تحقیقی کام میں سؤر کا استعمال

میں یونیورسٹی آف لندن میں پی ایچ ڈی کا اسٹودنٹ ہوں اور انسانی نظامِ ہاضمہ سے متعلق کچھ تحقیقی کام کر رہا ہوں۔ پچھلے دنوں مجھے ایک ایسے تحقیقی پراجیکٹ میں کام کرنے کا موقع ملا ہے جس میں سؤر کی آنتوں کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ یہ انسانی آنتوں کے متبادل کے طور پر ریسرچ ورک کے لیے استعمال ہوتی ہیں ۔اپنے مذہبی تصورات کی بنا پر میں اس پروجیکٹ میں شامل ہونے میں کچھ ہچکچاہٹ محسوس کر رہا ہوں ، تاہم یہ ایک بہت اہم پراجیکٹ ہے جس میں انسانی صحت سے متعلق بنیادی معلومات کا حصول متوقع ہے ۔لہٰذا آپ مجھے بتائیے کہ میں کیا کروں؟ کیا اسلام اس جانور کے اعضا کو تحقیقی کام کے لیے چھونے کی اجازت دیتا ہے؟

پڑھیے۔۔۔

تحقیق اور تقلید

سوال یہ ہے کہ کیا مجھ پر صرف وہی چیزیں فرض ہیں اور میں انہی باتوں کے لیے جواب دہ ہوں جومیں نے بذاتِ خود نیک نیتی سے تحقیق کر کے قرآن و حدیث سے اخذ کی ہوں؟ کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اتنی صلاحیت تو دی ہے کہ میں اندھی تقلید کرنے کے بجائے ، خود اسلام کو سمجھوں یا کم از کم سمجھنے کی کوشش تو کرسکوں ، اور پھر یہ کہ میں رائج الوقت اسلام سے پوری طرح مطمئن بھی نہیں ہوں۔ آپ کی اس بارے میں کیا رائے ہے

پڑھیے۔۔۔