اچھے اعمال کا برا صلہ

میں ایک ڈاکٹر ہوں اور 1995 سے انگلینڈ میں رہتا ہوں۔ میری عمر 48 سال ہے اور میرے دو بچے ہیں۔ میرے والدین کراچی میں بھائی کے پاس رہتے ہیں اور وہی ان کی دیکھ بھال کرتا ہے۔ دسمبر 2007 میں بھائی حج کرنے جانے لگا تو اس نے مجھے کراچی آنے اور والدین کے پاس رک کر ان کی دیکھ بھال کرنے کے لیے کہا۔ میں اپنے بیوی بچوں کو انگلینڈ ہی میں چھوڑ کر کراچی والدین کے پاس چلا آیا۔ فارغ ہونے کے بعد جب میں واپس آ رہا تھا تو مجھے دبئی ایئر پورٹ پر ہارٹ اٹیک آیا۔ میرا اپنا بھائی حج کے لیے گیا تھا اور اس نے وہاں میری صحت اور آسایش کے لیے دعائیں کی تھیں اور میں بھی والدین ہی کی خدمت کے نیک خیال سے کراچی گیا تھا لیکن مجھے یہ ٹریجڈی پیش آ گئی۔ آپ اسے کس طرح دیکھیں گے؟

پڑھیے۔۔۔