کیا جہیز کو میراث کے حصے کا بدل کہا جا سکتا ہے؟

ہمارے معاشرے میں عام طور پر بیٹیوں کو ماں باپ کی وراثت سے محروم رکھا جاتا ہے اور ان کے بھائی چاہتے ہیں کہ اپنے ماں باپ کی ساری میراث پر وہی قبضہ کر لیں، اس کے لیے وہ درج ذیل دو دلائل خاص طور پر پیش کرتے ہیں:


پہلا یہ کہ بہنوں کو چاہیے کہ وہ اپنی خوشی سے اپنا حصہ اپنے بھائیوں کے لیے چھوڑ دیں، کیا انھیں اپنے بھائیوں کا خیال نہیں ہے؟
دوسر ایہ کہ لڑکیوں کی شادیوں پر چونکہ ان کے والدین اور بھائیوں نے اخراجات بھی کیے ہیں اور انھیں جہیز بھی دیا ہے۔ لہٰذا ایک طرح سے وہ اپنا حصہ لے چکی ہیں اور اب ان کا میراث کا مطالبہ درست نہیں ہے۔


سوال یہ ہے کہ کیا بھائیوں کا یہ رویہ درست ہے اور کیا جہیز کو میراث کے حصے کا بدل کہا جا سکتا ہے؟

پڑھیے۔۔۔