“کافر” کا اطلاق: چند توضیحات

“کافر” کا اطلاق: چند توضیحات


کافر:

جو انسان حق کو جانتے بوجهتے ماننے سے انکار کر دے وہ خدا کے ہاں ابدی جہنم جیسی سخت ترین سزا کا مستحق قرار پاتا ہے۔قرآن مجید ایسے سرکشوں کا تعارف" کافرین" سے کرواتا اور ان کے انجام کی خبر ابدی جہنم کی سخت ترین سزاسے دیتا ہے۔ قرآن مجید جہاں کافر کی تعبیر اختیار کرتا ہے ساتھ ہی اس گروہ کے بد ترین انجام کو بهی لازم مانتا ہے۔قرآن مجیدمیں کافر انہی حقیقی معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ 

مسلم:

اس کے بر عکس جو انسان حق کو جاننے کے بعد اسے قبول کر لیتا اوراس کے سامنے سرتسلیم خم کر جاتا ہے، اسے قرآن مجید "مومنین" سے تعبیر کرتا اور ابدی جنت کی بشارت دیتا ہے.

انسانی افراد و گروہوں کا معاملہ :

تمام انسانی افراد اور گروہوں کا معاملہ مگر اتنا سادہ نہیں۔ قرآن مجید کے بیان کردہ اس واضح معیار اور انجام کے علاوہ انسانوں کی کئی سطحیں چلتی پهرتی زندگی میں دیکهی جا سکتی ہیں۔ قرآن مجیدلوگوں کو خبردار کرتا ہے کہ تمہارا انجام جنت یا جہنم ہو گا۔ پهر بتاتا ہے کہ جہنم کے مستحق کافرین اور جنت کے مستحق مومنین ہوں گے۔ دو انجاموں کو سامنے رکھ کر خالص اخروی تناظر میں انسانوں کو ان دو درجوں کے سوا تقسیم کیا بهی نہیں جا سکتا۔ خدا مسلم اور کافر میں حتمی تفریق کی لکیر کل قیامت کو خود کهینچ کر رہے گا۔ کفر و اسلام یا اس کے چهوٹے بڑے مظاہر کا کامل ادراک جزا ءو سزا دینے کی سزاوار ہستی کے سوا کسی کو نہیں، اور وہ یقینی طور پر صرف اور صرف خدا ہی کی ہستی ہے۔اسی وجہ سے کہا جاتا ہے کہ حقیقی کافروں کا علم خدا کے سوا کسی کو نہیں۔ مگر انسان" مومن "اور "کافر "کی اس معیاری سطح سے مختلف ،کئی اورسطحوں پر اتر آتا ہے۔ جس جس کو دیدہ بینا میسر ہو اسی خدا کی زمیں پر چلتی پهرتی خدا کی مخلوق کو دیکھ کر جائزہ لے سکتا ہے۔میں خودجن مسیحی، ہندو اور سکھ احباب سے ملاقات کر پایا، یہ یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ ان میں سے کسی ایک میں بھی جانتے بوجھتے حق کا انکار کر جانے کی کوئی علامت مجھے محسوس نہیں ہوئی۔سکھ دوست کا حمد باری تعالیٰ کے اشعار سن کر آنسو بہہ پڑنا مجھے اب بھی یاد ہے۔میرے لیے مشکل ہے کہ اس مشاہدہ کے بعد بھی کہہ جاؤں کہ وہ حق کا جانتے بوجھتے منکر تھا۔یہ محض ایک استثنائی مثال نہ تھی ، دیگر مذاہب کے ماننے والوں سے ملاقات کر پانے والے ہر جگہ اس کے مظاہر دیکھ سکتے ہیں۔ انسانوں کی ان دو معیاری (کافر اور مومن) سطحوں سے نیچے کی زندگی کی سبهی سطحوں کو جان کر عنوانات دے دینا، خدائی منصب ہی ہو سکتا ہے، یہ انسانی بساط سے نکلا ہوا کام ہے۔ البتہ ان دو سطحوں کے علاوہ عام طور پر چند اور سطحیں بهی انسانوں میں دیکهنے کو ملتی ہیں۔ خدا جب کافر و مومن کا لفظاستعمال کرتا ہے تو حقیقی اور اخروی معنوں میں ہی استعمال کر رہا ہوتا ہے۔اس تناظر میں انسانوں کی سبھی سطحوں کے تذکرہ ضروری نہیں۔ مگر مسلم قوم کو اس دنیامیں جینا اور اور اپنا امتیاز و تشخص باقی رکهنا ہوتا ہے۔ اسے بعض دنیوی احکام میں بهی مسلم و کافر کی تقسیم کرنا پڑ جاتی ہے۔مثال کے طور پرجنازہ پڑهنا، رشتے ناتے کرنا وغیرہ امور ۔مگر یہ تقسیم سراسر دنیوی تقسیم سے زیادہ کی حیثیت نہیں رکهتی۔اس تقسیم کی بنیاد پر قیامت میں ہرگز فیصلے نہیں ہونے۔یہ معاملہ "عند الناس" کی حد تک ہوتا ہے۔ اس کے پیچھے خدائی فرمان یا کوئی نص نہیں ہوتی۔ ہمارے فقہاء کے ہاں انسانوں سے متعلق احکامات کا فرق ،دو بڑی تقسیمات، کافر اور مسلم کے تحت ہی ہوا ہے۔چنانچہ ہمارے فقہاء بهی دنیوی حد تک یہی اصطلاحات استعمال کر کے انسانوں کو عمومی طور پر دو بڑے گروہوں میں تقسیم کرکےدنیوی احکامات بیان کرتے ہیں۔یہاں کافر کی تعبیراصلاً کسی کی تکفیر یا کسی کو کافر قرار دینےاور کافر ہی کہنے پر اصرار کے پیشِ نہیں بلکہ چند دنیوی احکام (نکاح، جنازہ وغیرہ )کے بیان کے لیے اختیار کر دی جاتی ہے۔گویا یہاں در اصل کافر کا اطلاق کرنانہیں بلکہ ان احکامات میں فرق بیان کرنا مقصود ہوتا ہے۔فقہاء کی یہ تقسیم عمومی دائرے میں دنیوی احکامات کے اجراء کی غرض سے ہوتی ہے، جس کایہ مطلب ہر گز نہیں ہوتا کہ فقہی تقسیم میں کافر قرار پانے والا گروہ ابدی جہنم کا مستحق بهی ٹهہر چکا۔اس ثابت شدہ علمی حقیقت کے باوجود عام مسلم نفسیات میں یہ بات کسی طرح راسخ ہو چکی ہے کہ تمام غیر مسلم، کافر اور ابدی جہنم کے مستحق ہیں ۔اگرمذہبی لحاظ سے افراد اور گروہوں میں واقع یہ دنیوی فرق ، عمومی تقسیم میں "کافر" اور "مسلم" کے علاوہ کسی اور موزوں تعبیر کے تحت بیان کر دیا جائے تو اصلاً اس میں کوئی مانع نہیں۔

مسلم کی تعبیر میں تو کوئی قباحت یا حرج نہیں تاہم "کافر" کا اطلاق اس طرح کا سادہ معاملہ نہیں۔

منافق:

نزول وحی کے زمانے میں کچھ لوگ اس سطح کے بهی پائے گئے جو دل میں کفر اور ظاہر میں اسلام لیے پهرتے تهے۔ وہ چو ں کہ اپنی اصل میں کافر ہی تهے سو انجام کے لحاظ سے ابدی جہنم کے مستحق ہی ٹهہرے۔ اس ظاہر وباطن کی دوئی نے انہیں کفار کی بدترین قسم تک بنا ڈالا، مگر دنیوی احکام کا اجراء حقیقی کفر یا حقیقی اسلام پر موقوف نہیں ،سو رسالت مآب ﷺ نے ان کی ظاہری حالت اسلام کے موافق پا کر کافر اور مسلم کی دو بڑی تقسیمات میں مسلم گروہ میں ہی شمار کیا۔ چناں چہ حقیقت میں کافر ہونے کے باوجود ان سے اسلامی مراسم ہی رکهے جاتے رہے ۔ حتی کہ صحابہ کو سارے منافقین کی خبر تک نہ کی گئی ۔ سو صحابہ منافقین کو مسلمان سمجھ کر ان کے جنازے تک پڑهتے رہے۔ قرآن مجید اس گروہ کو منافقین سے تعبیر کرتا ہے۔ منافقین اخروی لحاظ سے کافر اور دنیوی لحاظ سے مسلم تهے۔ مگر ان کی سطح کافر اور مسلم کی معیاری سطح سے الگ تهی، سو انہیں مسلم اور کافر کے سوا ایک الگ عنوان "منافقین" کا بهی دیا گیا۔ مگر یہ عنوان اس منافقانہ روش اور اس کے انجام سے خبردار کرنے کی خاطر اپنانا پڑا۔ دنیوی تقسیم میں منافقین کو الگ گروہ شمار کرنے کی بجائے مسلم گروہ کا ہی حصہ سمجها گیا۔ یہی وجہ ہے کہ فقہاء کفار و مسلمانوں کے دنیوی احکام توبیان کریں گے ،مگر قرآن میں ذکر کیے گئے منافقین کے گروہ کے الگ سے احکام ذکر نہیں فرماتے۔
نکتہ:

رسالت مآب ﷺ کے دور میں حقیقی کافر اور دنیوی کافر کا مصداق ایک ہی تھا، سو وہاں بلا تردد کافر کی اصطلاح دنیوی لحاظ سے بھی برتی جا سکتی تھی۔ مگر فقہاء کے ہاں یہ تقسیمی حقیقی نہیں محض دنیوی حد تک ہے۔دنیوی احکامات میں منافقین کے لیے الگ سےکوئی احکامات نہ پا کر فقہاء نےانسانوں کی دنیوی تقسیم میں منافقین کی تعیین و تذکرہ نہیں کیا۔اب کوئی ذہین دماغ یہ نتیجہ نہ اخذ کر بیٹهے کہ فقہاء کے ہاں منافقین "ڈائنوسار" بن گئے کہ اب پائے ہی نہیں جاتے۔ خوب سمجھ لینا چاہیے کہ منافقین" ناپید " ہو کر "ڈائنوسار" نہیں بن گئے، وہ بلاشبہہ آج بھی ہوں گے، پر مگر ان کی تعیین انسانی بساط سے باہر کا کام ہے۔ہم انذار کے درجہ میں آج بهی نفاق کو بیان اور اور اس سے بچنے کو بار بار کہہ سکتے ہیں۔ نفاق کی علامات بیان کر سکتے ہیں۔ مگر چوں کہ دنیوی تقسیم میں منافقین کے گروہ کو مشخص کر لینا ضروری نہیں اس لیے نفاق کی ظاہری علامات کے پائے جانے کے باوجود منافقین کو الگ مشخص اور متعیین نہیں کیا جا سکتا۔ اسلام کے ابتدائی زمانہ میں خدائی خبر کے بعد امت کی تاریخ اس سے خالی ہے کہ سوسائٹی میں باقاعدہ کسی گروہ کو منافقین کا گروہ قرار دے دیا گیا ہو۔ منافق کی دنیوی تعین ضروری نہ تهی سو معاملہ اخروی تقسیم کا بن کر خدا کے سپرد ہو گیا۔ سو وہاں کی تقسیم خالص خدائی اختیار ہو گا کہ اس قدر محیط علم اسی ہستی کا ہے۔ اخروی انجام میں یہ گروہ کافر ہی ہو گا ۔ یہ نکتہ نہ سمجها جائے تو مبادا کہاجانے لگے کہ اسلام کےابتدائی دور کے بعد منافقین ناپید ہونا شروع ہو گئے تهے، بلکہ" ڈائنوسار بن" گئے کہ بعد کا زمانہ منافقین کی تعیین سے خالی گزرا۔ کسی بات کو اصل تناظر سے ہٹا لینا اس طرح کے نتائج کے سوا پیدا بهی کیاکر سکتا ہے۔
غیر مسلم:

فقہاء کی عمومی دنیوی تقسیم میں کافر گروہ میں شمار کیا جانے والا طبقہ اخروی اعتبار سے بهی کافر اور ابدی جہنم کا مستحق نہ تها۔یہ تقسیم اصلاً دنیوی احکام کے اجراء کے پیشِ نظر کی گئی تھی۔ اس گروہ میں ایسے افراد بهی ہیں جو اسلام سے واقف ہی نہیں، ایسے بهی ہیں جو واقف ہیں مگر اس پر غور نہ کر سکے، ایسے بهی ہیں جو اسلام کو سچا مذہب مانتے ہیں ،مگر کہتے ہیں کہ اسلام مسلمانوں کا مذہب ہے ہندووں یا سکھوں کو ماننا ضروری نہیں۔ ہر قوم کا اپنا اپنا مذہب ہوتا ہے ۔سارے مذاہب سچے ہیں مگر پیروی اپنے مذہب کی کی جانی چاہیے۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے مسلمانوں کے داخلی مذاہب میں لوگ کہتے ہیں کہ شافعی مذہب برحق ہے پر پیروی اپنے امام کی۔یوں وہ حق مان کر بھی نہ قبول کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں کہ ایک دوسرا حق "حنفیت" ان کے پاس ہوتا ہے۔ یوں عالمی مذاہب کی سطح پر بهی یہ خیال بڑی تعداد میں لوگوں میں پایا جاتا ہے کہ مذاہب سارے سچے اور برحق ہیںمگر ہر قوماپنے مذہب کی پیروی کرے۔ یہ خیال بلاشبہ غلط ہے مگر ایسا کہنے والے کی طرف جانتے بوجھتے ھق کے انکار کرجانے کی نسبت نہیں کی جا سکتی، جبکہ کافر اسم کا احقیقی مسمیٰ جانتے بوجھتے انکار کر جانے والے ہی ہوتے ہیں۔

المختصر :

مختلف انسانوں سے ملاقات کا تجربہ رکهنے والے جانتے ہیں کہ ایسے افراد کم ہیں جن کے بارے میں یہ گمان کیا جا سکے کہ وہ جانتے بوجهتے حق کو نہیں مان رہے۔ اس پر مستزادپھر ان لوگوں کا اپنے لیےکافر لفظ کے استعمال سے نفرت کرنا بهی ہے۔جب واضح ہو چکا کہ دنیوی احکام کے فرق کے بیان کی خاطر مجبواراً یہ کافر کی تعبیر اختیار کر جانی پڑی، اب جب یہ کافر کا لفظ حقیقی معنوں میں بھی نہیں بولا جا ررہا، دیگر مذاہب کے ماننے والوں کوپسند نہیں کہ لوگ انہیں کافر کہا کریں، تو احکام کے فرق کی خاطر کسی اور موزوں تعبیر کو اختیار کیا جانا چاہیے۔ قرآن مجید بھی کفار کے ایک گروہ سے متعلق احکامات"اہل کتاب" ہی کے عنوان سے بیا ن کرتا ہے۔ان کے کافر ہونے کے باوجود قرآن کو انہیں کافر ہی کہنے پر اصرار نہیں۔ چناں چہ ہمارے فقہاء کا کہنا ہے کہ ذمی کو کافر کہہ کر پکارنے پر مسلمان کو تعزیری سزا دی جائے گی۔ جب دنیوی احکام کا اجراء ذمی کا عنوان دے کرممکن ہو جائے تو اسے کافر کہہ کر چڑانے پر اصرار ہرگز کوئی دینی مطالبہ نہیں، بلکہ فقہاء کے ہاں قابل تعزیر جرم ہے۔ پاکستان مین ہمارے علماء نے آئین کی شق میں سے " کافر" لفظ ہٹا کر " غیر مسلم" کی تعبیر اپنائی تو ہمارے نزدیک یہ ایک مستحسن عمل تھا۔اب تازہ درپیش صورت حال اور مشکلات کے پیش نظر انسانوں کی دنیوی تقسیم کافر کے علاوہ کسی موزوں عنوان کے تحت کر دینا ممنوع نہیں۔ہمیں چاہیے کہ" آئین پاکستان "میں علماء کے اختیار کیے گئے عنوان پر سنجیدگی سے غور کریں اور اس کی افادیت سمجھنے کی کوشش کریں۔ دنیوی احکام میں فرق کے بیان کی خاطر کافر لفظ کا اطلاق ہی ضروری نہیں۔ مسلم قوم کے الگ تشخص اور دنیوی احکام کے اجراء کے لیے غیر مسلم کا عنوان کافی اور موزوں ترین ہے، عہد رسالت میں چوں کہ دنیوی اور حقیقی کافر کا مصداق خارج میں ایک ہی تھا سو اس دور پر آج کی صورتِ حال کو قیاس کیا جانا درست نہیں۔ ایسا ممکن ہے کہ مسلم گروہ میں منافقین فاسقین بھی پائے جائیں اور غیر مسلم گروہ میں کافرین بهی موجود ہوں۔مگر دنیا میں ہم پر یہ فرق واضح ہو جانا بالکل بھی ضروری نہیں۔ انسانوں میں یہ حقیقی تفریق انسانی بساط سے باہر کا معاملہ ہے، سرے سے اس کا مکلف ہی نہیں۔ اس سے یہ نتیجہ نکالنا درست نہیں کہ کافر ناپید ہو گئے، ہم نفاق اور اس کے انجام کی طرح کفر اور اس کے انجام سے لوگوں کو خبر دار کرتے رہیں گے، اس مقصد کے لیے کافر اور منافق کا حقیقی اطلاق دنیا میں ہی ہو جانا یا اس کا انسانی بساط میں ہو جانا ضروری نہیں۔ "کافر کا آج بھی موجودہونا" ممکن ہے ، یہ بالکل الگ بات ہے، اور "کافر کے موجود ہونے کا معلوم بھی ہو جانا" یہ دوسری بات ہے۔ دونوں باتوں کو ایک سمجھ کر "کافر" کے ناپید ہونے کی خبر سنانا درست نہیں۔کافر لفظ ہی کے اطلاق پر اصرار اور بهی محل نظر ہو جاتا ہے جبکہ کوئی گروہ اس عنوان کو اپنے لیے پسند نہ کرتا ہو۔ جب انسانوں کی دنیوی تقسیم ہے ہی دنیوی مصلحت کی خاطر تو کیوں اخروی انجام کے پیش نظر استعمال کی گئی اصطلاحات پر اصرار بڑها دیا جائے، اوردنیوی مصلحت نظر انداز کر دی جائے؟




By this author