تصوف اور اسلام

آپ کہتے ہیں کہ ’’تصوف اسلام کا حصہ نہیں ہے ‘‘ حالانکہ ہماری تاریخ میں مفسر، بزرگ اور عالم قسم کے جتنے بھی بڑ ے بڑ ے لوگ گزرے ہیں وہ سب صوفی تھے مثال کے طور پر امام غزالی، مولانا اشرف علی تھانوی، مجدد الف ثانی، شاہ ولی اللہ اور دیگر تمام اولیاوغیرہ اور انہوں نے علمِ شریعت کے بعد طریقت ہی کا راستہ اختیار کیا اور فرمایا کہ ’’روحانیت‘‘ تو صرف تصوف میں موجود ہے ۔صوفی ازم تو یہودیوں ، عیسائیوں اور دنیا کی دیگر اقوام میں بھی پایا جاتا ہے تو پھر اسے غیر اسلامی کیوں قرار دیا جاتا ہے؟

پڑھیے۔۔۔