سلطنت اسرائیل اور یہود سے متعلق قرآن کی پیشین گوئی

باوجود اس کے کہ یہودیوں کو قرآن میں ملعون و مغضوب قرار دے دیا گیا ہے اور کہہ دیا گیا ہے کہ یہ جہاں کہیں بھی ہوں، ان پر ذلت کی مار ہے۔ قرآن کے اس فرمان کی صداقت مسلم، مگر ذرا سی کھٹک یہ پیدا ہوتی ہے کہ یہ غالب کیوں آگئے اور فلسطین کی ریاست کے قیام کی بنا پر عرب و عجم پر ان کا سکہ کیوں چلنے لگا کہ آج پورا عرب شاید ہی ان کے مقابلے میں آسکے۔ آل عمران (۳) کی آیات ۱۱۱ اور ۱۱۲ میرے پیش نظر ہیں۔ یہاں یہ فقرہ بھی موجود ہے: ’’ان پر محتاجی و مفلوکی مسلط کر دی گئی ہے‘‘۔

پڑھیے۔۔۔