اقامتِ دین کا مفہوم

قرآنِ مجید کی اصطلاح اقامتِ دین کا کیا مفہوم ہے؟

پڑھیے۔۔۔

إقامت دين سے مراد

اَنْ اَقِيْمُوا الدِّيْنَ وَلَا تَتَفَرَّقُوْا فِيْهِ.(٤٢: ١٣) سورہ شوری کی مذکورہ ایت کے متعلق کن اہل علم اور بزرگ مفسرین کی راے محترم غامدی صاحب کی راے سے مطابقت رکھتی ہے اور ایسی ہے کہ جس سے پورے دین کا پابند رہنے، پورے دین پر قائم رہنے، پورے دین پر عمل پیرا رہنے اور پورے دین کو برقرار رکھنے کے علاوہ کوئی اور معنی نہیں لیے جا سکتے ہوں۔

مولانا امین احسن اصلاحی صاحب کے علاوہ کیوں کہ انکی راے دونوں ہی مکاتب فکر اپنے موقف کی دلیل میں استعمال کرتے ہیں، ویسے پھی ”دستور زندگی بنانے” میں قیام و نفاز کے معنی کا رجحان حاوی محسوس ہوتا ہے اور انکی ذندگی بھی اقامت دین کی جدوجہد کرنے والی تحاریک سے وابستگی کے باعث اسی رجحان پر دلالت کرتی محسوس ہوتی ہے۔

پڑھیے۔۔۔