خود کشی، ایک حرام فعل

آج کل مہنگائی عروج پر ہے۔ لوگ فقر و فاقے کی وجہ سے اپنے بچوں کے ساتھ خودکشی کر رہے ہیں۔ کیا اس اقدام کی اللہ تعالیٰ کے ہاں معافی ہے اور اس اقدام کا اصل قصور وار کون ہے؟

پڑھیے۔۔۔

خود کشی میں رضاے الٰہی

کیا خود کشی کرنے والے کی تقدیر میں یہ بات پہلے سے لکھ دی جاتی ہے کہ وہ خود کشی کرے گا، اور کیا اس میں اللہ کی مرضی بھی شامل ہوتی ہے؟

پڑھیے۔۔۔

خود کش حملوں کا جواز

١۔ صحیح مسلم کی ایک روایت کے مطابق بنی اسرائیل کے ایک راہب کو جب ایمان قبول کرنے کی پاداش میں قتل کرنے کی کوشش کی گئی اور اللہ کی مدد سے یہ کوشش بار بار ناکام ہوئی تو اس نے خود اپنے آپ کو قتل کرنے کا طریقہ یہ تجویز کیا کہ لوگوں کو ایک میدان میں جمع کیا جائے اور پھر سب کے سامنے 'باسم رب هذا الغلام' کہہ کر اس پر تیر چلایا جائے تو اس کی موت واقع ہو جائے گی۔ کیا اس سے خود کش حملے کا جواز ثابت ہوتا ہے؟

٢۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ برطانیہ اور امریکہ کے شہری چونکہ اپنی حکومتوں کو ٹیکس دیتے ہیں، اس لیے اگر ان ممالک کی حکومتیں مسلمانوں پر ظلم کرتی یا ظلم کرنے والوں کے ساتھ تعاون کرتی ہیں تو ان کے شہری بھی اس میں شریک ہیں۔ چنانچہ اگر اسرائیل کے ظلم وستم کا شکار ہونے والا کوئی فلسطینی امریکہ یا برطانیہ میں جا کر ان کے عام شہریوں پر حملہ کرے تو ایسا کرنا جائز ہے۔ کیا یہ بات درست ہے؟

پڑھیے۔۔۔

خود کش حملوں کا جواز اور جمہوری قوانین کا ‘کفر’ ہونا

١۔ بعض لوگ خود کش حملے کے جواز کی دلیل یہ دیتے ہیں کہ صحیح مسلم کی ایک روایت کے مطابق بنی اسرائیل کے ایک راہب کو جب ایمان قبول کرنے کی پاداش میں قتل کرنے کی کوشش کی گئی اور اللہ کی مدد سے یہ کوشش بار بار ناکام ہوئی تو اس نے خود اپنے آپ کو قتل کرنے کا طریقہ یہ تجویز کیا کہ لوگوں کو ایک میدان میں جمع کیا جائے اور پھر سب کے سامنے 'باسم رب هذا الغلام' کہہ کر اس پر تیر چلایا جائے تو اس کی موت واقع ہو جائے گی۔ اس دلیل کی کیا حیثیت ہے؟

٢۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ برطانیہ اور امریکہ کے شہری چونکہ اپنی حکومتوں کو ٹیکس دیتے ہیں، اس لیے اگر ان ممالک کی حکومتیں مسلمانوں پر ظلم کرتی یا ظلم کرنے والوں کے ساتھ تعاون کرتی ہیں تو ان کے شہری بھی اس میں شریک ہیں۔ چنانچہ اگر اسرائیل کے ظلم وستم کا شکار ہونے والا کوئی فلسطینی امریکہ یا برطانیہ میں جا کر ان کے عام شہریوں پر حملہ کرے تو ایسا کرنا جائز ہے۔ کیا یہ بات درست ہے؟

٣۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اللہ کے نازل کردہ قوانین کے علاوہ انسانوں کے بنائے ہوئے جمہوری قوانین کو قبول کرنا کفر ہے، اس لیے اگر غیر مسلم ممالک میں رہنے والے مسلمانوں نے ان ممالک کے قوانین کی پابندی کا معاہدہ کر رکھا ہو، تب بھی اس کی پابندی ان پر لازم نہیں ہے اور انھیں چاہیے کہ وہ اسلامی شریعت کے نفاذ کے لیے کوشش کریں۔ یہ خیال دین کی روشنی میں کس حد تک صحیح ہے؟

پڑھیے۔۔۔