Blogs Views, Reviews and Critique

Browse by Popular Tags

جاوید احمد غامدی: انٹرویو قومی ڈائجسٹ (2/2)

 

by Administrator - posted May 17, 2017 - 126 views

جناب جاوید احمد غامدی کا نام اور کام کسی تعارف کا محتاج نہیں ..... علما کے روایتی حلقوں سے الگ، انھوں نے اپنی شناخت بنائی ہے اور اہل فکر و دانش کو اپنی طرف متوجہ کیا ہے۔ وہ جرأت اور متانت کے ساتھ اپنے نقطۂ نظر کے اظہار پر قادر ہیں۔ اپنی شخصیت اور اسلوب کی بدولت الیکٹرانک میڈیا پر ان کی مانگ بہت ہے، اور گھر گھر دیکھا اور سنا جا رہا ہے ..... معاشرے کو تبدیل کرنے کے حوالے سے ان کی اپنی سوچ ہے اور وہ دلائل کے ساتھ اسے پیش کرنے پر قادر ہیں۔ ان سے اختلاف کرنے والے کم نہیں ہیں، لیکن ان کا اعتراف کرنے والے بھی کم نہیں رہے۔ عزیزم صفدر سحر نے ان سے گفتگو کر کے ان کے خیالات قارئین ’’قومی ڈائجسٹ‘‘ تک پہنچانے کی کوشش کی ہے، یہ کوشش نامکمل ہو سکتی ہے، لیکن ناکام نہیں ہے۔

Read more

جاوید احمد غامدی: انٹرویو قومی ڈائجسٹ (1/2)

 

by Administrator - posted May 17, 2017 - 149 views

جناب جاوید احمد غامدی کا نام اور کام کسی تعارف کا محتاج نہیں ..... علما کے روایتی حلقوں سے الگ، انھوں نے اپنی شناخت بنائی ہے اور اہل فکر و دانش کو اپنی طرف متوجہ کیا ہے۔ وہ جرأت اور متانت کے ساتھ اپنے نقطۂ نظر کے اظہار پر قادر ہیں۔ اپنی شخصیت اور اسلوب کی بدولت الیکٹرانک میڈیا پر ان کی مانگ بہت ہے، اور گھر گھر دیکھا اور سنا جا رہا ہے ..... معاشرے کو تبدیل کرنے کے حوالے سے ان کی اپنی سوچ ہے اور وہ دلائل کے ساتھ اسے پیش کرنے پر قادر ہیں۔ ان سے اختلاف کرنے والے کم نہیں ہیں، لیکن ان کا اعتراف کرنے والے بھی کم نہیں رہے۔ عزیزم صفدر سحر نے ان سے گفتگو کر کے ان کے خیالات قارئین ’’قومی ڈائجسٹ‘‘ تک پہنچانے کی کوشش کی ہے، یہ کوشش نامکمل ہو سکتی ہے، لیکن ناکام نہیں ہے۔

Read more

جوابی بیانیہ از غامدی – اب کرنے کے کام

 

by Adnan Ejaz - posted March 13, 2017 - 1113 views

کم و بیش دو سال ہوئے جاوید احمد غامدی صاحب کا پیش کردہ 'اسلام اور ریاست – ایک جوابی بیانیہ' شائع ہوا۔ جیسا کہ نام سے ظاہر ہے یہ اسلام اور دورِ حاضر کی ریاستوں کے تعلق سے پیدا ہونے والے مسائل پر گویا روایتی مذہبی بیانیے کے مقابل میں ایک متبادل مذہبی بیانیہ ہے۔ انتہا پسندی، دہشتگردی اور فرقہ وارانہ نفرت انگیزی جیسے وہ امراض جن سے یہ امّت اس وقت برسرِ پیکار ہے کی تشخیص پر مبنی یہ بیانیہ حالات کی مناسبت سے اس وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔

Read more

Interpreting the Disjointed Letters of the Holy Quran (4/4)

 

by Adnan Ejaz - posted March 11, 2017 - 193 views

Applying Hameed ud Din Farahi’s Theory of Intrinsic meanings of Hebrew and Arabic Alphabets

Read more

Interpreting the Disjointed Letters of the Holy Quran (3/4)

 

by Adnan Ejaz - posted March 10, 2017 - 188 views

Applying Hameed ud Din Farahi’s Theory of Intrinsic meanings of Hebrew and Arabic Alphabets

Read more

Interpreting the Disjointed Letters of the Holy Quran (2/4)

 

by Adnan Ejaz - posted March 10, 2017 - 212 views

Applying Hameed ud Din Farahi’s Theory of Intrinsic meanings of Hebrew and Arabic Alphabets

Read more

Interpreting the Disjointed Letters of the Holy Quran (1/4)

 

by Adnan Ejaz - posted March 10, 2017 - 974 views

Applying Hameed ud Din Farahi’s Theory of Intrinsic meanings of Hebrew and Arabic Alphabets

Read more

​سیدنا ابراہیم کا خواب

 

by محمد تہامی بشر علوی - posted September 22, 2016 - 512 views

1..میری نظر سے کوئی ایسی تحقیق نہیں گزری جس میں یہ ثابت کیا گیا ہو کہ خدا اپنے کلام یا کلام کے کسی حصے سے بیک وقت ایک سے زیادہ مفاہیم مراد لیا کرتا ہے. کسی کے علم میں ایسی کوئی تحقیق ہو تو آگاہ کر سکتا ہے تا استفادہ ممکن ہو پائے. 2...ایسا ممکن ہے کہ متکلم تو کلام ، ایک مفہوم کو ادا کرنے کے لیے ہی کہے پر سامع کلام سے کسی اور محتمل معنی کو سمجھ لے، اب ایسا: اگر یہ جانتے بوجهتے ہو کہ خدا کی مراد تو یہ ہے پر میں یہ دوسرامعنی مراد لوں گا تو یہ سراسر کفر اور تحریف ہے. کسی مومن صادق سے اس سرکشی کی توقع تک نہیں کی جا سکتی. اگر ایسا دیناتدارانہ تدبر کے باوجود ہو جائے تو عند اللہ قابل مواخذہ نہیں، کہ انسان کے لیے بوجوہ ممکن نہیں کہ ہر موقع پر متکلم کی واحد منشاء تک پہنچ جائے. گویا کسی کلام سے "متکلم کی واحد منشاء قطعی طور پر" مراد ہونے کے باوجود یہ ممکن ہے کہ مخاطب کسی اور محتمل معنی کو مراد لے لے، ایسی صورت میں مخاطب کی طرف سے دیانت دارانہ طور پر سمجها جانے والا کوئی اور مفہوم متکلم کی "مراد" تو نہیں قرار پا سکتا تاہم متکلم کے لیے مخاطب کے جذبہ اطاعت شعاری کے تحت "قابل قبول" قرار پاتا ہے. یعنی سامع کی طرف سے کوئی اور مفہوم مراد لے لینا،( سامع کے عذر کی وجہ سے نہ کہ متکلم کی مراد ہونے کی وجہ سے )قابل مواخذہ نہیں ہوتا. اسی کو ہماری علمی روایت میں "اجتہادی اختلاف" سے تعبیر کر کے محمود قرار دیا جاتا ہے.

Read more

​غلبہ دین کے تصور میں ایک غلط فہمی کا ازالہ

 

by عرفان شہزاد - posted September 22, 2016 - 346 views

میرے ناقص فہم کے مطابق دین کا غلبہ صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھوں ہی ممکن تھا، وہ اس لیے کہ دینی معاملات میں وہ اللہ کی طرف سے براہ راست ہدایت یافتہ تھے۔ چنانچہ دینی معاملات میں آپ کا ہر فعل اور ہر فہم عین دین تھا۔ لیکن آپ کے بعد کوئی اور شخص یا جماعت یہ دعوی نہیں کر سکتی کہ اس کا ہر فعل اور فہم عین دین ہے۔ مثال کے طور پر حضرت عمراگر اپنے دور کے طویل قحط کے دوران چوری کی سزا معطل نہ کرتے اور چوروں کے ہاتھ بدستور کاٹے جا رہے ہوتے تو بظاہر یہ شرعی حکم پر عمل کم فہم لوگوں کے نزدیک عین دین پر عمل تھا لیکن مقاصد شریعت سے عدم مطابقت کی بنا پر درحقیقت یہ دین کا مطالبہ نہیں تھا اور یوں دین پر بظاہر عمل ہوتے ہوئے بھی یہ دین پر عمل نہ ہوتا۔ یعنی دین کے شرعی احکامات کے نفاذ اور اطلاق کا معاملہ بھی اجتہادی معاملہ ہے۔ اور اجتہادی معاملہ ہونے کی وجہ سے اس میں اختلاف کی گنجائش بھی موجود ہے۔ حضرت عمر نے اپنے عہد حکومت میں جو کچھ کیا وہ آپ کا فہمِ دین تھا جس سے اختلاف کرنے والوں نے اختلاف بھی کیا، بلکہ خود حضرت عمر نے اپنے بعض اجتہاد سے اختلاف کیا۔ لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کسی دینی فعل سے اختلاف نہیں کیا جا سکتا تھا۔ یہ منصب رسول اللہ کے بعد کسی کے لیے نہیں ہے کہ اس کے ہر دینی عمل کو عین دین سمجھا جائے۔ غرض یہ ہے کہ نبی کے بعد قطعیت سے کسی کے کسی بھی دینی عمل کو عین دین قرار دینا حتمی نہیں ہو سکتا۔ رسول اللہ کے سوا ہر شخص کے اجتہاد، دینی فہم اور عمل سے علمی اور عملی اختلاف ممکن ہے، اس لیے کوئی یہ دعوی نہیں کر سکتا کہ اس نے دین کو غالب کر دیا ہے یا کر سکتا ہے یا اس کا کوئی عمل عین دین ہے۔

Read more

قرآن مجید کے قطعی الدلالۃ ہونے کی بحث: حافظ محمد زبیر صاحب کے موقف کا تنقیدی جائزہ

 

by عرفان شہزاد - posted September 21, 2016 - 736 views

ماہنامہ الشریعہ ،جون 2016 کی اشاعت میں حافظ محمد زبیر صاحب کا مضمون 'قران مجید کے قطعی الدلالۃ ہونے کی بحث' شائع ہوا۔ یہ مضمون ان کے 24اکتوبر، 2015 کو المورد کے زیر انتظام ویبینار (webinar) سے خطاب کی تحریری صورت تھی۔ راقم کو اس ویبینار میں حافظ صاحب کے خطاب کو براہ راست سننے کا موقع بھی ملا تھا۔ ذیل میں ہم حافظ صاحب کے مضمون پر اپنا تبصرہ پیش کرتے ہیں۔

Read more

قرآن کی قطعیت، اختلاف کی گنجایش اور تکفیر

 

by محمد تہامی بشر علوی - posted September 20, 2016 - 459 views

عام طور پر یہ سوال داغا جاتا ہے کہ جب "متن قرآن" کی اپنے معنی پر دلالت کو قطعی کہا جا رہا ہے تو اس میں اختلاف کیوں روا رکها جا سکتا ہے.؟ اس قطعی معنی کے انکار پر تکفیر یا تضلیل لازم آتی ہے سو چاہیے کہ جو قرآن کے کسی معنی کو قطعی بتائے وہ اس کے منکر کو کافر یا گمراہ بهی ٹهہرائے. قطعیت کے مفہوم کے ساتھ بہر حال تسلیم کا لزوم اور انکار پر کفر و گمرہی کالزوم، معترضین کے دماغ میں ابهر آنے والی قدر مشترک تهی. بهلا ہو جناب مغل کا کہ دماغوں کو اس بوجھ سے آزاد کرنے کو معاون بنے.

Read more

​A Response to Mr. Tariq Hashmi’s Response

 

by Asif Iftikhar - posted September 18, 2016 - 300 views

I am grateful to Mr Hashmi for his response to my humble questions. Again, it will not be useful to comment on personal remarks from his side or on his disparaging tone. However, I should like to say here that, as may be seen on the basis of comparison of his response with my post, hardly any of the actual or main questions that I raised were answered. Some were simply ignored (e.g. Q.5), and some responses to questions that I had not even really asked were given. If I have time, I might, in the interest of the possibility of meaningful discussion in future, explain these aspects of Mr Hashmi’s “rebuttal” in some detail.

Read more

ایک سوال کا جواب

 

by محمد تہامی بشر علوی - posted September 18, 2016 - 444 views

​بعض ذی علم ناقدین کی طرف سےیہ سوال اٹھایا گیا کہ قرآن مجید میں ابتداء میں نازل ہونے والی سورہ "المدثر" میں، اتمام حجت سے قبل ہی اسلام نہ لانے والوں کو کافر قرار دیا جا چکا تها،جواس بات کی کافی دلیل ہے کہ" غیر مسلم"کو کافر قرار دینا درست ہے۔ اوریہ کہنا درست نہیں کہ کسی کو "کافر "قرار دینےکے لیے اتمام ِحجت ضروری ہے۔سادہ لفظوں میں فاضل ناقدیں کے تصور کے مطابق" کافر" کے اطلاق کے لیے " جانتے بوجھتے اسلام کا انکار" ضروری نہیں، بلکہ "مسلم گروہ " میں شامل نہ ہونا ہی "کافر" قرار دینے کے لیے کافی ہے۔ اس اعتراض میں کن امور کو خلط کر دیا گیا اس کا جائزہ جواب میں لیا جاتا ہے۔

Read more

“کافر” کا اطلاق: چند توضیحات

 

by محمد تہامی بشر علوی - posted September 18, 2016 - 1121 views

​کافر: جو انسان حق کو جانتے بوجهتے ماننے سے انکار کر دے وہ خدا کے ہاں ابدی جہنم جیسی سخت ترین سزا کا مستحق قرار پاتا ہے۔قرآن مجید ایسے سرکشوں کا تعارف" کافرین" سے کرواتا اور ان کے انجام کی خبر ابدی جہنم کی سخت ترین سزاسے دیتا ہے۔ قرآن مجید جہاں کافر کی تعبیر اختیار کرتا ہے ساتھ ہی اس گروہ کے بد ترین انجام کو بهی لازم مانتا ہے۔قرآن مجیدمیں کافر انہی حقیقی معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ مسلم: اس کے بر عکس جو انسان حق کو جاننے کے بعد اسے قبول کر لیتا اوراس کے سامنے سرتسلیم خم کر جاتا ہے، اسے قرآن مجید "مومنین" سے تعبیر کرتا اور ابدی جنت کی بشارت دیتا ہے.

Read more

“Muslim and Non-Muslim-A response to critique by Tariq Mehmood Hashmi

 

by Asif Iftikhar - posted September 16, 2016 - 563 views

Any comment on disparaging labels and personal attacks in this article by the learned critic, Tariq Mahmood Hashmi (طارق محمود ہاشمی) Sahib, is not likely to be useful or in good taste, but one might at least, with all due respect, very humbly ask the following questions to safeguard oneself against any immediate inclination to regard this piece as a straw man critique (attributing propositions and arguments to the critiqued author, Ghāmidī, that might not be his at all):

Read more