قطب اور ابدال وغیرہ کو ماننا

غامدی صاحب کی کتاب کا مطالعہ کرتے ہوئے میں نے پڑھا کہ قطب اور ابدال وغیرہ کو ماننا بھی شرک ہے۔ براہ مہربانی اس بات اور اس طرح کے درجات کی وضاحت فرمادیں۔ کیا وہ تدبیر امور کا دعوی کرتے ہیں۔ اگر وہ تدبیر امور نہیں کرتے بلکہ محض اللہ پروردگار عالم کے احکامات نافذ کرتے (قائم الزمان، شاہ ولی اللہ وغیرہ) تو اس بنا کر ان کو ماننا کیسے شرک ہو سکتا ہے۔ فرشتوں کے امور اور ذوالقرنین کے حوالے سے وضاحت فرمادیں۔ شرک کے حوالے سے بھی کوئی کتاب دیں جہاں سب مذاہب کے شرکیہ عقائد کا محکم قرآنی دلائل سے رد کیا گیا ہو اور توحید کا اثبات۔ اسی طرح نجوم کے اثرات کیسے شرک ہوئے۔ کیا یہ نہیں ہو سکتا کہ مختلف تاریخ پیدایش والے لوگوں پر وہ مختلف اثر ڈالتے ہوں اور انسان اپنے شعور کے تحت ان سے بچتا بھی ہو اور لوگوں نے سٹڈی کرکے وہ اثرات مرتب کر لیے ہوں۔

پڑھیے۔۔۔