ایک سوال کا جواب

ایک سوال کا جواب


بعض ذی علم ناقدین کی طرف سےیہ سوال اٹھایا گیا کہ قرآن مجید میں ابتداء میں نازل ہونے والی سورہ "المدثر" میں، اتمام حجت سے قبل ہی اسلام نہ لانے والوں کو کافر قرار دیا جا چکا تها،جواس بات کی کافی دلیل ہے کہ" غیر مسلم"کو کافر قرار دینا درست ہے۔ اوریہ کہنا درست نہیں کہ کسی کو "کافر "قرار دینےکے لیے اتمام ِحجت ضروری ہے۔سادہ لفظوں میں فاضل ناقدیں کے تصور کے مطابق" کافر" کے اطلاق کے لیے " جانتے بوجھتے اسلام کا انکار" ضروری نہیں، بلکہ "مسلم گروہ " میں شامل نہ ہونا ہی "کافر" قرار دینے کے لیے کافی ہے۔ اس اعتراض میں کن امور کو خلط کر دیا گیا اس کا جائزہ جواب میں لیا جاتا ہے۔

جواب:
چند بنیادی نکات کو پیش نظر رکهنا تفہیم مدعا کے لیے ضروری ہے۔
اتمام حجت :
کا مفہوم یہ ہے کہ کسی فرد پر حق پوری طرح واضح ہو جائے۔ حق کے پوری طرح واضح ہونے کے مختلف داخلی اور خارجی ذرائع ہو سکتے ہیں، جس پر کسی بهی طریقہ سے حق واضح ہو گیا اس پر اتمام حجت ہو گیا۔
مسلم کافر:
اتمام حجت کے بعد جو حق قبول کر گیا وہ مسلم جو انکار کر گیا وہ کافر۔
جزا ءسزا:
اتمام حجت کے بعد کفر و اسلام کی سزا و جزاء اصلاً تو آخرت میں ملنی ہے، مگر اتمام حجت اگر رسول کے ذریعہ سے ہوا ہو تو ان منکرین پر اخروی سزا کی ایک جهلک دنیا میں بهی ظاہر کر دی جاتی ہے۔
سورہ المدثر:
ان آیات میں کسی گروہ کو "کافر قراردے کر" اس کاحکم نہیں بیان کیا جا رہا "بلکہ کفر اختیار کرنے کی صورت میں "یہ انذار عام کیا جا رہا ہے کہ ایک دن آنے والا ہے جو کافروں کے لیے سخت ثابت ہو گا۔ اس عموی انذار کے وقت کہے گئے "کافرین " کے مصداق کا اس وقت مفقود ہونا گوکلام کی صحت کو مانع نہ تها، مگر واقعہ یہ ہے کہ خارج میں مصداق بهی موجود تها۔
مثال اس کی ایسے ہے جیسے کلاس میں استاد طلبہ سے یہ کہے کہ
"امتحان آنے والا ہے، نہ پڑهنے والے اس دن ناکام ہو جائیں گے"
اس جملے کا مطلب یہ نہیں کہ کلاس کے کچھ طلبہ کو "نہ پڑهنے والا" ثابت کیا جا رہا ہے۔"نہ پڑهنے والوں" کا مصداق مفقود ہواور ساری کلاس ہی پڑهنے والی ہو، پهر بهی یہ جملہ اپنے مقصد کے پیش نظربرمحل اور درست قرار پائے گا۔مگر مصداق کا موجود ہونا بهی اس طرح کلام کرنے سے مانع نہیں۔اس بات کا امکان بهی ہے کہ کلاس میں "نہ پڑهنے" والے بهی موجود ہوں۔ یوں ایک عمومی طور پر کہی گئی بات ان "نہ پڑهنے والوں" کے لیے خصوصی بهی بن جائے گی۔ لیکن کلام کا محل یہ نہیں ہو گا کہ "استاذ نے ناکام ہونے والےچار لڑکوں کو نہ پڑهنے والا قرار دیا"، بلکہ درست محل یہ ہو گا کہ
"استاد نے نہ پڑهنے والوں کو ناکام قرار دیا، اور چار لڑکے نہ پڑهنے والے نکلے"
پہلی صورت میں کلام کے برمحل ہونے کے لیے "نہ پڑهنے والوں کا خارج میں موجود" ہونا ضروری ہے۔ جبکہ دوسری صورت میں "نہ پڑهنے والوں کا موجود ہوناضروری نہیں"۔
"المدثر "میں کلام کا محل یہی دوسری صورت ہے کہ جو منکر ہوں گے قیامت کو ناکام ہوں گے۔ سورہ پرنظر ڈالنے سےیہ امر پوری طرح واضح ہوجاتا ہے۔

يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ ﴿١﴾ قُمْ فَأَنذِرْ ﴿٢﴾ وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ ﴿٣﴾ وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ ﴿٤﴾ وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ ﴿٥﴾ وَلَا تَمْنُن تَسْتَكْثِرُ ﴿٦﴾ وَلِرَبِّكَ فَاصْبِرْ ﴿٧﴾ فَإِذَا نُقِرَ فِي النَّاقُورِ ﴿٨﴾ فَذَٰلِكَ يَوْمَئِذٍ يَوْمٌ عَسِيرٌ﴿٩﴾ عَلَى الْكَافِرِينَ غَيْرُ يَسِيرٍ ﴿١٠

"اے اوڑھ لپیٹ کر لیٹنے والے۔اٹھو اور خبردار کرو ۔ اور اپنے رب کی بڑائی کا اعلان کرو ۔اور اپنے کپڑے پاک رکھو ۔اور گندگی سے دور رہو ۔ اور احسان نہ کرو زیادہ حاصل کرنے کے لیے۔ اور اپنے رب کی خاطر صبر کرو ۔اچھا، جب صور میں پھونک ماری جائے گی۔وہ دن بڑا ہی سخت دن ہوگا ۔ کافروں کے لیے ہلکا نہ ہوگا"۔

ان عمومی آیات کے بعد اس سے اگلی آیات میں بعض مفسرین بطور خاص ولیدبن مغیرہ کو مراد لیتے ہیں ۔قرآن مجید بتاتا ہے:

ذَرْنِي وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِيدًا﴿١١﴾ وَجَعَلْتُ لَهُ مَالًا مَّمْدُودًا ﴿١٢﴾ وَبَنِينَ شُهُودًا ﴿١٣﴾وَمَهَّدتُّ لَهُ تَمْهِيدًا ﴿١٤﴾ ثُمَّ يَطْمَعُ أَنْ أَزِيدَ ﴿١٥﴾ كَلَّا ۖ إِنَّهُ كَانَ لِآيَاتِنَا عَنِيدًا ﴿١٦﴾ سَأُرْهِقُهُ صَعُودًا ﴿١٧

"چھوڑ دو مجھے اور اُس شخص کو جسے میں نے اکیلا پیدا کیا ہے ۔ بہت سا مال اُس کو دیا ۔ اس کے ساتھ حاضر رہنے والے بیٹے دیے ۔اور اس کے لیے ریاست کی راہ ہموار کی ۔ پھر وہ طمع رکھتا ہے کہ میں اسے اور زیادہ دوں ۔ ہرگز نہیں، وہ ہماری آیات سے عناد رکھتا ہے ۔ میں تو اسے عنقریب ایک کٹھن چڑھائی چڑھواؤں گا۔"

قرآن مجید کے بیان کے مطابق وہ پروردگار کی آیات سے عناد رکھتا تھا۔ اسی سلسلہ بیان میں مزید بتایا گیا:

ثُمَّ عَبَسَ وَبَسَرَ ﴿٢٢﴾ ثُمَّ أَدْبَرَ وَاسْتَكْبَرَ﴿٢٣﴾ فَقَالَ إِنْ هَـٰذَا إِلَّا سِحْرٌ يُؤْثَرُ ﴿٢٤﴾ إِنْ هَـٰذَا إِلَّا قَوْلُ الْبَشَرِ ﴿٢٥﴾ سَأُصْلِيهِ سَقَرَ ﴿٢٦

"پھر پیشانی سیکڑی اور منہ بنایا ۔پھر پلٹا اور تکبر میں پڑ گیا ۔ آخرکار بولا کہ یہ کچھ نہیں ہے مگر ایک جادو جو پہلے سے چلا آ رہا ہے ۔ یہ تو یہ ایک انسانی کلام ہے۔عنقریب میں اسے دوزخ میں جھونک دوں گا۔"

یہ ایسے ہی ہے کہ عمومی انذارکی خاطر کہے گئے "کافرین" کا ایک خصوصی مصداق بهی میسر آگیا۔ اور اس مصداق سے باخبر ذات نے بتا دیا کہ کافرین کو جس انجام سے ڈرایا گیا اس کا مصداق ولید بهی ہے۔ جب "ولید کا کافر ہونا" اور "اس کے کافر ہونے کا علم ہو جانا" ثابت ہو گیا تو اسے "کافر کا مصداق کہناکسی طرح غلط نہیں"۔ ولید کا معاملہ آیات سے واضح ہے کہ اس کا جانتے بوجهتے حق کا انکار کرنا پوری طرح ثابت ہو چکا تها۔ خدا نے اسے کفر اختیار کیے بغیر ہرگز کافر قرار نہیں دیا۔ولید کی سرکشی کے احوال جان لینے کے بعد اس امر میں کوئی شک باقی نہیں رہ جاتا۔لہذا یہ کہنا درست نہیں کہ قرآن مجید میں اتمامِ حجت کے بغیر بھی غیر مسلموں کو کافر قرار دینا روا رکھا گیا ہے ۔اگر کوئی صاحب علم ہر غیر مسلم پر "کافر" کا اطلاق روا رکھے گا تو یہ اس کا اجتہادی فیصلہ تو ہو سکتا ہے جس سے اختلاف کی گنجائش بہرحال باقی رہے گی، تاہم یہ اطلاق اس نوعیت کا نہیں کہ کوئی آیت اس کی تائید میں پیش کی جا سکے یا اسے کوئی منصوص مسئلہ باور کیا جا سکے۔ مدعا کی مزید تفہیم کے لیے ضروری ہے کہ تکفیر، اتمام حجت اورکفر کی دنیوی سزا کے مسئلہ کو اچهی طرح سمجھ لیا جائے۔
توضیح:
جس پر جب بهی کسی بهی طریقے سےحق واضح ہو گیا پهر وہ انکار کر جائے تو کافر ہو جاتا ہے۔ کافر ہو جانے کے لیے ، جانتے بوجهتے حق کا انکارکر دینا کافی ہے۔البتہ کس نے جانتے بوجهتے انکار کیا اس کا علم خدا کے سوا کسی کو نہیں۔ اس لیے علم کے بغیر کافر کہنے سے اجتناب کیا جانا چاہیے۔خدا کو چوں کہ علم ہے سو وہ جب بهی کوئی جانتے بوجهتے انکار کرے اسے کافر کہہ سکتا ہے۔ گویا"کسی کا کافر ہوجانا" اور بات ہے اور " کسی کے کافر ہو جانے کا علم ہو جانا" اور بات ہے۔ جس کے کافر ہو جانے کا جسے علم ہو جائے ،وہ کافر کہہ بهی سکتا ہے۔اٹهائے گئے سوال میں "کافر ہو جانے" کی سطح کے "اتمام حجت" کو اور "دنیا میں خدائی سزا" کے مستحق بن جانے کے درجے کے "اتمام حجت" کو ایک سمجھ لیا گیا ہے۔ جبکہ اول عام اور ثانی رسولوں کے ساتھ خاص ہے۔
خلاصۂ کلام:
اتمام حجت کے بغیر قرآن میں کسی کو کافر نہیں کہا گیا۔
اتمام حجت کے مختلف ذرائع ہیں، کسی بهی ذریعے سے حق واضح ہو جائے تو اتمام حجت ہو جاتا ہے، اس کے بعد حق کا انکار کفر ہے۔
کافر ہونے کے لیے حق کا جانتے بوجهتے انکار کرلینا کافی ہے۔رسول کا براۂ راست مخاطب ہونا ضروری نہیں۔
"کافر کہنے" کے لیے "کافر ہو جانے کا علم ہو جانا" ضروری ہے۔
اتمام حجت رسولوں کے ذریعہ ہو جائے تو خدا کفر کی اخروی سزا کی ایک جهلک دنیا میں بهی ظاہر کر دیتا ہے۔
کافر کا وجود اب بهی نایاب یا ناپید نہیں، جیسا کہ غلط فہمی سے یہ کہا جا رہا ہے۔بس اتنا ہے کہ اب پیغمبر کے بعد حتمی طور پر اس کے وجود کی خبر انسانوں کو ہو جانے کی خود اس کافر کے اقرار کے سواکوئی صورت نہیں۔ کوئی خود یہ اقرار کر دے کہ میں جانتے بوجهتے حق کا انکار کر رہا ہوں تو اسے آج بهی بلا تردد کافر کہا جا سکتا ہے۔
کافر کہنے سے اجتناب اس لیے برتا جاتا ہے کہ جسے کافر کہا جا رہا اس کا کہنا ہے کہ وہ جانتے بوجهتے حق کا انکار نہیں کر رہا، بلکہ جس چیز کو حق سمجھ رہا ہےاسی سے وابستہ ہے۔اور وہ خود کے لیے کافر کا لقب پسند بهی نہیں کرتا۔

یہ نکتہ آفرینی بھی درست نہیں کہ جب کفر دل کا معاملہ ہوا تو ایمان بهی دل ہی کا معاملہ ہے۔ جب کسی کو کافر کہنا ممکن نہیں تو مسلم کہنا کیسے ممکن ہوا؟ کسی کاکفر و اسلام خدا جانے، ہمیں کسی کو کافر کہنا چاہیے نہ مسلم۔یہ بات تو درست ہے کہ کفر و اسلام حقیقت میں دلی معاملات ہیں، جو خدا کے سوا کسی کو معلوم نہیں۔ مگر دنیوی ضرورت کے پیش نظرکافر و مسلم کا دنیوی فیصلہ کچھ اس کے سوا ہے ۔ دنیا میں ظاہری نسبت و اعتراف ملحوظ رکھا جائےگا۔ مسلم کو مسلم اس لیے کہا جاتا ہے کہ وہ خود اس کا اعتراف کرتا ہے۔ اگر وہ اعتراف میں جهوٹا ہے تو منافق ہے جوآخرت کے لحاظر سے کافر اور دنیوی لحاظ سے مسلم ہی سمجها جائے گا۔رسالت مآب ﷺ نے ایسا ہی کیا تھا۔ کافر کہنے سے گریز کا اس لیے کہاجاتا ہے کہ نہ خدا نے اس کے کفر کی کوئی خبر دی نہ اس نے خود کفر کا اعتراف کیا۔الٹا اس کا کہنا یہ ہے کہ وہ جس چیز کو حق سمجھ رہا اسے قبول کر رکها ہے۔ اس صورت میں یہ کیسے کہا جا سکتا ہے کہ یہ بندہ جانتے بوجهتے حق کا انکار کر رہا ہے؟ہمارے فقہاء کسی گرو یا فرد کو کافر قرار دیتے ہیں تو اس کا منشاء بھی محض دنیوی احکام کا اجراء ہی ہوتا ہے۔اخروی تناظر میں وہ بھی تکفیر نہیں کرتے، اور نہ ہی یہ خدا کے سوا کسی کی یہ ہستی ہے کہ وہ یہ فیصلہ کرے۔

جب دنیا میں کافر کا اطلاق محض دنیوی احکام میں فرق کی مصلحت کی خاطرکیا جاتا ہے۔تویہ مقصد اگرکسی اور موزوں تعبیر سے حاصل ہو پائے تو دین مینں ممنوع نہیں۔ ہمارے نزدیک دیگر مذاہب والوں کو ان کے مذاہب کی نسبت "مسیحی، ہندو وغیرہ"سے

تعبیر کرنا یا عمومی تقسیم میں مسلمانوں کے علاوہ کو "غیر مسلم" کا عنوان دے دینا زیادہ موزوں ہے۔دنیا میں کافر اور مسلم کی تقسیم کا مفاد مسلم قوم کےالگ تشخص کو قائم رکھنا ہے۔اور یہ مقصد غیر مسلم کی تعبیر سے بھی حاصل کیا جا سکتا ہے۔




By this author