تفاسیر کا باہمی اختلاف

ہمارے سامنے آیات اور احادیث کی مختلف تفسیریں اور تعبیریں آتی ہیں، انھیں پیش کرنے والے علما اپنے اپنے دلائل دیتے ہیں۔ آپ یہ بتائیں کہ ہم ان میں سے کس کی بات مانیں۔

پڑھیے۔۔۔

البیان

مولانا مودودی نے جو قرآن کی تفسیر کی ہے وہ عام پڑھے لکھے لوگوں کے لئے ہے۔ مولانا امین احسن اصلاحی کی تفسیر عالم لوگوں کے لئے لکھی گئی ہے۔ لیکن جاوید احمد غامدی صاحب جو تفسیر لکھ رہے ہیں وہ کن لوگوں کے لئے ہے؟ اور یہ تفسیر جاوید احمد غامدی صاحب کیوں لکھ رہے ہیں جبکہ آج کئی تفاسیر قرآن موجود ہیں؟

پڑھیے۔۔۔

کون سی تفسير بہتر ہے

میں جاننا چاہتی ہوں کہ غامدی صاحب کی نظر میں کون سی تفسیر بہتر ہے۔ میں نے مولانا مودودی کی تفہیم القرآن کا مطالعہ کیا ہے مگر اس کے کچھ حصوں سے مجھے اتفاق نہیں ہو سکا۔ میں عربی پڑھ اور سمجھ سکتی ہوں اور جب کوئی ترجمہ پڑھتی ہوں تو احتیاط سے کام لیتی ہوں۔ مجھے احساس ہوتا ہے کہ اکثر مترجم اس بات کا خیال نہیں رکھتے کہ قرآن، جسے وہ ترجمہ کر رہے ہیں، شاعری سے قریب ہے نثر نہیں۔وہ لفظی ترجمہ میں اصل مفہوم کو نظر انداز کر سکتے ہیں۔

میرا دوسرا سوال یہ ہے کہ ایسا کیوں ہے کہ قرآن مجید میں بعض تاریخی واقعات بار بار اور چند دیگر امور وضاحت سے بیان کئے گئے ہیں اور کچھ اہم باتیں بہت ہی اجمال سے بیان کی گئی ہیں۔ اس وجہ سے بہت اہم مسائل پر اختلاف پیدا ہوا ہے۔

میرا تیسرا سوال یہ ہے کہ قرآن مجید میں اللہ تعالی، آدم، فرشتوں اور ابلیس کے مکالمہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالی کو ابلیس کی سرکشی سے حیرت ہوئی۔ یہ بات مجھے طرز کلام سے سمجھ آتی ہے۔ایسا کیوں ہے؟ جبکہ اللہ تو سب جانتا ہے۔

میرا چوتھا سوال قرآن کے سمجھنے سے متعلق ہے۔ اگرچہ قرآن عربی میں ہے اور ہمیں چاہیے کہ ہم عربی سیکھیں تاکہ براہ راست کلام اللہ کو سمجھ سکیں اور مترجمین کے مرعون منت نہ رہیں۔ مگر کیا عرب دنیا کے لوگ قرآن کو صحیح سمجھ لیتے ہیں؟ میرا خیال ہے کہ نہیں۔ وہ تو بہت اختلاف میں پڑے اور بسا اوقات غلط تاویل کر جاتے ہیں۔ تو صحیح تاویل تک پہنچنے کا کیا طریقہ ہے؟ صحیح تاویل تو ہدایت کی طرف لے جانے والی ہے۔

میں تو ہمیشہ قرآن پر ایمان رکھتی اور عمل کرتی ہوں۔ حدیث کا مطالعہ بھی کرتی ہوں مگر اس کے صحت سند کے حوالے سے سوالات کی وجہ سے بہت احتیاط کرتی ہوں۔ عجیب بات یہ ہے کہ مذہبی علما سے ہم جو جانتے اور سیکھتے ہیں وہ قرآن کی تعلیمات سے مطابق نہیں ہوتا۔ یہی حال سعودی علما کے فتاوی کا ہے۔غامدی صاحب سے مجھے ہمیشہ آیات کے صحیح معنی جاننے میں مدد ملی ہے۔ کیا وہ کوئی تفسیر یا ترجمہ کر رہے ہیں۔ اگر نہیں تو وہ کس کی تفسیر یا ترجمہ اختیار کرتے ہیں؟

پڑھیے۔۔۔

قرآن سمجھنے سے متعلق سوالات

ميں جاننا چاہتی ہوں كہ غامدی صاحب كی نظر ميں كون سی تفسير بہتر ہے۔ ميں نے مولانا مودودی كی تفہيم القرآن كا مطالعہ كيا ہے مگر اس كے كچھ حصوں سے مجھے اتفاق نہيں ہو سكا۔ ميں عربی پڑھ اور سمجھ سكتی ہوں اور جب كوئی ترجمہ پڑھتی ہوں تو احتياط سے كام ليتی ہوں۔ مجھے احساس ہوتا ہے كہ اكثر مترجم اس بات كا خيال نہيں ركھتے كہ قرآن، جسے وہ ترجمہ كر رہے ہيں، شاعری سے قريب ہے نثر نہيں۔ وہ لفظی ترجمہ ميں اصل مفہوم كو نظر انداز كر سكتے ہيں۔

ميرا دوسرا سوال يہ ہے كہ ايسا كيوں ہے كہ قرآن مجيد ميں بعض تاريخی واقعات بار بار اور چند ديگر امور وضاحت سے بيان كئے گئے ہيں اور كچھ اہم باتيں بہت ہی اجمال سے بيان كی گئی ہيں۔ اس وجہ سے بہت اہم مسائل پر اختلاف پيدا ہوا ہے۔

ميرا تيسرا سوال يہ ہے كہ قرآن مجيد ميں اللہ تعالی، آدم، فرشتوں اور ابليس كے مكالمہ سے معلوم ہوتا ہے كہ الله تعالی كو ابليس كی سركشی سے حيرت ہوئی۔ يہ بات مجھے طرز كلام سے سمجھ آتی ہے۔ايسا كيوں ہے؟ جبكہ الله تو سب جانتا ہے۔

ميرا چھوتھا سوال قرآن كے سمجھنے سے متعلق ہے۔ اگرچہ قرآن عربی ميں ہے اور ہميں چاہيے كہ ہم عربی سيكھيں تاكہ براہ راست كلام الله كو سمجھ سكيں اور مترجمين كے مرعون منت نہ رہيں۔ مگر كيا عرب دنيا كے لوگ قرآن كو صحيح سمجھ ليتے ہيں؟ ميرا خيال ہے كہ نہيں۔ وہ تو بہت اختلاف ميں پڑے اور بسا اوقات غلط تاويل كر جاتے ہيں۔ تو صحيح تاويل تك پہنچنے كا كيا طريقہ ہے؟ صحيح تاويل تو ہدايت كی طرف لے جانے والی ہے۔

ميں تو ہميشہ قرآن پر ايمان ركھتی اور عمل كرتی ہوں۔ حديث كا مطالعہ بھی كرتی ہوں مگر اس كے صحت سند كے حوالے سے سولات كی وجہ سے بہت احتياط كرتی ہوں۔ عجيب بات يہ ہے كہ مذہبی علماء سے ہم جو جانتے اور سيكھتے ہيں وہ قرآن كی تعليمات سے مطابق نہيں ہوتا۔ يہی حال سعودی علماءكے فتاوی كا ہے۔ غامدی صاحب سے مجھے ہميشہ آيات كے صحيح معنی جاننے ميں مدد ملی ہے۔ كيا وہ كوئی تفسير يا ترجمہ كر رہے ہيں۔ اگر نہيں تو وہ كس كی تفسير يا ترجمہ اختيار كرتے ہيں؟

پڑھیے۔۔۔