زنا کی معافی

اگر کسی آدمی سے زنا ہو جائے تو آخرت میں اس جرم کی معافی کے لیے اسے دنیا میں کیا کرنا چاہیے؟

پڑھیے۔۔۔

اسلام میں زنا کی سزا

میں اپنی سوتیلی بھتیجی کے ساتھ زنا کر بیٹھا ہوں ، اپنے گناہ کے کفارے کے لیے مجھے کیا کرنا ہو گا اور اسلام میں اس جرم کی کیا سزا ہے ؟

پڑھیے۔۔۔

ہم جنسی سے متعلق غامدی صاحب کی رائے

میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ اسلام میں ہم جنسی کی کیا حیثیت ہے؟ میری مراد اُن لوگوں سے ہے جو بچپن سے ہی اس مسئلے کا شکار ہو جاتے ہیں۔ کیا یہ مسئلہ قدرتی نہیں ہے؟ میں اس مسئلے کے بارے میں اسلام کا نظریہ جاننا چاہتا ہوں۔ برائے مہربانی تفصیلی وضاحت فرمائیے کہ غامدی صاحب اس بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں۔

پڑھیے۔۔۔

ہم جنسی

میں ایک سوال کے بارے میں رہنمائی چاہتا ہوں۔

میرا ایک کزن ہے جو کہ ہم جنسی میں مبتلا ہے۔ اس کا کہنا یہ ہے کہ وہ فطری طور پر اپنے ہم جنسوں کی طرف زیادہ مائل ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ اس کی شادی کروا دی جائے تا کہ وہ نارمل زندگی کی طرف لوٹ سکے۔ برائے مہربانی رہنمائی فرمائیں کہ ہمیں کیا کرنا چاہیے۔ اور کوئی ایسا طریقہ بتائیں کہ وہ اپنی اس خرابی سے نجات پا سکے۔

میرا دوسرا سوال یہ ہے کہ میں ناروے میں مقیم ہوں اور یہاں تمام بچوں کو سکول میں سومنگ سکھائی جاتی ہے۔ جسے سیکھنے کے بعد بچوں میں قدرتی طور پر سومنگ کرنے کی خواہش بڑھ جاتی ہے جس کو پورا کرنے کے لیے انہیں یا تو سومنگ بیچ پر جانا ہو گا یا سومنگ پول پر۔ ان دونوں جگہوں کا ماحول کچھ خراب سا ہوتا ہے۔ کیا ہم ایسی جگہوں پر بچوں کو سومنگ کی اجازت دے سکتے ہیں؟ برائے مہربانی تفصیلی وضاحت فرمائیں۔

پڑھیے۔۔۔

رجم کی سزا

غامدی صاحب نے اپنے ایک ٹی وی پروگرام میں فرمایاکہ اسلام میں زنا کی سزا سو کوڑے ہے، خواہ وہ کنوارا ہو خواہ شادی شدہ۔ اس سے پہلے میرے علم کے مطابق اس طرح کی آرا منکرین حدیث ہی ظاہر کرتے تھے۔ آپ لوگ منکر حدیث نہیں ہیں ، اس لیے کہ آپ احادیث کے حوالے دیتے ہیں۔ احادیث کی کتابوں میں یہ بات بڑی صراحت سے بیان ہوئی ہے کہ شادی شدہ زانی کی سزا رجم ہے۔ اگر آپ رجم کے جواز کے قائل نہیں ہیں تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے زمانے میں یہ سزا دے کر ناانصافی کی تھی ، اس لیے کہ مشرکین عرب میں زانی کے لیے اس سزا کا کوئی رواج نہیں تھا۔

علاوہ ازیں یہ سزا عہد نامہ عتیق میں بھی بیان ہوئی ہے اور یہود کے ہاں اس پر عمل بھی رہا ہے۔ مولانا مودودی ، ابن کثیر اور فقہاے اربعہ شادی شدہ زانی کی سزا رجم ہی قرار دیتے ہیں۔


آپ اگر حدیث کی حجیت کے قائل ہیں تو آپ کی راے قابل قبول نہیں ہے۔ اگر آپ منکر حدیث ہیں تب براہ مہربانی صورت حال واضح کر دیں۔ اگر ایسا ہے تو یہ میرے لیے ایک حادثہ ہو گا، اس لیے کہ میں اس سے پہلے اس حوالے سے آپ کا دفاع کرتا رہا ہوں؟

پڑھیے۔۔۔

زنا سے متعلق آیات پر بعض اشکالات

قرآن مجید میں زنا کی سزا سے متعلق آیات کو صحیح طریقے سے نہیں سمجھا گیا۔ میرے نزدیک ان آیات سے جو باتیں واضح ہوتی ہیں ،وہ حسب ذیل ہیں:

  1. سورۂ نساء (4)کی آیت 15 میں آئے ہوئے لفظ 'الفاحشة' سے آپ کے نزدیک حد سے بڑھنا ، زیادتی ، گفتگو میں ادب واحترام کے حدود پھاند جانا اور ہم جنس پرستی مراد ہے۔
  2. ایسی عورتوں کو گھر میں بند کرنے کا حکم ہے تاکہ وہ اپنی اصلاح کر لیں ، مار پیٹ سے روکنے کی وجہ عورت کی بدنامی ہے۔
  3. آیت میں زنا کے پرہیز گار متقی نمازی اشخاص کی شہادت کا ذکر نہیں ۔ اس معاملے میں عورت کی گواہی زیادہ موزوں ہے ، اس لیے کہ اسے گھروں میں رسائی حاصل ہوتی ہے۔
  4. بعض حلقے اس آیت کو منسوخ سمجھتے ہیں،لیکن چار کی شرط برقرار رکھتے ہیں ، یہ ان کی من مانی تاویل ہے اور یہ قرآن کے ایک حصے کو ماننا اور ایک کا انکار کرنا ہے۔
  5. سورۂ نور(24) کی آیت 2 میں مرد اور عورت کا زنا میں ملوث ہونا مذکور ہے، اس لیے اس میں مروجہ شہادت کی بات نہیں کی گئی ، اس لیے کہ رضا مندی سے ہونے والا گناہ اس طرح نمایاں نہیں ہو سکتا۔ اولاد کی خواہش کے تحت شوہر کی رضا مندی سے ہونے والا زنا بھی ایسے ہی خفیہ رہتا ہے۔ وڈیرہ شاہی میں معاشی مجبوریوں کے تحت زنا پر بھی چار کی گواہی کا کوئی امکان نہیں۔ زنا بالجبر کی صورت میں بھی اس طرح کی چارگواہیاں ناممکن ہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ چار کی شرط حکام، جاگیرداروں، پیروں اور مولویوں کی مقرر کردہ ہے تاکہ شرائط پورے نہ ہوں اور الٹا عورت دہری سزا بھگتے، ایک اقرار زنا کی اور دوسری قذف کی۔
  6. کیا عورت کی حالت زار ، مرد کا جسمانی چیک اپ ، مرد کے کپڑوں کا پھٹا ہونا ، عورت اور مرد کے کپڑوں پر مادہ منویہ کا پایا جانا اور اس کا سائنسی تجزیہ ، مرد کی کسی چیز ، مثلاًشناختی کارڈ ، جوتے ، کپڑے ، بال ، پاؤں کے نشان، انگلیوں کے نشان ، عورت کا میڈیکل ٹیسٹ ، نفسیاتی ٹیسٹ اور حمل کی صورت میں ڈی این اے ٹیسٹ ، کیا یہ کافی شہادتیں نہیں ہیں؟
  7. زنا کی ایک سزا یہ ہے کہ وہ مشرکہ یا زانیہ ہی سے شادی کرے گا۔ اس سے معلوم ہوا کہ شادی شدہ کی سزا بھی سو کوڑے ہی ہے۔ اگر مجرم زندہ ہی نہیں رہے گا تو اس کی شادی کا کیا سوال۔مزید یہ کہ نبی کے گھر والوں کو دگنی اور ملازمہ کو آدھی سزا کیسے دی جا سکتی ہے۔
  8. مظلوم عورت پر نئے قانون کی یہ دفعہ ظلم ہے کہ گواہ کے بغیر مقدمہ درج نہ کیا جائے۔
  9. اگر قذف ہوا ہے تو قاذف کو خود سزا مل جانی چاہیے۔ معتوب کو عدالتوں کے چکر لگوانا خلاف انصاف ہے۔
  10. سورۂ نساء (4)کی آیت 16 میں عمل قوم لوط(علیہ السلام )مراد ہے۔

آپ کی ان معروضات کے بارے میں کیا راے ہے؟

پڑھیے۔۔۔

حرابہ كے قرآنی قانون كا زنا كے ايك عام مجرم پراطلاق

یک مشہور روایت ہے کہ ایک خاتون آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور اس نے زنا کا اعتراف کیا۔ آپ نے فرمایا کہ وضع حمل کے بعد آنا...۔ بعدازاں آپ نے اس کو سنگسار کرایا، اس خاتون کو سنگسار کیوں کیا گیا، اس کو سو کوڑے کیوں نہ لگائے گئے، کیا وہ حرابہ کی مرتکب ہوئی تھی؟

پڑھیے۔۔۔

زنا کے مرتکب شخص کے ساتھ شادی

ایک مسلمان لڑ کی کے لیے ایک ایسے مسلمان مرد کا رشتہ آیا ہے جو اپنے منہ سے اعتراف کرتا ہے کہ وہ ماضی میں شراب پیتا رہا ہے اور اُس نے کئی مرتبہ غلط قسم کی لڑ کیوں سے جنسی تعلقات قائم کیے ہیں ، لیکن اب وہ شادی کرنا اور صاف ستھری زندگی گزارنا چاہتا ہے اور ا س کا ارادہ ہے کہ آئندہ وہ ماضی کی برائیوں سے دور رہے گا۔ اِس صورت میں کیا لڑ کی کو یہ رشتہ قبول کر لینا چاہیے یا اسلام نے ایسے شخص سے ایک مسلمان لڑ کی کا رشتہ ممنوع ٹھرایا ہے؟

پڑھیے۔۔۔

لفظ لمم کا مصداق

سورۂ نجم کی آیت 32 میں ارشاد ہے کہ ’’یہ وہ لوگ ہیں کہ جو بڑ ے بڑ ے گنا ہوں سے بچتے ہیں لیکن کچھ چھوٹے چھوٹے گنا ہوں کے سوا‘‘۔ اب سوال یہ ہے کہ یہ چھوٹے چھوٹے گناہ کون سے ہیں اور کیا اس سے یہ استدلال کیا جا سکتا ہے کہ ٹی وی اور کیبل دیکھنا اور کسی لڑ کی کو چھونا اور اس کے ساتھ رہنا چھوٹے چھوٹے گناہ ہیں جب تک کہ بڑا گناہ زنا نہ کیا جائے ۔اور اگر زنا کو چھوڑ تے ہوئے ان کا ارتکاب کر بھی لیا جائے تو ایسے شخص کے ساتھ آخرت میں ہلکا مواخذہ کیا جائے گا؟ نیز اس آیت میں ’لمم‘ کا جو لفظ استعمال ہوا ہے اس کا کیا مطلب ہے؟

پڑھیے۔۔۔