حفاظتِ قرآن کا خدائی وعدہ اور حدبث رجم

میرا آپ سے یہ سوال ہے کہ قرآن حکیم اللہ کی طرف سے نازل کی ہوئی کتاب ہے ، جب کہ حفاظت کی ذمہ داری بھی اللہ تعالیٰ نے خود لی ہے ’’انا نحن نزلنا الذکر وانا لہ لحافظون۔‘‘ نبوت کو بھی محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اس لیے ختم کیا گیا کہ قرآن کو محفوظ بنایا گیا ہے ، اب نبوت کی کوئی گنجايش نہیں ہے ۔ لیکن دیکھا جائے تو ’’ہماری کتب احادیث ‘‘ کے مطابق قرآن کے محفوظ ہونے کا اللہ کا وعدہ پورا نہیں ہو رہا۔ بخاری شریف میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی گئی ہے کہ ’’رجم‘‘ کی آیت قرآن میں موجود تھی ، ہم اس پر عمل کرتے تھے۔اس کے علاوہ ابن ماجہ میں بی بی عائشہ رضی اللہ عنہا سے راویت کی گئی ہے کہ ’’رضاعت کبیر‘‘ کی قرآنی آیت تھی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کی پریشانی میں میرے سرہانے رکھی ہوئی تھی جس کو بکری کھا گئی۔ اگر یہ دونوں باتیں صحیح مانی جائیں تو قرآنِ محفوظ کا تصور نہیں رہتا اورمحترم امین احسن اصلاحی صاحب نے بھی لکھا ہے کہ۔ ’’رجم ‘‘کی سزا قرآن میں نہیں ہے۔ لہٰذا یہ روایت درست نہیں ‘‘ ۔ امید ہے کہ مفصل جواب دیکر وضاحت فرمائیں گے۔

پڑھیے۔۔۔