رہن  پر مکان لینا اور سود سے متعلق جاب

میں UK میں ایک Mortgage (رہن پر مکان خریدنے کا) ایڈوائزر ہوں۔ سود کے لین دین سے میرا کوئی براہِ راست واسطہ نہیں ہے اور میں صرف ان خدمات کا معاوضہ وصول کرتا ہوں جو میں لوگوں کو مکان خریدنے کے سلسلے میں مشاورت اور معاونت کی شکل میں فراہم کرتا ہوں ۔لیکن میری فیملی کا خیال ہے کہ میں سود کے سلسلے میں دی گئی قرآنی تعلیمات کی خلاف ورزی کر رہا ہوں ۔لہٰذا آپ اس حوالے سے میری راہ نمائی فرمائیں؟

آج اگر ہم سود کو معاشی سرگرمیوں سے بے دخل کر دیں تو تمام معاشی سرگرمیاں ایک دم ٹھپ ہو کر اور تمام کمرشل مارکیٹس ویران ہوکر رہ جائیں ، تو پھر آخر قابلِ قبول حل کیا ہو گا؟ مکان کے حصول کے لیے اگر ہم اسلامک Mortgages کی صورتوں کی طرف رجوع کرتے ہیں تو وہ بہت زیادہ مہنگی اور پیچیدہ ہیں اور اسی لیے زیادہ تر مسلمان ان کی طرف نہیں جاتے ، بلکہ میرا تو خیال ہے کہ شاید یہ لوگوں کو اسلام سے بد ظن کرنے کے لیے متعارف کرائی گئیں ہیں ۔ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ اگر مسلمان سود کی وجہ سے مالیاتی اداروں کی ملازمتیں ترک کر دیں تو پھر اس فیلڈ میں غیر مسلم دنیا کا مقابلہ کیسے کر سکیں گے ، جبکہ آج تو کسی اسٹیٹ کی طاقت کا اصل پیمانہ بھی اس کی معاشی قوت و استحکام ہے ؟

پڑھیے۔۔۔