رضاعت

میں چند سوالات عرض کرنا چاہتی ہوں جو کہ بالترتیب درج ذیل ہیں:

1۔ کیا کوئی ایسی حدیث ہے جس سے بالغ فرد کو دودھ پلا کر رضاعی رشتہ بنانے کی تائید ہوتی ہو۔

2۔ میں نے سنا ہے کہ بعض لوگ کم از کم پانچ بار اور بعض لوگ کم از کم دس بار پلانے پر رضاعت قائم ہونے کے قائل ہیں۔ ان میں سے زیادہ مؤثر رائے کون سی ہے؟

3۔ کیا ماں بچے کو دو سال سے زیادہ یا کم دودھ پلا سکتی ہے؟

برائے مہربانی تفصیلی وضاحت فرمائیں۔

پڑھیے۔۔۔

استمنا باليد اور رضاعت

ميرا پہلا سوال يہ ہے كہ جوانی ميں انسان غلط كام كر جاتا ہے اور ميں نے بھی كئے ہيں۔ میں نے لڑکیوں سے دوستی وغيرہ كی ہے۔ لیکن اللہ تعالٰی نے ہدایت دی۔ اب میں اللہ تعالٰی کے فضل و کرم سے پانچ وقت کی نماز پڑھتا ہوں اور ان سب چيزوں سے توبہ کر لی ہے۔ اس وقت ميں استمنا باليد كے بارے ميں جاننا چاہتا ہوں۔ کیا یہ گناہ کبیرہ ہے؟ کچھ لوگ کہتے ہیں زنا سے بچنے کے لیے يہ كام كيا جا سكتا ہے۔ ايسا كر كے لوگ گناہ سے بچ جاتے ہیں۔

ميرا دوسسرا سوال يہ ہے كہ میرا دوست چھوٹا سا تھا اور ہسپتال میں تھا۔ جب وہ پیدا ہوا تو کچھ وجوہات کی بنا پر اس کی ماں کو اس سے دور ہونا پڑا۔ اس کی زندگی کو خطرہ تھا۔تب اس کی بڑی پھوپھی نے اسے اپنا دودھ پلا دیا۔ انھوں نے اپنے شوہر سے اجازت بھی نہیں لی تھی اور ایسا صرف ایک بار ہی ہوا۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ اپنی پھوپھو کی اس بیٹی سے وہ بہت پیار کرتا ہے اور بچپن سے کرتا آ رہا ہے۔ کیا ان کی شادی جائز ہے؟

پڑھیے۔۔۔