جاويد غامدی صاحب كے كام پر ايك تنقيد

ميں غامدی صاحب كا بہت مداح ہوں اور ان كے نظريات اورحكمت كی بہت قدر كرتا ہوں۔ ميں دوسروں كے نظريات اور خيالات كو بھی سنتا اور پركھتا رہتا ہوں۔ حال ہی ميں غامدی صاحب پر كی جانے والی ايك تنقيد نظرسے گزری ۔ ناقد نے غامدی صاحب كے كام اور رينڈ كارپوريشن (RAND)كے ايجنڈہ كی موافقت كا ذكر كيا۔ اس كے بعد ميں رينڈ كی ويب سائٹ پر گيا۔ سائٹ پر دئے گئے مواد كو پڑھ كر معلوم ہوا كہ وہاں كئی باتيں غامدی صاحب كے نظريات سے ملتی جلتی تھيں۔ مثلا جمہوريت اور جمہوری اقدار، مرد اور عورت كی مساوات و برابری، جہاد اور نظرياتی سطح پر اس كا مقابلہ وغيرہ۔

ميں اس بارے ميں تحقيق كے بغير كسی چيز پر يقين نہيں كرنا چاہتا ۔ غامدی صاحب كے بارے ميں جو كچھ كہا گيا ہے اس پر ان كا موقف جاننا ضروری ہے۔ ان كے اثبات يا انكار كے بغير كوئی رائے بنانا صحيح نہ ہو گا۔ البتہ اس تنقيد نے غامدی صاحب كے موقف كو قدرے كمزور كر ديا ہے۔ اس كی وجہ يہ ہے كہ ايك موازنہ كرنے والے قاری كو نظر آتا ہے كہ ان كے نظريات روشن خيالی كے پروگرام يا امريكہ كے ايجنڈا كی كی پيداوار ہيں۔

اگرچہ ميں جانتا ہوں كہ غامدی صاحب اسلام كے مختلف موضوعات پر ستر كی دہائی سے كام كر رہے ہيں مگر رينڈ كارپوريشن اور كے ايجنڈا اور غامدی صاحب كے كام ميں پائی جانے والی مواثلت كی كيا توجيہ كی جائے؟ اس كا ساتھ اگر اس بات كو بھی شامل كيا جائے كہ غامدی صاحب ٹی وی پر مشرف كے روشن خيالی كے دور ميں ہی نماياں ہوئے ہيں تو بات مذيد مشكل ہو جاتی ہے۔ براہ كرم وضاحت فرما ديں۔

پڑھیے۔۔۔