دوسری شادی

تعدد ازواج سے متعلق میں چند سوال عرض کرنا چاہتا ہوں۔ میرا پہلا سوال سورہ نساء کی آیات ۳۔۴ سے متعلق ہے۔ جاوید احمد غامدی صاحب اور امین احسن اصلاحی صاحب نے مذکورہ آیات کے ترجمہ میں لفظ "ان کی مائیں" شامل کیا ہے جب کہ باقی مترجمین و مفسرین کے متراجم میں دوسری عورتیں کہا گیا ہے۔ وضاحت فرمائیں۔

اسی ضمن میں میرا دوسرا سوال یہ ہے کہ کیا کوئی شخص صرف اس بنیاد پر دوسری شادی کر سکتا ہے کہ وہ کسی دوسری عورت سے محبت کرتا ہے؟یا اگر وہ اچھی خاصی مالیت رکھتا ہو تو اس بنیاد پر وہ دوسری شادی کر سکتا ہے یہ سوچ کر کہ وہ دونوں بیویوں کا حق آسانی سے ادا کر سکتا ہے؟

نمبر ۳ یہ کہ میں نے غامدی صاحب کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تنوع کے لیے دوسری بیوی رکھنے سے منع فرمایا ہے۔ یہاں لفظ "تنوع" سے کیا مراد ہے؟ اور ساتھ میں اس حدیث کا بھی حوالہ دیا جائے جس میں یہ بات فرمائی گئی ہے۔

نمبر ۴ یہ کہ اگر کسی شخص کی پہلی بیوی اور بچے اس کی دوسری شادی کے خلاف ہوں، تو کیا پھر بھی اس شخص کو، جیسے کہ قرآن میں رہنمائی فرمائی گئی ہے اس کے مطابق دوسری شادی کر لینی چاہیے؟ آپ کی اس بارے میں ذاتی رائے کیا ہے؟

نمبر ۵ یہ کہ انسان اپنی پہلی بیوی اور بچوں کو اس معاملے کی پیچیدگی کو سمجھانے کے لیے کیا اقدامات کرے۔ برائے مہربانی رہنمائی فرمائیے۔

پڑھیے۔۔۔

فانکحوا ما طاب لکم من النساء(نساء4: 3) میں “النساء” سے مراد

میرا سوال سورۂ نساء کی آیت نمبر 3 کے اُس ترجمے سے متعلق ہے ، جو محترم جاوید احمد غامدی صاحب نے اپنی کتاب ’قانونِ معاشرت‘ میں کیا ہے۔ جاوید صاحب نے یہ ترجمہ کیا ہے کہ ۔’’یتیموں کی ماؤں سے نکاح کر لو‘‘ میں نے تین چار دوسرے مترجمین کا ترجمہ دیکھا تو اُن سب نے تقریباً یہ ترجمہ کیا ہے کہ ’’جو عورتیں تمہیں پسند آئیں ، اُن سے نکاح کر لو‘‘۔ جاوید صاحب نے عورتوں کے لفظ کو چھوڑ کر جو یتیموں کی ماؤں کو جو لفظ استعمال کیا ہے اُس نے مجھے کافی Confused کر دیا ہے۔ لہٰذا آپ براہِ مہربانی ا س کی وضاحت کر دیں تاکہ میں آئندہ بھی غامدی صاحب کی تحریروں کو بغیر کسی شک و شبہ کے دیکھتا رہوں ؟

پڑھیے۔۔۔