تزکيہ نفس کا طریقہ

کیا کوئی ایسی ترکیب ہے جسے استعمال کر کے تزکیہ نفس کی منزل کو حاصل کیا جا سکتا اور آفات اور شیطانی وسوسوں سے بچا جا سکتا ہے؟

پڑھیے۔۔۔

اپنا اور اپنے اہل و عیال کا تزکیہ

تزکیۂ نفس کسے کہتے ہیں؟ تزکیہ کون کرتا ہے؟ اپنا اور اپنے اہل و عیال کا تزکیہ کیسے کرنا چاہیے؟

پڑھیے۔۔۔

فرد کی اصلاح اور اجتماعی تبدیلی

میں نے ایک ناول میںیہ پڑھا ہے کہ اقامت دین کے لئے ضروری ہے کہ فرد اپنے نفس کی اصلاح کرے۔ اس طرح وہ معاشرہ میں بھی تبدیلی لا سکے گا۔ میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ یہ کس طرح ممکن ہے۔

پڑھیے۔۔۔

نماز سے متعلق چند سوالات

میں آج کل شدید الجھن سے دو چار ہوں اور اس الجھن کے بیج مجھ میں پرویزی حضرات نے بوئے ہیں۔ ویسے تو میں ان کی احادیث پر بے جا تنقید سے بے زار ہوں اور پرویز صاحب کی قرآن فہمی بھی میرے لیے ادنیٰ درجے میں بھی قابل تبصرہ نہیں کہ میں اس کو جہالت سمجھوں۔ لیکن ان کی نماز پر تنقید نے یقینا کہیں نہ کہیں کچھ گڑ بڑ کر دی ہے اور اس کے باعث میں نے آج کل نماز ترک کر رکھی ہے جس کا مجھے ملال رہتا ہے۔ ان حضرت کی تنقید کے علاوہ بھی میرے ذہن میں کچھ سوال ہیں:

۱۔ کیا نماز اسی طرح سختی سے پانچ وقت کی ادا کرنا فرض ہے جیسا کہ بیان کیا جاتا ہے؟

۲۔ کیا نماز کا ترک کر دینا کافر ہو جانے کے برابر ہے؟

۳۔ اسلام اگر دین فطرت ہے تو نماز کی ہر حال میں پابندی اور کوتاہی کے نتیجے میں شدید ترین گناہ ہے، ایک ایسی بات ہے جو کہ ہر خاص و عام مسلمان پر بیک وقت لا گو ہو، کچھ سمجھ میں نہیں آتی۔

۴۔ میں جو آج کل نماز سے بالکل غافل ہوں تو میرا کیا مقام ہو سکتا ہے اﷲ کے نزدیک؟

۵۔ پانچ وقتی نمازی کو انتہائی بے ایمان بے دیکھا ہے اور بے نمازی کو بے حد ایماندار بھی، ایسا کیوں ہوتا ہے؟

۶۔کیا نماز کے بغیر جنت کا حصول ممکن ہے؟

الغرض اس طرح کے بے شمار وسوسے میرے دامن گیر ہیں۔ برائے مہربانی اس ضمن میں میری اصلاح فرمائیں۔

پڑھیے۔۔۔

کشف و الہام

اصلاحی صاحب نے اپنی کتاب تزکیہ نفس میں صو فیا کے بارے میں جو رائے قائم کی ایک حق پرست کو وہی ذیب دیتا ہے۔ لیکن کچھ باتیں میری سمجھ میں نہیں آئیں ۔ آپ اس کو ذرا واضح کریں۔ میں جاننا چاہتا ہوں کہ مدرجہ ذیل سے اصلاحی صاحب کی کیا مراد ہے۔ غامدی صاحب ایک شاگرد کے طور پر اس کی صحیح طور پر وضاحت کر سکتے ہیں۔

اصلاحی صاحب کہتے ہیں "کشف و الہام کے اس علم کے حصول کے ہم منکر نہیں ہیں لیکن یہ علم قابل قبول صرف اس حالت میں ہونا چاہیے جب یہ شریعت کے مطابق ہو"۔ ( تزکیہ نفس صفحہ ٧٦)دوسری جگہ اس کتاب میں لکھا ہے: ہمارے نزدیک اس طرح الہام یا کشف کاملین کو تو ہو سکتا ہے لیکن ہم ایک لمحہ کے لیے بھی یہ تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہیں کہ یہ الہام یا کشف رحمانی بھی ہو سکتا ہے۔" (تزکیہ نفس صفحہ٨٠) ان دو جملوں کو میں نہیں سمجھ سکا اس کی وضاحت کریں۔ میں غامدی صاحب کی اس بات کو مانتا ہوں جو انہوں نے نے ایک ٹی وی پروگرام میں فرمائی ۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ محمدؐ کے بعد کشف، وحی، اور الہام کا کسی صورت قائل نہیں ہیں۔

پڑھیے۔۔۔

حضرت ابو ہریرہ کے ایک قول کی توجیہ

میں نے امین احسن اصلاحی صاحب کی کتاب تزکیہ نفس کا مطالعہ کیا ہے۔ انہوں نے لکھا ہے: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول ؐ سے علم کے دو ظرف اکٹھے کئے تھے ایک کو تو میں نے کھول دیا، رہا دوسرا ظرف تو اگر اس کے علم کو میں آپ کے اندر پھیلا دوں تو میری گردن کاٹ دی جائے۔ اس کی جس توجیہ کو اصلاحی صاحب نے قبول کیا وہ یہ ہے کہ ابو ہریرہ نے بنو امیہ کا دور دیکھا تھا ۔ ان کی وفات٥٩ہجری کی ہے جب مسلمان بنو امیہ کے جبر و استبداد کے شکنجے میں اچھی طرح کسے جا چکے تھے۔ اور بنو امیہ تلوار کے زور سے ان تمام اہل حق کو دبا دینے کے درپے تھے جو جو ان کے استبداد اور ان کے سیاسی واجتماعی بدعتوں کے خلاف آواز اٹھاتے تھے ۔ پھر سے صفحہ ٣٨پر ابو ہریرہؓ کا قول نقل کرتے ہیں جو یہ ہے: "میں چھوکروں کی امارت سے خدا کی پناہ مانگتا ہوں۔" میرا خیال یہ ہے کہ اس وقت تک معاو یہ رضی اللہ تعالی عنہ کی حکومت تھی۔ معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ نے ا للہ کی راہ میں جو جہاد کیا اور اللہ کے دشمنوں کو جس طرح زیر کیا اس کی نظیر نہیں ملتی۔ تو پھر کیا ایسی توجیہ کرنے سے معاویہؓ کی شخصیت متاثر نہیں ہوتی؟ معاویہؓ کے بارے میں سوچا بھی نہیں جا سکتا کہ انہوں نے بدعت کو رائج کیا ہو۔

پڑھیے۔۔۔