قرآن کی قطعیت، اختلاف کی گنجایش اور تکفیر

قرآن کی قطعیت، اختلاف کی گنجایش اور تکفیر



 خدا قبلہ زاہد مغل صاحب کے فہم میں برکت ڈالے کہ مسلسل تدبر اور اس کے نتائج سے علم کی خدمت کیے جارہے ہیں. ایک سلسلہ گفتگو میں کیا خوب فرما گئے کہ " کفر و ایمان کا تعلق جہاں دلالتوں سے ہے وہاں اس امر سے بھی ہے کہ اللہ تعالی نے انسان سے کن امور کو ماننے کا مطالبہ کس درجے میں کیا ہے یعنی ایک امر جس کا ذکر قرآن میں ہوا اس کے بارے میں شارع کی طلب کس درجے کی ہے۔" یہ جملہ محض پڑهنے کا نہیں تدبر کیے جانے کا مستحق ہے. معروف تعبیر سے وابسطہ کم دماغ ہیں جو اس سے آشنا ہیں کہ ہر جگہ " قرآن کے قطعی معنی" کا انکار کفریا گمرہی نہیں کہلایا کرتا. انکار کیے گئے معنی میں یہ اہم پہلوبهی دیکهنے کا ہوتا ہے کہ اس میں شارع کی طلب کس درجے کی ہے. اس اصول کی درست تفہیم ہو چکی ہو تو کہی جانے والی اگلی بات کی تفہیم میں آسانی متوقع ہو سکے گی.
 عام طور پر یہ سوال داغا جاتا ہے کہ جب "متن قرآن" کی اپنے معنی پر دلالت کو قطعی کہا جا رہا ہے تو اس میں اختلاف کیوں روا رکها جا سکتا ہے.؟ اس قطعی معنی کے انکار پر تکفیر یا تضلیل لازم آتی ہے سو چاہیے کہ جو قرآن کے کسی معنی کو قطعی بتائے وہ اس کے منکر کو کافر یا گمراہ بهی ٹهہرائے. قطعیت کے مفہوم کے ساتھ بہر حال تسلیم کا لزوم اور انکار پر کفر و گمرہی کالزوم، معترضین کے دماغ میں ابهر آنے والی قدر مشترک تهی. بهلا ہو جناب مغل کا کہ دماغوں کو اس بوجھ سے آزاد کرنے کو معاون بنے.


 قرآن مجید میں لفظ "قروء" استعمال ہواہے جو حیض و طهر میں مشترک ہے. اس اشتراک نے فقہاء کے ہاں اس لفظ کو صریح و قطعی دلالت کے مرتبہ سے گرا دیا. اب یہ اپنے معنی پر دلالت میں قطعی سے گر کر ظنی ہو چکا. اب گویا ہر دو معنی میں سے کسی بهی معنی کو مراد لیا جانا روا رکها جائے گا. کوئی کسی ایک معنی کو اختیار کر لے گا مگر دوسرے معنی کو مراد لے لینے والے کو گمراہ قرار نہ دے گا. سو امام ابوحنیفہ کا قروء سے حیض اور امام شافعی کا طهر مراد لینا گمراہی نہیں کہ بات ظنی دائرے میں چل رہی ہے. قرآن کا معنی جہاں قطعی ہو وہاں اختلاف گمرہی بلکہ کفر تک کو لازم ہو جاتا ہے. جناب مغل کی بات کوئی چاہے تو اس مرحلہ پر پهر نگاہوں میں رکھ لے. پهر یہ جانے کہ مکتب فراہی یہاں متن کو کس نظر سے دیکهتا ہے. اس کا ماننا ہے کہ "قروء "بطور لفظ اگرچہ مشترک ہے، مگر جب یہ کسی جملے میں استعمال ہو چکا تو اپنا اشتراک کهو چکا. اب لازم ہے کہ پوری قطعیت کے ساتھ اس کا ایک ہی معنی مراد لیا جائے. اس تعیین کے لیے نفس کلام پر تدبر کفایت کر جاتا ہے. کلام کی دلالتیں خود بتا کر رہیں گی کہ یہاں محض حیض ہی مراد ہو سکتا ہے، خود کلام کی رو سے طهر کے مراد ہونے کا کوئی امکان نہیں. کلام گو کسی دوسرے معنی کا احتمال نہ بهی مانے ممکن ہے کہ کوئی ذہن قلت تدبر یا قصور فہم سے کسی دوسرے معنی کو جا پہنچے. اب انسانی دماغ کے اس عذر کو لائق لحاظ ماننا کوئی امر ممنوع نہیں. یہ بهی لازم نہیں کہ خود کلام کی دلالتوں سے قطعی طور پر ثابت معنی کے انکار پر ہی کسی کی تکفیر یا تضلیل کے درپے ہوا جائے. دیکها جائے گاکہ انکار کی گئی بات شارع کے ہاں کس درجہ میں مطلوب ہے. سو حیض و طهر کا معاملہ ایسا نہیں کہ اس کی بنیاد پر کسی کی تکفیر یا تضلیل کی جسارت کر دی جائے. جو لوگ محض اختلاف رائے کی گنجائش نکالنے اور منکر کو کفر و ضلالت سے بچانے کے لیے کلام کو قطعیت سے اتار کر ظنیت کے درجہ میں لا کهڑا کرتے ہیں و تکلف بلا ضرورت میں مبتلا ہو چکے ہیں. کلام کو ظنیت پر اتارنے کے بعد کوئی احناف سے پوچھ بیٹهے کہ کہیے قروء سے آپ کا سمجها گیا حیض کا مفہوم رب کی مراد ہے یا نہیں..؟
 ایک حنفی اس کو رب کی مراد مان کر ہی عمل پیرا ہو گا یا اس شک میں جینے پر مجبور ہو گا کہ اسے یہ خبر ہی نہیں کہ یہ رب کی مراد ہے بهی یا نہیں..؟ سو چاہیے کہ جن پر جہاں رب کی مراد واضح نہ ہو پائے وہ وہاں عمل میں توقف روا رکهیں. جلیل القدر فقہاء بحث ریشم کے کیڑے کے انڈے کو بیچنا درست ہے یا نہیں..؟ جس پر جو موقف خدا کی مراد کے طور پر واضح ہوتا ہے وہ اسے بطور خدائی مراد پیش کرتا ہے. امام ابو یوسف پر مسئلے کے جواز یا عدم جواز کا پہلو واضح نہیں ہو پاتا تو فرماتے ہیں میں اس مسئلہ پر توقف کرتا ہوں. نہ جواز کا کہہ سکتا ہوں نہ عدم جواز کا. کسی رائے کا خدائی مراد ہو جانا فقیہ پر واضح نہ ہو پائے تو وہ امام ابویوسف کی طرح توقف ہی کر سکتا ہے. امام چاہتے تو اس بہت چهوٹے سے مسئلہ میں اپنے استاذ امام ابوحنیفہ والا موقف نقل کر دیتے پر مگر فقہ کے ایک جلیل القدر عالم ربانی سے اس کی توقع کیسے کی جا سکتی ہے. رب کی مراد نہ پا کر خود اپنی مراد کو رب کی مراد باور کر کے اس پر عمل بہر حال خدا کے دین پر عمل نہیں ہوتا. یہی کہا جائے گا کہ اگر یہ کہہ دیا جائے کہ قطعی طور پر مراد حیض ہی ہےتو طهر مراد لینے والوں کا کیا حکم ہو گا..؟ پوسٹ کی ابتدائی سطور غور سے پڑھ جانے والے اس سوال سے خود ہی نمٹ سکتے ہیں. پهر بهی دہرائے دیتا ہوں کہ یہاں حیض کے سوا دوسرا مفہوم مراد لینے کو "رب کی مراد کے علاوہ" تو لازما کہا جائے گا. رہی اس کی تضلیل و تکفیر سو وہ کلام کی قطعیت کے سوا کچھ اور امور پربهی منحصر ہے. سو موضوع کے اعتبار سے "لاالہ " کی قطعیت اور "قروء "کی قطعیت کا انکار ایک حکم نہیں رکهتا. جن قطعی مفاہیم تک اجتماعی فہم کی رسائی ہو چکی وہاں کلام "عند الناس" میزان بن کر اجتماعی فہم کے روبرو خدائی مراد و غیر مراد واضح کر نے کا حتمی ذریعہ بن چکا. جہاں انسانی فہم معاملہ اس نوعیت کا نہیں وہاں یہی میزان "عند الفرد" خدائی مراد و غیر مراد میں فارق کا کام دیتی رہے گی کہ میزان بہرحال یہی ہے. معاملہ "عندالناس" ہو یا "عندالفرد" بہر حال عقل کے دخل کے سوا کا نہیں ہو سکتا. قرآن کی قطعیت کا مفاد کچھ بهینہو بہر حال یہ تصور عقل کو معطل کرلینے کی تاثیر نہیں رکهتا. عقل اپنا وظیفہ جاری رکهے گی پر انسانی عقل روبہ عمل ہونے میں قرآن کی میزان کی حیثیت مانے گی بهی اوراس کیناسی حیثیت کو برت کر بهی دکهائے گی.


 یہ بجا ہے کہ فہم مراد خدا کی بجائے غیر مراد کو جا پہنچے کہ انسانی فہم سے کجی کهرچی نہیں جا سکتی. یہ بهی ممکن ہے کہ کبهی وہ "غیر مراد" کفر و ضلالت بهی ہو سکتا ہے پر اس کا ناتا دلالت سے جوڑنا درست نہیں.
 کلام کو قطعی ماننا لازم ہے کہ قرآن پر تدبر کرنے والا اس یقین پر خود کو لائے کہ وہ مراد خدا پا کر اس پرعامل ہو رہا ہے. اپنی ذات کی حد تک اسے قطعیت سے یہ طے کرنا ہو گا کہ اس نے کلام پر تدبر صرف کر ڈالا اور اب تک کے تدبر میں اس پر کلام کے یہ یہ قطعی مدلولات واضح ہو پائے. ممکن ہے وہ اپنے اس احساس و خیال میں خطا بهی کر گیا ہو کہ انسانی ذہن کو خطا سے بے نیاز باور نہیں کیا جا سکتا. مگر ایسا نہیں ہے کہ بیک وقت قرآن کے سبهی مفاہیم درست مان کر جیا جا سکے. کسی کو کسی کے فہم کی غلطی واضح کرنی ہو تو اس کا ذریعہ بهی خود کلام ہی ہو گا کہ یہ تنہاء اپنے معنی کے بیان پر قادر ہے. یہ کبهی اپنے معنی سے مجرد ہو کر انسانوں کے روبرو نہیں آیا.ناقد آگاہ کرے گا کہ غلط فہمی سے مراد لے لیے گئے اس معنی کو اس وجہ سے خود کلام ہی قبول نہیں کرتا.کلام کو میزان و حکم ماننے کی صورت میں اختلافات کے خاتمے کو یقینی جاننے والے غلطی پر ہیں. اختلاف ہو گا پر پهر اسی کلام کی میزان پر تلے گا. لوگ متعین کر کے پوچھتے ہیں کہ کہیے پردے سے متعلق اصلاحی و غامدی نقطہ خیال میزان پر تل کر کیا ہوا..؟ سو جو ان دو خیالات کو تولنا چاہے قرآن پر ہی تولے گا. تولنے والے پر لازم ہے کہ کلام پر تدبر سے یہ طے کرے کہ کون مراد خدا ٹهیک بیان کر پایا اور کون نہیں. وہ کسی ایک خیال کو مراد خدا قرار دینے تک تدبر جاری رکهے مگر بیک وقت دونوں کو مراد خدا باور نہ کرے. اسے دور کرنا ہے تو تدبر کی کمی دور کرے مگر کلام کو قطعیت سے اتار کر ظنیت کے دائرے میں نہ لائے.یہاں "عندالناس" میزان نہ سکنے کے باوجود کلام "عندالفرد" میزان بن کر رہا کہ اس کی یہ حیثیت اس سے کبهی جدا نہیں کی جا سکتی. عندالفرد قطیعی طور پر متعین ہو جانے والے معنی کے انکار پر کسی کو گمراہ یا کافر کہہ جانے کا مرتکب نہیں ہوا جائے گا. معاملہ عند الناس بهی ہو چلا ہو، تو بهی اس امر میں شتابی نہ برتی جائے گی.کلام کی میزان انسانی فہم کو یہ بتا کر رہے گی کہ مراد خدا کون درست سمجها اور کون غلط. اس فیصلے میں کسی پہلو سے کوئی غلطی پائےتو وہ بهی کلام ہی کے دروبست سے واضح کرے گا کہ میزان بہرحال قرآن ہی ہے اور یہ اپنے معنی کے بیان میں پوری طرح قادر ہے.قرآن پر کسی دوسرے وسیلے کو حاکم نہیں بنایا جا سکتا. یہ میزان ہے اس لیے معنی کی ادائیگی میں کسی دوسرے سہارے کی احتیاج سے بے نیاز ہے. ہاں معنی متعین ہو جانے کے بعد کوئی چاہے تو شرح و وضاحت کے لیے موجود دیگر وسائل سے فیض یاب ہو جائے. بلکہ لازم ہے کہ رسالت مآبﷺ کی مستند فرامین حرز جاں بنائے رکهے.قرآنی مطالبات کی اس سےبڑھ کر شرح و وضاحت کا امکان ماننا سچ یہ ہے کہ کفر سے کم نہیں.اس متاع گراں مایا کا وجود قرآن کی حاکمیت میں ہرگز خلل نہیں ڈالتا.اس گراں قدر ذخیرہ حدیث کا وجود قرآن کے میزان رہنے میں مانع نہیں. تحریر یہاں ختم کی جاتی ہے پر قاری پلٹ کر جناب مغل کا جملہ پهر تازہ کر لے. میں یہاں سہولت کی خاطر پهر نقل کیے دیتا ہوں کہ
 " کفر و ایمان کا تعلق جہاں دلالتوں سے ہے وہاں اس امر سے بھی ہے کہ اللہ تعالی نے انسان سے کن امور کو ماننے کا مطالبہ کس درجے میں کیا ہے یعنی ایک امر جس کا ذکر قرآن میں ہوا اس کے بارے میں شارع کی طلب کس درجے کی ہے۔"

 میں کفر و ایمان کے ساتھ ہدایت و ضلالت کے جملے کا اضافہ کر دینا چاہتا ہوں کہ کفر و ضلالت کا تعلق "نفس دلالت" سے نہیں.




By this author