیا تو حد کو تو بطریق اولیٰ اس سے ختم ہوجانا چاہیے۔ اور بندے پر تو بہرکیف حد لگائی جائے گی، اس لیے کہ اس نے زنا کے عمل کو تکمیل تک پہنچایا ہے اور اس لیے حد لگائی جائے گی کہ اس شخص کا مجبورکر کے یہ کام کرنا زیادہ سنگین ہے،اس سے کہ وہ خاتون کو راضی کر کے کرتا۔''

ہم ایک بار پھر اپنے جہل مرکب کا اقرار کرکے یہ معصومانہ سوال کرتے ہیں،ممکن ہے، سرخسی کی ''مبسوط'' کا کوئی دوسرا قلمی نسخہ فاضل محقق کی گرفت میں ہو؛ ممکن ہے، ہماری عربی دانی نے ہمیں دھوکا دے دیا ہو؛ ممکن ہے، ہماری گستاخیوں کی وجہ سے سرخسی نے اپنی بات تک پہنچنے کے سب دروازے ہم پربند کر دیے ہوں، لیکن امید ہے کہ آپ کے ساتھ ایسا ہرگز نہیں ہوا ہوگا۔اگر نہیں ہوا تو پھر فقہ اور اصول فقہ کے ان ناقص طالب علموں کو بتائیں کہ امام صاحب کی عبارت سے جو دو باتیں دریافت کی گئی ہیں، وہ آخر کہاں بیان ہوئی ہیں۔جو باتیں یہاں اس عبارت میں بیان ہوئی ہیں، وہ تو اس سے بالکل مختلف ہیں۔

اگر امام صاحب کی پوری بات پڑھی جائے تو وہ تین باتیں بیان فرما رہے ہیں:

پہلی یہ کہ اس شخص پر جس نے زور زبردستی سے زنا کیا، اس کا یہ جرم ثابت ہونا،گواہوں کی گواہی پر موقوف ہے۔

یعنی زبردستی زنا کرنے کے اس جرم کو اسی طرح ثابت کیا جائے گا، جیسے زنا بالرضا کے جرم کو شہادتوں سے ثابت کیا جاتا ہے۔

دوسری بات یہ کہ اس جرم کے ثبوت کے بعد اسے جو سزا دی جائے گی، وہ وہی سزا ہے جو زنا کی عام حد ہے، یعنی سو کوڑے۔ گویا جو شہادت کا نصاب اوپر بیان کیا گیا، وہ زنا کی اسی سزا کا تھا جو قرآن مجید میں بیان ہوئی ہے۔ لہٰذا اب اس مرد کو سو کوڑوں کی حد لگائی جائے گی۔

تیسری یہ کہ امام صاحب کی مکمل گفتگو کے آخری جملے سے (وجنایتہ إذا استکرہہا أغلظ من جنایتہ إذا طاوعتہ) جو نظریہ برآمد کیا گیا ہے، وہ تو امام صاحب بیان ہی نہیں کر رہے۔امام صاحب تو یہ بیان کر رہے ہیں کہ اگرچہ وہ عورت اس پورے عمل میں رضامندی سے شامل نہیں ہوئی، لیکن چونکہ مرد شریک تھا اور اس نے زنا کیا، لہٰذا اسے تو حد بہرکیف لگنی ہی لگنی ہے۔ یہاں یہ کہاں کہا گیا ہے کہ حد کے علاوہ محض اکراہ کے سبب اب اس مرد کو اضافی سزا دی جائے گی ۔اور جو دی جائے وہ اس عبارت میں کہاں گم ہوگئی ہے؟

ریپ کے متاثرین پر فقہی احسانات کی گفتگو کا آغاز ''اگر زینب زندہ ہوتی'' سے ہوا تھا۔

جواب میں فاضل محقق نے زنا بالجبر کے حوالے سے فقہاے احناف کا کل تک یہ موقف بیان کیاتھا کہ زنا بالجبر فساد فی الارض ہے، سوال ہوا فساد فی الارض کی سزا تو قرآن میں بیان ہوئی ہے، اس پر کہا گیا کہ اب زنا بالجبر سیاسہ کے اصول کے تحت موت کی تعزیری سزا بن گیا ہے، پوچھا گیا کہ چار گواہوں کی شرط کے ساتھ؟ پھر حنفی فقہ سے چار گواہ غائب ہوگئے۔ جب دلائل سے انھیں دوبارہ دریافت کیا گیا تو زنا بالجبر پر چار گواہوں کو مان کر سو کوڑوں کی حد کے ساتھ اکراہ کی اضافی تعزیر بن گیا، یہ وہ آخری دعویٰ تھا جس کے ثبوت میں اما سرخسی کی عبارت کے چند الفاظ پیش کیے گئے تھے۔

ہمارا خیال ہے کہ فاضل محقق کو اس مقام پر فقہ حنفی کا یہ قرض بھی اتار کر ہمارے سوالات کا دو ٹوک جواب دے ہی دینا چاہیے کہ اس کے علاوہ بھی اگر فقہاے احناف کا کوئی موقف ہے تو وہ سامنے لے آئیں ممکن ہے، ہمارے ناقص مطالعے سے حقائق اوجھل رہ گئے ہوں اور ہاں اس کے بعد اپنے رشحات فکر فقہ حنفی کے اکابر علما کے سامنے بھی پیش فرما کر تصدیق کرلیں تاکہ ہمیں معلوم ہوجائے کہ حنفیت کے اس ارتقا کو آیا وہ تسلیم بھی کرتے ہیں یا نہیں۔

____________