• TAGS:
  • {tag}
  • {/exp:tag:tags}

حج کی اقسام

میں مدینہ کے قریب رہتا ہوں۔ میں نے بغیر کسی دقت و پریشانی کے کئی عمرے کیے ہیں۔ اس سال ہم نے حج کا ارادہ کیا ہے لیکن لوگ چونکہ حج اور اس کے مراسم کے بارے میں زیادہ معلومات نہیں رکھتے ، لہٰذا وہ تمتع، فرد اور قران جیسی اصطلاحات اور حج کی ان قسموں کے بارے میں بہت سی غلط فہمیوں کا شکار ہیں۔ جو لوگ باہر سے آتے ہیں وہ حجِ تمتع کرتے ہیں اور وہ چونکہ حج اور عمرہ ایک ساتھ ادا کرتے ہیں اس لیے اس رعایت سے فائدے اٹھانے کے بدلے میں اُنہیں جانور کی قربانی کرنی پڑ تی ہے ۔مگر وہ لوگ جو اپنے جانور ساتھ لائیں اور حجِ قران کر رہے ہوں ، وہ عمرہ ادا کرنے کے بعد اپنا احرام اُس وقت تک نہیں کھول سکتے جب تک کہ وہ یوم النحر کے دن اپنی قربانی نہ کر لیں۔ میرا خیال ہے کہ اللہ تعالیٰ کو شاید یہی پسند ہے کہ حج اور عمرہ الگ الگ ادا کیا جائے۔ یہ میری اپنی تھنکنگ ہے مجھے ، بتائیے کہ کیا میں صحیح سمجھتا ہوں؟

پڑھیے۔۔۔