جوابی بیانیہ از غامدی – اب کرنے کے کام

جوابی بیانیہ از غامدی – اب کرنے کے کام


کم و بیش دو سال ہوئے جاوید احمد غامدی صاحب کا پیش کردہ 'اسلام اور ریاست – ایک جوابی بیانیہ' شائع ہوا۔ جیسا کہ نام سے ظاہر ہے یہ اسلام اور دورِ حاضر کی ریاستوں کے تعلق سے پیدا ہونے والے مسائل پر گویا روایتی مذہبی بیانیے کے مقابل میں ایک متبادل مذہبی بیانیہ ہے۔ انتہا پسندی، دہشتگردی اور فرقہ وارانہ نفرت انگیزی جیسے وہ امراض جن سے یہ امّت اس وقت برسرِ پیکار ہے کی تشخیص پر مبنی یہ بیانیہ حالات کی مناسبت سے اس وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ یہ ایسے دس بنیادی نوعیت کے نکات پر مبنی ہے جن کے اقرار و انکار سے 'سیاسی اسلام'، دین کے مسلمانوں سے اجتماعی مطالبات اور غیر مسلم افراد و اقوام سے ہمارے تعلقات کے متعلق مذہبی تصوّرات میں بُعدَ المَشرقَین لا سکتا ہے۔ جوابی بیانیہ تخلیق دینے کا مطالبہ کرنے والے اربابِ حلّ و عقد کے لیے یہ بنیادی ڈھانچہ فراہم کرنے کی ایک معنی خیز کاوش ہے۔

تاہم یہ کوئی جذباتی، سیاسی یا لادینی تحریر نہیں، بلکہ – اپنے اجزا اور مصنّف کے دعوے – ہر دو اعتبارات سے ایک خالص دینی استدلالیہ ہے جو مصنّف کی مفسرانہ مشق کے اجمالی نتائج ایک مختصر فہرستِ ادّعاءات کی صورت میں علمی مباحثے کے لیے پیش کرتا ہے۔ یہ جوابی بیانیہ اگرچہ ایک صحافتی تحریر کی صورت میں منظرِ عام پر آیا اور موضوعِ بحث بنا، تاہم اہلِ علم جانتے ہیں کہ اس میں مؤلف دعاوی غامدی صاحب کی دہائیوں پر پھیلی تحقیق و مطالعے کے وہ نتائج ہیں جو اپنی پوری تفصیل و تخریج کے ساتھ اُن کی تصنیف 'میزان' میں بہت پہلے سے موجود تھے۔چنانچہ یہ بیانیہ بظاہر اگرچہ اجمالی ہے، مگر اس کا ہر ہر نکتہ اپنے پیچھے پوری تفصیل و دینی استنباط رکھتا ہے۔ جن دس نکات نے اس میں جگہ پائی ہے اُن کا اانتخاب مدّعی نے جس صریح و مذکور مقصد کے حصول کو مدّنظر رکھ کر کیا ہے وہ نہ صرف معقول بلکہ پوری طرح جامع بھی ہے۔تاریخ کے طالبعلم جانتے ہیں کہ ایسی تحریریں، خواہ وہ ایک مراسلے یا اخباری تراشے ہی کی صورت میں عالمِ واقعہ میں نمودار کیوں نہ ہوئی ہوں ماضی میں عظیم فکری و انتظامی اصلاحات کا موجب بنی ہیں۔ خواہ وہ مارٹن لوتھر (Martin Luther) کے 'پچانوے دعاوی' (Ninety-five Theses) ہوں یا امیل زولا (Emile Zola) کی 'ژیکیوز' (J'Accuse)۔

اگرچہ یہ بیانیہ پہلے ہی بہت مختصر و جامع ہے، اور شائید مزید اختصار کا متحمل نہ ہو پائے، تاہم موقع کی مناسبت سے میرے اپنے الفاظ میں اس کا خلاصہ ایک پیراگراف میں کچھ یوں ہے:

"اسلام ریاست کے متعلق کوئی احکامات نہیں دیتا۔ اس کے سب احکامات افراد ہی کے لیے ہیں جو اپنی مختلف حیثیتوں جیسے اربابِ حلّ و عقد، شہری، شوہر، بیوی، استاد، دکاندار، سپاہی وغیرہ کے لحاظ سے ان احکامات کے مخاطب ٹھہرتے ہیں۔ اس لیے نہ تو ریاست کا تعلق مذہب سے جوڑنا اسلام کا تقاضا ہے اور نہ ہی اس کے نتیجے میں مسلم و غیر مسلم کے مابین درجات کی تفریق کوئی دینی مطالبہ۔ چنانچہ مزعومہ ریاست ہائے متحدہ کے برخلاف موجودہ دور کی متفرق قومی ریاستیں،ان میں بٹ جانے والے مسلمان،اور ان میں برابری کی سطح پر حقوق پانے والے شہریت کے نظام میں سے کسی ایک پر بھی اسلام کو کوئی اعتراض نہیں۔ نظامِ حکومت کے اعتبار سے نظریۂِ 'خلافت' اگرچہ مسلمانوں میں مشہور تو بہت ہے مگر دراصل یہ نہ کوئی دینی اصطلاح ہے، نہ اسے قائم کرنا کوئی دینی حکم، اور نہ ہی قومیت کے لیے اسلام کے سوا دوسرے مشترکات کو بنیادبنانے کی کوئی ممانعت۔حکم ہے تو بس اتنا کہ مسلمان جہاں کہیں بھی رہیں اپنے دین کی پابندی کریں، اگر حکومت میں ہوں تو جمہوریت کے اصولی طریقے پر نظام بنائیں اور چلائیں، اور دنیا کے سب مسلمانوں کو اپنا بھائی سمجھیں۔ اور مسلمان ہر وہ شخص ہے جو مسلمان ہونے کا اقرار کرے قطعِ نظر اس سے کہ ہمارے خیالات کے مطابق اس کے عقائد و افعال میں کوئی ضلالت ہو۔ ہمیں زیادہ سے زیادہ اختیار یہ ہے کہ ہم میں سے علم والے لوگ اُن کو اس گمراہی پر مطلع کریں، مگر ہم میں سے کسی کو یہ اختیار نہیں کہ اُن کے خلاف کوئی اقدام کریں یا اُن کو اسلام کے دائرے سے باہر قرار دیں، کیونکہ یہ حق خدا ہی کے دینے سے مل سکتا تھا جو اُس نے کسی کو نہیں دیا۔ پھر وہ افراد و اقوام جو اپنے اقرار کے مطابق بھی شرک، کفر اور ارتداد کا ارتکاب کریں تواُخروی اعتبار سے یقیناًیہ سنگین جرائم ہیں، لیکن اِن کی سزا کوئی انسان کسی دوسرے انسان کو نہیں دے سکتا۔ یہ خدا ہی کا حق ہے جسے اگر اس نے استعمال کرنا ہوتا ہے تو رسولوں کے ذریعے اتمامِ حجت کے بعد کرتا ہے۔ تاہم ہر شخص جانتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اِس کا دروازہ ہمیشہ کے لیے بند ہو چکا ہے۔ جہاد بیشک اللہ کا حکم ہے مگر اس حکم کا مخاطب صرف مسلمانوں کا نظمِ اجتماعی ہے،اس کا جواز صرف فتنے (persecution)کا استیصال ، اور اس جواز کا استعمال بھی تمام اخلاقی قیودات کے ساتھ صرف مقاتلین (combatants) کے خلاف ہو سکتا ہے۔ مسلمانوں میں کا کوئی گروہ اس کا مجاز نہیں کہ جہاد کا اعلان کرے یا اُس اعلان پر لبیک نہ کہنے والوں کے خلاف اقدام کرے۔ اور رہی نفاذِ شریعت تو یہ تعبیر بھی مغالطہ انگیز ہے۔ دین کے ایجابی احکامات میں سے تو صرف نماز اور زکوٰۃکا تقاضا کوئی ریاست قانون کی طاقت سے مسلمانوں سے کر سکتی ہے۔ اس کے ماسوا جو ایجابی تقاضے یا قرآن و سنت میں غیر مذکور سزائیں بھی قوانین کے ذریعے نافذ کرنی ہوں اُن کے لیے عوام کی رضامندی لازمی ہے۔ہاں جو احکامات مسلمانوں کو بحیثیتِ معاشرہ دیے گئے ہیں اُن پر عمل کا مطالبہ حکمرانوں سے کیا جائے تو یہ شریعت پر عمل کی دعوت ہے، نفاذِ شریعت کی تعبیر اس کے لیے بھی موزوں نہیں۔ تاہم مسلمانوں کے اربابِ حلّ و عقد اگر اِس کے باوجود اِس معاملے میں کوتاہی کے مرتکب ہوتے یا سرکشی اختیار کر لیتے ہیں تو علما و مصلحین کی ذمہ داری اِس کے سوا کچھ نہیں کہ وہ اُنھیں دنیا اور آخرت میں اِس کے نتائج سے خبردار کریں۔ اُنھیں حکمت کے ساتھ اور موعظۂ حسنہ کے اسلوب میں صحیح رویہ اختیار کرنے کی دعوت دیں۔ داروغہ بننے کا اختیار کسی کو حاصل نہیں۔"

قارئین دیکھ سکتے ہیں کہ اسلام اور ریاست سے متعلق یہ کس قدر اہم نکات ہیں۔ ماہرینِ علمِ سیاسیات یا دہشت گردیات یہ سمجھ سکتے ہیں کہ یہ انکشافات جتنے اساسی ہیں اتنے ہی حساس و اہم بھی۔ یہ باور کرنا کوئی مشکل نہیں کہ ان کی تصویب کے نتیجے میں دورِ حاضر میں درپیش دہشتگردی اور انتہاپسندی ہی نہیں بلکہ مسلمانوں کی عمومی سیاسی و قانونی فکر و تحریک میں کس قدر انقلابی تبدیلیاں آ سکتی ہیں۔ یعنی جن معاملات میں اب تلک مقامِ بحث علماء و مخاصمین کے مابین متفقہ اہداف کے حصول کے لیے محض طریقہ کار کا اختلاف تھا ، اس بیانیے کی تسلیم کے نتیجے میں وہ اہداف سرے سے اہداف ہی نہیں رہتے۔مثلاًمسلم حکومتوں کے باغی اور علما دونوں ہی اس بات کے قائل ہیں کہ اسلام کا نظام خلافت ہے، جو پاکستان سمیت دنیا کے سب مسلم ممالک کے انضمام سے ایک سلطنت ہائے متحدہ بنا کر اُس میں نافذ کرنے کی نہ صرف کوشش کرنی چاہیے بلکہ واجب ہے۔ اس لیے قابلِ بحث معاملہ فقط اتنا ہے کہ یہ جدوجہد پُر امن ہونی چاہیے یا پُر تشدّد بھی ہو سکتی ہے کہ نہیں۔ جبکہ غامدی صاحب کے جوابی بیانیے کے نتیجے میں اصل بحث یہ قرار پاتی ہے کہ خلافت سرے سے کوئی دینی اصطلاح اور اس کو قائم کرنے کی سعی سرے سے دین کا مطالبہ بھی ہے کہ نہیں۔ چنانچہ کوئی چاہے غامدی صاحب کے نتائج سے اتفاق کرے یا اختلاف کوئی ذی عقل اور فکر مند شخص دورِ حاضر میں اس موضوع پر بحث کی اہمیت اور فوری ضرورت سے انکار نہیں کر سکتا۔

اس اعتبار سے دیکھا جائے تو یہ بیانیہ اِس دَور کی ایک معرکہ آرا کاوش ہے۔ یہ بیک وقت عوام الناس کے لیے اُن کی رعایت سےاور اہلِ علم کے لیے اُن کے فنّی تکلفات کی پابندی کے ساتھ، پوری سادگی مگر بلا کم و کاست، نہ صرف مذہبی فکر کے اُن بنیادی مقدّمات کی نشاندہی کر دیتا ہے جو متداول فساد کی رگِ معدن اور مولد ہے، بلکہ اُن مقدّمات پر دین کا صحیح مؤقف دینے کا بھی دعویدار ہے۔ ان ادّعاءات میں سے اکثر کی دلیل بھی بڑی سادہ ہے۔ یعنی یہ کہ فلاں اور فلاں دعاوی نہ اللہ کے قول میں کہیں ملتے ہیں اور نہ ہی رسول اللہ ﷺ کی حدیث میں۔

بیانیے کا یہ انداز بحث کی نوعیت کو بہت سہل اور سادہ بنا دیتا ہے۔ مصنّف نے اسے فقہ، کلام،فلسفہ اور تصوّف وغیرہ کی آمیزش سے پاک کر کےخالص قرآن و سنت کی بنیاد پر پیش کر دینے کا جو دعوٰی کیا ہے وہ پوری طرح درست معلوم پڑتا ہے۔ یعنی اس کے ادّعاءات کی درستی پر تو بحث ہو سکتی ہے مگر ان کی سادگی پر نہیں۔

بیانیے کے انداز میں کچھ واضح کمالات ہیں۔ ایک تو یہ انداز اختلاف کرنے والے سے فقط اتنا مطالبہ کرتا ہے کہ اللہ یا رسول اللہ ﷺ کا کوئی ایک غیر مبہم قول بھی ہو تو دعوے کی نفی کے لیے کافی ہو سکتا ہے۔ دوسرے یہ کہ ملحدین اور لادینیت کے قائل مشرقی و مغربی مفکرین کے بیانیوں کے برخلاف یہ بیانیہ اللہ کے نازل کردہ مذہب کو نہیں بلکہ علما کے تعمیر کردہ مذہبی بیانیے کو ہدفِ تنقید بناتا ہے۔ پھر یہ اپنے استدلال کو سمجھانے یا اُسے ردّ کرنے کے لیے کسی پیچیدہ فقہی یا دقیق صوفیانہ کلام سے واقفیت کا مطالبہ بھی نہیں کرتا۔ یہ عام عوام کو موقع اور حوصلہ دیتا ہے کہ وہ علما سے پوچھ پائیں کہ آخر یہ مقدمات جو آپ نے قائم کیے ہیں آخر اللہ اور رسول کے کہے بغیر ثابت ہی کیسے ہوتے ہیں۔

چنانچہ اس بیانیے کے اوّلین مخاطبین تھے علما۔ پس جلیل القدر علما اور فہمِ دین رکھنے والے دانشوروں نے اس کے شائع ہوتے ہی اسے موضوعِ بحث بنا کر حسبِ توقع شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ مفتی تقی عثمانی، مفتی منیب الرّحمٰن، مولانا ابو عمار زاہد الراشدی، ابتسام الٰہی ظہیر، محمد حنیف جالندھری، اوریا مقبول جان ،انصار عباسی وغیرھم اس فہرست میں سے صرف چند اہم نام ہیں جنہوں نے اس بیانیے کے مختلف مندرجات پر نقد و جرح فرمائی۔ پھر کچھ اساسی نوعیت کے اشکالات کے رفع کی خاطر غامدی صاحب نےبعد ازاں توضیحی مضامین شائع کیے جو بالترتیب 'ریاست اور حکومت'، 'خلافت'، 'اسلام اور قومیت'، 'پارلیمنٹ کی بالادستی' اور 'قانون کی بنیاد' کے عناوین سے شائع ہوئے۔ ان پر بھی وقتاً فوقتاً نقد کا کام اہلِ علم فرما رہے ہیں۔ تاہم یہ مباحثہ اب تک توقعات کے اعتبار سے مایوس کنُ، رفتار کے اعتبار سے سست اور باعتبارِ اہمیت ناکافی اور غیر تسلی بخش رہا ہے۔

بیانیے پر نقد دو ہی زاویوں سے کیا جا سکتا تھا۔ ایک اُن مذہبی دعاوی پر جو اس میں کیے گئے۔ چنانچہ اس زاویے پر بہت سے تنقیدی مضامین شائع ہوئے۔ کچھ مضامین میں صرف سوالات اٹھائے گئے۔ جیسے مثلاً تقی صاحب نے اس بیانیے کے چند مبیّنہ اندرونی تضادات پر منطقی و تکنیکی سوال اٹھائے۔ کچھ مضامین میں علما کے متفقہ نظریات سے اختلاف پر مبنی جوابی بیانیے کے نکات کو علمی بنیادوں پر چیلنج بھی کیا گیا۔ اور کچھ ناقدین کی جرح کا اصل رُخ تو محض مصنّف کی بدنیتی ثابت کرنا رہا، نہ کہ علمی استرداد۔تاہم اِن اختلافی مضامین میں قابلِ ذکر استدلالات کے جوابات جب غامدی صاحب نے خود یا جوابی بیانیے کے دوسرے مؤئّدین[1] کی جانب سے دے دیے گئے تو ناقدین کی جانب سے کوئی پیشرفتی تصنیف سامنے نہ آئی۔ الغرض، آج تک پہنچتے پہنچتے اس زاویے پر بحث کی پائپ لائن تقریباً سُوکھ چکی ہے۔

بیانیے پر نقد کا دوسر زاویہ تھا غامدی صاحب کا یہ دعوٰی کہ موجودہ انتہا پسندانہ سوچ اسی فکر کا مولود فساد ہے جو جوابی بیانیے میں زیرِ بحث مروّجہ مذہبی بیانیے کے بنیادی نظریاتسے پیدا ہوتا ہے۔ اس دعوے سے بھی ظاہر ہے علمی بنیادوں پر اختلاف کیا جا سکتا تھا اور کسی قدر کیا بھی گیا، اگرچہ اس موضوع پر کوئی قابلِ ذکر تحریر سامنے نہ آسکی۔ تاہم علم و تحقیقکی دنیا سے وابستہ علما و محققین جانتے ہیں کہ ایسے دعوے کے لیے علمی بنیادوں پر مبنی باقاعدہ تحقیق ہونی چاہیے جس کے بعد ہی ایسے دعوے کی تصویب یا تردید ممکن ہو سکتی ہے۔ مگر معاملہ یہ ہے کہ ہمارے ملک یا دوسرے اسلامی ممالک میں دہشتگردی اور مذہبی فکر کے اس تعلق پر عالمی معیارات کے مطابق کوئی ریسرچ اب تلک نہ ہو پائی ہے۔ البتہ مغربی ممالک میں ایسی چند تحقیقات شائع ہوئی ہیں۔ یہ تحقیقات زیادہ تر اس نتیجے پر پہنچی ہیں کہ بیشتر دہشتگرد نظریاتی اعتبار سے نو آموز اور مذہبی علم کے اعتبار سے مبتدی یا اناڑی ہوتے بلکہ اکثر ماضی کے اعتبار سے پیشہ ورانہ مجرم رہے ہوتے ہیں۔ جن کی اصل رنجش مغربی فوجی مہمات اور عالمی ناانصافیاں ہوتی ہیں نہ کہ مذہبی تصورات[2][3][4][5]۔

میرے نزدیک یہ اکتشافات ناکافی اور ہمیں درپیش مسائل کی غالب نوعیت کے اعتبار سے غیر متعلق بھی ہیں۔ ایک تو اس لیے کہ اِن میں سے اکثر تحقیقات اصلاً عملِ جذریت (Radicalization) کا بنیادی مسئلے کی حیثیت سے مطالعہ کر رہی ہوتی ہیں، یعنی کسی شخص کی تجذیر (Radicalize) آخر ہوتی کیسے ہے۔ تو اس میں تو ظاہر ہے نظر آنے والی سیاسی و معاشی شکایات زیادہ اثر پذیر نظر آئیں گی نہ کہ پسِ پردہ کارفرما عوامل و نظری محرّکات۔ دوم، یہ اکتشافات اکثر پیادہ مزاحمین (foot soldiers) – جو فقط آلے اور جارحے کی حیثیت میں استعمال ہو رہے ہوتے ہیں –سے باز پرس و انٹرویوز اور تجزیے پر مبنی ہوتے ہیں کیونکہ وہی زیادہ تر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ہاتھ لگتے ہیں۔ ان کے نظری پیشوا کم ہی کہیں بازیافت ہو پاتے ہیں، اور جب کبھی ہوئے ہیں تو مذہبی فکر لازماً ایک اہم عاملہ قرار پائی ہے۔ اور سوئم اور سب سے اہم، یہ سب تحقیقات مغربی ممالک کے ماحولی نظام میں پیدا ہونے والے انتہا پسندوں کے مطالعے پر مبنی ہوتی ہیں۔ اسلامی ممالک میں پنمپنے والی متشدد تحریکاتاور حکومتوں سے برسرِ پیکار باغی گروہ ان تحقیقات کے دائرے میں سرے سے آتے ہی نہیں۔

ہر چند، میرے نزدیک بھی انتہاپسندی اور روایتی مذہبی فکرکا یہ تعلق محتاجِ تحقیق ہے اور اس سلسلے میں ایک عرق ریز تحقیق فوری مطلوب ہے۔ پر میرا رجحان یہ ہے کہ جب کبھی بھی ایسی تحقیق ہوئی تو اِس کے اکتشافات و نتائج کا زیادہ سے زیادہ اثر اس تعلق کے تناسب پر پڑے گا نہ کے اس کے وجود پر۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ روایتی مذہبی بیانیے کے اہم اجزا –جن میں سے کسی کا بھی انکار کسی روایتی مذہبی حلقے کی جانب سے کبھی نہیں ہوا بلکہ اُس کے دفاع ہی میں علما و دانشور اکٹھے نظر آئے – کو کسی ذی عقل کو بھی اعتقاداً سکھلا دیے جانے کی ایک تخیّلانہ مشق (Mind game) ہی کر کے دیکھ لیا جائے تو بادنٰی تامل یہ بات آشکار ہو جاتی ہے کہ انتہا پسندی کا اس کے نتیجے میں پیدا ہو جانا 'اگر' (if) کا مسئلہ نہیں بلکہ فقط 'کب' (when) کا مسئلہ بن جاتا ہے۔یعنی کسی مسلمان کو اگر یہ بتا دیا جائے کہ مذہبِ اسلام متفرّق قومی ریاستوں میں بٹ جانےیا جمہوریت کا نظام اپنا لینے وغیرہ کو گناہ سمجھتا ہے یا یہ کہ کافر، مشرک یا مرتد کی گردن زنی کو جائز یا واجب سمجھتا ہے تو کون سا محقق ہے جو اس کے مہلک نتائج کے بارے میں تذبذب کا حامل دکھائی دے۔ مزید برآں ہماری سکیورٹی فورسز سے ایک سوالنامے کی صورت میں پوچھ کر دیکھ لیجیے کہ پکڑے جانے والے دہشتگردوں اور اُن کے معاونین کے مذہبی تصورات کس قدر اُن کے قاتلانہ اقدامات کے لیے بنیاد بنتے ہیں، جواب آپ کو قطعاً حیران نہیں کرے گا۔

مدرجہ بالا تفصیل کے نتیجے میں میرے حکومت سے دو مطالبات ہیں۔ ایک یہ کہ مذہبی فکر اور انتہاپسندی کے تعلق پر تحقیقی قواعد پر مبنی ایک تفصیلی تحقیق فی الفور کروائی جائے تا کہ یہ انتہائی اہم قضیہ حل کی طرف بڑھ سکے اور حکومت کو پالیسی سازی میں رہنمائی مل سکے۔ اور دوم – اور میرے مضمون کا مقصد بھی یہی ہے – کہ اب ضرورت ہے کہ جوابی بیانیے کے اس مباحثے کو حکومتی سرپرستی حاصل ہو جائے۔ جبکہ حالیہ دنوں میں بھی حکومت ایک جوابی بیانیے کا مطالبہ متعدد بار دہرا چکی ہے۔ روایتی مذہبی طبقے نے اس بحث کے معاملے میںجس استخفاف، غیر سنجیدگی اور شائید نظر اندازیکا رویہ اختیار کر رکھا ہے اس سے صاف دکھائی دیتا ہے کہ سرکاری توجہ کے بغیر یہ مباحثہ کسی منطقی انجام تک پہنچنے کا نہیں۔درانحالیکہ یہ ایک ایسا مباحثہ ہے جس کے بطن سے دہشتگردی جیسی لعنت کا مختتم جنم لے سکتا ہے۔

کوئی بھی حکومت سے یہ توقع نہیں رکھتا اور نہ رکھنی چاہیے کہ وہ اس مباحثے کے کسی ایک فریق کے دعوے کو من قبلِ ثبوت تسلیم کر لے۔ مگر یہ مطالبہ بالکل بر محل ہے کہ حکومت اس مباحثے کا انعقاد اپنی سرپرستی میں کرائے۔ حکومت کو یہ سمجھنا ہو گا کہ اگر یہ مباحثہ نہ کروایا گیا تو اختلاف کا میدان صرف متفقہ اہداف کو حاصل کرنے کے طریقہ کار کارہے گا۔ کیا حکومت اس معاملے میں تساہل کا مظاہرہ کرے گی جبکہ ان اہداف پر ہی سوال اٹھا دیا گیا ہو؟ یعنی اس بیانیے کی مثال کچھ یوں ہے جیسے فریقین کے درمیان مقدمہ یہ چل رہا تھا کہ کسی وارث کا وراثت میں حق کتنا ہے اور اس کو حاصل وہ کیسے کر سکتا ہے کہ اسی اثنا میں ایک شخص نے صریح ثبوتوں کے ساتھ اس وارث کے نسب/ولدیت پر ہی سوال اٹھا دیا ! کیا حکومت ایسے معاملے میں پھر بھی خود کو علیحدہ رکھنا گوارا کر لے گی؟ یا اُس کو زیب ہی دیتا ہے؟؟

حکومت کو فقط اتنا کرنا ہے کہ فریقین کو آمنے سامنے کر کے سرکاری حفاظت و نگرانی میں مذاکرے کا موقع دے اور ضرورت پڑے تو مذاکرے کے لیے مجبور کرے۔ دونوں کے اطراف کے نمائندہ علما مباحثے کے ذریعے حکومت و عوام کے لیے ایک واضح منشور ترتیب دے سکتے ہیں۔ اور اگر مباحثے کے نتیجے میں طرفین کسی ایک نتیجے پر نہیں پہنچ پاتیں تو حکومت کا یہ حق بلکہ ذمہ داری ہے کہ دلائل کی بنیاد پر قوی فریق کے مقدمے کو اختیار کر کے پالیسی سازی کرے۔ حکومت کے منتظمین خدا کے سامنے اس مقصد کی خاطر جوابدہ ہیں۔

________


[1] جیسے مثلاً اس بلاگ پر ہر ہر اختلافی مضمون کا تجزیہ کر کے جوابات دے دیے گئے ہیں: 

https://mymusingsinurdu.wordpress.com/

[2] https://theintercept.com/2016/10/11/us-military-operations-are-biggest-motivation-for-homegrown-terrorists-fbi-study-finds/

[3] http://bigstory.ap.org/article/84c09c4cbfd1408a8ca08cbddcefbd97/islamic-state-gets-know-nothing-recruits-and-rejoices

[4] https://www.theguardian.com/uk/2008/aug/20/uksecurity.terrorism1

[5] http://icsr.info/wp-content/uploads/2016/10/ICSR-Report-Criminal-Pasts-Terrorist-Futures-European-Jihadists-and-the-New-Crime-Terror-Nexus.pdf

_______________




By this author