ازواج اور اولاد کا دشمن ہونا

قرآن مجید میں یہ کہا گیا ہے کہ تمھاری بیویوں اور تمھارے بچوں میں سے بعض تمھارے دشمن ہیں،اس بات کا کیا مطلب ہے؟

پڑھیے۔۔۔

والدین کے حقوق اور ذمہ داریاں

میرا سوال یہ ہے کہ ہمیں اپنا حق کس سے لینا چاہیے؟ اپنے والدین سے یا ریاست سے؟میرا مطلب ہے کہ جب انسان جوان ہو جاتا ہے تو وہ اپنی زندگی اپنے طریقے سے جینا چاہتا ہے۔ اب اسے اگر اپنے طور پر علیٰحدہ رہنے پڑے تو کیا ہمیں ریاست سے اپنا حق طلب کرنا چاہیے یا اپنے والدین سے کہ وہ ہماری رہنے کے لیے ہماری جگہ مہیا کریں۔ جیسے بہت سے ممالک میں ہر فرد کو آزادی کے ساتھ جینے کے لیے وسائل مہیا ہوتے ہیں لیکن ہم چونکہ ایک غیر ترقی یافتہ ملک کے رہنے والے ہیں۔ برائے مہربانی رہنمائی فرمائیے کہ اس صورت میں مجھے کس سے رجوع کرنا چاہیے؟

پڑھیے۔۔۔

اولاد سے متعلق ایک سوال

میری بیوی نے مجھ سے علیحدگی کر لی ہے۔ بچے اس کے پاس ہیں میں اپنے بچے لینا چاہتا ہوں۔ میرے دو بیٹے ہیں ایک کی عمر نو سال اور دوسرے کی چھ سال ہے۔ کیا شریعت کی رو سے میں بچے لے سکتا ہوں۔

پڑھیے۔۔۔

والدین کی خدمت

میں ایک شادی شدہ بندہ ہوں اور دو بچوں کا باپ ہوں۔ میرے والد صاحب کی وفات ہو چکی ہے اور میری والدہ میرے ساتھ ہی رہتی ہیں۔ میں اور میری بیوی اپنی والدہ کی بھر پور خدمت کرتے ہیں۔ ان کی ہر ضرورت پوری کی جاتی ہے مگر پھر بھی میری والدہ کو ہمیشہ ہم سے شکایت رہتی ہے۔ ہمیشہ ہم پر کوئی نہ کوئی الزام لگاتی رہتی ہیں۔ ہم سب کچھ خاموشی سے سنتے ہیں اور انہیں کچھ نہیں کہتے۔ لیکن اب یہ ایک باقاعدہ مسئلہ بن گیا ہے۔ برائے مہربانی رہنمائی فرمائیے کہ اس صورت حال میں ہمیں کیا کرنا چاہیے۔

پڑھیے۔۔۔

بیوی اور والدین

میری عمر 39 سال ہے ۔میں گلف میں رہتا ہوں ۔میری بیوی اور دو بچے امریکہ میں رہتے ہیں اور میرے والدین پاکستان میں رہتے ہیں ۔میں نے اور میری بیوی نے چند باہمی اسباب کی وجہ سے کچھ سال الگ رہنے کا فیصلہ کیا ہے۔ میری بیوی سوچتی ہے کہ مجھے صرف اپنے والد اور بھائی بہنوں سے لگاؤ ہے ۔لہٰذا وہ میری فیملی کو ناپسند کرتی ہے ۔ میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ یہ محض ا س کی غلط فہمی ہے اور ا س کا یہ احساس صحیح نہیں ہے ۔میں نے کئی دفعہ اسے سمجھانے کی کوشش بھی کی ہے کہ دیکھو والدین والدین ہوتے ہیں اور بیوی بیوی۔کوئی ایک دوسرے کی جگہ نہیں لے سکتا، لیکن وہ بالکل نہیں سمجھتی۔وہ ہمیشہ فون پر مجھ سے جھگڑ ا کرتی رہتی ہے اور کہتی ہے کہ اس نے یہ کہا اور اس نے یہ کہا۔اب میں اس کا کیا کرسکتا ہوں کہ اگر میری بہن اس سے یہ پوچھ لیتی ہے کہ آج سارا دن آپ نے کیا کیا۔ میں سمجھتا ہوں کہ میں اپنے بیوی اور بچوں سے متعلق فرائض پوری طرح ادا کر رہا ہوں ۔میں ان سے پیار کرتا ہوں ، ان کے پاس رہنے کے لیے اپنا گھر ہے ، کھانے پینے اور دیگر ضروریات پوری کرنے کیلئے پیسوں کی کوئی کمی نہیں ہے ، وہ روز مجھ سے فون پر بات کرتے ہیں ، سال میں 3 یا 4 بار وہ مجھ سے ملنے آتے ہیں ، میں انہیں پھول اور تحائف بھیجتا رہتا ہوں ، لیکن پھر بھی میری بیوی مجھ سے نفرت کرتی ہے اور پچھلے دس سال سے وہ ایسا ہی کر رہی ہے۔ اب عید کاموقع ہے تو مجھے یہ فیصلہ کرنا ہے کہ میں پاکستان اپنے والد اور بھائی بہنوں کے پاس جاؤں یا امریکہ اپنے بیوی بچوں کے پاس۔والد اور بہنیں مجھے اپنے پاس بلا رہے ہیں اور بیوی بچے اپنے پاس آنے کے لیے ضد کر رہے ہیں ۔میں بہت پریشان ہوں اور اس گومگومیں ہوں کہ کیا فیصلہ کروں اور کہاں جاؤں؟ ایک طرف والد اور بھائی بہنیں ہیں اور دوسری طرف بیوی بچے ۔براہِ مہر بانی میری مدد اور رہنمائی کیجیے ۔میں ہمیشہ اللہ سے دعا کرتا رہتا ہوں کہ وہ میری اور میری بیوی کی مدد کرے ، اور میری بیوی کو مثبت طریقے سے سوچنے کی توفیق دے۔ آپ بھی میرے لیے دعا کیجیے گا؟ (احمد)

پڑھیے۔۔۔

اولاد کے اعمال اور والدین

کیا والدین اپنی اولاد کے اچھے برے اعمال کے ذمہ دار ہوتے ہیں اور کیا ان کی آخرت پر بچوں کے اعمال کا اثر پڑ تا ہے؟

پڑھیے۔۔۔

جنتی والدین اور ان کی جہنمی اولاد

اگر والدین جنتی ہوں اور ان کے بچے جہنمی تو کیا ایسے والدین جنت کے نعمتوں سے پوری طرح لطف اندوز ہو سکیں گے؟

پڑھیے۔۔۔