اذان و اقامت سے پہلے درود اور نماز کے بعد ذکر

میں اندرونِ سندھ میں رہتا ہوں ، جہاں لوگ اسلام کے بارے میں بہت کم جانتے اور بہت کم واقفیت رکھتے ہیں۔ آج سے تقریباً 20 ، 30 سال پہلے میرے والد نے ہمارے پڑ وس میں ایک مسجد بنائی تھی۔ہم سالوں سے وہاں نماز پڑ ھ رہے تھے ، آج تک کسی نے یہ اعتراض نہیں کیا کہ جس طریقے سے نماز کے معاملات انجام دیے جاتے ہیں وہ ٹھیک نہیں ہے ۔لیکن چند سال پہلے ہماری مسجد میں کچھ نئے لوگ آئے اور اُنہوں نے ہمیں نماز اور دیگر معاملات کی ادائیگی کے کچھ نئے طریقے سکھائے ، جس میں اذان و اقامت سے پہلے درود و سلام پڑ ھنا اور فرض نمازوں کے بعد بآوازِ بلند ذکر کرنا وغیرہ شامل ہے۔ اِن کا کہنا یہ تھا کہ یہ وہ اصل طریقہ ہے جس کے مطابق اللہ کے رسول کے دور میں اذان و اقامت کہی جاتی، نمازیں پڑ ھی جاتیں اور فرض نمازوں کے بعد ذکر کیا جاتا تھا۔ اِن باتوں کی وجہ سے مسجد میں آنے والے لوگوں کے درمیان بہت سے اختلافات پیدا ہوگئے ہیں ، نمازیوں کی تعداد میں بھی کمی واقع ہوئی ہے اور مسلسل مزید کمی ہوتی جا رہی ہے ۔سوال یہ ہے کہ اِن معاملات میں صحیح اور مستند طریقہ کیا ہے اور کیا ہم یہ سارے نئے کام کر سکتے ہیں جو ہمیں سکھائے گئے ہیں؟

پڑھیے۔۔۔

اقامتِ صلوٰۃ کا مفہوم

اقامتِ صلوٰۃ کا کیا مفہوم ہے؟ سورۂ حج (22)کی آیت 41 کے حوالے سے کیا آپ نہیں سمجھتے کہ اس کا مطلب محض انفرادی طور پر اپنی اپنی نمازیں پڑ ھ لینا ہی نہیں ، بلکہ اس سے کچھ زیادہ ہے اور وہ یہ کہ ایک پورا ’الوہی نظام‘ برپا کیا جائے ۔ اکیلے اپنی اپنی نمازیں ادا کر لینا اس آیت میں مراد ’مطلوبہ الوہی نظام‘ کا ایک چھوٹا سا حصہ تو ہو سکتا ہے لیکن اقامتِ صلوٰۃ کا مفہوم یقینا ایک ایسا نظام ہے جو سارے معاشرے کو محیط ہو۔ اس پر ذرا روشنی ڈال دیجیے۔

پڑھیے۔۔۔