رضاعت

میں چند سوالات عرض کرنا چاہتی ہوں جو کہ بالترتیب درج ذیل ہیں:

1۔ کیا کوئی ایسی حدیث ہے جس سے بالغ فرد کو دودھ پلا کر رضاعی رشتہ بنانے کی تائید ہوتی ہو۔

2۔ میں نے سنا ہے کہ بعض لوگ کم از کم پانچ بار اور بعض لوگ کم از کم دس بار پلانے پر رضاعت قائم ہونے کے قائل ہیں۔ ان میں سے زیادہ مؤثر رائے کون سی ہے؟

3۔ کیا ماں بچے کو دو سال سے زیادہ یا کم دودھ پلا سکتی ہے؟

برائے مہربانی تفصیلی وضاحت فرمائیں۔

پڑھیے۔۔۔