• TAGS:
  • {tag}
  • {/exp:tag:tags}

اویس قرنی

میرا سوال نیچے دی گئی حدیث اور اویس قرنی سے متعلق ہے۔ برائے مہربانی اس کی وضاحت کر دیجیے۔

صحيح مسلم - كتاب فضائل الصحابة - إن رجلا يأتيكم من اليمن يقال له أويس

4613 - ص 1969 - 2542 حدثنا إسحق بن إبراهيم الحنظلي ومحمد بن المثنى ومحمد بن بشار قال إسحق أخبرنا وقال الآخران حدثنا واللفظ لابن المثنى حدثنا معاذ بن هشام حدثني أبي عن قتادة عن زرارة بن أوفى عن أسير بن جابر قال كان عمر بن الخطاب إذا أتى عليه أمداد أهل اليمن سألهم أفيكم أويس بن عامر حتى أتى على أويس فقال أنت أويس بن عامر قال نعم قال من مراد ثم من قرن قال نعم قال فكان بك برص فبرأت منه إلا موضع درهم قال نعم قال لك والدة قال نعم قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول يأتي عليكم أويس بن عامر مع أمداد أهل اليمن من مراد ثم من قرن كان به برص فبرأ منه إلا موضع درهم له والدة هو بها بر لو أقسم على الله لأبره فإن استطعت أن يستغفر لك فافعل فاستغفر لي فاستغفر له فقال له عمر أين تريد قال الكوفة قال ألا أكتب لك إلى عاملها قال أكون في غبراء الناس أحب إلي قال فلما كان من العام المقبل حج رجل من أشرافهم فوافق عمر فسأله عن أويس قال تركته رث البيت قليل المتاع قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول يأتي عليكم أويس بن عامر مع أمداد أهل اليمن من مراد ثم من قرن كان به برص فبرأ منه إلا موضع درهم له والدة هو بها بر لو أقسم على الله لأبره فإن استطعت أن يستغفر لك فافعل فأتى أويسا فقال استغفر لي قال أنت أحدث عهدا بسفر صالح فاستغفر لي قال استغفر لي قال أنت أحدث عهدا بسفر صالح فاستغفر لي قال لقيت عمر قال نعم فاستغفر له ففطن له الناس فانطلق على وجهه قال أسير وكسوته بردة فكان كلما رآه إنسان قال من أين لأويس هذه البردة

پڑھیے۔۔۔
  • TAGS:
  • {tag}
  • {/exp:tag:tags}

صحابۂ کرام کا رول

مجھے صحابۂ کرام کے حوالے سے کچھ Confusion لاحق ہو گیا ہے ، جس کے سلسلے میں آپ سے وضاحت درکار ہے۔ ہوا یوں کہ ایک پروگرام میں جب ڈاکٹر ذا کر نائک سے یزید اور جنگِ کربلا کے بارے میں سوال کیا گیا، تو اُنہوں نے یزید کے لیے رضی اللہ عنہ کے الفاظ استعمال کیے اور جنگِ کربلا کو ایک سیاسی لڑ ائی قرار دیا۔مجھے یہ سن کر بہت جھٹکا لگا کیونکہ ہم بچپن سے یہ سنتے آ رہے ہیں کہ یزید ایک ملعون اور ظالم شخص تھا اور کربلا کا واقعہ حق و باطل کی ایک جنگ تھی۔مسلم کمیونٹی میں بھی اس بات پر شدید ردِعمل سامنے آیا اور ڈاکٹر ذا کر نائک کے بارے میں کہا جانے لگا کہ وہ اگرچہ ’تقابلِ ادیان‘ کے موضوع کے ایک اچھے طالبعلم ہیں لیکن وہ اسلام کے ایک اچھے اور بڑ ے ا سکالر نہیں ہیں۔ میں نے خود بھی یہی محسوس کیا، لیکن پھر مجھے خیال ہوا کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک شخص ’تقابلِ ادیان‘ کے موضوع پر تو سند کا درجہ رکھتا ہو، لیکن اپنے مذہب سے اچھی طرح واقف نہ ہو ، اس طرح میرا کنفیوژن کافی بڑ ھ گیا اور میں نے ذاتی طور پر اس ٹاپک پر تحقیقی مطالعہ کا ذہن بنایا۔ اس سلسلے میں میں نے اس موضوع پر مختلف نقطۂ نظر سے لکھی گئی کافی کتابیں پڑ ھ ڈالیں۔ سب سے پہلے کسی کے بتانے پر میں نے مولانا مودودی کی کتاب ’خلافت و ملوکیت‘ کا مطالعہ کیا ، جس میں یہ تأثر دیا گیا تھا کہ حضرت امیر معاویہ اور یزید ایک ہی سطح و مزاج کے لوگ تھے اور دونوں ہی کی وجہ سے اسلام اور اہلِ اسلام کو نقصانات پہنچے ، جبکہ حضرت علی اور امام حسین نے اسلام کا دفاع کیا۔ا س کے بعد کسی کے بتانے پر میں نے محمود احمد عباسی کی کتاب ’خلافتِ معاویہ و یزید‘ دیکھی ، جس کے پڑھنے کے بعد تأثر یہ بنا کہ حضرت معاویہ نے تو اصل میں اسلام کا دفاع کیا اور یزید بھی ایک ۔۔۔۔۔۔۔ شخص تھا۔جبکہ حضرت علی اور امام حسین کا مؤقف صحیح نہیں تھا۔میری پریشانی اور کنفیوژن دگنی ہوگئی۔ پہلے مجھے امیر معاویہ اور یزید کے بارے میں شکوک لاحق ہوئے تھے تو اب میں حضرت علی اور امام حسین کے بارے میں شبہات میں مبتلا ہو گیا تھا۔ اسی دوران ایک نیا مسئلہ یہ سامنے آیا کہ ڈاکٹر اسرار احمد صاحب نے حضرت علی کے حوالے سے الکوحل کی ممانعت پر مشتمل ایک روایت بیان کی تو اُس پر بھی مسلمان کمیونٹی اُن کے خلاف بھڑ ک اٹھی۔اس موضوع پر میں نے ڈاکٹر طاہر القادری صاحب کے لیکچرز بھی سنے ، پریشانی مزید بڑ ھ گئی کیونکہ انہوں نے تو حضرت علی کو ایک ما فوق الفطرت ہستی کی حیثیت سے پیش کیا اور ا س کے دلائل بیان کیے تھے۔ ان سب باتوں نے مل کر مجھے تو بہت ہی کنفیوژ کر دیا ہے اور میں صحابۂ کرام کے حوالے سے عجیب قسم کی پریشانی اور بے اطمینانی میں مبتلا ہو گیا ہوں کہ کون صحیح ہے اور کون غلط؟ کس کی اقتدا کی جائے اور کس کی نہیں؟ کس کے مؤقف کو درست سمجھا جائے اور کس کے مؤقف کو نا درست؟ لہٰذا براہِ مہربانی اس سلسلے میں میری رہنمائی کر دیجیے؟

پڑھیے۔۔۔