قبولیت حدیث کی شرط

علامہ خطیب بغدادی کی تصنیف ''الکفایہ فی علم الروایہ'' فن حدیث کی امہات کتب میں سے ہے۔ اس میں انھوں نے قبولیت حدیث کے شرائط کے ضمن میں پہلی شرط یہ بیان کی ہے کہ حدیث عقل و فطرت کی کسوٹی پر پوری اترنی چاہیے۔ اس کے بعد کہا ہے کہ وہ قرآن کے خلاف نہ ہو، وہ سنت کے خلاف نہ ہو۔ میرا سوال یہ ہے کہ حدیث کا عقلی طور پر قابل قبول ہونا قرآن وسنت پرمقدم کیوں کیا گیا ہے؟

پڑھیے۔۔۔