مجبوری کی وجہ سے غلط کام کا ارتکاب

انسان کو زندگی میں اگر کسی وقت حالات اس قدر مجبور کر دیں کہ صحیح بات کو جاننے کے باوجود غلط بات کو اختیار کرنا اس کی مجبوری بن جائے تو اس صورت حال میں اسے کیا کرنا چاہیے؟

پڑھیے۔۔۔

کبیرہ گناہوں کی معافی

سنگین گناہ کی معافی کب تک مانگنی چاہیے، کیا کبیرہ گناہوں کی معافی تمام عمر مانگتے رہنا چاہیے، اور یہ کب اور کیسے معلوم ہو کہ اللہ تعالیٰ نے معاف کر دیا ہے ؟

پڑھیے۔۔۔

معافی اور تلافی

اگر کوئی مظلوم بے بسی کی وجہ سے اپنا بدلہ روز قیامت پر ڈال دے اور ظالم بعد میں کبھی اللہ کے حضور میں سچی توبہ کر لے تو کیا اس صورت میں ظلم کرنے والے کے ایسے گناہ بھی معاف ہو جائیں گے جن میں دوسرے لوگوں پر ظلم ہوا ہو ، کیونکہ اس صورت میں مظلوم قیامت کے دن بھی اپنا بدلہ نہیں لے پائے گا ؟

پڑھیے۔۔۔

زنا کی معافی

اگر کسی آدمی سے زنا ہو جائے تو آخرت میں اس جرم کی معافی کے لیے اسے دنیا میں کیا کرنا چاہیے؟

پڑھیے۔۔۔

توہینِ رسالت اور توبہ

کوئی مسلمان اگر گستاخی رسول کا علانیہ ارتکاب کرتا ہے تو اِس پر بتایا جاتا ہے کہ تمام فقہاے اُمت کے نزدیک اِس جرم کی شرعی سزا کے طور پر اُسے بغیر کسی مہلت کے فی الفور قتل کردیا جائے گا ۔ اِس جرم کے ثابت ہوجانے کے بعد مجرم اگر توبہ بھی کرتا ہے تو اُس کی وہ توبہ قابل قبول نہ ہوگی ۔ معلوم یہ کرنا ہے کہ فقہ اسلامی کی رو سے کیا یہ بات درست ہے ؟ اِس مسئلے میں کیا واقعتاً اُمت کے فقہا کا اجماع ہے ؟

پڑھیے۔۔۔

شتمِ رسول کا مسئلہ——فقہاے اُمت کی نظر میں

عام طور پر یہ بتایا جاتا ہے کہ مسلمان ریاست میں کوئی شخص جو مسلمان شہری کی حیثیت سے زندگی بسر کرتا ہے؛وہ اگر گستاخیٔ رسول کا علانیہ کا ارتکاب کرے تو تمام فقہاے اُمت کے مابین اِس پر اتفاق ہے کہ ایسے شخص کے لیے خاص اِس جرم کی شرعی سزا (حَدّ) قتل ہے ۔ علمِ اسلامی کی رو سے کیا یہ بات درست ہے؟

پڑھیے۔۔۔

توہین رسالت کے مرتکب ذمیوں کے بارے میں امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا نقطہ نظر

توہینِ رسالت اور شتمِ رسول کے باب میں یہ بتائیں کہ مسلمان ریاست میں اِس کا مرتکب اگر کوئی غیر مسلم شہری ہو تو اُس صورت میں اِمام أبو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک اُس کے لیے کیا سزا ہے؟

پڑھیے۔۔۔

انسانی اعمال اور ان کا ریکارڈ

1۔ کون سی قرآنی آیات یا احادیث یہ بیان کرتی ہیں کہ اس دنیا میں انسان جو اعمال کرتے ہیں وہ ریکارڈ کیے جا رہے ہیں؟

2۔ دو فرشتوں کے دفتر کے علاوہ انسانی اعمال کے ریکارڈ کرنے کے کون سے ممکن ذرائع (تحریر، تصویر اور آواز) زیر استعمال ہیں؟

3۔ اس دنیا میں ایسی کون سی جگہ ہو سکتی ہے جہاں ہمارے ہر عمل کو لکھا یہ ریکارڈ کیا جا سکتا ہے؟ فرشتوں کے لکھنے کے علاوہ ہمارے اعمال کہاں کہاں محفوظ ہونگے؟

4۔ کیا انسان کسی طرح اس ریکارڈ تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں؟ کیا قرآن و حدیث نے اس جانب کوئی اشارہ کیا ہے؟

5۔ کیا اسلامی فلسفہ اس ریکارڈ تک رسائی کا قائل ہے؟

6۔ جب ایک انسان توبہ کر لیتا ہے تو پھر اس ریکارڈ پر اس کا کیا اثر ہوتا ہے؟

7۔ حج کرنے سے گناہ صاف ہو جاتے ہیں۔ اس عمل کا موجود ریکارڈ پر کیا اثر ہوتا ہے؟

8۔ ایک غیر مسلم کا اسلام میں داخلہ اس ریکارڈ پر کیسے اثر انداز ہوتا ہے؟

9۔ ریکارڈ کا یہ سارا انتظام انسانی معاشرہ پر کیا معاشی، اخلاقی اور نفسیاتی اثر رکھتا ہے؟

10۔ اگر انسان یہ ریکارڈ مستقبل میں حاصل کر سکتے ہیں تو پھر آپ کے خیال میں اس سے انسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کے فائدہ میں اسے کیسے بہتر استعمال کیا جا سکتا ہے؟

11۔ قرآن و حدیث کی روشنی میں ہاتھ کی لکیروں کا کیا کردار ہے؟

12۔ کراما کاتبین کا کیا کردار ہے؟

13۔ توبہ کا انسانی روح اور زندگی پر کیا اثر ہوتا ہے؟

14۔ حج کا انسانی روح اور زندگی پر کیا اثر ہوتا ہے؟

پڑھیے۔۔۔

کیا توبہ گناہوں کو مٹا دیتی ہے؟

قرآن و حدیث کے مطابق اس شخص کا معاملہ کیا ہو گا جو کوئی گناہ کر بیٹھے لیکن پھر اس پر نادم و شرمسار ہو کر اللہ سے سچی توبہ کرے ؟ کیا اللہ ایسے شخص کو معاف کر دے گا ؟اور کیا روزِ قیامت اس شخص کے نامۂ اعمال میں وہ گناہ شامل ہو گا یا اسے مٹادیا جائے گا؟

پڑھیے۔۔۔

حج کے بعد گناہ کبیرہ اور توبہ

حج ہمارے دین میں چند بنیادی فرائض میں سے ہے ۔کسی بھی مسلمان کے لئے حج کرنا ایک بڑ ی سعادت کی بات ہے ، صرف وہی لوگ یہ سعادت حاصل کرپاتے ہیں جنہیں خدا کی طرف سے اس کی توفیق ملتی ہے۔ دعا ہے کہ خدا ہر مسلمان کو اس کی توفیق عطا فرمائے ، آمین۔ سوال یہ ہے کہ اگر ایک شخص حج پر جاتا ہے اور واپس آ کر گناہِ کبیرہ کا ارتکاب کرتا ہے تو اس کے ساتھ کیا معاملہ ہو گا؟ کیا ایسے گناہگار کو اللہ تعالیٰ معاف کریں گے اگر وہ اپنے گنا ہوں کی معافی مانگے ؟ ایسے انسان کا آخر کیا ہو گا؟ جس طرح عام طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ حج سے واپس آ کر اگر ایک شخص کی زندگی میں تبدیلی آ جاتی ہے چاہے زیادہ یا کم تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کا حج مقبول ہو گیا ہے ۔ کیا اس بنیاد پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ ایسے شخص کا حج قبول نہیں ہوا؟ براہِ مہربانی اس مسئلے پر کچھ روشنی ڈالئے اور جلد ہمیں اس بارے میں صحیح نقطۂ نظر سے آگاہ کیجیے۔

پڑھیے۔۔۔