• TAGS:
  • {tag}
  • {/exp:tag:tags}

نماز سے متعلق چند سوالات

میں آج کل شدید الجھن سے دو چار ہوں اور اس الجھن کے بیج مجھ میں پرویزی حضرات نے بوئے ہیں۔ ویسے تو میں ان کی احادیث پر بے جا تنقید سے بے زار ہوں اور پرویز صاحب کی قرآن فہمی بھی میرے لیے ادنیٰ درجے میں بھی قابل تبصرہ نہیں کہ میں اس کو جہالت سمجھوں۔ لیکن ان کی نماز پر تنقید نے یقینا کہیں نہ کہیں کچھ گڑ بڑ کر دی ہے اور اس کے باعث میں نے آج کل نماز ترک کر رکھی ہے جس کا مجھے ملال رہتا ہے۔ ان حضرت کی تنقید کے علاوہ بھی میرے ذہن میں کچھ سوال ہیں:

۱۔ کیا نماز اسی طرح سختی سے پانچ وقت کی ادا کرنا فرض ہے جیسا کہ بیان کیا جاتا ہے؟

۲۔ کیا نماز کا ترک کر دینا کافر ہو جانے کے برابر ہے؟

۳۔ اسلام اگر دین فطرت ہے تو نماز کی ہر حال میں پابندی اور کوتاہی کے نتیجے میں شدید ترین گناہ ہے، ایک ایسی بات ہے جو کہ ہر خاص و عام مسلمان پر بیک وقت لا گو ہو، کچھ سمجھ میں نہیں آتی۔

۴۔ میں جو آج کل نماز سے بالکل غافل ہوں تو میرا کیا مقام ہو سکتا ہے اﷲ کے نزدیک؟

۵۔ پانچ وقتی نمازی کو انتہائی بے ایمان بے دیکھا ہے اور بے نمازی کو بے حد ایماندار بھی، ایسا کیوں ہوتا ہے؟

۶۔کیا نماز کے بغیر جنت کا حصول ممکن ہے؟

الغرض اس طرح کے بے شمار وسوسے میرے دامن گیر ہیں۔ برائے مہربانی اس ضمن میں میری اصلاح فرمائیں۔

پڑھیے۔۔۔
  • TAGS:
  • {tag}
  • {/exp:tag:tags}

حضرت ابو ہریرہ کے ایک قول کی توجیہ

میں نے امین احسن اصلاحی صاحب کی کتاب تزکیہ نفس کا مطالعہ کیا ہے۔ انہوں نے لکھا ہے: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول ؐ سے علم کے دو ظرف اکٹھے کئے تھے ایک کو تو میں نے کھول دیا، رہا دوسرا ظرف تو اگر اس کے علم کو میں آپ کے اندر پھیلا دوں تو میری گردن کاٹ دی جائے۔ اس کی جس توجیہ کو اصلاحی صاحب نے قبول کیا وہ یہ ہے کہ ابو ہریرہ نے بنو امیہ کا دور دیکھا تھا ۔ ان کی وفات٥٩ہجری کی ہے جب مسلمان بنو امیہ کے جبر و استبداد کے شکنجے میں اچھی طرح کسے جا چکے تھے۔ اور بنو امیہ تلوار کے زور سے ان تمام اہل حق کو دبا دینے کے درپے تھے جو جو ان کے استبداد اور ان کے سیاسی واجتماعی بدعتوں کے خلاف آواز اٹھاتے تھے ۔ پھر سے صفحہ ٣٨پر ابو ہریرہؓ کا قول نقل کرتے ہیں جو یہ ہے: "میں چھوکروں کی امارت سے خدا کی پناہ مانگتا ہوں۔" میرا خیال یہ ہے کہ اس وقت تک معاو یہ رضی اللہ تعالی عنہ کی حکومت تھی۔ معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ نے ا للہ کی راہ میں جو جہاد کیا اور اللہ کے دشمنوں کو جس طرح زیر کیا اس کی نظیر نہیں ملتی۔ تو پھر کیا ایسی توجیہ کرنے سے معاویہؓ کی شخصیت متاثر نہیں ہوتی؟ معاویہؓ کے بارے میں سوچا بھی نہیں جا سکتا کہ انہوں نے بدعت کو رائج کیا ہو۔

پڑھیے۔۔۔