انسانوں کی آزمایش کی حکمت

اللہ تعالیٰ عالم الغیب ہے۔ کیا وہ انسانی مزاج کو نہیں جانتا پھر اسے امتحان لینے کی کیا ضرورت ہے؟

پڑھیے۔۔۔

آزمایش کی حکمت

قرآن کریم اور احادیث سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ انسان پر آزمایش آنا دو علتوں پر مبنی ہے: ایک، جب بندۂ مومن جادۂ حق سے انحراف کر جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو تنبیہ کی خاطر آزمایش میں مبتلا کر دیتا ہے۔ دوسری جب اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ کسی بندۂ مومن کا درجہ اونچا کرے تو اس کو آزمایش میں ڈالتا ہے، جیسے انبیا علیہم السلام کا حال ہے۔ براہ کرم اس موضوع پر قرآن کریم اور صحیح احادیث کی روشنی میں خالصاً علمی بحث کریں۔

پڑھیے۔۔۔

آزمایش اور بلند مراتب روایت اشد الناس بلاء الانبیاء ۔۔۔ کی روشنی میں

مفتی شفیع صاحب سورۂ انبیاء کی تفسیر میں حضرت ایوب علیہ السلام کے قصے کے ذیل میں ایک روایت نقل کرتے ہیں: اشد الناس بلاء الانبياء ثم الصالحون ثم الامثل فالامثل۔ سوال یہ ہے کہ جس مؤمن پر سخت آزمایش نہیں آتی اس کا مقام اللہ کے نزدیک بہت چھوٹا ہے؟ وضاحت فرمادیں۔

پڑھیے۔۔۔

آزمایش اور بلند مراتب روایت اشد الناس بلاء الانبیاء ۔۔۔ کی روشنی میں

مفتی شفیع صاحب سورۂ انبیاء کی تفسیر میں حضرت ایوب علیہ السلام کے قصے کے ذیل میں ایک روایت نقل کرتے ہیں: اشد الناس بلاء الانبياء ثم الصالحون ثم الامثل فالامثل۔ سوال یہ ہے کہ جس مؤمن پر سخت آزمایش نہیں آتی اس کا مقام اللہ کے نزدیک بہت چھوٹا ہے؟ وضاحت فرمادیں۔

پڑھیے۔۔۔

بچوں کی بڑی بڑی بیماریوں کی وجہ

یہ بتائیے کہ بچوں پر بڑی بڑی بیماریاں جیسے بلڈ کینسر وغيرہ کیوں آتی ہیں۔ جب کسی بڑی عمر کے آدمی کو ایسی بیماری لگتی ہے تو ہم عموما یہ کہہ دیتے ہیں کہ یہ اس کے گناہوں کی وجہ سے ہے۔یا یہ کہہ دیتے ہیں کہ یہ آزمائش ہے۔چنانچہ جب یہ بڑی عمرکے آدمی کو ہو تو یہ تو عقلی(logical) لگتا ہے ۔ لیکن بچے کے بارے میں دل اس logic پر مطمئن نہیں ہوتا کہ والدین کی آزمائش ہے کیونکہ ہم یہ جانتے ہیں کہ اللہ انصاف کرنے میں سب سے بڑھ کر ہے ، تو یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ والدین کے گناہوں یا آزمائش کی سزا بچے کو ملے۔ اللہ ہمارے گناہوں کی وجہ سے ہمارے بچوں کو کیوں کر سزا دے سکتے ہیں۔ کیا آپ اس بات کا جواب دے سکتے ہیں۔ میں قرآن و سنت کی روشنی میں جواب حاصل کرنا چاہتاہوں۔ اور ایسے logic سے کہ جسے میں غیر مسلموں کو بھی سمجھا سکوں۔

پڑھیے۔۔۔