شیعہ سنی اختلافات اور ان کے درمیان شادی

میری عمر 25 سال ہے اور میری چار بہنیں اور ایک بھائی ہے ۔ان سب کی شادی ہو چکی ہے اور سب کی شادی ان کی اپنی پسند کی جگہوں پر ہوئی ہے ۔ہمارے والدین نے شروع ہی سے کبھی اپنے بچوں پر اپنی مرضی لادنے کی کوشش نہیں کی۔انہوں نے مجھ سے بھی کہا تھا کہ جب تمہیں کوئی لڑ کا پسند آجائے تو ہمیں بتادینا ہم اسی سے تمہاری شادی کرا دیںگے ۔اب مجھے ایک لڑ کا پسند آیا ہے اور اس بات کو ایک سال کا عرصہ ہو چکا ہے ۔ میں اسے اتنا پسند کرتی اور چاہتی ہوں کہ اب اس کے بغیر جینے کا کوئی تصور بھی نہیں کرسکتی، لیکن وہ لڑ کاشیعہ ہے۔ میرے والدین اور سارے بہن بھائیوں کو بس اسی بات پر اعتراض ہے اور گو کہ وہ مانتے اور اقرار کرتے ہیں کہ وہ ایک اچھا لڑ کا ہے اور اگر وہ شیعہ نہیں ہوتا تو وہ ضرور اس سے میری شادی کرادیتے ، لیکن اب وہ اس پر رضامند نہیں ہیں ۔ادھر لڑ کے کے گھر والوں کو میرے سنی ہونے پر تو کوئی اعتراض نہیں ہے لیکن اس کے ماں باپ چاہتے ہیں کہ ان کی آنے والی بہو سید ہو۔ لہٰذا وہاں سید اور غیر سید کامسئلہ ہے۔ میری امی ہمیشہ مجھے کہتی ہیں کہ شیعوں کے ہاں غلط عقائد اور تصورات پائے جاتے ہیں ، وہ قرآن پاک میں بھی رد و بدل کے قائل ہیں ، خلفائے راشدین کو بھی نہیں مانتے اور محرم میں اپنے آپ کو پیٹتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔لڑ کا ایسی تمام چیزوں کا انکارکرتا ہے لیکن وہ کچھ ایسی باتیں بھی کرتا ہے جو خود میرے لیے باور کرنا ناممکن ہیں۔ جیسے ان کے ہاں خلفائے راشدین کے بارے میں بہت سی غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں اوران کے ہاں امامت کا ایک خاص تصورپایا جاتا ہے وغیرہ۔ہم دونوں نے فیصلہ کیا کہ اس طرح کے اختلافی معاملات میں ہم خود ریسرچ کریں گے کہ آخر صحیح بات کیا ہے۔ اس سلسلے میں ہمیں کیا کرنا چاہیے اور کون سی کتابوں کا مطالعہ کرنا چاہیے؟

اب میرے گھر میں حالات بہت نازک ہو چکے ہیں ۔ اس لڑ کے سے ملنے سے بھی منع کیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ یا تو اسے بھول جاؤ یا ہمیں بھلا اور چھو ڑ کر جا کے اس سے شادی کر لو۔لڑ کے کے گھر میں ایسے حالات نہیں ہیں کیونکہ اس کی ایک بھابھی اور کچھ ممانیاں بھی سنی گھرانوں کی ہیں اور وہ اپنے مذہب اور طریقوں پر ہی چلتی ہیں ۔ کوئی انہیں اس سے منع نہیں کرتا اور نہ ان پر شیعوں کے طریقوں کو اختیار کرنے کے لیے دباؤ ڈالا جاتا ہے ۔لہٰذا وہ لوگ تو مجھے قبول کر لیں گے ، لیکن میرے گھر والے اس کے لیے ہر گزتیار نہیں ہیں ۔لہٰذا مجھے بتائیے کہ سنی لڑ کی اور شیعہ لڑ کے کی شادی کیوں نہیں ہو سکتی؟

پڑھیے۔۔۔

شیعہ اور سنی کے درمیان نکاح

میرا تعلق سنی گھرانے سے ہے اور ہمارے شیعوں سے قریبی تعلقات ہیں کیونکہ میری دو خالاؤں کی شیعہ گھرانوں میں شادی ہوئی ہے جس کی وجہ سے شیعہ گھرانوں میں عام آنا جانا ہوتا ہے ۔میرے ایک شیعہ کزن نے میری سنی بھتیجی سے نکاح کی خواہش کا اظہار کیا۔ان دونوں کے والدین اس پر رضامند ہیں اور انہیں اس شادی پر کوئی اعتراض نہیں ہے لیکن خاندان کے کچھ سخت قسم کے مذہبی لوگ اس شادی کے سخت خلاف ہیں اور انہوں نے دھمکی دی ہے کہ اگر یہ نکاح ہوا تو وہ قطع تعلق اختیار کر لیں گے ۔ان کا کہنا ہے کہ :

۱) شیعہ لڑ کے سے سنی لڑ کی کی شادی حرام ہے ۔ حالانکہ اس لڑ کے نے حلف اٹھایا ہے کہ اس نے کبھی کسی صحابی کو سب و شتم نہیں کیا اور وہ توبہ کرتا ہے اگر اس نے کبھی ارادی یا غیر ارادی طور پر ایسا کیا ہو۔وہ توحید پر بھی پختہ ایمان رکھتا ہے اور خاندان بھر میں ایک اچھے لڑ کے کے طور پر مشہور ہے اور کسی قسم کی غیر اخلاقی کاروائیوں میں بھی ملوث نہیں ہے ۔کیا ان لوگوں کا یہ کہنا صحیح ہے ؟

۲) اسی طرح ان کا کہنا ہے کہ جو جو اس نکاح میں شریک ہو گا یا مبارک باد دے گا اس کا نکاح فسخ ہو جائے گا اور اس کی بیوی اس پر حرام ہو جائے گی اور ان کے لیے ضروری ہو گا کہ دوبارہ نکاح کریں ۔براہِ مہر بانی اس پر روشنی ڈالیے کہ کیا واقعی یہ باتیں صحیح ہیں؟

پڑھیے۔۔۔