قرض اور سود

میں نے اپنے دوست کو اس کی بیٹی کی شادی کے موقعہ پر دو لاکھ روپے دو سال کے لئے ادھار دیے۔ اب دو سال بعد میرا دوست مجھے صرف اصل رقم واپس کر رہا ہے جبکہ اس عرصہ میں روپے کی قیمت بہت گر چکی ہے۔ کیا میں اپنے دوست سے یا مطالبہ کر سکتا ہوں کہ افراط زر کی وجہ سے جو نقصان ہو ہے وہ بھی ادا کرے۔

میں کاروبار کرتا ہوں۔ میرا کام اللہ کے فضل سے بہت اچھا جا رہا ہے۔ اس سے میری ضروریات پوری ہو رہی ہیں۔ ان حالات میں میں اپنے کاروبار کو وسیع کرنے کے لئے قرض لینا چاہتا ہوں۔ کیا میں قرض دینے والے شخص کو ایک متعین رقم نفع کے طور پر دے سکتا ہوں؟ کیا یہ تعیین وقت کی وجہ سے سود شمار ہو گا؟

پڑھیے۔۔۔