کیا جہاد ریاست ہی کرے گی یا کوئی گروہ اپنے طور پر جہاد کر سکتا ہے

اگر کسی مسلم معاشرے پر ظلم و ستم ہو رہا ہے او رجہاد ہو سکتا ہے تو کیا جہاد ریاست ہی کرے گی یا کوئی گروہ اپنے طور پر منظم ہو کر اس طرح کا جہاد کر سکتا ہے؟

پڑھیے۔۔۔

دفاع میں جہاد

کیا یہ درست ہے کہ مولانا وحید الدین خاں صاحب جہاد کے خلاف ہیں؟ آپ کا اس بارے میں کیا نقطہء نظر ہے؟

پڑھیے۔۔۔

اسلام دشمنوں كا ساتھ دينا

نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہے کہ، ''مسلم کی مثال ایک دیوار کی طرح ہے'' پھر بھی ١١/٩ کے بعد پرویز مشرف نے کافروں کا ساتھ کیوں دیا؟ اس بارے میں اسلام کیا کہتا ہے جب کہ اس وقت جہاد بھی فرض ہو چکا ہے؟ برائے مہربانی رہنمائی فرمائیے۔

پڑھیے۔۔۔

صلیبی جنگ اور دعوت و تبليغ

کیا صلیبی جنگوں نے اسلام کی دعوت کو نقصان پہنچایا؟اور اگر نقصان پہنچایا ہے تو یہ بات کس حد تک درست ہے؟ برائے مہربانی رہنمائی فرمائیے۔

پڑھیے۔۔۔

جہاد کا سبب

کيا اب امت کے ليے ظلم و عدوان کے علاوہ کسي بھي دوسري وجہ سے جہاد کرنا جائز نہيں ہے؟

پڑھیے۔۔۔

عراق اور کشمیر کی جنگ

عراق میں جو جنگ ہو رہی ہے، کیا وہ جہاد ہے؟وہاں جو لوگ امریکا کا ساتھ دے رہے ہیں، کیا وہ موت کے مستحق ہو گئے ہیں؟ اسی طرح کشمیر میں جو جہاد ہو رہا ہے، کیا واقعی وہ جہاد ہے؟

پڑھیے۔۔۔

جہاد اور حکومت

غامدی صاحب کہتے ہیں کہ جہاد صرف باقاعدہ حکومت ہی کر سکتی ہے۔ اگر ایسا ہی ہے تو مجاہدین آزادی، مثلاً مجاہدین کشمیر یہ حکومت کہاں سے حاصل کریں؟

پڑھیے۔۔۔

انفرادی جہاد

موجودہ ظروف وشرائط میں آپ امریکا کے خلاف جہاد افغانستان کو کس نظر سے دیکھتے ہیں؟ کیا اس کو جہاد کہہ سکتے ہیں؟ کیا کسی خاص شرائط میں انفرادی جہاد جائز ہے؟ مثلاً کسی اسلامی ملک پر کافر یلغار کریں اور حکومت وقت بزدل ہو کر کفار کی ہم نوا ہو جائے۔ اس صورت حال میں دین کا تقاضا کیا ہے؟

پڑھیے۔۔۔

شہید کی زندگی

کیا شہید زندہ ہے؟ اس بات كی قرآن و سنت ميں كيا دليل ہے؟

پڑھیے۔۔۔

سورۂ عنکبوت29: 69 کا مصداق

کیا سورۂ عنکبوت29: 69 'وَالَّذِيْنَ جَاهَدُوْا فِيْنَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا' (اور جو لوگ ہماری راہ میں مشقتیں جھیل رہے ہیں، ہم ان پر اپنی راہیں ضرور کھولیں گے) بھی پیامبروں کے باب میں الٰہی منصوبے کے ذیل میں آکر صحابۂ کرام کے ساتھ خاص ہے یا ہمیں بھی شامل ہے؟

پڑھیے۔۔۔

مختلف فرقوں سے متعلق

چند مسائل میں رہنمائی درکار ہے۔

١۔ فقہا ایسے بہت سے فرقوں کو مسلمان ہی شمار کرتے ہیں جن کے عقائد تو قطعیات اسلام کے خلاف ہوتے ہیں مگر پھر بھی تاویل کی بنا پر وہ تکفیر کی تلوار سے بچ جاتے ہیں ۔ (واضح رہے یہاں قطعیات سے مراد وہ چیزیں ہیں جن کا ثبوت قطعی ہو)۔ یہاں تک کہ امام ابو حنیفہ نے جہمیوں کے پیچھے نماز پڑھ لینے کی اجازت دی ہے۔ جبکہ قادیانی یوں کہتے ہیں کہ آیت قرآنی 'ولکن رسول الله وخاتم النبيين' میں خاتم النبیین، خاتم المرسلین کو مستلزم نہیں اور اسی طرح لا نبی بعدی بھی لا رسول بعدی کو مستلزم نہیں ، مگر فقہاے کرام ان پر کفر کا وار ضرور کرتے ہیں ۔ اب واضح یہ ہونا چاہیے کہ تاویل کہاں کہاں کام کرتی ہے اور کہاں کہاں نہیں ۔ کیا معتزلی، مشبہہ وغیرہ قطعیات کے منکر نہیں تھے؟ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے خوارج کے خلاف جو جنگ کی تو اس کا سبب خارجیوں کے عقائد تھے یا یہ کہ انھوں نے مسلمانوں کے خلاف خروج کیا تو اس کے دفاع میں حضرت علی نے انھیں مارا؟

٢۔ احادیث میں آتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم لشکر روانہ فرماتے تو جس بستی میں اذان کی آواز سنتے، وہاں شب خون نہ مارتے اور اگر اذان کی آواز سنائی نہ دیتی تو آپ کے حکم کے مطابق لشکر شب خون مارتا اور لوٹ مار کرتا۔ مجھے اپنی ناقص فہم کے مطابق اس کی توجیہ سمجھ میں نہیں آ رہی کہ اگر انھوں نے اسلام قبول نہیں کیا تھا تو کیا اس کی وجہ سے ان کے ساتھ یہ معاملہ کیا گیا؟ میں نعوذ باللہ حضور رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم کے اس حکم کو ظلم نہیں سمجھ رہا، مگر مجھے اس کی عقلی توجیہ سمجھ میں نہیں آ رہی۔ آپ اس کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟

پڑھیے۔۔۔

فلسطین میں جہاد

٢٠٠٨ کے اواخر سے فلسطین کے مغربی کنارے کے مسلمان اپنے گھروں کے بجائے کھنڈر میں رہ رہے ہیں اور بچے، جو کل آبادی کا ساٹھ فیصد ہیں، خوراک کی کمی کا شکار رہی۔ تقریباً ہر اسکول کی عمارت تباہ ہو چکی ہے کیونکہ اسرائیل غیر قانونی طور پر بچوں کی غذا، سیمنٹ، کاغذ اور زندگی بچانے والی دواؤں تک رسائی میں رکاوٹ ڈالے ہوئے ہے۔ فلسطین کا صدر ایک ایسا شخص ہے جسے زیادہ تر لوگ نہیں چاہتے۔ وہ اس لیے اس منصب پر براجمان ہے کہ اسرائیل اور اس کے اتحادی ان لوگوں سے مذاکرات نہیں کرنا چاہتے جنھیں انتخابات میں بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل ہوئی۔ تمام مسلمان ممالک کے سربراہ زبانی جمع خرچ کے علاوہ کچھ نہیں کر رہے۔ مسلمانوں کی اکثریت اپنے بدعنوان لیڈروں اپنی ذمہ داری پوری کرنے کی توقع نہیں رکھتے جبکہ اچھی سیاسی تنظیموں اور گروپوں کو مظلوم فلسطینیوں کی مدد کرنے کی پوزیشن میں آتے آتے کئی دہائیاں لگ جائیں گی۔ اس صورت حال میں کوئی ایک چھوٹا سا گروہ ایک Tactical Solution کے طو رپر مسلح جدوجہد کیوں شروع نہیں کر سکتا؟

پڑھیے۔۔۔

اقدامی اور دفاعی جہاد

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے زمانہ میں جو جنگیں لڑی گئی ہیں وہ صرف کفر و شرک کو بنیاد کر قانون جزا و سزا کے حوالہ سے لڑی گئی تھیں یہ اقدامی اور دفاعی جہاد کے حوالہ سے بھیکی گئی تھیں۔ اس حوالہ سے دونوں اقسام کے غزوات کے نام بھی بتا دیں۔

پڑھیے۔۔۔

صحابہ کرام کی جنگیں

میرا سوال یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دفاعی جنگ کے سوا کوئی جنگ نہیں لڑی۔ تو حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے کس کی اجازت سے جنگیں لڑیں؟ برائے مہربانی وضاحت فرمائیں۔

پڑھیے۔۔۔

جہاد اور نصرت الہی

ميرا سوال اس سے پہلے دئے گئے ايك جواب كے بارے ميں ہے جو آپ كی ويب سائٹ پوسٹ كيا گيا ہے: http://www.al-mawrid.org/pages/questions_urdu_detail.php?qid=1099&cid=478

اس جواب ميں بتايا گيا ہے ايك جنگ ميں مسلمانوں اور كفار كی حربی قوت كی نسبت ٣٣:١تھی۔ يہ بھی قرآن کے مطابق نہیں ہے۔ کیوں کہ قرآن کے مطابق خدا کی مدد تب نازل ہو گی جب نسبت ٢:اہوگی۔

اس پر يہ سوال بنتا ہے كہ کیا جب پیغمبر صلی اللہ علیہ و سلم موتہ کی جنگ پر گئے وہ اس قرآنی سورہ سے بے خبر تھے جس ميں مدرجہ بالا شرط بيان كی گئی ہے؟ کیوں کہ اگر وہ اس قرآنی سورہ سے باخبر ہوتے تو وہ جنگ لڑنے کے لیے اپنی طاقت کو ٢:١ بناتے۔ برائے مہربانی وضاحت کیجیے۔

پڑھیے۔۔۔

عالمی حكومت، جہاد ميں كم سے كم حربی قوت

جاويد احمد غامدی صاحب نے ايك ٹی وی پروگرام ميں فرمايا: اب انسان اس بات كا حق ركھتا ہے كہ وہ ايك عالمی حكومت كا خواب ديكھے۔

اس بات نے ميرے ذہن ميں بہت الجھن پيدا كر دی ہے ۔ ميں اس بات كو پوری طرح سمجھنا چاہتا ہوں۔ وضاحت فرمائيے۔

ميرا دوسرا سوال يہ ہے كہ كچھ لوگ چند روايات نقل كرتے ہوئے يہ نقطہ نظر اختيار كرتے ہيں كہ اگر خالد بن وليد رضی الله تعالی چند نفوس كو لے كر ساٹھ ہزار پر مشتمل ايك طاقتور فوج كو شكست دے سكتے ہيں تو پھر اس قرآنی آيت كا كيا مطلب ہے جو غامدی صاحب كے مطابق اس بات كو لازم قرار ديتی ہے كہ مسلمانوں كو اس وقت تك جنگ نہيں كرنا چاہيے جب تك ان كی حربی قوت دشمن كی حربی قوت كے كم از كم نصف برابر نہ ہو؟

پڑھیے۔۔۔

صحابہ كرام كا جہاد

ميرا سؤال اتمام حجت، صحابہ كرام كے جہاد اور بزور تلوار اسلام پھيلانے كے بارے ميں ہے۔ آپ كا موقف يہ ہے كہ اتمام حجت كے بعد مشركين كو اسلام يا موت كی آپشن دينا صرف نبی عليہ السلام كے لئے تھی اور ان كے بعد يہ كسی كے اختيار ميں نہيں۔ اگر يہ صحيح ہے تو پھر نبی عليہ السلام كے انتقال كے بعد حضرت خالد بن وليد اور حضرت سعد بن وقاص كی جنگوں كی كيا نوعيت ہے؟ كيا ان كا ايران كو فتح كرنا جائز تھا؟ جب وہ نبی عليہ السلام كی عدم موجودگی ميں يہ نہيں جان سكتے تھے كہ آيا ان كے مخاطبين پر اتمام حجت ہوا يا نہيں تو كيا ان كا جہاد جو اصل ميں اسلام قبول نہ كرنے كی سزا ہی تھا اسلامی تعليمات كی روشنی ميں ممكن تھا؟

پڑھیے۔۔۔

ڈاکٹر عافیہ اور جہاد کی شرائط

آپ نے یقینا ڈاکٹر عافیہ کے بارے میں سنا ہو گا۔وہ مسلمان ہیں اور پاکستانی ہیں ۔میں نے سنا ہے کہ وہ بگرام (افغانستان) میں قید ہیں ۔آپ اپنے لیکچرز میں فرماتے ہیں کہ جہاد حکمرانوں کی ذمہ داری ہے اور کوئی فرد انفرادی طور پر جہاد کا نعرہ نہیں لگا سکتا۔کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ اگر آپ کی اپنی بیٹی اس طرح امریکیوں کی قید میں ہوتی تو آپ کیا کرتے ؟

پڑھیے۔۔۔