قيامت كا وقوع

بعض علما کا یہ خیال ہے کہ مرنے کے فوراً بعد ہر انسان کے اعمال کا حساب کتاب ہو جاتا ہے اور وہ جنت یا دوزخ جس کا بھی مستحق ہو، اس میں چلا جاتا ہے۔ یہی وہ قیامت ہے جو انسان پر آنی ہے۔ اس فوراً حساب کتاب کی وجہ وہ یہ بتاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ''سریع الحساب'' ہے، لہٰذاوہ قیامت کے حساب کتاب میں دیر نہیں کرتا۔ لیکن علما ہی کے ایک دوسرے گروہ کا خیال یہ ہے کہ حساب کتاب قیامت ہی کے دن ہو گا، وہاں از اول تا آخر تمام انبیا کو اور ان کی امتوں کو اکٹھا کیا جائے گا، پھر ان کے اعمال کا حساب کتاب ہو گا اور پھر اس کے بعد لوگ اپنے اچھے یا برے اعمال کے مطابق جنت یا دوزخ میں جائیں گے۔

آپ یہ بتائیے کہ قرآن مجید کی آیات کی روشنی میں ان دونوں میں سے کون سی راے صحیح ہے ؟

پڑھیے۔۔۔

قیامت کا مفہوم

کیا قیامت کا مطلب دنیا اور کائنات کا خاتمہ ہے یا اس سے مراد وہ وقت اور زمانہ ہے، جب اللہ تعالیٰ کا نظام، یعنی دین نافذ ہو جائے گا؟ اس سلسلے میں قرآن مجید سے کیا بات ثابت ہوتی ہے؟

پڑھیے۔۔۔

سزا اور امتحان میں فرق

سزا اور امتحان میں کیسے فرق کریں؟ یہ کیسے علم ہو کہ کسی شخص کے ساتھزندگی کے جو تجربات ہو رہے ہیں وہ قدرت کی طرف سے امتحان ہیں یا اس کو قدرت کسی ناپسندیدہ عمل پو سزا دے رہی ہے۔ قدرت اگر رحمان ہے تو وہ قہار بھی ہے اور سزا کا تصور بھی ہے۔ برائے مہربانی اس پر روشنی ڈالیں۔

پڑھیے۔۔۔

غیر مسلموں کو اچھے اعمال کا اجر

ایک سوال کے جواب میں آپ نے یہ فرمایا: غیر مسلموں کو بھی ان کے اچھے اعمال کی جزا ملے گی۔ اگر آپ کی بات دنیا میں جزا سے متعلق ہے تو قابل قبول ہے ۔ آخرت کے حوالے سے یہ کسی طرح درست نہیں ہو سکتی، اس لیے کہ غیر مسلم ایمان کے بنیادی شرائط ہی پورا نہیں کرتے۔ مثال کے طور پر عیسائی، عیسیٰ علیہ السلام کو خدا کا بیٹا، بلکہ بعض صورتوں میں اسی کا ایک روپ مانتے ہیں۔ وہ تثلیث کے ماننے والے ہیں۔ یہودی آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور آخری کتاب پر ایمان نہیں رکھتے، ان کے نزدیک حضرت مسیح علیہ السلام بھی پیغمبر نہیں تھے۔ ہندو واضح مشرک ہیں۔ اس صورت حال میں کون سا غیرمسلم جزا پائے گا۔ ہم ابوطالب کی مثال کو دیکھتے ہیں۔ ایک روایت میں بیان ہوا ہے کہ ان کو جہنم میں سب سے کم سزا ہو گی۔ بہرحال یہ تو واضح ہے کہ وہ جہنم میں جائیں گے، حالاں کہ انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ دیا تھا، وہ صرف اس لیے جہنمی ہیں کہ انھوں نے اسلام قبول نہیں کیا۔


برائے مہربانی ان سوالوں کے تناظر میں اپنا نقطۂ نظر وضاحت سے بیان کر دیجیے۔

پڑھیے۔۔۔

اچھے اعمال کا برا صلہ

میں ایک ڈاکٹر ہوں اور 1995 سے انگلینڈ میں رہتا ہوں۔ میری عمر 48 سال ہے اور میرے دو بچے ہیں۔ میرے والدین کراچی میں بھائی کے پاس رہتے ہیں اور وہی ان کی دیکھ بھال کرتا ہے۔ دسمبر 2007 میں بھائی حج کرنے جانے لگا تو اس نے مجھے کراچی آنے اور والدین کے پاس رک کر ان کی دیکھ بھال کرنے کے لیے کہا۔ میں اپنے بیوی بچوں کو انگلینڈ ہی میں چھوڑ کر کراچی والدین کے پاس چلا آیا۔ فارغ ہونے کے بعد جب میں واپس آ رہا تھا تو مجھے دبئی ایئر پورٹ پر ہارٹ اٹیک آیا۔ میرا اپنا بھائی حج کے لیے گیا تھا اور اس نے وہاں میری صحت اور آسایش کے لیے دعائیں کی تھیں اور میں بھی والدین ہی کی خدمت کے نیک خیال سے کراچی گیا تھا لیکن مجھے یہ ٹریجڈی پیش آ گئی۔ آپ اسے کس طرح دیکھیں گے؟

پڑھیے۔۔۔