ذوق تجسس


انسان جب پیدا ہوتا ہے تو اس کے لیے کائنات کی ہر چیز انوکھی ہی ہوتی ہے۔ وہ حیرت میں گھرا رہتا ہے کہ یہ کیسے جہاں اور کس بستی میں پہنچ گیا ہوں میں؟ اس کے بعد جب وہ گفتگو کرنا شروع کرتا ہے تو وہ اپنی حیرت کا اظہار مختلف طریقوں سے کر رہا ہوتا ہے۔ وہ جس چیز کو دیکھتا ہے، اس کے بارے میں پوچھنا شروع ہو جاتا ہے۔ وہ اسے چھونا چاہتاہے، وہ ٹٹول کر جائزہ لے رہا ہوتا ہے۔اس کے لیے یہ سب کائنات بڑی عجیب و غریب سی ہوتی ہے۔ کوئی پرندہ اڑتا ہوا دیکھے گا تو پوچھے گا: یہ کیا چیز ہے ؟یا گاڑی باہر سے گزر جائے اور ہارن بج جائے تو وہ تعجب میں ڈوب جاتا ہے۔ اسے معلوم نہیں ہوتا کہ یہ کیا ہے اور کیسے ہو رہا ہے؟ باہر نکلے گا تو چاند کو دیکھ کر پوچھے گا کہ یہ کیا چیز ہے؟ وہ ہر ہر چیز کے بارے میں ایک تجسس لیے ہوئے ہو گا۔ اس کی فطرت میں چیزوں کے جاننے کی تمنا انگڑائی لے رہی ہو گی۔ نظر آنے والی چیزوں سے بے خبری اسے بے چین کرے گی۔ اس کا چین تب بحال ہو گا، جب اسے اس نا معلوم کی معلومات حاصل ہو جائے۔ آپ موبائل چھوٹے بچے کے سامنے رکھ دیں اور اس کے تجسس کا بغور مشاہدہ کریں۔ آپ ملاحظہ کرتے جائیں کہ وہ کیسے اس موبائل میں گھسے گا، کس طرح الٹ پلٹ کر اس کو جاننا چاہے گا، کس طرح اس کو ٹٹول ٹٹول کروہ اس کو سمجھنا چاہے گا۔ کہیں کوئی پرندہ بول جائے تو اس کے اندر حیرت کا سمندر موجزن ہو جائے گا۔ وہ جاننا چاہے گا اور پوچھے گا کہ یہ حیرت ناک آواز کیا ہے؟ وہ چھپکلی کو دیکھے گا تو بڑا حیران ہو گا۔

انسان کی فطرت میں تجسس اور جاننے کی بے چینی کوٹ دی گئی ہے۔ کم لوگ ہیں جو اپنی اسی فطرت کی نگہبانی کر پاتے ہیں۔ چند لوگ اس فطری تجسس کو عمر بھر برقرار رکھتے ہیں اور جانتے جانتے بہت کچھ جان لیتے ہیں۔ لوگوں کی اکثریت سرسری سا جان کر اپنے تجسس کو دبا لیتے ہیں۔ وہ گردوپیش سے مانوس ہو کر اپنا تجسس ختم کر لیتے ہیں۔ اس تجسس کا خاتمہ اکثر اوقات بڑوں کے رویے کی وجہ سے ہو جاتاہے۔ بچہ جاننے کے لیے جب پوچھتا ہے تو یہ اس کے سوال کو سنجیدگی سے نہیں لیتے، یہ اسے بے توجہی سے ٹالنا چاہتے ہیں، تنگ آکر ڈانٹ پلا دیتے ہیں۔ یہ رویہ بچے کو کنفیوز کر دیتا ہے۔ وہ سوچنے لگتا ہے کہ اتنی حیرت ناک چیزوں کے بارے میں جاننے کے لیے اس کی مدد کیوں نہیں کی جا رہی؟ کیوں سوال پر اسے ڈانٹا جا رہا ہے؟ کیا اپنی جہالت دور کرنا جرم ہے کیا؟ اس طرح کش مکش سے دوچار بچے بالآخر اپنے تجسس اور جاننے کی خصلت کو دبانے کی کوشش کرتے ہیں اور اس طرح ان کے جاننے کا عمل جلد رک جاتا ہے۔ وہ عمر بھر بہت تھوڑا سا جان پاتے ہیں۔ وہ ساٹھ سال میں اتنا جان پائیں گے، جتنا کہ دس سال میں بھی بہ آسانی جانا جا سکتا ہے۔

بچپنے میں یہ جاننے کا عمل چیزوں کو چھونے، ٹٹولنے اور چھیڑنے کی صورت میں بھی ظہور کرتا ہے۔ ایسے میں چیزیں خراب بھی ہو جاتی اور کئی بار ٹوٹ بھی جاتی ہیں۔ بڑوں کی نظر نقصان پر جاتی ہے، جس کا انتقام وہ مار کر بھی لے لیتے ہیں۔ اس طرح بچے مسلسل اپنے تجسس کی سزا کاٹ رہے ہوتے ہیں۔ اس کش مکش سے گزر کر کم لوگ رہتے ہیں جو اپنے تجسس کو برقرار رکھنے میں کامیاب رہتے ہیں۔ ان کی جاننے کی خصلت انھیں جانتے رہنے پر مجبور رکھتی ہے۔ وہی بچہ جو درخت کو دیکھ کر حیرت میں ڈوب گیا تھا، اس کے لیے تنا، پتے اور پھول بہت حیران کن سا تھا، وہ اس کے حوالے سے سوال کرنا اور جاننا چاہتا تھا،اب جب بڑا ہو جاتا ہے تو اس کے لیے درخت میں کوئی حیرت باقی نہیں رہتی۔ کوئی آپ سے ابھی کہے کہ آئیں باہر آپ کو ایک بڑی عجیب سی چیز دکھاتے ہیں۔ آپ حیرت سے گھر سے باہرنکلیں اور باہر جا کر وہ کہے کہ یہ دیکھیں یہ بیاڑ کا درخت ہے، یہ کتنا عجیب ہے؟ آپ کہیں گے: واہ، عجیب ڈراما کر رہے ہو میرے ساتھ، فضول قسم کے آدمی ہو، کیا بیاڑ بھی کوئی عجیب چیز ہے ؟ آپ برا منا کر غصہ جھاڑ کر واپس آ جائیں گے۔ ایسے میں قرآن مجید ہمیں توجہ دلاتا ہے کہ آپ بڑے ہونے کے بعد بھی ان چیزوں کو معمول کی معمولی چیزیں نہ سمجھیں ۔ یہ نہ سمجھیں کہ بس یہ درخت ہے تو بس ٹھیک ہے، درخت ہی ہے۔ یا یہ آسمان ہے تو بس ہے۔ قرآن اسی تجسس کو بحال کروانا چاہتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ شعور کی عمر میں یہ تجسس کام میں لا کر آپ بڑے نتائج اخذ کریں۔ اس تجسس کا خاتمہ درحقیقت معرفت کا خاتمہ ہو گا:

لا پھر اک بار وہی بادہ و جام اے ساقی

ہاتھ آ جائے مجھے میرا مقام اے ساقی

(اقبال)

قرآن توجہ دلاتا ہے کہ عقل کی عمر کو پہنچ کر خود پر اور کائنات پر وہی تجسس اور تدبر کی نگاہ ڈالیے۔اپنے اندر اس متجسس شخصیت کو پھر بیدار کیجیے۔ درخت یہ نہیں ہے کہ بس یوں ہی ایک درخت ہے، یہ تو حیوانی نگا ہ ہوئی۔ تدبر کی نگاہ یہ ہے کہ درخت دیکھ کر آپ کو اس درخت کے یوں ہونے تک کے مراحل بھی آپ کی نظر میں آ جائیں۔ آپ غور کرنے لگیں کہ اک ننھاسا بیج کہاں سے آیا اور پھر وہ بیج اس تناور درخت میں کیوں کر ڈھل گیا ؟ سر پر تنی آسمان کی چادر کیسے تن گئی؟ یہ بے قیمت پانی سے یہ غیرمعمولی انسان کیسے بن گیا ؟ بھئی! یہ بول کیسے لیتاہے؟ اس میں یہ سوچنے کی خصلت کہاں سے آئی ؟ اس کی آنکھوں میں دیکھ سکنے کی تاب کہاں سے آئی؟

خدا اگر دل فطرت شناس دے تجھ کو

سکوتِ لالہ و گل سے کلام پیدا کر

(اقبال)

قرآن بتاتا ہے کہ یہ تدبر کی نگاہ، تمھارے اور اس کائنات کے پیچھے موجودخدا کو تمھارے سامنے لے آئے گی۔

قرآن ، انفس و آفاق میں پنہاں و عیاں مظاہر و جواہر کے لیے ''آیات'' کا لفظ استعمال کرتا ہے۔ آیت نشانی کو کہتے ہیں، یہاں اس سے مراد ہر وہ چیزہے جو پروردگار کے سمجھنے کی نشانی بن جائے۔ انسان اور یہ کائنات خدا کی کھلی نشانیاں ہیں۔ انسان کا فطری تجسس اپنے وجود میں اور کائنات میں پھیلی بے شمارآیات کو خدا کی معرفت کا ذریعہ بنا دیتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ قرآنی آیات میں جا بجا انفس و آفاق میں پھیلی ان آیات پر تدبر کی تلقین کی گئی ہے۔۱؂

قرآن مجید متوجہ کرتا ہے کہ اس بامعنی کائنات میں اندھے بن کر نہ جیو، اپنی نظر میں بینائی پیدا کر کے دیکھو۔ یہ نظر آنے والی بے قیمت سی مکھی پر غور تو کرو، اس میں صرف ہونے والی کاریگری تم خدا کے سوا سب کو جمع کر کے بھی نہیں دکھا سکتے۔۲؂ تو کیا سمجھ رکھا ہے کہ مکھی پیدا کرنا کوئی معمولی سی بات ہے ؟

پھر توجہ دلائی کہ دودھ پیتے وقت دھیان تو کرو، یہ خوش ذائقہ اور شفاف دودھ کیسے بن گیا؟ بھینس تمھارے سامنے چارا کھاتی ہے، اس کے وجود میں خون و گوبر پہلے سے موجود ہوتا ہے، اس سب سے اس قدر شفاف و شان دار دودھ نکالنے والی ذات سوچو تو سہی وہ کیا ذات ہے؟ ۳؂

یہ کائنات، یہ انسان، یہ چرند و پرند، سب خدا کی نشانیاں ہیں۔ جو ان نشانیوں پراس انداز سے تدبر کرتا ہے، اسے خدا کی معرفت حاصل ہو جاتی ہے۔ جس شخص کو درخت کے پیچھے خدا کی قدرت نظر نہ آئے ، وہ سمجھ لے کہ اسے محض ایک حیوانی آنکھ ہی میسر ہے، جو محض دیکھ سکتی ہے کوئی نتیجہ اخذ نہیں کر سکتی۔لازم ہے کہ انسان اپنی آنکھ کے مشاہدات پر تدبر کر کے خدا کی معرفت حاصل کرے۔ اس کا ہر مشاہدہ خدائی معرفت کا اگلا سفر ثابت ہو۔عمر بھر ایسے ربانی مشاہدات ہر روز خدا کی ایک نئی شان انسان کے سامنے کھول دیتے ہیں۔غالب نے کہا تھا:

قطرے میں دجلہ دکھائی نہ دے اور جزو میں کل

کھیل لڑکوں کا ہوا دیدۂ بینا نہ ہوا

________

۱؂ مثلاً: 'ھَلْ اَتٰی عَلَی الْاِنْسَانِ حِیْنٌ مِّنَ الدَّھْرِ لَمْ یَکُنْ شَیْءًا مَّذْکُوْرًا. اِنَّا خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ نُّطْفَۃٍ اَمْشَاجٍ نَّبْتَلِیْہِ فَجَعَلْنٰہُ سَمِیْعًام بَصِیْرًا' (الدہر۷۶: ۱۔۲)۔ 'قُتِلَ الْاِنْسَانُ مَآ اَکْفَرَہٗ. مِنْ اَیِّ شَیْءٍ خَلَقَہٗ. مِنْ نُّطْفَۃٍ خَلَقَہٗ فَقَدَّرَہٗ. ثُمَّ السَّبِیْلَ یَسَّرَہٗ. ثُمَّ اَمَاتَہٗ فَاَقْبَرَہٗ. ثُمَّ اِذَا شَآءَ اَنْشَرَہٗ. کَلَّا لَمَّا یَقْضِ مَآ اَمَرَہٗ. فَلْیَنْظُرِ الْاِنْسَانُ اِلٰی طَعَامِہٖٓ. اَنَّا صَبَبْنَا الْمَآءَ صَبًّا'(عبس۸۰: ۱۷۔۲۵)۔

۲؂ الحج ۲۲: ۷۳۔ 'یٰٓاَیُّھَا النَّاسُ ضُرِبَ مَثَلٌ فَاسْتَمِعُوْا لَہٗ اِنَّ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ لَنْ یَّخْلُقُوْا ذُبَابًا وَّلَوِاجْتَمَعُوْا لَہٗ وَاِنْ یَّسْلُبْھُمُ الذُّبَابُ شَیْئًا لَّا یَسْتَنْقِذُوْہُ مِنْہُ ضَعُفَ الطَّالِبُ وَالْمَطْلُوْبُ'۔

۳؂ النحل ۱۶: ۶۶۔ 'وَاِنَّ لَکُمْ فِی الْاَنْعَامِ لَعِبْرَۃً نُسْقِیْکُمْ مِّمَّا فِیْ بُطُوْنِہٖ مِنْم بَیْنِ فَرْثٍ وَّدَمٍ لَّبَنًا خَالِصًا سَآئِغًا لِّلشّٰرِبِیْنَ'۔

____________