​سیدنا ابراہیم کا خواب

​سیدنا ابراہیم کا خواب


سر دست زیادہ لکهنا تو ممکن نہیں احباب کے سوال کے پیش نظر اختصارا چند جملے.
خدا اپنے کلام سے بیک وقت کتنے مفاہیم مراد لیتا ہے..؟
1..میری نظر سے کوئی ایسی تحقیق نہیں گزری جس میں یہ ثابت کیا گیا ہو کہ خدا اپنے کلام یا کلام کے کسی حصے سے بیک وقت ایک سے زیادہ مفاہیم مراد لیا کرتا ہے. کسی کے علم میں ایسی کوئی تحقیق ہو تو آگاہ کر سکتا ہے تا استفادہ ممکن ہو پائے.
2...ایسا ممکن ہے کہ متکلم تو کلام ، ایک مفہوم کو ادا کرنے کے لیے ہی کہے پر سامع کلام سے کسی اور محتمل معنی کو سمجھ لے، اب ایسا:
اگر یہ جانتے بوجهتے ہو کہ خدا کی مراد تو یہ ہے پر میں یہ دوسرامعنی مراد لوں گا تو یہ سراسر کفر اور تحریف ہے. کسی مومن صادق سے اس سرکشی کی توقع تک نہیں کی جا سکتی.
اگر ایسا دیناتدارانہ تدبر کے باوجود ہو جائے تو عند اللہ قابل مواخذہ نہیں، کہ انسان کے لیے بوجوہ ممکن نہیں کہ ہر موقع پر متکلم کی واحد منشاء تک پہنچ جائے.
گویا کسی کلام سے "متکلم کی واحد منشاء قطعی طور پر" مراد ہونے کے باوجود یہ ممکن ہے کہ مخاطب کسی اور محتمل معنی کو مراد لے لے، ایسی صورت میں مخاطب کی طرف سے دیانت دارانہ طور پر سمجها جانے والا کوئی اور مفہوم متکلم کی "مراد" تو نہیں قرار پا سکتا تاہم متکلم کے لیے مخاطب کے جذبہ اطاعت شعاری کے تحت "قابل قبول" قرار پاتا ہے. یعنی سامع کی طرف سے کوئی اور مفہوم مراد لے لینا،( سامع کے عذر کی وجہ سے نہ کہ متکلم کی مراد ہونے کی وجہ سے )قابل مواخذہ نہیں ہوتا. اسی کو ہماری علمی روایت میں "اجتہادی اختلاف" سے تعبیر کر کے محمود قرار دیا جاتا ہے.
3...سیدنا ابراہیم کو خواب میں دیا گیا بیٹے کی قربانی کا حکم اپنی نوعیت میں "جذبہ اطاعت شعاری کی آزمائش" کے لیے تها نہ کہ "کسی دینی یا شرعی حکم کی بجا آوری کے لیے" اسی لیے صراحت کا اسلوب اختیار کرنے کی بجائے خدا نے اپنی "واحد قطعی" مراد کو "اشارے اور تمثیل" کے اسلوب میں بیان فرمایا.
اس مقصد سے دیے گئے حکم کے اس اسلوب سے خدا کا مقصد اپنے بندے کے "فہم" کا امتحان لینا نہیں تها کہ وہ "متکلم کی واحد مرادی مفہوم" تک رسائی پانے میں کامیاب ہو جاتا ہے یا نہیں.؟
اصل امتحان یہ تها کہ اس محتمل حکم کے بعد "جذبہ اطاعت شعاری اس کم تر معیار تک ہی پہنچتا ہے" جسے مراد لے کر بہر حال اس کا خدا راضی ہو جائے گا، یا یہ بندہ "جذبہ اطاعت شعاری" کو "حکم میں دوسرے احتمال کی گنجائش پا کر ہی" نقطہِ عروج تک لے جاتا ہے.؟
خدا کے اس اطاعت شعار بندے نے "کلام میں حقیقی قربانی کا احتمال" پاتے ہی گویا خدا کے مطالبے سے بڑھ کر کچھ پیش کر دینے کی خو اپنائی، کلام کی واحد مراد تک رسائی کے درپے ہونا لمحے بهر کے لیے گوارا نہ کیا. یہ ایسے ہی ہے جیسے کوئی اپنے محب سے "کچھ رقم" قرض کو مانگے تو وہ "کچھ " کی تعبیر میں گنجایش پاتے ہی "لاکهوں" کی رقم محبوب کے قدموں میں ڈهیر کر دے. اتنی رقم دے دینا محبوب کی مراد نہ ہونے کے باوجود محبوب کے لیے نا صرف یہ کہ قابل قبول رویہ کہلائے گا بلکہ وفا شعاری کی ان مٹ ادا قرار پائے گی. اور یہاں متعین رقم بتانے کی بجاے "کچھ" کی تعبیر محبوب "آزمائش " کے طور پر بهی اختیار کر سکتا ہے. اس صورت میں لازم ہے کہ متکلم اپنے مخاطب کو واحد مراد تک نہ پہنچنے کی کوئی سزا نہ دے کہ اس کا کلام مخاطب کی "ہدایت" کی خاطر نہیں "آزمائش" کی خاطر تها..اسی لیے ہمارے نقطہ نظر سے سیدنا ابراہیم کی اطاعت شعاری "نافرمانی" کے قبیل سے نہیں. یعنی "ایک پسندیدہ عمل" کا مطالبہ "حکم" میں نہ ہونے کے باوجود ایسا ممکن ہے کہ حکم میں وہ "غیر مذکور عمل" بهی حکم دینے والے کے ہاں "پسندیدہ" ہو. گویا خدا ہر پسندیدہ عمل کا حکم نہیں دیا کرتا، جس عمل کا حکم دے دے وہ بہرحال اس کے ہاں پسندیدہ عمل ہی ہوتا ہے. ایسا نہیں تها کہ سیدنا ابراہیم کا بیٹے تک کو خدا کی راہ میں قربان کر دینا "خدا کے ہاں ناپسندیدہ عمل تها" یہ تها کہ خدا کے ہاں پسندیدہ ہونے کے باوجود خدا نے اپنے بندے سے یہ مطالبہ کیا نہیں تها. خدائے رحمان نے اپنے بندے کے جذبہ اطاعت شعاری کو اظہار کا پورا موقع دے کر اسماعیل کو ذبح نہ ہونے دیا.اسماعیل کو حقیقت میں ذبح کر دینا ، مراد نہ ہونا، واضح کرنے کے لیے "کلام" نہیں "براہ راست عملی تدبیر" اختیار کر ڈالی. یوں اسماعیل کے زندہ رہنے کے ساتھ ساتھ خدا کے سامنے خدا کے وفا شعار بندوں کی اطاعت شعاری کی ان مٹ ادا بهی امر ہو گئی. یہاں ابراہیم کے فہم پر سوال چپکانے والے سچ یہ کہ بےمحل ستم ڈهاتے ہیں. اس قربانی کا ظہور "فہم کی کمی، یا کسی بدفہمی" کے زیر اثر نہیں ہوا، بلکہ اس عمل کی اک اک ادا "اطاعت شعاری" کے جذبوں سے ظہور پذیر ہوئی.
کلام کا درست محل پیش نظر نہ رہے تو مبادا لوگ خدا کےسارے کلام کو "کلام ہدایت" کی بجائے "کلام آزمائش" قرار دے بیٹهیں. جس کا نتیجہ یہ نکلے کہ خدا اپنا حکم جان بوجھ کر محتمل اسالیب میں اس لیے بیان کرتا ہے کہ جو جو اس واحد مراد تک رسائی نہ پا سکیں انہیں مجرم قرار دے کر"جہنم" میں جهونک دے. سبحانک اللهم و بحمدک.
یہ نتیجہ کن قرائن و شواہد سے اخذ کیا گیا..؟ کسی اگلی نشست میں. سردست صرف یہ سامنے رکهنا تها کہ کلام، متکلم اور مخاطب کی اصل پوزیشن طالب علمانہ نگاہوں کے سامنے رہیں.




By this author