طاغوت کا مطلب اور سورۂ نحل کی آیت 36

قرآن کے لفظ 'طاغوت' کا کیا مطلب ہے ؟ میری ایک دوست کا کہنا ہے کہ اس سے مراد انسانوں کے بنائے ہوئے قوانین و ضوابط پر عمل پیرا ہونا ہے اور یہ شرک ہی کی ایک قسم ہے ۔ جو بھی اس طاغوت (انسانوں کے وضع کردہ نظاموں اور قوانین) کا انکار نہیں کرتا، وہ تمام پیغمبروں کی بنیادی دعوت کو جھٹلاتا اور اللہ کی بندگی کا انکار کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :

’ہم نے ہر امت میں ایک پیغمبر بھیجا تاکہ وہ لوگوں کو حکم دے کہ صرف ایک اللہ کی بندگی کرو اور ہر طاغوت کا انکار کرو۔‘ (سورۂ نحل:آیت36)

میں سمجھتی ہوں کہ یہ ایک بہت مشکل مطالبہ ہے کیونکہ اس وقت تقریباً ہر جگہ ہی انسانوں کے بنائے ہوئے قوانین رائج ہیں ، چاہے وہ مسلمان ممالک ہی کیوں نہ ہوں ۔لہٰذا بتائیے کہ اس آیت کے پیشِ نظر ہماری کیا ذمہ داری بنتی ہے؟

پڑھیے۔۔۔