میراث کا ایک قضیہ

ایک صاحب نے اپنے ڈیفنس سیونگ سرٹیفکیٹس اپنی وفات کے بعد کیش کرانے کی اتھارٹی اپنے ایک قانونی وارث کو دے دی، جب ان کی وفات ہوئی تو ان صاحب نے ایک عرصہ تک وہ ڈیفنس سیونگ سرٹیفکیٹس کیش نہیں کرائے۔ پھر عدالت نے ان سرٹیفکیٹس کو باقی جائداد میں شامل کرتے ہوئے ، انھیں کیش کرانے کی اتھارٹی سب ورثا کو دے دی۔
سوال یہ ہے کہ ان سرٹیفکیٹس کی رقم کا اصل حق دار کون ہے، کیا وہی شخص جسے مرحوم نے خود نامزد کیا تھا اور اسے کیش کرانے کی اتھارٹی دی تھی یا پھر سبھی ورثا جنھیں اب عدالت نے حق دار قرار دے دیا ہے؟

پڑھیے۔۔۔

ذاتی کاروبار کرنے کے لیے رشوت دینا و سودی قرض لینا ، ماہانہ سیونگ سرٹیفیکیٹ اور شیئرز

میں بینک میں نوکری کرتا ہوں ، لیکن اپنی فیملی کے بہتر مستقبل کے لیے نوکری کے ساتھ ساتھ یا نوکری کو خیر باد کہہ کر اپنا کاروبار کرنا چاہتا ہوں ۔لیکن موجودہ حالات میں اس میں ہچکچاہٹ محسوس کرتا ہوں ۔کیونکہ اس وقت جنرل اسٹور کے چھوٹے سے کاروبار سے لے کر ڈیلر شپ اور ٹھیکیداری کے بڑ ے بڑ ے کاروبار تک میں حکومتی یا نیم حکومتی اداروں سے واسطہ پڑ تا ہے اور ان سے لائسینس حاصل کرنے ، اسے برقرار رکھنے اور دوسرے کئی طرح کے معاملات کرنے کے سلسلے میں ان کے اسٹاف کو رشوت دینی پڑ تی ہے ، کیونکہ اس کے بغیر آپ کے جائز کام بھی نہیں ہوتے۔ اور اسی طرح آج کے چیلنجنگ اور مقابلہ بھرے ماحول میں کاروبار چلانے کے لیے بینکوں سے سودی قرض لینا بھی ناگزیر ہو چکا ہے ۔میں اس سلسلے میں جتنے بھی کاروباری لوگوں سے ملا ہوں ، وہ سب ان مشکلات کا سامنا کر رہے اور مجبوراًحکومتی افسران اور اداروں کو رشوت دیکر اور بینکوں سے سود پر قرض لے کر اپناکاروبار چلا رہے ہیں۔ کیا اس طرح کے حالات میں اپنا گھر چلانے ، ایک مناسب معیارِ زندگی حاصل کرنے اور اپنے بچوں کی اعلی تعلیم اور بہتر مستقبل کے لیے دل کی ناپسندیدگی کے ساتھ ان برائیوں میں ملوث ہوتے ہوئے کاروبار کیا جا سکتا ہے؟

اسی طرح میں حکومت اور پرائیوٹ کنوینشنل بینکوں کے جاری کردہ ماہانہ مقررہ آمدنی کے سرٹیفیکیٹس کے بارے میں بھی جاننا چاہتا ہوں؟

پڑھیے۔۔۔