ڈيفينس سيونگ سرٹيفيكيٹس اور زكوة

كيا بينك ميں جمع كی گئی فلسڈ ڈيپوزٹ رقم پر زكوة لاگو ہوتی ہے؟ يہی سوال ڈيفينس سيونگ سرٹيفيكيٹس كے بارے ميں پيدا ہوتا ہے۔ ميرے والد صاحب ايك ريٹائرڈ سركاری ملازم ہيں۔ اب ميرے والدين بڑھاپے ميں ہيں اور ان كا ڈيفينس سيونگ سرٹيفيكيٹس كے علاوہ كوئی ذريعہ معاش نہيں ہے۔ ميں ان كے مالی معالمات ديكھتی ہوں۔ اس لئے جاننا چاہتی ہوں كہ آيا اس آمدن پر زكوة آتی ہے يا نہيں؟

پڑھیے۔۔۔

اصحاب رسول اور ان کی سیرت

میرا سوال یہ ہے کہ جب کوئی تاریخ کا مطالعہ کرتا ہے تو وہ پریشان ہو جاتا ہے خاص طور پر پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب اور ان کی سیرت کے معاملے میں۔ اور یہ فیصلہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ کون صحیح تھا کون غلط۔ جیسا کہ جنگ جمل میں حضرت عائشہ ؓ صحیح تھیں یا حضرت علیؓ؟ میرے نقطہ نظر سے کوئی بھی صحیح نہیں تھا۔ کیوں کہ حضرت عائشہؓ نے حضرت علیؓ کی مخالفت میں حکومت کی رٹ کو چیلینج کیا اور حضرت علیؓ کے پاس دونوں گروہوں کو قابو کرنے کے لیے کوئی چارہ نہیں تھا۔ جس کا نتیجہ تباہی کی صورت میں نکلا۔ اسی طرح کربلا کی جنگ، ہر مسلمان اسے مذہب کے لیے لڑی گئی جنگ تصور کرتا ہے جب کہ اگر تاریخ کا صحیح طرح سے مطالعہ کیا جائے تو اس جنگ کی وجہ سیاسی کھیل ہے جس میں دونوں گروہوں نے اپنے اپنے طور پر مناسب برتری لے رکھی تھی۔ برائے مہربانی رہنمائی کیجیے کہ ان اصحاب کو کس نظر سے دیکھا جائے اور ان کے صحیح غلط ہونے کا فیصلہ کیسے کیا جائے۔ کیوں کہ یہ کہنا مشکل ہے کہ ان میں سے ایک گروہ صحیح تھا اور دوسرا غلط۔ وضاحت کیجیے۔

پڑھیے۔۔۔

ذاتی کاروبار کرنے کے لیے رشوت دینا و سودی قرض لینا ، ماہانہ سیونگ سرٹیفیکیٹ اور شیئرز

میں بینک میں نوکری کرتا ہوں ، لیکن اپنی فیملی کے بہتر مستقبل کے لیے نوکری کے ساتھ ساتھ یا نوکری کو خیر باد کہہ کر اپنا کاروبار کرنا چاہتا ہوں ۔لیکن موجودہ حالات میں اس میں ہچکچاہٹ محسوس کرتا ہوں ۔کیونکہ اس وقت جنرل اسٹور کے چھوٹے سے کاروبار سے لے کر ڈیلر شپ اور ٹھیکیداری کے بڑ ے بڑ ے کاروبار تک میں حکومتی یا نیم حکومتی اداروں سے واسطہ پڑ تا ہے اور ان سے لائسینس حاصل کرنے ، اسے برقرار رکھنے اور دوسرے کئی طرح کے معاملات کرنے کے سلسلے میں ان کے اسٹاف کو رشوت دینی پڑ تی ہے ، کیونکہ اس کے بغیر آپ کے جائز کام بھی نہیں ہوتے۔ اور اسی طرح آج کے چیلنجنگ اور مقابلہ بھرے ماحول میں کاروبار چلانے کے لیے بینکوں سے سودی قرض لینا بھی ناگزیر ہو چکا ہے ۔میں اس سلسلے میں جتنے بھی کاروباری لوگوں سے ملا ہوں ، وہ سب ان مشکلات کا سامنا کر رہے اور مجبوراًحکومتی افسران اور اداروں کو رشوت دیکر اور بینکوں سے سود پر قرض لے کر اپناکاروبار چلا رہے ہیں۔ کیا اس طرح کے حالات میں اپنا گھر چلانے ، ایک مناسب معیارِ زندگی حاصل کرنے اور اپنے بچوں کی اعلی تعلیم اور بہتر مستقبل کے لیے دل کی ناپسندیدگی کے ساتھ ان برائیوں میں ملوث ہوتے ہوئے کاروبار کیا جا سکتا ہے؟

اسی طرح میں حکومت اور پرائیوٹ کنوینشنل بینکوں کے جاری کردہ ماہانہ مقررہ آمدنی کے سرٹیفیکیٹس کے بارے میں بھی جاننا چاہتا ہوں؟

پڑھیے۔۔۔